No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
قسط نمبر گیارہ
“نائل،سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچن سے نکلتا باہر کی جانب جا رہا تھا کہ آغا ہاشم کی آواز پر رکا جو ہال میں موجود شاید ساری کاروائی سن چکے تھے۔
“ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے اسے اپنے پاس صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر اس نے فوری عمل کیا۔
“رات کو جب میں نے تمہیں واپس آتے دیکھا تھا تب ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ صبح رخسار کا کافی واویلا سننے کو ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ا
“میں مما کو کبھی ناراض نہیں کر سکتا آغا جان،مگر اب لگتا ہے کہ جیسے مما ہر روز کسی نہ کسی بات پر ایسے ہی ناراض ہو کر ری ایکٹ کیا کریں گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو تم فازیہ کو نہیں چھوڑو گئے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم اسکی بات سے اندازہ لگاتے پوچھ بیٹھے جس پر نائل نے اپنے لب بھینچ لیے۔
“میں نے آج سے ایک ماہ پہلے آپکے اسی سوال کا یہی جواب دیا تھا کہ میں آپکی پوتی کو نہیں چھوڑونگا،اگر چھوڑنے کا آپشن آیا بھی تو آپکی پوتی کی طرف سے ہی آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور اب ؟میں اب کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانچتی نظروں سے اپنے پوتے کی طرف دیکھنے لگے جس کے بال بے ترتیب سے اسکی روشن پیشانی پر پڑے تھے۔
“اب تو چھوڑنے والا آپشن آپکی پوتی کو بھی نہیں دونگا میں،یہ میری زندگی ہے جس کے ساتھ ایک دفعہ تو آپ دادا پوتی کھیل گئے اب کی بار میں اسکی اجازت اپنی سگی ماں کو بھی نہیں دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اٹل انداز میں بولتا انکو خوشگوار حیرت میں ڈال گیا انہوں نے پیار سے اس کے شانے پر تھپکی دی۔
“میرا شیر پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم یقیناً بہت خوش ہوئے تھے۔
“اتنا زیادہ خوش نہ ہوں جس بیٹی کے آپ آغا جان سے چچا جان بن گئے ہیں وہ آپکو سسر بنانے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچن سے نکلتیں رخسار بیگم کی طرف اشارہ کر کے بولا جس پر آغا ہاشم جلدی سے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے نائل قہقہ لگاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اسکا موڈ اچھا ہو گیا تھا۔
وہ کمرے میں آیا جہاں واشروم میں پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی جسکا مطلب تھا کہ فازیہ شاور لے رہی ہے۔نائل اپنا موبائل پکڑ کر چیک کرنے لگ پڑا جہاں علیشہ کے لاتعداد میسیجز تھے اور نائل بن پڑھے ہی جانتا تھا کہ ان میں کیا فرمائش تھی وہ سب ڈیل کرنے لگا تبھی واشروم کا دروازہ کھلا اور فازیہ بالوں کو ٹاول میں لپیٹے باہر آئی۔
فازیہ نائل کو یوں روبرو پاکر نروس سی ہوگئی جو کہ نہایت دلچسبی اور پر شوق نگاہیں اس پر ٹکائے ہوئے تھا فازیہ کے گالوں پر ہلکا گلابی پن صاف دیکھا جا سکتا تھا جو نائل کی نظروں کی تپش کی وجہ سے گالوں کو دہکا رہا تھا۔
نائل موبائل بیڈ پر رکھتا اس کے قریب آیا جو کچھ سمٹ سی گئی نائل نے اس کے بالوں کو ٹاول سے آزاد کر دیا جن کی بھینی بھینی خوشبو نائل کو مدہوش کرنے لگی وہ اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپاتا پیچھے سے اسے اپنی گرفت میں لے گیا ۔
“ابھی رات کی مدہوشی سے میں نکلا نہیں تھا کہ تم پھر سے مدہوش کرنے لگی ہو،تمہاری قربت مجھے پاگل کر دے گی فازیہ نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پہلی دفعہ اتنے پیار سے اپنے لبوں سے اسکا نام لیتا اسکا چہرہ اپنی طرف گھما گیا جس کی دھڑکنوں میں ایک شور سا مچ گیا ۔
“شرم کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کی بڑھتی جسارتوں پر وہ گھبرا اٹھی۔
“تمہارے سامنے شرم کرنے کا کوئی فائدہ ؟الٹا نقصان ہی ہوگا لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گردن پر ہونٹ رکھ گیا فازیہ کی تو جان ہی جیسے وہاں آ رکی تھی۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے باز رکھنے کو اپنا آپ چھڑوانے لگی جس کے ہاتھ بھی مسلسل حرکت کر رہے تھے ۔
“تمہیں کس نے کہا تھا یوں بھیگا بدن لے کر میرے پاس آؤ،قتل کا انتظام بھی کرتی ہو اور کہتی ہو کہ اگلا اب مرے بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا احصار مضبوط کر گیا فازیہ گہرا سانس لیتی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں جو کچھ رقم تھا وہ اس سے نگاہ چرا گئی۔
“مجھے بہت بھوک لگی ہے پلیز مجھے تیار ہونے دو،رات کو بھی میں نے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گرفت میں کسمکساتے ہوئے اب کی بار منت بھرے لہجے میں بولی جس سے نائل اس کے چہرے پر جھکتا ایک بھرپور شرارت کرتا پیچھے ہٹ گیا جو شرم سے سرخ ہوتی اسے گھور بھی نہ سکی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭ؔ٭٭ؔ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ؔ٭ؔ٭٭٭٭٭٭٭٭ؔ٭ؔ
ان دونوں کو کسی بھی اظہار یا اقرار کی ضرورت نہیں پڑی تھی دونوں اس قدر قریب آ چکے تھے یہاں سے واپس پلٹنا دونوں کے ہی اختیار سے باہر تھا اس لیے فازیہ بھی ایک نئے امتحان میں اترنے کے لیے خود کو تیار کرنے لگی اور وہ تھا رخسار بیگم کی بہو کی حیثیت سے اب اس گھر میں قدم جمانا اور اپنی ماما کو بھی منانا جو یقیناً اس بات پر ہرگز خوش نہیں ہونگی جو ہر روز اسے طلاق کے لیے اکسا رہی تھیں اور اس نئے رشتے کے لیے راضی کرنے میں لگیں ہوئیں تھیں جو ان کے خیال میں اپنی ساری دولت فازیہ پر قربان کرنے پر تیار تھا۔
“مجھے مما سے اس بارے بات کرنی چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اب ان کے روبرو بات کرنے کا سوچنے لگی تبھی ردا بھابھی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
“کل میرے بھائی کی ڈیٹ فکس ہو رہی ہے سب جا رہے ہیں کیا تم بھی چلو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کے پوچھنے پر وہ سوچ میں پڑ گئی کہ ہاں کرے یا نہ،اب کچھ دنوں سے وہ فازیہ جو ہر بات کا تڑخ کر جواب دیتی تھی اب سوچ کر بولنے لگی تھی ہاں رخسار بیگم اور راحیلہ بیگم سے تو ابھی بھی وہ سیدھے منہ بات نہئں کر سکی تھی اور فازیہ کے لیے خوشی کی بات یہ تھی کہ اب تک نائل نے اسے اپنی مما کے ساتھ یا راحیلہ بیگم کے ساتھ بات کرنے یا ان سے نہ لڑنے کا نہیں بولا تھا بلکہ وہ اسکو مکمل پہلے کی طرح ہی آزاد رکھے ہوئے تھا جس سے چاہے بات کرے جیسے چاہے کرے!
“میں شاید نہ جا پاؤں ،مجھے کل مما کے پاس جانا ہے،بہت دن ہوگئے ہیں ان سے ملے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولی جس پر ردا بھابھی سر ہلا گئیں۔
“کوئی بات نہیں پر شادی میں تم لازمی جاؤ گی وہ بھی تین دن کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکا اچھا موڈ دیکھ کر وعدہ لینے لگیں جس وہ مسکرا کر سر ہلا گئی تبھی نائل اور عامر ہال میں داخل ہوئے جو ابھی یونی سے لوٹے تھے۔
“ثمرہ،میری پیاری بہنا ایک سٹرونگ سے کافی۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل صوفے پر بیٹھتا ثمرہ سے بولا جو سر ہلا کر اٹھ گئی۔
“میرے لیے چائے۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“ویسے نائل اب تمہیں اپنے کاموں کے لیے فازیہ کو آواز دینی چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کے کہنے پر نائل نے فازیہ کی طرف دیکھا جو اسکی طرف ہی متوجہ تھی نائل مسکرا دیا۔
“کیوں آپکو اپنی دیورانی یوں فارغ بیٹھی اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔۔؟وہ شرارت سے بولا جس پر ردا بھابھی نے اسے گھورا۔
“بات کو گھماؤ مت،بیوی ہے تو شوہر کا ہر کام کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فلحال یہ میرے ایک دو کہنے مان لیا کرے تو بڑی بات ہے کاموں کے لیے عمر پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فازیہ کو خاص نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔
“کونسے دو کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ردا بھابھی نے سوالیہ نگاہ سے فازیہ کو دیکھا جس نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔
“وہ آپکی دیورانی کو پتہ ہیں ،یہ وہی کر دیا کریں تو میرے پہ انکا احسان ہے اگرچہ محترمہ کو نیند پیاری نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آخری الفاظ وہ منہ میں ہی بولا فازیہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی خفیف سی ہو کر گھورنے لگی جو چپکے سے آنکھ مار گیا فازیہ سٹپٹا کر چہرہ موڑ گئی۔
“مما لوگ کدھر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر نے ردا بھابھی سے سوال کیا۔
“وہ اور رخسار آنٹی گروسری کے لیے مارکیٹ گئی ہیں،اور راحیلہ چچی اپنے کمرے میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے تفصیلی جواب پر وہ سر ہلا گیا۔
“ثمرہ سے کافی لے کر کمرے میں دے جانا،میں فریش ہونے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل فازیہ سے کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ ردا بھابھی نے کچھ معنی خیز نظروں سے فازیہ کو دیکھا جو نروس ہوتی سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
“لگتا ہے نائل کا جادو چل گیا ہے میری دیورانی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنکھیں گھماتیں معنی خیز لہجے میں بولیں جس پر فازیہ عامر کی موجودگی میں کچھ جھینپ سے گئی اور پھر ثمرہ سے کافی لے کر وہ جب کمرے میں آئی تو نائل پر بگڑنے لگی۔
“تم کسی کے سامنے تو لحاظ کر لیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اس کے آنکھیں دکھانے پر مسکرایا اور کافی اس کے ہاتھ سے پکڑ کر ٹیبل پر رکھی اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
“لحاظ کیا تھا تو ایسے بولا نہ ورنہ تو میں تمہیں یہی کہنے والا تھا فازیہ کمرے میں آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ضرور کہنا ایسے پھر اپنی مما سے ساری رات بیٹھ کہ درس لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ طنز کہتی اس کے بازو اپنی کمر سے ہٹا گئی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے معاملے میں مجھے مما سے ڈرنے کی ضرورت ہے؟بیوی ہو اور پورے دل سے جب بیوی مان لیا ہے تو گھر والوں سے چھپانے کا کونسا تک بنتا ہے،اور تمہیں یہ لگتا ہے کہ میں بس کمرے کی حد تک ہی تم سے رشتہ بنا کر رکھونگا۔۔۔۔۔۔۔..؟وہ سنجیدہ ہوا تھا فازیہ سر نفی میں ہلاتی اس کے قریب آئی اصل بات تھی کہ وہ خود ابھی نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو پتہ لگے شاید رخسار بیگم سے دشمنی کئ وجہ سے یا اپنی مما کے ناراض ہونے کے ڈر سے!
“مجھے ابھی وقت چاہئیے ،تمہاری مما کو معاف کرنے کے لیے اور اپنی مما کو راضی کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات نائل نے گہرا سانس لیا۔
“میری مما کو معاف چاہے ساری عمر نہ کرو،مگر پلیز ایک دفعہ آغا جان سے ساری سچائی سن لو،ہر بات سچ نہ سہی مگر سارا جھوٹ بھی نہیں ہوگا،کچھ تو قصور تمہاری مما کا بھی رہا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے کہنے لگا مگر فازیہ کے چہرے پر ناگوار تاثرات دیکھ کر لب بھینچ گیا وہ نائل کے ساتھ پر آمادہ ہوئی تھی مگر ابھی بھی وہ وہی فازیہ تھی ۔
“ویل چھوڑو ان باتوں کو،جو تمہیں بہتر لگے،چلو تیار ہو جاؤ آج تمہیں کہیں لے کر چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکا موڈ فریش کرنے کے خیال سے کہنے لگا ۔
“مگر تمہاری مما۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی سوئی شاید ابھی بھی وہاں ہی اٹکی تھی۔
“اف لڑکی،یہ تم میری مما سے ڈرنا کب سے شروع ہو گئی؟تم وہی ہو نہ جس نے سب کے سامنے کہا تھا کہ میری نیند کیسے پوری ہو آپکا بیٹا تو ساری رات سونے نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے پچھلی بات کا حوالہ دیا جس پر وہ خجل سی ہوتی مسکرا دی۔
“اور اب جب میدان میں اترنے کا ٹائم آیا ہے تو تم ایسے بھاگ رہی ہو،اوپر سے رات کو جلدی سونا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کب جلدی سوئی میں ؟تم سونے دیتے ہو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تیز بولتی نائل کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
“میں چاہتا ہوں کہ تم ساری رات نہ سویا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل ایک جذب کے عالم میں کہتا اسے اپنے ساتھ لگا گیا جو شرماتی ہوئی سر نفی میں ہلا گئی۔
“تم بہت خراب ہو نائل ابراہیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سینے پر سر ٹکاتی مدھم آواز میں کہہ اٹھی۔
“مجھے خراب کرنے والی تم ہو فازیہ نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی پیشانی چومتا اپنی گرفت مضبوط کر گیا ۔
———————————————
صبح سب بڑے ردا کے گھر جانے کے لیے نکل پڑے تو عامر،ثمرہ اور حمرہ نے باہر لنچ کرنے کا پروگرام بنا لیا ساتھ ہادیہ اور سعد کو بھی تیار کر لیا نائل یونی سے آف لے کر آیا تو انکا پروگرام سن کر کچھ کہے بنا فازیہ کی تلاش میں اپنے کمرے میں آیا جہاں وہ نک سک سے تیار شاید ثمرہ کے ساتھ جانے پر ریڈی تھی ۔
“کیا تم بھی ان کے ساتھ لنچ پر جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے سوال کیا۔
“نہیں ،مجھے مما کے پاس جانا ہے،تم راستے میں مجھے وہاں چھوڑ دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اپنا بیگ سمبھالتی اس کے قریب آئی جسکی آنکھوں کی چمک بجھ گئی۔
“آج جانا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”؟بجھے بجھے لہجے میں پوچھا اسکا دل آج فازیہ کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کا تھا۔
“ہاں میں انکو کال کر چکی ہوں،وہ انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکراتی ہوئی کہتی نائل کو جلا گئی وہ فریش ہونے کے خیال سے واشروم چلا گیا جب دس منٹ بعد باہر آیا تو اسے اپنے انتظار میں ہی پایا۔
“چلو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ گیا مگر جب فازیہ کمرے سے پاؤں باہر نکالنے لگی کہ نائل اسے کلائی سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا۔
“مت جاؤ،آج تمہارے ساتھ دن گزارنے کے لیے یونی سے آف لے کر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پیار سے رک جانے کی درخواست کرنے لگا جو مڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں بھی پیار بھری التجا نظر آئی۔
“مگر نائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب مان بھی جاؤ،کیا بچے کی جان لو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے کشمکش میں مبتلا دیکھ کر شوخی سے کہتا اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“چوبیس سال کا بچہ پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب جب تک میرا بچہ دنیا میں نہیں آتا تب تک میں ہی بچے کا رول پلے کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا مسکراتا لہجہ فازیہ کے چہرے پر قوس و قزاح کے رنگ بکھیر گیا وہ پزل ہوتی اس سے دور ہوئی ۔
“اب تو میں بلکل نہیں رکنے والی اگر تم ایسی باتیں کرو گئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم باتوں کی بات کر رہی ہو میں تو ان باتوں پر عمل کرنے کا سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھتا اسکی چٹکی چڑھا گیا ۔
“نائل تم۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اسکی بولتی آنکھوں کی زبان سمجھتی شرم سے سرخ ہوتی اسے گھور کر رہ گئی جو لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ لیے اسکی طرف بڑھا۔
“صرف کچھ گھنٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکے پاس آتا اسکا ہاتھ پکڑ گیا۔
“بلکل نہیں،چلو مما کی طرف نہ سہی مگر ہم ثمرہ لوگوں کے ساتھ لنچ پر تو جا سکتے ہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی پرحدت گرفت سے بوکھلاتی راہ فرار کے طریقے ڈھونڈنے لگی جسکو سمجھتا وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔
“میں عامر کو میسج کر دیتا ہوں کہ ہمیں کہیں اور جانا ہے اس لیے کچھ دیر کے بعد آپکو جوائن کریں گئے،اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کہتا ہوا موبائل نکال کر عامر کو ٹیکسٹ کیا اور موبائل ٹیبل پر رکھتا اسکی طرف دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کچھ اور؟
“وہ مجھے ثمرہ سے ایک کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس اب چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکے قریب آتا اسکی بولتی یوں بند کر گیا کہ اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔
دونوں نے ایک ساتھ ایک بھرپور دن گزارا تھا بہت ساری باتیں اور نٹ کھٹ سی شرارتیں دونوں کو ہی بہت قریب لے آئیں تھیں۔
“ڈنر پر چلو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسے آفر کی جسے فوراً قبول کرتی وہ اس کے ساتھ مونال چلی آئی۔
“اپنی پسند کا آڈر کیجیئے محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مینیو بک اسکی طرف بڑھاتا وہ ایزی ہو کر بیٹھا ۔
“تم میری پسند کا کھا لو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ شرارتی انداز میں پوچھنے لگی۔
“تمہاری پسند کا تو پتہ نہیں مگر میری پسند تو تم میں ہی کہیں گھل گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پیار بھری نگاہوں سے دیکھتا ایک جذب کے عالم میں بولا جس پر وہ فخریہ مسکرائی۔
“سچ سچ بتاؤ ،اس طرح کے ڈائیلاگ یونی میں کتنی لڑکیوں کو بولے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی نائل نے ایک گہرا سانس بھرا ۔
“علیشہ کے علاوہ کسی کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے بھی آگے سے جلانے کی بھرپور کوشش کی جس پر وہ جلتی بھڑکتی مینیو بک اس کے بازو پر مار گئی جس پر وہ قہقہ لگاتا پیچھے کو ہوا ۔
فازیہ نے دیکھا وہ شرارت سے ہنستا اتنا خوبصورت لگ رہا تھا کہ ریسٹورنٹ میں موجود بہت ساری لڑکیوں نے اسے مڑ کر دیکھا تھا اور فازیہ جلن کے احساس سے نائل کو گھورنے لگی۔
“اب اس میں میرا کیا قصور۔۔۔۔۔۔۔۔”؟وہ کندھے اچکا کر بولا حالانکہ لبوں پر شرارتی مسکان مسلسل تھرک رہی تھی۔
“باز آ جاؤ نائل ابراہیم،اتنی پیاری بیوی مفت میں اگر مل گئی ہے تو قدر کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مفت میں کہاں ملی ہو؟بہت سارے محاذوں پر لڑ کر پایا ہے اور ابھی بہت سارے کٹھن مراحل عبور کرنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سنجیدہ ہوا۔
“بس میری مما کا مسلہ ہے،وہ بھی حل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جتنی بے فکری سے کہہ گئی اتنا ہی فکرمند بھی تھی۔
ویٹر کے کھانا لگانے کے بعد وہ ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ ڈنر کرنے لگے تبھی ہال میں داخل ہوتی حرا بیگم کی نظریں فازیہ پر پڑیں جو کسی خوبصورت لڑکے کے ساتھ کسی بات پر مسکرا رہی تھی اور اس لڑکے کے چہرے پر بھی چمکتی مسکراہٹ تھی۔
“تو یہ تھی تمہاری مصروفیات ؟جسکی وجہ سے تم نے مجھے نہ آنے کا میسج کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کی سپاٹ آواز پر فازیہ گڑبڑا کر اٹھی مگر نائل کی نشست میں زرا برابر فرق نہ پڑا۔
“وہ مما ،مجھے کچھ شاپنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس بہت ہو گیا فازیہ ،میں دیکھ رہی ہوں پچھلے کچھ دنوں سے تم کیسے میری بات کی نفی کر رہی ہو،اتنے پیارے کب سے یہ لگنے لگے تمہیں کہ تم ان کے ساتھ ڈنر کرنے لگی؟ہے کون یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار انکی نظریں نائل ابراہیم پر ٹکیں جس میں انکو کسی اور چہرے کی جھلک نظر آئی۔
“یہ نائل ہے،نائل ابراہیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے یوں تعارف کروایا جیسے کوئی چور اپنی چوری پکڑ جانے پر شرمندہ ہو کر تعارف کرواتا ہے نائل گہرا سانس بھرتا اپنی نگاہیں دوسری طرف مرکوز کر گیا ویسے بھی اسے حرا بیگم پہلی نظر میں ہی اچھی نہیں لگی تھیں۔
“یہ ہے نائل ابراہیم ؟تم نے تو کہا تھا کہ وہ تم سے چھوٹا ہے؟تم نے اس کے ساتھ شادی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا نائل کو دیکھتی حقیقتا حیران ہوئیں تھیں جو کہیں سے بھی اسے فازیہ سے کم عمر نہ لگا تھا بلکہ اپنی گریسسو پرسنالتی کے ساتھ پورے ماحول پر چھایا ہوا تھا انکو اب سمجھ آئی تھی کہ انہوں نے اس کے اندر ابراہیم آفندی کی جھلک دیکھی تھی جو کہ انکی محبت تھا جنکی وجہ سے وہ آج تک انتقام کے بھانبھر میں جلتی آ رہی تھیں۔
“مما آپ بیٹھیں میں آپ کو سب بتاتی ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے انکی آنکھوں سے آگ نکلتی دیکھی تو جلدی سے انکا ہاتھ پکڑ گئی جن کو انہوں نے ایک جھٹکے سے پیچھے کیا۔
“کیا رہ گیا ہے بتانے کو؟یہی کہ تم اپنے دشمنوں کو معاف کر چکی ہو؟ان کے ساتھ گھوم رہی ہو جنہوں نے تمہاری ماں کو زلیل کیا جنکی وجہ سے ساری عمر تم باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیمی بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوئی اور آج تم انکو یوں عزت سے پاس بٹھائے اپنی ماں کو دھوکہ دے رہی ہو،یہ لوگ اس قابل ہیں کہ انکو دیکھا بھی جائے اور تم یہاں گپیں لڑا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑک کر بولتیں کھا جانے والی نظروں سے نائل کو دیکھنے لگیں جس نے سختی سے لب ایک دوسرے میں پیوست کیے جیسے مشکل سے برداشت کر رہا ہو اور فازیہ اسکے ہاتھوں کی سختی سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ اسے کس قدر ناگوار گزر رہا تھا سب۔
“فازیہ،میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں،جلدی آ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل ابراہیم سپاٹ انداز میں فازیہ سے کہتا بل ٹیبل پر رکھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ حرا بیگم نے شعلہ بار نگاہوں سے اسکی پشت کو دیکھا جو مضبوط قدم اٹھاتا باہر کی جانب جا رہا تھا ۔
“دیکھا تم نے؟یہ کس طرح روب جھاڑ رہا ہے تم پر،کیا تم اسے اپنا شوہر تسلیم کر چکی ہو؟بتاؤ مجھے فازیہ،اس لڑکے کی اکڑ یونہی بے وجہ تو نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے شکی نگاہ اس پر مرکوز کی جو اس وقت شاید بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
“آپ کو میں گھر آ کر سب بتا دونگی،ابھی مجھے جانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کوئی فیصلہ کرتی ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاتی اس طرف ہی بھاگی جہاں تھوڑی دیر پہلے نائل ابراہیم گیا تھا جبکہ حرا بیگم تو پیچ و تاب کھا کر رہ گئیں ان کو کوئی خطرے کی گھنٹی سنائی سے گئی تھی۔~~~~~~~~~
“تمہیں اپنی مما سے کھل کر بات کر لینی چاہئیے فازیہ،میرے خیال میں اب بہت ساری باتیں کلئیر ہو جانی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راستے میں نائل نے اسے کہا تھا جس پر فقط وہ خاموش رہتی کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی اور جب وہ دونوں ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے تو اپنے کمرے سے نکلتیں رخسار بیگم کو یہ منظر یہ ساتھ ایک آنکھ نہ بھایا۔
“اوہ تو میرے بیٹے کو اس رشتے میں اتنا لگاؤ ہو گیا ہے کہ اب ڈنر پر بھی جانا شروع کر دیا ہے،اتنی گنجائش کیسے نکل آئی نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ سراپا سوال بنی سامنے تھیں نائل بے اختیار گہرا سانس بھر گیا ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک پیشی وہ بھگت کے آئے تھے ان دوسری!
“جب سے ایک دوسرے کو میاں بیوی کے طور پر قبول کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جواب فازیہ کی طرف سے آیا تھا جو ہمیشہ کی طرح انکو جلا کا خاکستر کر گیا ۔
“کیوں؟کیوں شوہر قبول کیا ہے تم نے میرے بیٹے کو؟یہ بھی اسی گھر کا بیٹا ہے جس گھر سے تم دونوں ماں بیٹی نفرت کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“صرف آپکو یہ تکلیف دینے کے لیے،میں آپکو اسی درد سے ہمکنار کروانا چاہتی ہوں جو اتنے سالوں سے ہم ماں بیٹی کے دل میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی جوابا تلخ ہوئی
“تمہاری ماں تو میرے شوہر کی محبت میں مبتلا تھی تم میرے بیٹے کی محبت میں مبتلا ہو گئی ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم چلو کمرے میں،مما مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل انکی لڑائی کو طویل میں جاتا دیکھ کر فازیہ سے کہتا ماں کی طرف آیا۔
“نہیں نائل،مجھے آج اس لڑکی کو اسکی اوقات یاد دلانی ہے جو کب سے ہمارے سروں پر ناچ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکا لہجہ بھی زہرخند تھا نائل بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود کو ریلکیس کرنے لگا پھر فازیہ کو بازو سے پکڑتا وہاں سے اپنے ساتھ لیے کمرے میں آ گیا جبکہ رخسار بیگم نائل کی اس حرکت پر غصے سے بل کھا کر رہ گئیں ۔
“پلیز فازیہ،مجھے مما سے بات کر لینے دو،اس کے بعد جو دل آئے کرنا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا بات کرو گئے اب ان سے؟یہی کہ فازیہ کو معاف کر دیں؟مجھے تمہاری مما کی معافی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولی۔
“مجھے آپ دونوں عورتوں کی صلح سے غرض نہیں ہے،میری طرف سے ساری عمر ایسے لڑتے رہیں مگر مجھے معاف رکھیں اس لڑائی سے،مما سے بھی مجھے یہی بات کرنی ہے کہ مجھے فازیہ کو چھوڑنے کا کبھی مت کہیے گا اور تم سے بھی درخواست کرونگا کہ تم مما سے بے شک لڑو مگر ایک حد تک ،اپنے منہ سے جتنی چاہے گولہ باری کرو مگر عزت کے جامعے میں رہ کر کیونکہ آپ دونوں عورتوں کو نہ تو میں سمجھا سکتا ہوں نہ چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی خود کو اس سب سے پرے رکھ سکتا ہوں اس لیے میرے اعصاب سے اتنا مت کھیلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اکتائے ہوئے لہجے میں کہتاواش روم میں چلا گیا اور فازیہ پاؤں پٹخ کر وہی بیڈ پر ٹک گئی.
“اس عورت سے جان چھڑوانی ہے مجھے ،بہت نفرت ہے مجھے تمہاری ماں سے نائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل ہی دل میں بولتی حرا بیگم کا سوچنے لگی جن کو کل مل کر نائل کے لیے راضی کرنا اسے بہت مشکل لگ رہا تھا ۔
“اب کافی پلا دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل باہر آیا تو اسے گم صم بیٹھے دیکھ کر کہنے لگا جس نے حسب معمول ایک عدد گھوری سے نوازا۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے تم مجھ پر غصہ کر کے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“معاف کیجیے ملکہ عالیہ ،جسے آپ اپنی شان میں گستاخی سمجھ رہی ہیں وہ اس لاچار انسان کی ایک عاجزانہ درخواست تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل یوں بولتا اسے قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا ۔
“اب آئے ہو نہ لائن پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بے اختیار اس کے قریب آتی اس کے گیلے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔
“تمہیں طریقہ آتا ہے مجھے لائن پر لانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکے انداز پر محفوظ ہوا۔
“تمہارے خاندان کو تو ابھی تک میں لائن پر لا نہیں سکی۔۔۔۔۔”
“بس اب ،یہی ختم یہ بات،جاؤ کافی لے کر آؤ،کبھی تو مجھے بھی کوئی شوہرانہ حق دیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکی بات کاٹتا ڈریسنگ کی طرف بڑھا ۔
“ابھی بھی تمہیں مجھ سے شکایت ہے؟ابھی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے آنکھیں دکھائیں جو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا فازیہ شرم اور غصے سے سرخ ہوتی اس پر کشنوں کو بارش کرنے لگی جو کھلکھلا کر ہنستا ہر کشن کیچ کرنے لگا۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ کافی بنانے کچن میں آئی تو رخسار بیگم کو وہاں کھڑے دیکھ کر بھی نظرانداز کرتی کافی میکر کی طرف آئی۔
“ان اوچھے ہتھکنڈوں سے تم میرا بیٹا حاصل نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانتی تھیں کہ نائل رات کو کافی پی کر سونے کا عادی تھا اس لیے وہ اس کے لیے کافی بنانے کچن میں آئیں تھیں مگر اسے بھی کافی کے لیے آتا دیکھ کر کہنے سے خود کو روک نہ پائیں ۔
“حاصل کر چکی ہوں،آپ کسی بھول میں مت رہیں کہ آپکا بیٹا ابھی صرف آپکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ فخریہ مسکرائی ۔
“میرا بیٹا تمہاری طرف دیکھے بھی نہ تم کسی خوش فہمی میں نہ رہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“افسوس،مجھے آپکا دل توڑنا پڑ رہا ہے کہ آپ کا بیٹا مجھے دیکھنے کے لیے پل پل مر رہا ہے بلکہ میرے قربت کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا ہے اور شاید آپکو تب یقین آئے گا جب میں اسے پوری طرح اپنی محبت میں گرفتار کر کے اس آفندی ہاؤس سے لے جاؤنگی،آپکو کیا لگتا ہے مجھے آپ کے بیٹے سے محبت ہو گئی ہے بلکل نہیں مجھے جتنی نفرت ہے آپ سے آپ کے اس خاندان سے آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں مگر مجھے آپ کے اکلوتے اور پیارے بیٹے کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ویسے ہی اس گھر سے لے کر جانا ہے جیسے آپ نے میرے باپ کو لے جا کر میری ماں سے دور کیا تھا،مجھے آپکو اسی اذیت سے دو چار کرنا ہے جس سے میری ماں ہوئی تھی اور بہت جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ جلانا چاہ رہی تھی اور اسکا تیر سہی نشانے پر ہی لگا تھا رخسار بیگم جل کر راکھ ہو گئی تھیں مگر فازیہ کی نظریں جب لب بھینچے ہوئے نائل ابراہیم پر پڑی تھی تو اسکا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔
