Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

قسط نمبر تین
نکاح کی رسم کے بعد جیسے ہی ڈنر شروع ہوا تھا فازیہ خاموشی سے اٹھتی وہاں سے چل دی آغا ہاشم نے اسے روکنا چاہا مگر وہ انکار کرتی اندر کی طرف بڑھ گئی۔
“رخسار بہو تو چاند جیسی ہے مگر نخرہ بھی بہت ہے،مجھے تو کچھ ناراض ناراض لگی ہے اوپر سے دیکھو نکاح پر کالے رنگ کا سوٹ پہن کر آ گئی نہ کوئی زیور نہ کوئی میک اپ،ارے اکلوتے بیٹے کا نکاح اور اس طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ کی دیورانی نے کھانے سے لطف اندوز ہوتے رخسار بیگم پر چوٹ کی تھی جو کہ لب بھینچ کر اپنی نند کی طرف دیکھنے لگیں۔
“ارے بھابھی آپکو بتایا تو تھا کہ اسکی ماں اس نکاح پر راضی نہ تھی دوسرا وہ تو فازیہ کو یہاں بھیجنا بھی نہیں چاہ رہی تھی یہ تو آغا جان کی ضد تھی اس لیے تو فازیہ ماں کو لے کر بھی اپ سیٹ ہے اور دوسرا اسے میک اپ اور جیولری سے الرجی ہے ویسے بھی کونسا ابھی سہی شادی ہوئی ہے بس نکاح کیا ہے باقی کسریں ہم شادی پر نکال لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ نے جیسے بات سنبھالی تھی جس پر تنزیلہ بیگم نے بھی نند کی طرف تشکر بھری نگاہوں سے دیکھا تھا ہر کوئی طرح طرح کی چہ مگوئیاں کر رہا تھا مگر گھر کی تینوں عورتوں نے منزہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب کو مطمئن کیا تھا۔
نائل اپنے دوستوں کو الوادع کرتا جب واپس آیا تو ہال میں سب کو ماسوائے فازیہ کے بیٹھے دیکھ کر ادھر آ گیا۔
“میرے خیال میں آج کا کارنامہ تو سب نے دیکھ لیا ہوگا مجھے اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ اس لڑکی کا یہاں آنے کا مقصد آپ سب پر نہ صرف واضح ہو چکا ہے بلکہ یہ بھی سب جان چکے ہونگے کہ یہ اپنی ماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کی غصیلی آواز اس وقت پورے ہال میں گونج رہی تھی نائل نے آغا ہاشم کی طرف دیکھا جو کسی سوچ میں گم نظر آئے۔
“اب وقت تو لگے گا اسے ہماری فیملی میں ایڈجسٹ ہونے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیم آفندی نے لب کشائی کی جو رخسار بیگم کے ساتھ ساتھ انکی اپنی بیگم تنزیلہ کو بھی پسند نہ آئی تھی ۔
“یہ بات آپ نے خوب کہی،ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا ہے زلیل کرنے میں نہیں اور آج اس نے یہ ثابت کر دیا،سب دیکھ رہے تھے اتنی بے شرم دلہن اوپر سے نہ سلام نہ دعا،دیکھئے گا صبح تک کونسی کونسی باتیں نکلیں گی خاندان میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پلیز بھابھی آپ لوگ اس چیز کو زیادہ سیریس لے رہے ہیں،اگر آج کے اقدام سے لوگ کچھ سوچ بھی رہے ہونگے تو سب کو پتہ ہے کہ کن حالات کے پیش نظر نکاح کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی بھی کہہ اٹھے۔نائل اب خاموشی سے کرسی پر ٹک گیا مگر اسکی نظریں مسلسل آغا ہاشم کی خاموشی کی طرف تھیں۔
“تم لوگ چوبیس گھنٹے میں اسکی پچیس سال کی نفرت کیسے ختم کروا سکتے ہو؟؟؟تم لوگ تو اسکی ماں سے اتنی نفرت کی وجہ سے اسے قبول نہیں کر پا رہے تو وہ کیسے اپنی ماں کی وجہ سے ہم سب سے کی جانے والی نفرت کو ایک رات میں پس و پشت ڈال کر ہم سب سے ہنس کر بات کر سکتی ہے شکر کرو کہ اس نے پھر ہماری لاج رکھی سارے خاندان کے سامنے ورنہ مجھے تو یہ بھی ڈر تھا کہ وہ آج ہی سارے حساب کتاب نہ کھول لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے اپنی خاموشی توڑ کر سب کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنا ڈر بیان کیا تھا۔
“اس لیے میں پھر سے وہی بات دہرا رہوں ہوں کہ ان تین ماہ میں اس سے جتنی نفرت ہو سکے وہ ہم سے کرے اور ہم سے جتنی برداشت اور محبت ہو سکے ہم نبھاہ کریں گئے،دوسرا نائل پہ مجھے اعتبار ہے سنبھال لے گا اچھی طرح سے۔۔۔۔۔۔”انہوں نے پر یقین نظروں سے نائل کی طرف دیکھا جسکا چہرہ بے تاثر تھا رخسار بیگم انکی بات پر جل گئیں۔
“نائل پر بہت بڑی زمعداری ڈال رہے ہیں آپ آغا جان،ہمارے نائل کے قابل نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم کچھ دیر پہلے کی اسکی بدتمیزی کو بھول نہ پائیں تھیں۔
“قابل بنائی تو جا سکتی ہے نہ پیار سے،برداشت سے اور کچھ باتوں کو نظر انداز کر کے،مجھے امید ہے کہ میرا یہ فیصلہ ایک دن سب کو بہترین لگے گا،اب بہت رات ہوگئی ہے سب کو آرام کرنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بات مکمل کر کے اٹھے نائل کے پاس سے گزرتے ہوئے انہوں نے اسکا شانہ تھپتپھایا اور کمرے کی طرف بڑھ گئے جسکی تقلید میں سلیم اور آبراہیم آفندی بھی اٹھ گئے۔
“چلیں بھابھی،آج ہم سب نائل بھائی سے رقم نکلواتے ہیں جیسے انہوں نے آپکی دفعہ حاشر بھائی سے نکلوائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”ثمرہ نے حمرہ اور ہادیہ کو بھی اٹھایا ردا بھابھی نے ترچھی نگاہوں سے اپنی ساس اور چچی ساس کی طرف دیکھا جن کو یہ بات شاید پسند نہیں آئی تھی۔
“کہاں ہے وہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے پوچھنے پر عامر سے کچھ بات کرتے نائل نے ماں کی طرف دیکھا۔
“بھابھی وہ تو میرے جانے سے پہلے پی نائل کے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم کی اطلاع پر رخسار بیگم اسکی بے شرمی اور جرت پر خون کے گھونٹ بھر کر رہ گئیں اور نائل نے بے اختیار اپنے روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا تھا۔
“اتنی دیدہ دلیری ،وہ پکا کسی پلان سے آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کیسے چپ رہ سکتی تھیں ۔
“مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے جو آج سے پچیس سال پہلے اسکی ماں نہ کر سکی اب وہ بیٹی کرنا چاہتی ہے مگر میں بھی رخسار ہوں ان دونوں ماں بیٹی کو جیتنے نہیں دونگی،انکی ہر سازش ناکام کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ کو کیا برا لگا ہے؟اسکا میری زندگی میں داخل ہونا یا میرے کمرے میں جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بے تاثر انداز میں سوال کیا۔
“دونوں ہی،میں اسے تمہارے آس پاس بھی برداشت نہیں کر سکتی مگر کیا کروں میرے ہاتھ باندھ دئیے گئے ہیں ورنہ اس لڑکی کی ہمت کہ یوں دیدہ دلیری سے تمہارے کمرے میں جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لیکن میرے ہاتھ نہیں بندھے،بتائیں کیا چاہتی ہیں؟اسے کمرے سے نکال دوں کہ خود وہاں پاؤں نہ رکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی ماں کی کیفیت سے بخوبی واقف تھا کہ کیا چیز انکو اس وقت برداشت نہ ہو رہی تھی اس لئے دو ٹوک انداز میں پوچھتا کمرے کے پاس کھڑی فازیہ کو بھی جلا گیا وہ کب سے کھڑی بڑے مزے سے رخسار بیگم کا کڑھنا جلنا انجوائے کر رہی تھی مگر نائل کی بات پر وہ بدمزہ ہوئی کیونکہ اپنی اور اپنی ماں کی اصلی دشمن کو آج کی ساری رات اس آگ میں جلانا چاہتی تھی کہ اسکا بیٹا اس لڑکی کے ساتھ ایک کمرے میں ہے مگر نائل شاید اس کا پلان خراب کرنے لگا تھا۔
“نہیں نائل میں کبھی بھی تمہیں تکلیف میں نہیں ڈال سکتی اور نہ تمہیں تمہاری ماں اور تمہارے آغا جان کے فیصلوں کے درمیان الجھا سکتی ہوں ،اب جو ہو گیا ہے اسے تین ماہ تک برداشت تو کرنا پڑے گا ،جہاں تک بات ہے تمہارے کمرے میں جانے کی تو کمرے میں جا کر کیا مل جائے گا اسے جو صرف کاغذی حد تک ہی بیوی کا لقب حاصل کر سکی ہے ورنہ اصل بیوی تو علیشہ ہوگی تمہارے پیار اور توجہ کی اصل حقدار،مجھے یقین ہے میرا بیٹا کبھی بھی اس ناگن کی بیٹی کو ایسا مرتبہ نہیں دے گا جس سے اسکی ماں کو تکلیف ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے یقین دہانی چاہتے ہوئے کچھ جتایا تھا کسی حد سے باز رکھنا چاہا تھا کچھ ان کہی میں سمجھانے کی کوشش کی تھی جو نائل کے ساتھ ساتھ فازیہ کو نہ صرف سمجھ آئی تھی بلکہ اس نے خونخوار نظریں رخسار بیگم پر ٹکائیں تھیں جو اس کی پیشانی چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا رہی تھیں ان کا سر اپنے سینے سے لگاتے نائل کی بے ساختہ نگاہ اپنے کمرے کی طرف اٹھی جہاں فازیہ کے چہرے پر غصیلے تاثرات دیکھ کر وہ چونکا نہیں تھا بس ایک نظر ڈال کر نگاہ کا زاویعہ بدل گیا۔
“تو تمہیں اب کمرے میں چھوڑ کر آئیں کہ خود چلے جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر اس کے پاس آیا۔
“یہ رسم تب کرنا جب علیشہ کے ساتھ شادی ہو گی،اب تو فقط مجبوری کا سودا ہے اس لیے نائل کو تنگ مت کرو تم لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کے کہنے پر ینگ پارٹی کا منہ بن گیا نائل نے مسکراتے ہوئے ردا بھابھی ، ثمرہ ،حمرہ اور ہادیہ کو انکی پسندیدہ رقم دی جس پر وہ خوش ہو گئیں نائل کا موبائل بجا تو وہ کال سننے کے لئے باہر چلا گیا باقی بھی اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے سوائے رخسار ،تنزیلہ اور منزہ کے جو وہاں ہی بیٹھ کر چائے پینے لگیں۔
“بہت شاطر لڑکی ہے وہ،مجھے لگتا ہے نائل کو وہ اپنی طرف راغب کرنے کی کر کوشش کرے گی۔۔۔۔۔۔”منزہ نے جیسے اپنا خدشہ بیان کیا۔
“یہ تو صبح پتہ چلے گا اسکا نائل سے رویعہ دیکھ کر کہ وہ نائل کو ہم سے دور کرنا چاہتی ہے یا اسکا مقصد صرف ہم سب کو پریشان کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کی بات پر رخسار بیگم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔
“اگر اس نے میرے بیٹے سے کوئی بھی تعلق بنانے کی کوشش کی یا اسے ہم سے چھیننے کی کوشش کی تو میں اسی دن طلاق دلوا کر چلتا کرونگی چاہے اس کے لئے مجھے چچا جان کی ناراضگی کیوں نہ سہنی پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے دو ٹوک لہجے میں جیسے اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
وہ کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگاتے رخسار بیگم کی باتوں سے جل کڑھ رہی تھی۔
“تم میری ماں کی خوشیوں کی قاتل ہو ،سب سے زیادہ اذیت تمہاری وجہ سے انکو ملی تم نے اپنی بہن کو اس گھر میں لانے کے لیے میری ماں پر جھوٹے الزامات لگائے انکو زلیل کر کے اس گھر سے نکلوایا مجھے ساری عمر باپ کی محبت اور شفقت سے محروم رکھا اب تم کیسے اتنے سکون سے رہ سکتی ہو رخسار بیگم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بڑبڑاہٹ جاری تھی۔
“بہت اچھا ہوا کہ تمہارے لاڈلے بیٹے کا نکاح مجھ سے ہوگیا کیونکہ جتنی تکلیف میں تمہیں دینا چاہتی ہوں اس کے لئے تمہارا بیٹا بہترین ہتھیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ناگواری سے سامنے دیوار پر لگی نائل ابراہیم کی فل سائز تصویر دیکھنے لگی۔
جب وہ اس گھر کی عورتوں کو جلانے کے لیے خود ہی اس کمرے میں آئی تھی تو کمرے میں نظر دوڑاتی وہ ایک پل کو تو اس کمرے کی سجاوٹ سے متاثر ہوئی تھی مگر پھر جیسے پورا کمرہ ہی بیکار لگنے لگا تھا سب سے بری اسے یہی تصویر لگی تھی جس میں وہ مسکرا رہا تھا مگر بقول فازیہ ندیم کے اب آفندی ہاؤس کو مسکرانے کا حق نہیں تھا وہ سب کی مسکراہٹیں ہی تو چھیننے آئی تھی۔
موبائل پر ٹون بجی تو اس نے نمبر دیکھا جہاں مما کالنگ جگمگا رہا تھا۔
“جی مما۔۔۔۔۔۔۔”اس نے موبائل کان سے لگایا۔
“کب سے کال کر دہی ہوں تمہیں،بتاؤ ٹھیک ہو؟اس لڑکے نے کچھ کہا تو نہیں یا کوئی زبردستی کرنے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسا کچھ بھی نہیں ہوا مما،وہ لڑکا ابھی کمرے میں آیا ہی نہیں،میں تو چاہتی ہوں کہ وہ کمرے میں آئے مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کرے تاکہ میں آج آفندی ہاؤس میں وہ تماشہ لگاؤں کہ سب ایک دوسرے سے منہ چھپاتے پھرے۔۔۔۔۔۔۔”وہ زہرخند لہجے میں بولتی انکو پرسکون کر گئی۔
“اس ماں کا بیٹا ہے جس نے میرے شوہر پر ڈورے ڈالے تھے،مجھے طلاق دلوائی اس گھر سے نکالا اسے تم شوہر کے روپ میں برداشت بھی کیسے کر سکتی ہو؟کیسے اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہو؟کیا اس بڈھے کو اپنے پورے خاندان میں سے وہ ہی ملا تھا تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔؟وہ شاید نہیں یقیناً ناخوش تھیں۔
“مما میں نے کونسا ساری عمر کے لیے رشتہ باندھ لیا ہے اس سے،آپ جانتی ہیں کہ یہ صرف کچھ ماہ کی بات ہے دوسرا میں تو خوش ہوں کہ اس عورت کے بیٹے کے ساتھ ہی نکاح ہوا ہے کیونکہ ایک ماں کی جان اسکی اولاد میں ہوتی ہے اور وہ بھی اکلوتا بیٹا تکلیف میں ہو تو ماں کیسے نہ تڑپے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کی بات میں جو اشارے تھے وہ سمجھتی حرا بیگم پرجوش ہو اٹھیں۔
“میں ایسے ہی تو نہیں تم پر فخر کرتی میری جان،مجھے پتہ ہے تم بہت سوچ شمجھ کر کھیلو گی۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر آپ بے فکر رہیں،یہ گھر والے میرے لیے نہیں مگر میں ضرور اس گھر کے لیے عذاب بن کر ثابت ہونے والی ہوں،آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کھٹکے کی آواز پر پیچھے مڑی تھی جہاں نائل ابراہیم دروازہ بند کرتا کمرے میں داخل ہوا تھا وہ کچھ پل کو چپ ہوئی تھی۔
“میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کن انکھیوں سے نائل کو دیکھتی کہہ اٹھی جو صوفے پر بیٹھتا جوتا اتار کر ننگے پاؤں قالین پر دھنسا تا اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں کیوں کھڑی ہوں بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو تب سے یوں ہی کھڑی اسکی حرکات کا جائزہ لے رہی تھی خود کو کوستی بڑی شان سے بیڈ پر ٹک کر موبائل کے ساتھ چھیڑ چھانی کرنے لگی مگر دھیان سارا نائل ابراہیم کی طرف ہی تھا جو گھڑی اتارتا اب ڈریسنگ روم میں چلا گیا تھا۔
“اگر اس نے مجھے بلانے کی کوشش کی تو اسکی اوقات یاد کروانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو سبق دینے لگی اور پھر جب دس منٹ بعد وہ ایزی ٹروزر شرٹ میں نکلا اور ڈریسنگ مرر کے آگے جا کھڑا ہوا اس کے بال نم تھے جسکا مطلب وہ شاور لے کر آیا تھا بال بنا کر اس نے روم کی لائٹس آف کیں اور آ کر بیڈ کے دوسری طرف لیٹ گیا کمبل سر تک تان کر وہ یوں کروٹ کے بل سونے کی کوشش کرنے لگا جیسے وہ اس روم میں پہلے کی طرح اکیلا ہو جبکہ اس کمرے میں موجود دوسرا نفوس تو جیسے ساکت ہوا تھا وہ جو کب سے پلان کر رہی تھی کہ کیسے اس کی بےعزتی کرے گی مگر اب یوں اس کے نظرانداز کرنے سے اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا گیا ہو۔
اسے اس کی نظر کی خواہش نہیں تھی اور نہ اسکی توجہ کی طلب گار مگر اسکا یوں یکسر سے اس کے وجود کو انگور کرنا اسے سراسر اپنی توہین لگی۔
“کم ظرف انسان،جانتا تھا کہ مجھ پر ایک نظر ڈالنے سے وہ خود پر کنٹرول نہیں کر سکے گا اس لیے یوں ڈرامہ کیا،ماں کی کہی مان کر شاید تم آج کی رات اپنی ماں کو سکون دے دو مگر بہت جلد تمہاری ماں کی سب سے بڑی اذیت میں بننے والی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تلخی سے سوچتی اسکی پشت کو گھورنے لگی اور پھر جیسے جلن نکالنے کے لیے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کر دی۔
نائل نے بنا کوئی رسپونس دئیے لیٹا رہا جیسے اس نے آج اس کے وجود کو فراموش کرنے کی قسم کھائی ہو جبکہ فازیہ جس کی انا پر گہری چوٹ لگی تھی اس لئے جلتی کڑھتی آ کر ایک طرف لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!
صبح اسکی آنکھ ایک انجان لمس سے کھلی وہ کچھ دیر تو سوئی جاگی کیفیت میں یوں ہی پڑا رہا پھر آہستہ سے کروٹ بدلتا دوسری طرف دیکھنے لگا جہاں اسکا ہاتھ اس کے کندھے کے ساتھ لگا تھا نائل نے گہری سانس بھرتے ہوئے اس کے خوابیدہ چہرے کی طرف دیکھا اور رات وہ جو بڑی آسانی سے اسکا وجود فراموش کر گیا تھا مگر اب اس کو نظر انداز نہ کر سکا ۔غور سے اور قریب سے اس کے چہرے کے خدوخال دیکھنے لگا جو اسکی طرف ہی چہرہ کیے کروٹ کے بل لیٹی تھی نائل نے ایک چیز نوٹ کی اس کے الفاظ کا سرد پن اور آنکھوں میں ٹپکتے نفرت کے شعلوں کی نسبت اسکی بند آنکھوں پر سایہ فگن ہوتی پلکیں اور سرخ نرم و ملائم ہونٹ اسے زیادہ خوبصورت بنا رہے تھے۔
“جنگلی بلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے منہ سے بے ساختہ الفاظ نکلے پھر خود ہی اپنے لقب پر حیران ہوتا اٹھ کھڑا ہوا۔
جب دس منٹ بعد وہ فریش ہو کر یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو کر نکلا تو نگاہ پھر سے اس کے سوئے وجود سے ٹکرائی مگر جلد ہی خود کو سرزنش کرتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا وہ نیچے آیا تو سب ناشتے کے لیے اکھٹے ہو رہے تھے وہ سب پر سلامتی بھیجتا اپنی کرسی سنبھال گیا۔
“فازیہ بیٹی نہیں اٹھی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے سوال پر رخسار بیگم نے بے اختیار پہلو بدلا۔
“جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا عامر کے معنی خیز اشارے کو نظرانداز کرتا کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
“تو اٹھانا تھا اسے بھی،اس گھر کے اصول سے واقف ہو نہ کہ ناشتہ ساتھ کرتے ہیں سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اس گھر کے پہلے کونسے اصول اس نے اپنا لیے ہیں جو آپ اس اصول کی بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کا لہجہ ابھی بھی تلخ تھا کیونکہ یہ انکا حوصلہ ہی تھا کہ انہوں نے اس لڑکی کو اپنے بیٹے کے روم میں کیسے برداشت کیا تھا۔
“ہم سکھائیں گئے تو سیکھیں گی نہ،جاؤ حمرہ اسے بلا کر لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے حمرہ سے کہا جو سر ہلاتی ہوئی نائل کی کمرے کی طرف بڑھی اور پھر دو منٹ بعد سب نے ہی اسکی اونچی آواز سنی تھی۔
“کونسی قیامت آ گئی ہے اس گھر میں صبح صبح؟بندہ اپنی مرضی سے سو بھی نہں سکتا ہے،جاؤ دفعہ ہو جاؤ ،مجھے تم لوگوں کی شکلیں برداشت نہیں ہوتیں کہ ساتھ جڑ کر ناشتہ کرتی پھروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا بدتمیز لہجہ سب کے کانوں میں پڑا تھا حمرہ تو شرمندہ سی ہوتی باہر آ گئی جبکہ سب کی نگاہیں بے اختیار آغا ہاشم کی طرف اٹھیں جو کہ لب بھینچے ہوئے تھے۔
“لگتا ہے آپکو خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مزہ نہیں آ رہا تھا،میں چلتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”نائل ان کو جتاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جسکی تقلید عامر نے بھی کی تھی۔
“ابھی تو آغاز ہے چچا جان،بہت رنگ دکھانے والی ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم بھی چوٹ کرنے کا موقع ہاتھ سے ضائع نہئں کرنا چاہتی تھیںں۔
“رخسار۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے جیسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
“تنزیلہ تھوڑی دیر بعد صدف کے ہاتھ اسکا ناشتہ اس کے کمرے میں پہنچا دینا،اب کوئی بھی اسے ناشتہ یا ڈنر کے لئے فورس نہیں کرے گا جب دل چاہے جہاں چاہے وہ کھا پی سکتی ہے کیونکہ اسے اس گھر میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے وقت چاہئیے جو ہم سب دیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم اپنی بات مکمل کرتے اٹھ گئے ۔
“یہ جتنی بھی کوشش کر لیں وہ رہے گی اس ناگن کی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو آغا ہاشم کی اسے اس قدر ڈھیل دینا زرا پسند نہیں آیا تھا۔
“میں اب تو کبھی بھی نہ جاؤں ان کے کمرے میں۔۔۔۔۔۔۔۔”مردوں کے اٹھنے کے بعد حمرہ کہنے لگی۔
“اور مجھے تو دیکھتے ہی وہ گھورنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہادیہ نے بھی لب کشائی کی۔
“کوئی بات نہیں بڑی بہن ہے تمہاری وہ،چلو اب یہ باتیں چھوڑو اور سکول جاؤ،سعد کا لنچ باکس اسے یاد سے دینا۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے ہادیہ اور سعد کو چلنے کا اشارہ کیا وہ دونوں اپنے بیگز پکڑے باہر کو چل دئیے جہاں ڈرائیور انکا انتظار کر رہا تھا۔
“وہ تم سے اور تمہارے بچوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور تم اسے انکی بڑی بہن بنانے پر تلی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے اپنی چھوٹی بہن کی عقل کو کوسا۔
“جو بھی سچ جھوٹ ہے آپا مگر حقیقت تو یہی ہے کہ وہ انکی بڑی بہن ہے ندیم کی بیٹی ہے اور میں نے اسے اس وقت ہی قبول کر لیا تھا جب ندیم نے اپنے آخری دنوں میں آغا جان سے وعدہ لیا تھا،آپکو پتہ ہے کہ مجھے ندیم کی ہر خواہش کو پورا کرنا ہے جو انکی اپنے تینوں بچوں کے بارے میں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ نے اتنے دنوں کی اپنی خاموشی توڑی جس پر رخسار نے کچھ ناگواری سے دیکھا تھا مگر تنزیلہ بیگم کی وجہ سے خاموش ہو گئیں۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
وہ ابھی یونیورسٹی سے واپس آیا تھا اس لیے سیدھا کمرے میں ہی آیا مگر کمرے کی حالت دیکھ کر اسکا دماغ چکرا کر رہ گیا صبح کے ناشتے کے خالی برتن شیشے کی ٹیبل پر پڑے تھے ٹین پیک قالین پر میک اپ کا سامان جا بجا بکھرا یوں لگ رہا تھا جیسے خود بکھرا یا گیا ہو صوفے کے کشن نیچے پڑے تھے اور بیڈ شیٹ کو بھی نیچے پھینکے وہ خود بیڈ سے ٹیک لگائے ایل ای ڈی کا ریموٹ پکڑے فروٹ کھانے میں مصروف تھی نائل کی نفاست پسند طبعیت کو یہ سب گراں گزرا تھا۔
“صدف،صدف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے دروازے کے پاس ہی صدف کو پکارا تھا جو اگلے دو منٹ میں اس کے پاس بھاگی ہوئی آئی تھی۔
“کیا آج کمرے کی صفائی نہ کرنے کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کمرے کی الٹ پلٹ حالت کی طرف اشارہ کرتا پوچھنے لگا۔
“چھوٹے صاحب،وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف ہچکچاتے ہوئے ایک نظر لاپرواہ اس کمرے کی نئی مالکن پر ڈالی جو پیر جھلاتے ہوئے ٹی وی سے ہی چھیڑ خانی کر رہی تھی۔
“میں آئی تھی مگر چھوٹی بی بی نے کہا کہ ان کو صفائی نہیں کروانی پھر برتن اٹھانے کے لیے بھی آئی تھی مگر چھوٹی بی بی نے ڈانٹ دیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھیمے سے بولتے ہوئے اپنی دو گھنٹے پہلے لے جانی والی کلاس کے بارے بتانے لگی۔
“یہ کمرہ تمہاری “چھوٹی بی بی” کا نہیں میرا ہے یہ بات آئندہ سے یاد رکھنا،چلو کرو صفائی اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ انداز میں کہتا جانے کو مڑا مگر اسکے الفاظ پر رکا تھا۔
“اس کمرے میں اب میں رہتی ہوں تو یہ کمرہ اب میری ملکیت ہی ہے ،دوسرا مجھے اپنی موجودگی میں صفائی کروانا پسند نہئں اس لیے جب میں اس کمرے میں نہیں ہونگی تب صفائی کرنے آنا اور یہ بات مجھے دوبارہ سے کہنی نہ پڑے مس صدف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بلاشبہ صدف سے مخاطب تھی مگر سنایا اسے ہی گیا تھا جس پر نائل نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی تھی۔
“اگر کسی کو اس کمرے میں اتنا ہی رہنے کا شوق ہے تو پھر اپنی عادت سے ہٹ کر کچھ برداشت بھی کرنا ہوگا ورنہ بڑے شوق سے کہیں اور ٹھکانے کا سوچ لیں،میں آدھے گھنٹے بعد کمرے میں آؤں تو یہ گندگی نظر نہ آئے اور اگر پھر بھی کوئی تمہارے کام میں رکاوٹ ڈالے تو انکا سامان گیسٹ روم میں شفٹ کر دینا ویسے بھی مہمان وہاں ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چبا چبا کر بولتا بہت کچھ کہہ بھی گیا بہت کچھ جتا بھی گیا۔فازیہ نے تلملا کر اسکی پشت کو گھورا جو وہاں سے جا رہا تھا پھر ہاتھ میں پکڑا ریموٹ پوری قوت سے دیوار پر دے مارا صدف اس کے غصے سے دہل گئی۔
“یہ لوگ سمجھتے کیا ہیں خود کو ،میں مہمان ہوں اس گھر کی؟میرے باپ کا گھر ہے یہ جس طرح اس کے باپ کا گھر ہے،تم لوگو کو میں دکھاتی ہوں اب کہ میں اس گھر کی مہمان ہوں یا مالکن۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کوئی فیصلہ کرتی اور اس پر عمل کرنے کا سوچتی جیسے خود کو پرسکون کرنے لگی تھی۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
“صدف کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے اس کے آگے لنچ رکھتے ہوئے راحیلہ بیگم سے پوچھا جو سعد اور ہادیہ کو لنچ بنا کر دے رہی تھیں۔
“میرے روم میں صفائی کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بریانی کھاتے ہوئے بتایا۔
“صبح سے اب یاد آیا اسے،آج تو ناشتہ بھی اکا بی نے بنایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیران ہوئیں۔
“وہ کمرے میں گئی تھی مگر فازیہ نے کمرے سے نکال دیا کیونکہ اسے آرام کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم کے بتانے پر نائل کے طنزیہ ہونٹ پھیلے جیسے ان کے جملے کو ناپسند کیا ہو۔
“یہ لڑکی بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رکیں کیونکہ فازیہ انکی طرف آتیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔
“لنچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ٹانگ پر ٹانگ رکھتے اس نے سوالیہ نگاہوں سے رخسار بیگم کو دیکھا اس کے انداز میں جو کچھ تھا اسے محسوس کرتا نائل پانی کا گلاس پکڑتے ہوئے اپنی ماں سے کہنے لگا۔
“مما آپ کھانا کھائیں،یہاں سب کے ہاتھ پیر سلامت ہیں فلحال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فازیہ کی چھبتی نظر کو مکمل اگنور کرتا پانی منہ سے لگا گیا۔
“کیا کھاؤ گی تم۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے مروتا پوچھ لیا جس پر رخسار بیگم نے گھورا۔
“آپ کون ہوتی ہیں مجھ سے پوچھنے والی؟آپ کو حق کس نے دیا کہ آپ مجھ سے مخاطب ہوں؟آپ جیسی ایک عورت کا گھر اجاڑ نے والی ایک بیٹی کو دربدر کرنے والی عورت سے ہم کلام ہونا میں اپنی توہین سمجھتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے الفاظ سے جیسے زہر پھوٹ رہا تھا راحیلہ بیگم کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا تھا وہی رخسار بیگم کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہوا تھا۔
“کتنی بدزبان ہو تم،جانتی بھی ہو حقیقت یا جو تمہاری ناگن ماں نے پٹی پڑھائی بس وہی ازبر کر آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“خبردار میری مما کو کچھ کہا تو ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔؟رخسار بیگم کو جو کل رات سے اس پر غصہ تھا جیسے اب باہر نکالنا چاہ رہی ہوں۔
“مما آپکو نہیں لگتا کہ آپ اس بندے سے بحث کر رہی ہیں جسے دوسروں کی کیا اپنی عزت کا خیال نہیں ،پلیز میں نہیں چاہتا کہ میں یہاں بیٹھ کر جاہلوں کی طرح عورتوں کو یوں آپس میں لڑتا دیکھوں،ویسے بھی کچھ لوگ تو اس گھر میں آئے ہی اس مقصد کے لیے ہیں کہ بدمزگی پیدا کریں شاید ایسے وہ کوئی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہوں سو مہربانی آپ ہی کچھ خیال کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اکتائے لہجے میں کہتا ہوا اٹھنے لگا۔
“کہنا کیا چاہتے ہو تم؟مجھے بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو تم کہ کتنی عزت لیے پھر رہے ہیں تمہارے یہ نام نہاد رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کاٹ کھانے کو دوڑی۔
“تمہیں اس گھر میں مقام دے کر واقع میں عزت والا کام نہیں کیا ہم نے۔۔۔۔۔۔۔۔”پہلی بار وہ برا راست اس سے نہ صرف مخاطب ہوا تھا بلکہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا گہرا وار کر گیا تھا فازیہ جیسے گرم کوئلے پر بیٹھ گئی تھی اسکی طرف نفرت سے دیکھتی وہ کچھ کہتی کہ ہاشم آفندی ڈائنگ ٹیبل پر آ گئے۔
“کیسا شور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اور نائل کو یوں آمنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ ٹھٹھکے۔
“یہ اسی تماشے کا شور ہے جو آپ نے اپنی خواہش پر اس گھر میں لگایا ہے اور ابھی تو شروعات ہیں چچا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جل کر بولیں۔
“اور یہ تماشہ آپ کی مہربانی سے ہی لگ رہا ہے آج سے پچیس سال پہلے جو کیا تھا نہ کرتیں ،اس عورت کو میرے باپ کی زندگی میں لے کر آنا ہی آپکا گناہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے نفرت بھری نگاہ خاموش کھڑی راحیلہ اور گم صم سعد اور ہادیہ پر ڈالی۔
“دیکھ رہے ہیں آپ اسکی چرب زبانی اور طعنے ۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے آغا ہاشم کو متوجہ کرنا چاہا ۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم لوگ اس طرح آپس میں لڑ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فازیہ کے رویعے سے دلبراشتہ ہوئے۔
“کیوں کیا دوبارہ سے فلم ریوائنڈ کروانا چاہتے ہیں آپ،آپکو پتہ نہیں آپکی پوتی زبان کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آفندی ہاؤس میں داخل ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بھرپور طنز کرتے ہوئے فازیہ کو دیکھا جو شعلہ بار نگاہوں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جیسے آنکھوں سے ہی نگلنا چاہتی ہو ۔
“نائل،جاؤ تم،فازیہ بیٹی تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نائل کو جانے کا کہتے فازیہ کو ساتھ لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھے جو کہ کسی فیصلے پر پہنچتی ان کے ساتھ چلی تھی۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
“مجھے اس گھر میں رہنے کے لیے مالکانہ حق چاہئیے تاکہ کوئی مجھے مہمان نہ سمجھے اور نہ ایسا کہہ کر میری عزت نفس کو کچلے۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھتی سپاٹ انداز میں بولی۔
“تم نائل کی بیوی ہو اب ندیم کی وراثت کے ساتھ ساتھ تم نائل کی بیوی ہونے کے ناتے بھی اس گھر اور جائیداد کی حقدار ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ رسانیت سے کہنے لگے۔
“خالی باتوں سے مجھے مالکن بننے کا کوئی شوق نہیں ،آپ اگر چاہتے ہیں کہ میں اس گھر میں رہوں تو کل تک سب کے سامنے میری حیثیت واضع کر دیں تاکہ کوئی اب مجھے مہمان سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے رہ رہ کر نائل کی بات یاد آ رہی تھی جس سے وہ اچھی خاصی اسکی انسلٹ کر گیا تھا۔
“اب چلتی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکی کچھ سنے بغیر اٹھ کر باہر چلی گئی آغا ہاشم گہری سوچ میں گم ہو گئے ۔