Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 13

“فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ اطراف میں دیکھتا گاڑی چلا رہا تھا کہ سڑک کے دائیں طرف پڑے بینچ پر اسے فازیہ کا گمان ہوا تھا وہ گاڑی سے نکل کر فورا اس طرف بڑھا جو نڈھال بیٹھی تھی۔
“فازیہ میری جان،کیا ہوا؟ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پریشان ہوتا اس کے قریب بیٹھا جو اسے سامنے پاکر پھر سے بکھرنے لگی نائل اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔
“کیا ہوا ہے فازیہ؟بتاؤ مجھے،ایسے رو کر مجھے پریشان مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے بال سہلاتا پوچھنے لگا مگر وہ ہچکیاں لیتی سر نفی میں ہلانے لگی ۔
“میرا دل،میرا دل پھٹا جا رہا ہے نائل،میرا دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بہت زیادہ ہرٹ ہوئی تھی اسکا اعتماد ،اپنی ماں پر بھروسہ،اپنی ذات پر فخر اور غرور اور ایک ماں کا مان سب ایک جھونکے میں ہی ٹوٹ کر چکنا چور ہوئے تھے جسکی کرچیاں اسکے دل میں تیر کی طرح لگ رہی تھیں نائل اس کے لفظوں سے کچھ نہ کچھ سمجھ چکا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آج وہ حرا بیگم سے کس وجہ سے ملنے آئی تھی۔
“گھر چلو،وہاں جا کر بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”پاس سے گزرتے لوگوں کی نظریں محسوس کرتا وہ فازیہ کو اٹھانے لگا مگر وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی اس کے بازوؤں میں ہی جھول گئی۔
“فازیہ،فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ بے قراری سے پکارنے لگا مگر وہ بے سدھ اسکے بازوؤں میں پڑی ہوش سے بیگانہ تھی نائل جلدی سے اسے گاڑی میں بیٹھاتا گاڑی فل اسپیڈ سے چلانے لگا اگلے بیس منٹ میں وہ ہسپتال میں تھا۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
نائل کوری ڈور میں ادھر سے ادھر چکر لگاتا مسلسل دعا میں مصروف تھا اسکی سرخ آنکھیں اسکی دلی کیفیت کا بخوبی اظہار کر رہی تھیں کہ وہ غم کے کس دور سے گزر رہا تھا اس نے گھر میں کسی کو اطلاع نہیں دی تھی مگر ابراہیم آفندی کی کال پر وہ انکو اپنی ہسپتال میں موجودگی اور فازیہ کے بارے میں بتا گیا جو اگلے آدھے گھنٹے میں اس کے پاس تھے ساتھ آغا ہاشم ،عامر ،راحیلہ بیگم اور ردا بھابھی تھے۔
“کیا ہوا فازیہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟آغا ہاشم کے سوال پر نائل جو پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل اعصابی جنگ لڑ رہا تھا فازیہ کی کنڈیشن کو لے کر وہ غم و شدت سے جیسے خود کو سنبھالے ہوئے تھا مگر اب اپنوں کو دیکھ کر وہ جیسے ڈھے گیا ۔
“آغا جان،وہ ٹھیک نہیں ہے،وہ بہت پریشان تھی ،اسے کچھ نہیں ہونا چاہئیے کچھ بھی نہئں ۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے گلے سے لگتا وہ اپنی کیفیت بیان کرتا سب کا دل مٹھی میں لے گیا آغا ہاشم نے اس کے مضبوط وجود کو اپنے بازوؤں میں لے کر جیسے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی ابراہیم آفندی جنہوں نے ہمیشہ ہر میدان میں اپنے بیٹے کو باہمت اور مظبوط پایا تھا مگر اب فازیہ کو لے کر اس کے کمزور لہجے پر وہ آگے بڑھتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئے۔
“میرے شیر ،حوصلہ کرو وہ ٹھیک ہو جائے گی انشاءاللہ،تم ایسے دل مت چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے نائل سے پوچھا جو آغا ہاشم سے الگ ہوتا انکی طرف دیکھنے لگا ۔
“اسکا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے آنی،اگر اسے تین گھنٹوں تک ہوش نہ آیا تو وہ کومے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے اپنے لب اتنی سختی سے کاٹے تھے کہ ان میں خون کی بوند نکل آئی اسکی آنکھیں اسکے ضبط کی گواہی دے رہی تھیں ۔
“تم پریشان نہ ہو،اللہ سے دعا کرو بس،وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے کہا اور تسبیح لیئے بیٹھ گئیں ردا بھابھی بھی دعاؤں میں مصروف ہو گئیں جبکہ ابراہیم آفندی اپنے دوست ڈاکٹر فیض سے ملنے چلے گئے تاکہ وہ اپنی موجودگی میں اچھے سے فازیہ کا خیال رکھ سکیں۔
“ہوا کیا تھا؟وہ کس طرح اس حالت کو پہنچ گئی؟۔۔۔۔۔۔۔؟آغا ہاشم کے سوال پر وہ لب بھینچ گیا۔
“مجھے نہیں پتہ،وہ اپنی ماما سے ملنے گئی تھی،یہ بتانے کہ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے گہری سانس بھری جیسے اپنے اعصاب کو پرسکون کرنا چاہ رہا ہو مگر دکھ اور ٹینشن تھی کہ کم ہونے کو نام نہیں لے رہی تھی جسم سے جان کا نکلنا کیا ہوتا ہے نائل کو اب پتہ چل رہا تھا وہ آئی سی یو کے دروازے سے اندر بیڈ پر آنکھیں بند کیے ہوش و حواس سے بیگانہ فازیہ کو دیکھتا اپنے دل پر تکلیف محسوس کرنے لگا۔
“پلیز فازیہ ،مجھے پریشان مت کرو پلیز،تم نہیں جانتی کہ تمہیں یوں دیکھنا میرے لیے قیامت سے کم نہیں،میری جان نکل رہی ہے پلیز لوٹ آؤ میری زندگی میں واپس،ویسے ہی لڑتی جھگڑتی اکڑ دکھاتی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا سر دروازے پر ٹکاتا گہرے اضطراب میں مبتلا تھا عامر اسکی کنڈیشن کو سمجھتا اس کے قریب آتا اسکا شانہ تھپتھانے لگا۔
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
“مجھے تو اس لڑکے کی سمجھ نہیں آ رہی،اس طرح جوگ لے کر ہسپتال بیٹھا ہے جیسے کوئی سگی بیوی ہو،ارے اسے تو طلاق دے کر دفعہ کرے،ہماری بلا سے جہاں مرضی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم منزہ کے ساتھ فون پر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھیں انکو یوں سب کا ہسپتال جانا اور فازیہ کے لیے اس قدر پریشان ہونا ہضم نہئں ہو رہا تھا اوپر سے نائل کی جو حالت بتائی جا رہی تھی وہ انکو پریشان کرنے کے لیے کافی تھی کہ نائل اتنا سیریس کیوں ہو رہا تھا ۔
“پر بھابھی آغا جان بتا رہے تھے کہ اسکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے تو لگتا ہے یہ اس ماں بیٹی کی نئی چال ہے،ضرور نائل کو اپنے ہاتھوں میں کرنے کے لیے،مجھے اس مکار لڑکی کا فراڈ سب کے سامنے لانا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے کہتے ہوئے دو چار الوادعیہ باتیں کیں اور ڈرائیور کے ساتھ ہسپتال کے لیے نکل پڑیں وہ آج فازیہ کا ڈرامہ فلاپ کرنا چاہتی تھیں ۔
جب وہ ہسپتال پہنچیں تب کوری ڈور میں اسے آغا ہاشم،ابراہیم آفندی،سلیم آفندی،راحیلہ بیگم ،ردا اور عامر بیٹھے دکھائی دئیے جبکہ نائل دروازے کے پاس کھڑا تھا۔
“آپ لوگ اس طرح بیٹھے ہیں جیسے اس نے آپ لوگوں کو سر پر اٹھا رکھا تھا،ارے تین گھنٹوں سے آپ لوگوں نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا اپنی چہیتی کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی نفرت سے ڈوبی آواز پر جہاں باقی سب نے تاسف سے دیکھا وہی نائل نے سپاٹ نظروں سے دیکھا۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو؟جب کہا تھا کہ اگر آنا ہے تو بیٹے کو حوصلہ دینے کے لیے آنا ورنہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“کیا حوصلہ دوں بیٹے کو؟جو اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے جوگ لیے بیٹھ گیا ہے ،میں بتا رہی ہوں یہ سب ڈرامہ ہے اسکا صرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابراہیم ،رخسار کو گھر چھوڑ آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے ناگواری سے ابراہیم آفندی کو کہا۔
“چچا جان آپ مجھے چپ نہیں کروا سکتے،وہ چالاک لڑکی میرے بیٹے کو مجھ سے چھیننے کے لیے چال کھیل رہی ہے،اس طرح کی مکار لڑکیوں کے نروس بریک ڈاؤن نہیں ہوتے یہ تو دوسروں کو زہنی ٹارچر کرنے کے طریقے سیکھ کر آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بہت ہو گیا،اب جاؤ تم رخسار۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے بدلتے تاثرات ابراہیم آفندی کو بہت کچھ سمجھا چکے تھے انہوں نے رخسار بیگم کو جانے کا اشارہ کیا مگر وہ ان کو نظر انداز کرتیں نائل کے سامنے آ کھڑی ہوئیں جو لب بھینچے ہوئے تھا ۔
“تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری ماں پاگل ہے جسے سمجھ نہیں آ رہی ؟تم یہ جوگ لے کر بیٹھے ہو اس سے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہو کہ تمہیں وہ قبول ہے؟تم اسے بیوی مان چکے ہو؟اسکی نفرت،بدزبانی ،مکاری ،میری بے عزتی سب کچھ بھول کر اسے اپنانا چاہ رہے ہو؟بتاؤ کس طرح تم اسے یہ مقام دے سکتے ہو کس طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دبے دبے غصے سے بول رہی تھیں۔
“یہ ان باتوں کا ٹائم نہیں ہے رخسار۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے جیسے ٹوکا تھا مگر وہ ان سنی کر گئیں۔
“کیا ہوا ہے؟کچھ بھی تو نہیں ہوا،وہ لڑکی ڈرامہ کر رہی ہے میرے بیٹے کو الو بنانے کے لیے جو بن بھی رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ماما پلیز،میرا اس وقت بحث کا موڈ نہیں ہے،آپ گھر جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بہت تحمل سے ان کی باتوں کو حلق سے اتارا تھا۔
“مجھے بھی بحث نہیں کرنی تمہارے ساتھ نائل،بس یہ بتانا چاہ رہی ہوں کہ مجھے وہ لڑکی کسی صورت اس گھر میں تمہاری زندگی میں گوارا نہیں ہے اس لیے اس طرح کی کوشش بھی مت کرنا میں۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ بیوی ہے میری ماما،میں اسے ساری زندگی کے لیے بیوی مان چکا ہوں اس لیے یہ بات میں آپکی کیا اپنے باپ کی بھی نہیں مان سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کا لہجہ اگرچہ مدھم تھا مگر مظبوط اور سرد تھا رخسار بیگم جیسے آپے سے باہر ہونے لگیں۔
“دیکھا آپ نے چچا جان،ابراہیم آپ نے بھی سن لیا،یہ اس ناگن کی مکار بیٹی کو اپنی بیوی مان چکا ہے،یہ اس بدکردار ماں کی بدکردار بیٹی کو ہمارے سروں پر بٹھانا چاہتا ہے جس نے ہمارے خاندان پر کالک ملی تھی ،میں جانتی تھی ایک دن یہی ہوگا ،وہ لڑکی اس گھر میں آئی اسی مقصد سے تھی اور اب یہ جو ناٹک کرکے اندر لیٹی ہے تو وہ بھی آپ سب کو بیوقوف بنانے کے لئے،ایک چال ہے ماں بیٹی کی،ارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپا چلیں گھر۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی کے اشارے پر راحیلہ بیگم ان کے پاس آئیں ۔
“یہ ہسپتال ہے رخسار،باقی باتیں گھر آ کر،دعا کرو بچی ٹھیک ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیم آفندی پہلی بار بولے تھے ۔
“بھائی صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں،ابھی بھی آپکو اس لڑکی کے فراڈ کا اندازہ نہیں ہو رہا ہے؟میں تو دعا کرونگی کہ اسکا سچ میں ہی نروس بریک ڈاؤن ہو جائے اور جان چھوڑ دے ہم سب کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما پلیز،چپ ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کو انکے بولنے پر تکلیف ہوئی تھی۔
“کیسے چپ ہو جاؤں میں،مجھے جتنا دکھ اس کی ماں نے اور اب یہ دے رہی ہے کیسے برداشت کروں میں،یہ تو مر ہی جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار نائل بولا نہیں دھاڑا تھا سخت لہجہ ضبط سے سرخ آنکھیں سختی سے بھینچے ہوئے لب رخسار بیگم اس کے خشمگیں انداز پر ایک پل کو فریز ہوئیں تھیں۔
“آپ اس طرح کے الفاظ اپنے منہ سے نکالنے سے پہلے یاد رکھئیے گا کہ میری سانسیں اب اسکے ساتھ جڑی ہیں اگر اسے کچھ ہوا تو زندہ میں بھی نہیں رہونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے شدید ردعمل پر وہ ساکت ہوئیں ۔
“آپ کو فازیہ سے نفرت ہے سر آنکھوں پر،آپکو وہ اپنے گھر قبول نہیں یہ بھی منظور مگر آپ اسے میری زندگی سے نکالنے کی بات کریں گی تو میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤنگا ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل برف لہجے میں کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
“میں نے کہا تھا رخسار کہ کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ لینا،یہ اب تم پر منحصر ہے کہ تم اپنے بیٹے کے لیے بڑا دل کر اس پر احسان چڑھا کر اسے اپنے قریب کرتی ہو یا اپنی انا اور نفرت میں اپنے بیٹے کو ساری زندگی کے لیے خود سے دور۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی سپاٹ انداز میں انکو کچھ باور کرواتے نائل کے پیچھے چل دئیے۔

فازیہ کو ہوش آ گیا تھا اس خبر نے سب کو جہاں خوشی سے نوازا تھا اور پرسکون کیا تھا وہی نائل خوشی سے لبریز ہوتا رب کے حضور سجدہ ریز ہوگیا وہ بہت زیادہ خوش تھا پچھلے تین گھنٹوں کی ٹینشن اور پریشانی نے جہاں اس کے چہرے کی رونق چھین لی تھی اس روح افزا خبر نے جیسے اس کے پورے وجود میں ایک جینے کی ترنگ سی ڈال دی وہ مسکراتا ہوا پرائیوٹ روم میں آیا جہاں فازیہ کو شفٹ کیا گیا تھا سب فازیہ کے ارد گرد جمع تھے اور اسکا حال آحوال پوچھ رہے تھے نائل جان بوجھ کر سب سے پہلے اسے ملنے نہئں آیا تھا کیونکہ وہ اپنے دل اور جذبات کو پرسکون کرنا چاہتا تھا تو یقیناً فازیہ کو سامنے پاکر بے اختیار ہونے تھے۔
“آ جاؤ نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے بلانے پر فازیہ نے دیکھا جو تین چار گھنٹوں میں ہی بیمار لگنے لگا تھا سرخ آنکھیں ،بکھرے بال ،شکن زدہ شرٹ فازیہ کی آنکھیں جھلملا سی گئیں وہ خود کو اسکی محبت کے سامنے بہت چھوٹا تصور کرنے لگی۔
سب دونوں کو ٹائم دینے کے خیال سے باہر چلے گئے تو نائل اس کے پاس آ کر ٹک گیا۔
“کیسی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے جھکتے ہوئے اسکی پیشانی پر لب رکھے تھے فازیہ نے آسودگی سے مسکرا کر دیکھا جسکی آنکھیں بہت کچھ بیان کر رہی تھیں ۔
“میں نے بہت پریشان کیا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتی کہنے لگی نائل نے سر نفی میں ہلایا.
“تم نے جان نکال دی تھی فازیہ،پلیز اب کبھی مجھے اس طرح کی اذیت میں مبتلا مت کرنا،مجھ سے سب برداشت نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جذبات سے بھرپور لہجے میں بولتا اسکی آنکھیں نم کر گیا وہ دھیرے سے اٹھ کر بیٹھتی اسے اپنے ساتھ لگا گئی جو خود بھی اس کا سہارا چاہتا تھا۔
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں،اتنی کہ تمہارے بغیر ایک پل بھی گزارنے کا سوچوں تو موت نظر آتی ہے،پلیز فازیہ میرے لیے اب کبھی کوئی پریشانی کوئی دکھ اپنے پر حاوی نہ ہونے دینا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک پیار بھری منت اور التجا تھی اس التجا کے پیچھے جو کہانی چھپی تھی وہ دونوں جانتے تھے اس لیے فازیہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں پر پل باندھتی سر ہلا گئی ۔
“پوچھو گئے نہیں کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کے کہنے پر نائل نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں ابھی بھی ایک درد ہلکورے لے رہا تھا۔
“جانتا ہوں سب،تمہارا موبائل میرے پاس ہے،تمہاری مما کی کال آئی تھی بہت کچھ بولتی چلی گئیں مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہولے سے مسکرایا فازیہ نے گہری نگاہوں سے اس کے تاثرات کا جائزہ لیا جیسے کچھ تلاشنا چاہ رہی ہو۔
“فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکا ہاتھ پکڑا
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تمہاری مما نے کیا کیا،تم جس وجہ سے مجھ سے شادی کرنے پر مجبور ہوئی،میری مما نے تم سے نفرت کی،اب تمہاری مما کا سچ ان سب باتوں کو ایک طرف ڈال کر آگ لگا دو،مجھے اب کوئی بات نہیں دہرانی ہے،کسی قسم کی معافی یا صفائی کی طلب نہیں ہے،کون کہاں سچا کہاں جھوٹا تھا یہ سب بھی جاننے کی خواہش نہیں رہی ،تمہیں بھی اب اس بات پر دُکھی ہونے یا شرمندگی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے تم اب بھی وہی فازیہ بن کر مجھ سے بات کرو گی جو اکڑ دکھاتی ہوئی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی ہے،جو نائل آفندی پر حکومت کرنا جانتی ہے جو مجھے پیار سے جیت چکی ہے،اس لیے مجھ سے وعدہ کرو کہ تم اب کسی سے کیا مجھ سے بھی اس چیز کا زکر نہئں کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کے آگے اپنے ہاتھ پھیلائے فازیہ مسکراتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی نائل نے جیسے اسے شرمندگی کے بوجھ سے آزاد کیا تھا اسے سر اٹھا کر جینے کی امید دے دی تھی وہ جو اس بات پر پریشان تھی کہ سب کا سامنا کیسے کرے گی خاص طور پر اسکی کی ہستی کا غرور اور مان کیونکہ جو وہ رخسار بیگم اور راحیلہ بیگم کے ساتھ کرتی آئی تھی کیا سب سے شرمندہ ہوتی وہ اپنا وہ مقام لے پائے گی مگر نائل نے جیسے اسکی ہر مشکل آسان کر دی وہ حقیقی معنوں میں نائل کے ساتھ پر رب کا شکر بجا لائی ۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
“مجھے آپ سب سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”گھر آنے کے بعد نائل کو رخسار بیگم نظر نہیں آئی تھیں وہ آغا ہاشم کے کمرے میں آیا جہاں ابراہیم آفندی اور رخسار بیگم بھی براجمان تھے وہ آ کر صوفے پر ٹک گیا اور اپنی ماں کو دیکھا جنہوں نے ناراضگی کے طور پر منہ پھیر لیا۔
“سب سے پہلے تو مما سے معذرت مجھے آپ کے سامنے اپنی آواز اونچی نہیں کرنی چاہئیے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رخسار بیگم کو دیکھتا بولا جنہوں نے نظرانداز کیا تھا ۔
“آپ سب کے علم میں لانے کے لیے بتا رہا ہوں کہ فازیہ آج اپنی مما سے بات کرنے گئی تھی کہ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے جبکہ اسکی مما مسلسل اسے طلاق کے لیے کہہ رہی ہیں ،اس لیے فازیہ اس حال تک پہنچی کیونکہ اسکی مما نے اسے دو آپشن دئیے تھے میں یا وہ اور فازیہ نے مجھے چنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بات کو گول مول کرتا بتانے لگا وجہ صرف فازیہ کی عزت نفس کو بحال رکھنا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ سب کو پتہ لگے اور پھر فازیہ خود کو ڈی گریڈ ہوتا محسوس کرے کیونکہ فازیہ نے نائل کے لیے اپنی مما کو چھوڑا یہ فازیہ کی عزت اور اس کے غرور میں اضافے کا باعث بننا تھا جبکہ فازیہ کو اپنی ماں کی اصلیت پتہ چلی یہ اس کے لیے شرمندگی تھی وہ کسی سے نظریں اٹھا کر بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہنا تھی اس لیے وہ یہ بات کبھی بھی اپنی فیملی سے ڈسکس کرنا نہیں چاہتا تھا ۔
“اس لیے جب وہ اپنی مما کی ناراضگی کے باوجود میرے ساتھ رہنے پر آمادہ ہے تو میں نہیں چاہتا کہ اسے اسکی مما کی حقیقت بتائی جائے کیونکہ اتنی ٹینشن وہ برداشت نہیں کر سکی تو اپنی مما کی اصلیت جان کر بھی وہ دوبارہ اس کنڈیشن میں جا سکتی ہے جو میں ہرگز نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے ایک پل رک کر ماں کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر ناگواری صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
“وہ میرے لیے اپنی مما کو ناراض کرکے آپ سب کے ساتھ اس گھر میں رہنے کو آمادہ ہو گئی ہے تو کیا مما آپ میرے لیے تھوڑا سا اپنا دل بڑا کر کے اسے میری زندگی میں برداشت کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ برا راست رخسار بیگم سے مخاطب ہوا جنہوں نے خاموش نظروں سے دیکھا وہ اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا جس سے وہ جزبز ہوئیں۔
“میں جانتا ہوں کہ آپ فازیہ کی ماں سے بہت نفرت کرتی ہیں جنہوں نے آج سے پچیس سال پہلے اپنی چالاکی اور مکاری سے آپ کو بہت اذیت دی،اس وجہ سے آپکو فازیہ بھی پسند نہیں تھی،آپ نے ان تین ماہ میں جتنی اس سے نفرت کی اسے بے عزت کیا شاید فازیہ نے بھی اتنا ہی آگے سے آپکو جواب دیا،آپ کو تنگ کیا جس کے بدلے میں نے بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا مگر اب،اب میں یہ سب ختم کرنا چاہتا ہوں،کیونکہ فازیہ میری خاطر اپنی ماں کو چھوڑ رہی ہے ،اس خاندان سے اپنی نفرت ختم کر رہی ہے،آپ بھی میرے لئے فازیہ کو قبول کر لیں،اسے میری درخواست سمجھیں یا ایک بیٹے کی ماں سے التجا،یہ تو سچ ہے کہ میں نہ اسے چھوڑ سکتا ہوں اور نہ آپکو ناراض کرکے رہ سکتا ہوں،آپ کو اس سے نفرت سہی مگر اپنے بیٹے کی محبت کا پلڑا تو بھاری ہی ہوگا نہ،آپ کیا ساری زندگی کے لیے مجھے فازیہ سونپ کر اپنا مقروض کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان کے ہاتھ تھامتا منت بھرے لہجے میں ان تک اپنی فازیہ سے محبت اور انکی اہمیت ایک ساتھ واضح کر گیا کہ وہ کچھ بولنے کے قابل بھی نہ رہی تھیں انکو نائل کے یہ ہاتھ جھٹکنا اتنا ہی مشکل لگ رہا تھا جتنا پہلے دن فازیہ کو برداشت کرنا!
“آپکو وہ اس گھر میں گوارا نہیں تو میں میں اسے اپارٹمنٹ میں رکھونگا،اس سے بات نہیں کرنی تو کبھی نہیں کہونگا کہ آپ اس سے میل جول رکھیں،کوئی بھی شرط کہہ دیں میں ماننے کو تیار ہوں مگر میں فازیہ کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فیصلے کا اختیار ان کے ہاتھ میں دیتا آخر میں یہ بھی جتلا گیا کہ فازیہ کو چھوڑنے کے علاوہ وہ سب کچھ منوا سکتی ہیں۔
“رخسار بیٹا،فازیہ کا اس سب میں یہی قصور تھا کہ وہ حرا نامی اس عورت کے زیر سایہ اپنی زندگی کے اتنے سال گزارے جس نے اپنی چالاکی اور مکاری فازیہ کے دل میں اتاری جو زبان فازیہ نے تمہارے خلاف یا راحیلہ کے بارے میں استعمال کی اس کے پیچھے کوئی اور تھا مگر وہ ندیم کی بیٹی ہے جس بات کا ثبوت اس نے ہماری عزت کر کے دیا،کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی توقع مجھے ہمیشہ خوف میں مبتلا رکھتی تھی اور اب جب وہ نائل کے ساتھ خوش ہے اس کے لیے اپنی ماں سے لاتعلقی اختیار کر رہی ہے تو پیچھے کیا وجہ بنتی ہے اسے قبول نہ کرنے کی؟سب سے بڑی بات کہ اس میں ہمارے نائل کی خوشی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے نرم لہجے میں سمجھانے پر وہ متفق ہوتیں نائل کو دیکھنے لگیں جو بہت پر امید نظروں سے انکی جانب دیکھ رہا تھا وہ اسکا سر چوم کر کہنے لگیں۔
“مجھے وہ لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی،کیونکہ میں نے تمہارے لیے علیشہ کو سوچا تھا،وہ ہی میری بہو بننے کے لائق تھی مگر اب،اب تم اسے دل سے قبول کر چکے ہو تو میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی اور نہ چاہتی ہوں کہ تم اس گھر سے کہیں جاؤ،تم میرے اکلوتے بیٹے ہو میں ان ماں بیٹی کی نفرت میں تمہاری محبت نظرانداز نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شکریہ مما،آئی لو یو مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل خوش ہوتا ان کے گلے لگ گیا ابراہیم آفندی اور آغا ہاشم بھی آسودگی سے مسکرا دئیے ۔
“مگر میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے بولنے پر نائل نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“اپنی ماں سے آج تو وہ رابطہ ختم کر کے بیٹھی ہے اگر کل کو اس کے دل میں اپنی ماں کے لیے محبت جاگی بھی تو صرف موبائل کی حد تک ہو،میں اس گھر میں کیا تمہارے بھی آس پاس اس ناگن عورت کا سایہ برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ڈونٹ وری مما،فازیہ کی یہ ڈیمانڈ کبھی بھی نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل ریلکیس ہوتا اٹھ کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے آغا ہاشم کو دیکھا جنہوں نے وکٹری کا نشان بنا کر گویا اسے شاباش دی تھی۔
***
نائل کمرے میں آیا تو فازیہ کے پاس جیسے سب کی بھیڑ لگی ہوئی تھی ثمرہ ،نمرہ،ردا بھابھی،حاشر،عامر،سعد اور ہادیہ سب ہی بیڈ اور صوفے پر بیٹھے اس سے گپ شپ لگا رہے تھے اور فازیہ دھیمے سے مسکراتی ہوئی سب کا جواب دے رہی تھی نائل کو جو چیز حیرت اور خوشی میں ڈال گئی تھی وہ تھا سعد اور ہادیہ کا فازیہ کے دائیں باہیں بیٹھنا پہلی مرتبہ تینوں بہن بھائی ساتھ بیٹھے سب کو ہی اچھے لگ رہے تھے۔
“آپی پھر آپ مجھے ڈیزنی لینڈ لے کر چلیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دس سالہ سعد جیسے اس سے وعدہ لینا چاہ رہا تھا۔
“ہاں میں تم اور ہادیہ ضرور جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ مسکرا کر بولتی پیار سے اسکے بال بکھیرنے لگی جو بلکل ندیم آفندی کی کاربن کاپی تھا۔
“لو بھئی مبارک ہو نائل،ان تینوں بہن بھائیوں نے تمہیں تو اپنے پلان سے نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر نے شرارت سے کہا جس پر نائل مسکراتا ہوا حاشر کے ساتھ صوفے پر ٹک گیا۔
“کوئی نہیں مجھے اپنی جگہ بنانی آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے فازیہ کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا جو مسکراتی سیدھا اس کے دل میں اتری جا رہی تھی ۔
“ویسے ہم سب کو ہی ورلڈ ٹور پر جانا چاہئیے ،کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ خیال حاشر کی طرف سے آیا تھا جسے گھومنے کا بہت شوق تھا ۔
“خیال تو اچھا ہے مگر ابھی تو نائل اور فازیہ کے ولیمعے کی تیاری ہونی ہے،آغا جان کہہ رہے ہیں کہ نیکسٹ ماہ ان کا ریسیپشن ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کی اطلاع پر سب ہی خوشگوار موڈ میں آ گئے تھے اور ایکسائیٹڈ ہوتے ریسپیشن کا تھیم ڈسکس کرنے لگے نائل نے مسکراتی آنکھوں سے فازیہ کو دیکھا جس کے لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ تھی اور وہ توجہ سے سب کو سن رہی تھی۔
“تم سب یہاں کیا کر رہے ہو؟ٹائم دیکھو،فازیہ کو آرام کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی راحیلہ بیگم کمرے میں داخل ہوتیں کہنے لگیں۔
“اوہ ہمیں خیال ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر لوگ اٹھتے ہوئے کہنے لگے۔
“چلو سعد اور ہادیہ،آپی کو آرام کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سعد اور ہادیہ سے کہنے لگیں جو فازیہ سے ملتے کمرے سے نکل گئے۔
“کچھ چاہئیے تو بتا دو،رات کو جب بھی کچھ کھانے کو دل کرے نائل سے کہنا مجھے کال کرے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فازیہ سے بولیں جس نے سر اثبات میں ہلا دیا سب کے کمرے سے جانے کے بعد فازیہ نے نائل کی طرف دیکھا جو وہی صوفے پر بیٹھا ٹیک لگاتا آنکھیں بند کر گیا فازیہ دھیرے سے اٹھ کر اس کے قریب آئی۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آواز پر نائل نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں ۔
“کیا تھک گئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے اس کے بال سنوارتے ہوئے پوچھا جو اس کی گود میں سر رکھے صوفے پر لیٹ گیا اور اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔
“تھکن نہیں ایک آسودگی ہے کہ تم سہی سلامت میرے سامنے ہو،یقین کرو جتنا بھاری آج کا دن میرے لیے تھا پوری زندگی کبھی ایسا نہیں ہوا،جتنا خوف میرے اندر آج میں نے دیکھا اتنا کبھی خود کو کمزور نہیں پایا میں نے،تمہاری محبت جہاں مجھے اتنا طاقت ور کر گئی کہ میں اپنی فیملی کے دوبدو آ گیا اتنا ہی کمزور بھی کر گئی کہ تم سے دور جانے کی سوچ بھی میری جان نکال دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی کیفیت اس سے بیان کرنے لگا جس کے بارے میں عامر بھی فازیہ کو بتا چکا تھا کہ نائل کس قدر خوفزدہ ہو چکا تھا ۔
“مجھ سے اتنی محبت مت کرو نائل۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کی آنکھیں چھلک پڑیں نائل اپنے چہرے پر گرتے آنسو دیکھ کر جلدی سے اٹھا۔
“کیا میری محبت تمہیں رولانے کا باعث بن رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے پیار سے اس کے موتیوں کو چن لیا۔
“میں خود کو اس قابل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہشششش،خاموش ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔
“ہمیں ایک دوسرے کے قابل اوپر والی ذات نے بنایا ہے جس نے ہمیں یوں ملایا تو پھر کیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے قابل نہیں ہیں،ہمارے درمیان محبت ہے فازیہ اور محبت تو ایک دوسرے کو اس قابل بنا دیتی ہے ساری دینا سے بہتر کوئی اور لگتا ہی نہیں سوائے اس ایک شخص کے جسے دل کی حکمرانی سونپ دی جاتی ہے اور مجھے فخر ہے کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو وہ مقام دے دیا ہے سب سے خاص سب سے الگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرم لہجے میں بولتا جیسے اس کے دل سے سارے اندیشے نکال لے گیا فازیہ پرسکون ہوتی اس کے سینے سے سر ٹکا گئی۔
“آئی لو یو سو مچ،تم بہت اچھے ہو نائل ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کی شرٹ کے بٹنوں کو چھیڑتی وہ کہنے لگی جس پر نائل دلکشی سے مسکرا دیا ۔
“ویل یہ تو میں جانتا ہوں مگر اس سے پہلے کہ یہ اچھا برا بن جائے تم سونے کی تیاری کرو پھر نہ کہنا میں نے تمہاری طبعیت کا لحاظ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ معنی خیزی سے بولتا اسے بلش کر گیا فازیہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی جلدی سے اس کی گرفت سے نکلتی بیڈ کی طرف بڑھی جس پر نائل ایک خوشگوار قہقہ لگا گیا۔
**
“کیسی طبعیت ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اگلے دن لاؤنج میں بیٹھی ردا بھابھی کے ساتھ ولیمعے کے لیے ڈریس دیکھ رہی تھی کہ رخسار بیگم اس کے قریب بیٹھتیں اسے حیران کر گئیں ۔
“جی ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے ہولے سے جواب دیا وہ پہلے کی طرح اکڑ نہیں دکھا سکی تھی شاید حرا بیگم کی سچائی اسے خود سے بھی نظریں ملانے نہیں دے رہی تھی وہ پرسکون تو تھی کہ نائل نے نہ خود جتایا تھا اور نہ فیملی کو اس بارے آگاہ کرنا مناسب سمجھا تھا مگر اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن نہ تھی۔
“چچی جان یہ ڈریس کیسا رہے گا؟ہمیں ایک دو دن تک فائنل کر دینا چاہیے ڈیزائنر ایک ماہ لے گا آوٹ فٹ تیار کرنے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے آئی پیڈ کا رخ رخسار بیگم کی طرف کیا۔
“یہ بھی پیارا ہے،تم فازیہ سے پوچھ لو جو اسے اچھا لگے ،مہندی اور بارات کے فنکشنز بھی ہیں تو ان کے لیے بھی دیکھ لو ،میرے اکلوتے بیٹے کی شادی ہے مجھے سب بہت خاص چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولتیں ردا بھابھی کو بھی خوشگوار حیرت میں ڈال گئیں ۔
“وہ تو ٹھیک ہے چچی جان،مگر بارات کے لیے ڈریس ہم نے پسند کیا تھا پر نائل نے بولا کہ وہ اپنی مرضی کا پسند کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں تو کرنے دو اسے،اسکا خاص دن ہے وہ،جس روپ میں چاہے اپنی بیوی کو ڈھال لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر فازیہ کے چہرے پر سرخی چھا گئی۔
“پرسوں کارڈز آ جائیں گئے تو تم اور نائل میرے ساتھ نائلہ آپا کے گھر چلو گئے،علیشہ ناراض ہے اس لیے آپا بھی شادی پر آنے سے معذرت کر چکی ہیں تو میں چاہ رہی ہوں کہ ایک دفعہ ہم سب جائیں تاکہ انکا غصہ ختم ہو سکے،نائل سے بات کی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ فازیہ کو لے کر نہیں جانا کیونکہ وہ اپنی بیوی کی عزت نفس پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتا مگر تم نے کونسا معافی مانگنے جانا بس ہمارے ساتھ جانا ہے تاکہ وہ اپنا دل نرم کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کے جانے کے بعد رخسار بیگم نے فازیہ سے کہا کوئی گھمنڈ یا تحکم بھرا لہجہ نہیں تھا ایک عام جیسے وہ اسے ساتھ لے جانے پر راضی کر رہی ہوں ۔
“میں چلونگی آپ کے ساتھ،جہاں آپ اور نائل جا رہے ہیں مجھے جانے میں کیونکر اعتراض ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کھلے دل سے بولتی انکو اچھی لگی رخسار بیگم نے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور چلی گئیں فازیہ جانتی تھی کہ کہ رویوں میں جو سرد اور اجنبی کیفیت تھی وہ جلد ختم ہونے والی تھی جو ابھی تکلف کی دیوار یں درمیان میں کھڑیں تھیں بہت جلد پیار کی گرمی انکو زمین بوس کرنے والی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کل نائل کی سالگرہ تھی اور فازیہ آج رات اسے سپرائز دینا چاہتی تھی اس لیے ثمرہ کے ساتھ مل کر اس نے پلان بنایا اور عامر کو ساتھ شامل کرتیں وہ نائل کو رات کے گیارہ بجے تک گھر سے باہر رکھنے کا ہی کہنے لگیں جس پر وہ بمشکل راضی ہوا کیونکہ نائل کو اتنی دیر بلاوجہ باہر روکنا مشکل تھا۔
“عامر مسلہ کیا ہے؟کونسا دوست ہے تمہارا جس کا ویٹ ہم گھنٹے سے کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”گھڑی دس کا ہندسہ کراس کر گئی تو نائل جھنجھلا کر بولا۔
“یار ہے نہ ایک،تم سے ملوانا تھا مگر اسے شاید ابھی ٹائم لگے اس لیے ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر مجھے ڈنر نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے زاری سے کہنے لگا
“ارے کر لیتے ہیں ،گھنٹہ ہو گیا یہاں بیٹھے اب تو ویٹر ز بھی گھور رہے ہیں ،ویسے بھی کونسا فازیہ بھابھی گھر ہیں وہ ردا بھابھی اور ثمرہ کے ساتھ شاپنگ پر گئی ہیں،شادی میں بیس دن تو ہیں بس۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر کہتا ہوا مینو کارڈ اس کے آگے رکھ گیا جسکو نہ چار نائل اٹھا کر دیکھنے لگا پھر آڈر کرتے اور کھانا کھاتے گیارہ بج گئے جس پر عامر نے شکر کیا کہ گھر جاتے جاتے ساڑھے گیارہ پکے تھے۔
“کمال ہے اتنا ٹائم ہو گیا آج تو نہ مما کی کال آئی نہ فازیہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل موبائل دیکھتا بڑبڑایا اس کے دماغ سے اپنی سالگرہ کا خیال بلکل محو ہو چکا تھا۔
“چچی کو بھی بتایا تھا میں نے اور بھابھی کے تو سامنے آئے ہم۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر اسکی بڑبڑاہٹ سن کر جواب دیتا نائل کو زہر لگا۔
جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو سوئی پونے بارہ بجا رہی تھی عامر اپنی کارکردگی پر خود کو شاباش دیتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا نائل بھی اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا مگر کمرے میں اس وقت فل اندھیرا تھا وہ حیران ہوا کہ فازیہ اندھیرے میں کیسے سو گئی ؟
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابھی اس نے لائٹ جلائی تھی کہ پورا کمرہ اپنی جگمگاہٹ کے ساتھ اس کے سامنے تھا صوفے اور بیڈ پر پھولوں کے ساتھ اس کا نام ،ہر طرف پڑے خوبصورت پھولوں کے بکے،دیوار پر سجا ریڈ کلر میں ہیپی برتھ ڈے کا تھیم اور چھوٹے سے ٹیبل پر ریڈ ویلوٹ کیک جس پر نائل کی تصویر تھی اور سب سے خاص چیز جس پر نائل کی نظریں ٹھہر گئیں وہ تھی فازیہ جس نے مہرون ساڑھی میں بالوں کو کھولے فل میک اپ میں نظر جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی نائل اسے مہبوت سا دیکھتا رہا جو قریب آتی ہولے سے وِش کرنے لگی۔
نائل اس سپرائز پر مسرائمز ہوتا محفوظ ہوا تھا اسے اپنی سالگرہ نکل یاد نہں تھی اس لیے اس طرح فازیہ کا سپرائز دینا اسے بہت اچھا لگا۔
“آج سے پہلے کبھی برتھ ڈے سپرائز اتنا اچھا نہیں لگا جتنا اب لگا ہے،یہ یقیناً میری زندگی کی سب سے اچھی اور یادگار سالگرہ کی رات ہے اوپر سے بیوی اتنی حسین اور اتنے دلکش انداز میں وِش کرنے کا سٹائل،اف لڑکی جان لو گی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل اسے اپنے حصار میں لیتا اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ گیا ۔
“میں نے سوچا تمہیں سپرائز دیتی ہوں کیونکہ کل تو فیملی کے ساتھ تمہاری برتھ ڈے کا پلان،اوہ مجھے تو سب نے منع کیا تھا بتانے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے بتاتی ہوئی یکدم یاد آنے پر سر پر ہاتھ رکھ گئی جبکہ نائل جو مسکراہٹ دبائے سب سن رہا تھا قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔
“اب جلدی سے یہ بھی بتادو کہ سب گفٹس کیا کیا دے رہے ہیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”؟نائل شرارت سے بولا جس پر فازیہ نے گھورا۔
“آرام سے رہو اور خبردار تم نے کسی کو بتایا کہ فازیہ نے رات کو بتایا تھا کچھ اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھونس جمانے لگی
“اوکے مائے میم،اور کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل تابع دار بنا
“چلو کیک کاٹو اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے ٹائم دیکھا جہاں بارہ بجنے میں ایک منٹ رہ گیا تھا وہ اسے کیک کے پاس لائی۔
“تمہیں کس نے بتایا کہ مجھے مہرون کلر پسند ،ہر چیز سے لے کر کیک تک یہاں تک کہ تم بھی میری پسند کے کلر میں ملبوس ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کیک اور وال کی سجاوٹ کو دیکھتا پوچھنے لگا۔
“ردا بھابھی نے،وہ بھی جب اسلاآباد جانا تھا تب،ٹائم ہو گیا ہے کیک کاٹو نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقت پورا ہوتے وہ ہلکے سے تالی بجاتی اسے وِش کرنے لگی نائل نے کیک کٹ کیا اور تھوڑا سا کیک کا ٹکڑا فازیہ کے منہ میں ڈالا فازیہ نے وہی ٹکڑا نائل کے منہ میں ڈالنا چاہا جس پر نائل نے سر نفی میں ہلاتے کچھ بولتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے پوچھا جس پر نائل نے بنا جواب دئیے کیک کا بڑا سا پیس اس کے منہ میں ڈالا اور پھر نائل نے اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے وہی پیس اپنے منہ میں لے لیا اس شرارت بھری جسارت پر فازیہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
“شرم کرو نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے گھورتی ہوئی بیڈ پر پڑا گفٹ لائی اور لا کر نائل کے آگے کیا جسے دلچسبی سے دیکھتا وہ کھولنے لگا اس کے اندر نائل کے فیورٹ برینڈ کی پولو شرٹس تھیں نائل مسکرایا کیونکہ اس کو پتہ تھا کہ یہ بات بھی عامر نے ہی اسے بتائی ہوگی کہ نائل کو پولو شرٹس بہت پسند تھیں وہ زیادہ پہنتا بھی یہی تھا۔
“بہت شکریہ اس گفٹ کا،مگر مجھے تم سے اس سے بھی خاص گفٹ چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گفٹس ایک طرف رکھتا اسے اپنے قریب کر گیا جو اس کی آنکھوں کے اشارے سمجھتی شرم سے سرخ پڑنے لگی اس کے چہرے پر گلال بھکر گیا نائل نے اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے ایک بھرپور جسارت کی تھی جس پر فازیہ کا سارا خون جیسے چہرے پر آ بکھرا وہ اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سمبھالتی اس سے دور ہوئی ۔
“تمہارا موبائل بج رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی توجہ موبائل کی طرف دلانے لگی۔
“سب کے میسیجز اور کالز ہیں ،اب صبح ہی ریپلائے کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل موبائل سائلنٹ پر کرتا ہوا کہنے لگا۔
“وہ ناراض ہو جائیں گئے،تم ابھی دیکھو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو چاہ رہی تھی نائل بخوبی سمجھ رہا تھا اس لیے مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“تم پزل کیوں ہو رہی ہو؟میری سالگرہ ہے نہ آج ؟آج کی رات اور کل کا دن میرا ہے اس لیے جیسے چاہے کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اس کی پشت اپنے سینے سے لگاتا ہوا اسے اپنے مظبوط بازوؤں میں مقید کر گیا۔
“مجھے لگتا ہے کہ مجھے ردا بھابھی کی بات مان لینی چاہئے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے گویا ہوئی۔
“کونسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہی کہ شادی تک نائل سے دور رہوں تاکہ شادی کے دن روپ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بھابھی نے ایسا مشورہ دیا؟ان سے تو میں صبح بات کرونگا؛روپ والی بھی کیا عجیب منطق ہے،لوگ تو اپنے بچوں کے ساتھ ولیمعے کرتے پھر رہے ہیں کیا ان پر روپ نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کو یہ مشورہ کافی ناگوار گزرا۔
“مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اگر مگر کو چھوڑو تم،ارے میں تو چاہتا تھا کہ ہم اپنا ولیمہ اپنے ہونے والے بچے کی آمد کی گڈ نیوز کے ساتھ کریں مگر تم لیٹ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات وہ شرم سے دوہری ہوئی۔
“اب تم فری ہو رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گرفت سے نکلنے کو مچلنے لگی۔
“ابھی کہاں جان من ،ابھی تو فری ہونا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکی گردن پر لب رکھتا مدہوش بھرے لہجے میں بولتا اسکی روح فنا کر گیا۔
“تمہیں پتہ ہے مجھے ساڑھی کیوں پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے ہاتھ سے اسکے بال آگے کی طرف کہتا وہ پوچھنے لگا جو اس وقت کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہ تھی کیونکہ نائل کے ہاتھ مسلسل اسکی قمر پر تھرک رہے تھے ۔
“کیونکہ یہ کھلنے میں زیادہ ٹائم نہیں لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بڑی جان لیوا سرگوشی تھی نائل بن پیئے بہک رہا تھا اور فازیہ تو جیسے اسکی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی طرح ساکت تھی جو اسے مکمل اپنے حصار میں لیتا پیار بھری گستاخیاں کرتا اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔
“میری زندگی میں آنے اور اس میں خوبصورت رنگ بھرنے کے کیے شکریہ نائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے سینے پر سر رکھتی آسودگی سے بولی نائل نے اسکی پیشانی چوم لی۔
“اور تمہارا شکریہ میں اپنے پیار سے کرونگا،جس کے لیے یہ رات بھی مجھے کم لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے مظبوط بازوؤں میں اٹھاتا وہ بیڈ کی طرف بڑھا جبکہ فازیہ نے مکمل سپردگی دیتے ہوئے آنکھیں موند لیں مگر اسکے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ تھی جسے چرانے میں نائل نے ایک لمحے کی دیر بھی نہیں کی تھی۔
ختم شدہ**