Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

قسط نمبر سات۔۔۔۔۔۔۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے کانوں میں علیشہ کی پکار پڑی جو ان کے روم کے دروازے کو ناک کرتی یقیناً نائل کا انتظار کرتی اب غصے میں آ کھڑی ہوئی تھی۔
نائل نے بہت نرمی سے اسے چھوڑا جیسے چھوڑنے کی اجازت تو نہ لمحات دے رہے تھے نہ جذبات مگر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اس سے الگ ہونا پڑا۔نائل نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے فازیہ کو دیکھا جو اپنی آنکھوں پر بازو رکھ چکی تھی۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کی تیز پکار پر نائل نے قدم اس کی طرف موڑے حالانکہ دل و دماغ ابھی تک اس لمحے کی گرفت میں اٹکے ہوئے تھے۔
“چلیں۔۔۔۔۔۔”نائل نے روم سے نکلتے دروازہ بند کر دیا۔
“کب سے آواز دے رہی تھی میں،کہاں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ سراپا سوال بنی۔
“آ گیا ہوں نہ اب،چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کہتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
دوسری طرف فازیہ نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو اس فسوں سے نکالا اور اٹھ بیٹھی۔اس کا چہرہ اس وقت سرخ تھا کچھ تو تھوڑی دیر پہلے نائل کے عمل کی وجہ سے دوسری وجہ نائل کا یوں جانا اسے ناگوار گزرا مگر وہ تین باتوں میں الجھ کر رہ گئی کہ اسے نائل کا اسے اس طرح چھونا برا لگا ؟یا اس سے یوں الگ ہونا؟یا پھر علیشہ کے ساتھ جانا مگر حقیقت جو بھی تھی ایک بات تو سچ تھی کہ فازیہ ندیم نائل ابراہیم کا ہاتھ جھٹک نہ سکی تھی اور کیوں ؟اسکی وجہ وہ جان کر بھی انجان بن رہی تھی۔
نائل اسے لے کر قریبی ریسٹورینٹ میں آیا جہاں آ کر علیشہ تو کافی پرجوش تھی مگر نائل کچھ چپ تھا۔
“کیا بات ہے نائل،کیا آنا اچھا نہیں لگا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے اسے باتوں کے جواب میں بس ہوں ہاں کرتے دیکھ کر پوچھا جس پر وہ جو گلاس کو ٹیبل پر رکھ گھما رہا تھا اسکی طرف دیکھنے لگا۔
“جس بندے کو اتنا موقع بھی نہیں دو گی کہ وہ گھر آ کر کچھ دیر کے لیے آرام کر سکے اس سے پھر کیا چاہتی ہو کہ وہ تمہیں فریش موڈ کے ساتھ ملے،میری اچھی سی نیند لینے کی خواہش پر پانی پھیر کر اب گھورو مت۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا جس پر وہ مسکرائی۔
“میرا موڈ ہو رہا تھا ابھی آنے کا،ویسے تمہاری بیوی نے تمہیں روکا تو ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟علیشہ کے سوال پر وہ جو پہلے ہی عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا فازیہ کے زکر پر جیسے اپنی بے چینی کو نام دے گیا۔
“اس نے کیوں روکنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ فازیہ کا خیال جھٹک کر کہنے لگا۔
“اچھا خالہ جانی کو بڑے غرور کے ساتھ کہہ کر گئی تھی کہ آج رات میں اور نائل باہر ڈنر کرنے جا رہے ہیں،بے چاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جہاں علیشہ طنزیہ مسکرائی وہی نائل چونکا۔
“اس نے ایسا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے یقین تھا شاید۔
“ہاں خالہ جانی کو اور ہمیں پتہ تھا نائل ایسا کبھی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل جیسے ساری بات سمجھ گیا تھا وہ یہاں آنے کی وجوہات بھی جان گیا تھا اس لیے ایک اضطراب کی کیفیت اس کے پورے وجود میں پھیل گئی۔صرف چند لقمے لینے پر ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“اٹھ جاؤ اب،مجھے گھر جا کر آرام کرنا ہے،بہت تھک گیا ہوں میں،جلدی آؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کی بنا کچھ سنے وہ اپنی سنا کر یہ جا وہ جا۔علیشہ تو حق دق رہ گئی مگر جلدی سے اٹھ بھی گئی کیونکہ اتنا تو وہ نائل کو جانتی تھی کہ اگر اس نے ایک دفعہ جانے کا کہہ دیا تو پھر روکنا ناممکن ہے۔
گھر آتے ہی وہ سیدھا روم میں آیا تھا اور پہلی نظر ہی اس پر ڈالی جسے سارے راستے وہ سوچتا آیا تھا۔
فازیہ جو صوفے پر بیٹھی موبائل کے ساتھ لگی تھی اسے اتنی جلدی واپس دیکھ کر یقیناً حیران ہوئی تھی مگر اگلے ہی پل نائل کی کچھ دیر پہلے کی گئی جسارت کو یاد کر کے رخ موڑ گئی۔نائل اس کے قریب صوفے پر بیٹھتا جوتا اتارنے لگا فازیہ اس کے یوں بیٹھنے پر سمٹ گئی۔
“میں نے سنا ہے تم میرے ساتھ ڈنر پر جانا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی طرف نظر کی جس کے چہرے کی لالی ابھی بھی تازہ تھی۔
“مجھے ایسا کوئی شوق نہیں،جن کو شوق ہے وہ جا رہے ہیں نہ تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تڑخ کر بولتی اٹھ کر جانے لگی تھی مگر رکنا پڑا اور رکنے کی وجہ اسکا ہاتھ تھا جو کہ اس وقت نائل اپنی گرفت میں لے چکا تھا فازیہ اس کے ہاتھ کے پر تپش لمس پر دم سادھ گئی مگر پھر جلدی سے ہوش میں آتی ہاتھ چھڑوا گئی۔
“خبردار اگر آئندہ مجھے ہاتھ لگایا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ وارن کرنے لگی جس پر زرا بھی اثر نہ ہوا۔
“منہ لگا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اگر الفاظ زومعنی تھے تو لہجہ بھی پر تپش تھا فازیہ سٹپٹا کر رہ گئی جبکہ نائل نے پرشوق نگاہوں سے اسکے رخساروں پر پھیلتے رنگوں کو دیکھا۔
“تم،دفعہ ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرم اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہتی کمرے سے ہی باہر نکل گئی جبکہ پیچھے نائل دلکشی سے مسکرا دیا۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
وہ کمرے میں رہ رہ کر اور موبائل استعمال کر کے تھک چکی تھی اس کیے کوئی اچھی سی کتاب یا ناول پڑھنے کی خواہش میں آغا ہاشم کے کمرے میں ایک طرف بنی بک گیلری میں چلی آئی جہاں دنیا جہاں کی کتابیں شیلف پر سجی ہوئی تھیں۔
فازیہ نے قدسیہ بانو کا راجہ گدھ اٹھا لیا تبھی کتاب کے نیچے پڑے کاغذات نیچے گرے فازیہ نے پکڑ کر دیکھا جو کہ کوئی عدالتی نوٹس تھے اور چیز اسے چونکانے کی باعث بنی تھی وہ تھے ان نوٹس پر لکھا اس کے باپ ندیم آفندی کا نام!فازیہ نے وہی ایک طرف بنی چیئر پر بیٹھ کر پڑھنا شروع کیا تو اسے یہ پڑھ کر جھٹکا لگا کہ یہ سارے خلع کے نوٹس اسکے باپ کو اسکی ماں نے بھیجے ہوئے تھے۔
“یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے یقینی سے بڑبڑائی کیونکہ تقریباً دس سالوں سے وہ سن رہی تھی کہ ندیم آفندی نے حرا بیگم کو طلاق دی تھی مگر یہ عدالتی نوٹس تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہے تھے اس سے واضح ہوا تھا کہ حرا بیگم نے تین نوٹس بھیج کر ہی طلاق دینے پر مجبور کیا تھا۔
“کیا یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نوٹس کی تاریخ دیکھنے لگی جو آج سے پچیس سال پہلے کے ہی تھے فازیہ نے نوٹس پکڑے اور اپنے کمرے میں چلی آئی یہاں آ کر اس نے پہلا کام حرا بیگم کو کال کا کیا تھا۔
“ہاں فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے حرا بیگم نے کال پک کی۔
“مما کیا بابا سے آپ نے خلع لی تھی یا انہوں نے آپکو طلاق دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سوال پر دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
“پڑھا دی نہ پٹی ان لوگوں نے تمہیں ؟آ گئی تم انکی باتوں میں؟یہی تو ڈر تھا مجھے کہ وہ تمہیں میرے خلاف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما پلیز انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا،میں آپ سے پوچھ رہی ہوں کہ بابا نے آپکو طلاق دی تھی یا آپ نے عدالت کے تھرو خلع لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”انکے واویلے پر فازیہ نے سپاٹ انداز میں سوال دوہرایا۔
“تمہارے باپ نے ہی طلاق دی تھی مجھے وہ بھی اس مکار اور کمینی عورت رخسار کے کہنے پر،تمہارے باپ کے ساتھ اسکا چکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما مجھے یہ سب باتیں پہلے سے ہی پتہ ہیں مگر ایک بات اب پتہ چلی ہے اور وہ یہ کہ بابا نے طلاق آپ کے عدالتی نوٹس وصول کرنے کے بعد دی تھی اور مجھے اس سچ کو جان کر دکھ ہوا ہے کہ آپکو اپنی بیٹی سے یہ غلط بیانی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کی بات سے وہ چونکیں۔
“کیا مطلب؟کہنا کیا چاہتی ہو تم؟میں بھلا تم سے کیوں جھوٹ بولونگی ؟؟یہ سب ان لوگوں کا۔۔۔۔۔۔۔”انکا لہجہ گڑبڑاتا تھا
“پلیز مما،اس بات پر ان لوگوں کو بلیم مت کریں کیونکہ یہ بات تو میں نے ابھی کسی سے ڈسکس کی نہیں جو میں کہہ سکوں کہ کسی نے جان بوجھ کر کیا ہو،یہ عدالتی نوٹس آج سے پچیس سال پہلے کے ہیں مما،اس لیے آپ مجھے کوئی معقول وجہ بتا دیں کہ آپ نے مجھ سے یہ جھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا،تمہارا باپ مجھے گھر سے نکالنے کے بعد عیاشیاں کرتا پھر رہا تھا میں اسے یوں آزاد اور خوش نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ وہ مجھے اپنے نام کے ساتھ قید کر کے سزا دینا چاہتا تھا اس لیے میں نے عدالت سے رجوع کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرتیں پھر سے فازیہ کا برین واش کرنے لگیں مگر اس بار اس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“یہ بات تھی تو پہلے بتا دیتیں آپ ،اگر یہ میں کسی اور سے سنتی تو کبھی یقین نہ کرتی،کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور سچ ہے مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کے شک بھرے سوال پر وہ ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولیں۔
“کیا اب تمہیں اپنی مما پر شک ہونے لگا ہے،ابھی تو دیکھنا وہ مکار لوگ تمہیں میرے خلاف کرنے کے لیے نئے نئے حربے آزمائے گئے اس لیے میری جان تم واپس آ جاؤ،مجھے تم سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بھیگی آواز میں بولتیں فازیہ کو سچ میں رام کر گئیں ۔
“بلکل نہیں مما،مجھے آپ پر شک نہیں ہے،آپ کے علاوہ میرا بھی کوئی نہیں ہے اس لیے بہت جلد میں آپ کے پاس آ جاؤنگی بس ایک ماہ تک،ابھی مجھے اس عورت اور اسکی بہن سے کچھ حساب لینے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کے یقین پر دوسری طرف حرا بیگم طنزیہ مسکرائیں اور پھر کال بند کر کے قہقہ لگا گئیں۔
“بیوقوف باپ کی بیوقوف بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
“یہ کیا حاشر بھائی دوسری شادی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ باہر سے آ کر لاؤنج میں ہی رخسار بیگم کے ساتھ ٹک گیا اور ایک نظر ردا بھابھی کو دیکھ کر شرارت سے کہا جو کچھ سوٹ اور جیولری پھیلائے بیٹھی تھی ساتھ تنزیلہ بیگم اور راحیلہ بیگم بھی بیٹھے تھے جبکہ علیشہ اسکی آواز سن کر ٹی وی آف کرتی اس طرف چلی آئی۔
“اللہ نہ کرے،حاشر کیوں دوسری شادی کرنے لگے ان کے پاس آل ریڈی خوبصورت سی وائف اور دو پیارے پیارے بچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے مسکراتے ہوئے خود کی طرف اور دوسری طرف کھیلتے اپنے دونوں بچے عنایہ اور ایان کی طرف اشارہ کیا جس پر سب مسکرا دئیے۔
“دوسری شادی کرنے کی تو تمہیں ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کے کہنے ہر رخسار بیگم نے مسکرا کر علیشہ کی طرف دیکھا جو خود بھی مسکرا رہی تھی۔
“ویسے خوبصورت سی بیوی تو آل ریڈی تمہارے پاس ہے بس دو بچوں کی کمی ہے۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کی بات جہاں نائل کو مسکرانے پر مجبور کر گئی وہی علیشہ کا منہ تن گیا۔
“خوبصورتی کا اچار ڈالنا ہے اگر تمیز اور شرم و حیا چھو کر نہ گزری ہو۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو بھی ردا کا فازیہ کو خوبصورت کہنا ایک آنکھ نہ بھایا۔
“اب کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم نے ادھر ادھر دیکھا۔
“کمرے میں اور کہاں،ابھی تھوڑی دیر پیلے چچا جان کے کمرے میں گئی تھی کوئی بک لے کر پھر اپنے کمرے میں بند ،مجھے تو لگتا ہے وہ یہاں آئی بس اس کمرے کے لیے ہے،اتنی بے شرم لڑکی توبہ،پتہ نہیں دس سال لندن میں کیا کچھ کر کے آئی ہے جیسی ماں ویسی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے حقارت بھرے انداز پر نائل نے گہرا سانس بھرتے ہوئے خود کو صوفے پر ڈھیلا کر کے آنکھیں موند لیں۔اسے یہ کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا کہ اسکی ماں اسکی بیوی کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرے یا اسکی بیوی اسکی ماں کے بارے مگر اب یہ دونوں کام ہو رہے تھے اور وہ چپ تھا۔
“نائل تھک گئے ہو؟کچھ کھاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم اب بیٹے کی طرف متوجہ ہوئیں ۔
“نہیں مما،تھوڑی دیر ہی رہ گئی ڈنر میں،اب بس کافی پلا دیں اور پلیز علیشہ کے ہاتھ کی نہیں مجھے اچھی سی کافی پینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بولتا ہوا ماں کو ٹوک گیا جو پھر سے علیشہ کو کہنے والی تھیں جب سے علیشہ آئی تھی رخسار بیگم کی کوشش تھی کہ نائل کے کمرے کے اندر والے تو نہیں پر کم از کم کمرے کے باہر والے کام تو ضرور کرے۔
“توبہ اب اتنی بری بھی نہیں بناتی میں،کل عامر اور ثمرہ لوگ اتنی تعریف کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“برا نہ مانو،مذاق کر رہا ہے،میں ثمرہ کو کہہ کر آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا اور ثمرہ جو کہ کچن میں کوئی خاص ڈِش تیار کر رہی تھی اس کی طرف چل دیں۔
“پھر دے آؤں میں اسے یہ سامان۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کے سوال پر نائل کے کان کھڑے ہوئے ۔
“ہاں اب آغا جان نے دعوت کا کہہ دیا ہے کہ یہ لوگ کل اسلام آباد جا رہے ہیں تو اس لحاظ سے کپڑے اور جیولری تو ہماری خاندانی شان کے مطابق زیب تن کرکے جائے یہ نہ ہو نکاح کے روز کی طرح سب کے سامنے ناک کٹوا دیں۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم نے کہتے ہوئے اپنی بہو کو اشارہ کیا تو وہ جیولری اور کچھ کپڑے بیگ میں رکھنے لگی۔
“واؤ خالہ جانی،یہ کتنا پیارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک مہرون کلر کا ڈیزائنر ڈریس پر علیشہ کی نظریں جمی تھیں۔
“پسند ہے تم لے لو،ویسے بھی یہ سب نائل کی بیوی کا ہے مطلب کہ میری علیشہ کا،میں نے اپنے خاندانی زیورات بھی تمہارے لیے رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم پیار سے بولیں جس پر وہ خوش ہوتی مہروں ڈریس پکڑ گئی ردا بھابھی نے کچھ ناگوار نظروں سے دیکھا یہی ڈریس وہ فازیہ کو خاص طور پر پہننے کا کہنا چاہتی تھیں ۔
“یہ اتنی اوور لڑکی تمہاری بیوی بننے کے بلکل قابل نہیں ہے نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے سب کو باتوں میں مصروف دیکھ کر نائل سے سرگوشی کی جس پر وہ دل کھول کر مسکرایا۔
“جو بیوی بنی اندر بیٹھی ہے قابل تو وہ بھی نہیں تھی بقول آپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کسی پچھلی بات کا حوالہ دیا جس پر وہ بغیر شرمندہ ہوئے بولیں۔
“ہاں تب مجھے اسکی اکڑ اور زبان اچھی نہیں لگی تھی مگر خوبصورتی کی تب بھی میں قائل تھی پر اب مجھے اس کا چلنا پھرنا حتی کہ غصے سے بولنا بھی اچھا لگتا ہے خاص طور پر تمہارے ساتھ بہت جچتی ہے لگتا ہی نہیں کہ تم سے عمر میں دو سال بڑی ہے مگر علیشہ،اسکی عادات تو مجھے پہلے دن سے نہیں پسند مگر چچی جان کی چہیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ صاف گوئی سے بولیں
“مجھے لگتا ہے مجھے ان دنوں بہو اور سسر نے انکی چہتیوں کی تربیت کرنے کے لیے ہی رکھا ہے،آغا جان کہتے ہیں انکی لاڈلی پوتی کو میں پیار سے سدھار لونگا اور مما جان کہتی ہیں کہ انکی لاڈلی بھانجی کو میں اپنی من پسند عادتوں میں بدل لونگا پتہ نہیں اب ہونا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا
“فازیہ کو پیار سے سدھارا جا سکتا ہے جبکہ علیشہ کے نخرے اور اکڑ ختم کرنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب تک سدھری تو نہیں آپکی دیورانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جل کر بولا جس پر وہ معنی خیزی سے مسکرائیں ۔
“اب تک تم نے اس لیول کا پیار بھی تو نہیں کیا ہوگا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کی بات کا مطلب اور ان کے چہرے پر چمکتی زومعنی ہنسی اسے بات کا مطلب سمجھا گئی جسے اگنور کرتا وہ ثمرہ کی طرف متوجہ ہوا جو کافی اسے پکڑا رہی تھی۔
“نائل،مجھے تھوڑی سی شاپنگ کرنی ہے کل جانے کے لیے،چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی علیشہ اس کے پاس آئی جو کب سے ردا بھابھی اور نائل کی کھسر پھسر نوٹ کر رہی تھی اسے یہ تو پتہ تھا کہ آفندی ہاؤس میں آغا ہاشم کے بعد ردا بھابھی تھی جو اسے نہ پسند کرتی تھیں۔
“ابھی تو کافی پی کر مجھے دو گھنٹے کی نیند لینی ہے اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے دو ٹوک انداز پر وہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
نائل کمرے میں آیا تو اسے کسی گہری سوچ میں مبتلا پایا جو اس کے آنے پر کچھ چونک کر اٹھ بیٹھی۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل کو اسکا انداز کچھ عجیب لگا۔
“کچھ بھی نہیں مجھے کیا ہونا ہے اور تمہیں کیا مجھے جو بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولتی اسے گھورنے لگی جس نے سر نفی میں ہلایا تھا جیسے کہہ رہا ہو اسکا کچھ نہیں ہو سکتا!
“کیا تم تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر جا سکتی ہو مجھے لائٹ آف کرکے کچھ دیر آرام کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل نہیں،کیونکہ مجھے بھی آرام کرنا ہے وہ بھی لائٹ آن کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھلا اسکی ریکویسٹ مان سکتی تھی؟
“ایز یو وِش ۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کندھے اچکائے جیسے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔
“تو تم آسانی سے نہیں ماننے والی۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے خود کو جوتوں سے آزاد کرواتے ہوئے اسکی طرف قدم بڑھائے۔
“اب تم مجھ سے شکایت مت کرنا ،اس دن تو رک گیا تھا آج رکنا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل معنی خیز لہجے میں بولتا اسکے اوپر جھکا جو اسکی بات کا مطلب سمجھتی جیسے ہوش میں آئی تھی ایک جھٹکے سے اٹھ کر بھاگی نائل نے بمشکل اپنے قہقے کو روکا اور لائٹ آف کرتا بیڈ پر جا کر کمبل میں گھس گیا اسے پتہ تھا اب شام سے پہلے وہ کمرے میں آنے والی نہ تھی اور یہی وہ چاہتا تھا۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
“بدتمیز ۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کمرے سے باہر کھڑی ہو کر اپنے دل کی تیز رفتار کو کنٹرول کرتی گہرا سانس لینے لگی۔
“کیا مجھے یوں ڈر کر باہر آنا چاہئیے تھا ،اس سے تو وہ اور شیر ہو جائے گا،اگر اب اس نے کوئی ایسی حرکت کی تو میں ایسا شور مچاؤنگی لگ پتہ جائے گا اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے بولتی لاؤنج میں جانے لگی کہ آگے سے آتی ردا بھابھی کو دیکھ کر رک گئی جن کے ہاتھ میں کچھ بیگز تھے۔
“فازیہ یہ تمہارے لیے کچھ ڈریسز ہیں جو اچھے لگے وہ پیکنگ میں شامل کر لینا اور یہ جیولری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے بیگز اسکی طرف بڑھائے جن کو ناگواری سے اس نے تھام لیا ۔کل آغا ہاشم نے اسے شاپنگ کرنے کے لیے چیک دیا تھا جو اس نے بنا دیکھے ہی واپس کر دیا کہ اس کے پاس سب کچھ ہے مگر اب یہ سامان؟یقیناً آغا ہاشم کے کہنے پر ہی آیا ہوگا۔
“کل شام کے ٹائم تم سب نے نکلنا ہے اسلام آباد کے لیے،اس لیے تیاری کر لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کون سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے نہ سمجھی سے دیکھا
“علیشہ اور عامر بھی تم دونوں کے ساتھ جا رہے ہیں اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی کے بتانے پر وہ چونکی کیونکہ وہ لاعلم تھی اس پلان کے بارے جو رخسار بیگم اور علیشہ نے بنایا تھا ۔
“وہ لوگ کس خوشی میں جا رہے ہیں ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کو یہ بات ہرگز اچھی نہ لگی تھی اور ردا بھابھی کا اسے بتانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتی تھیں کہ علیشہ ان کے ساتھ جائے۔
“نہ صرف جا رہے ہیں بلکہ وہاں نائل کے ساتھ گھومنے کے پلان بھی بن چکے ہیں،مجھے تو بلکل اچھا نہیں لگ رہا ہے علیشہ کا یوں تم لوگوں کے ساتھ جانا،عامر بھی زبردستی ہی جا رہا علیشہ کے کہنے پر،ابھی اتنا پیارا ڈریس تمہارے لیے پسند کیا میں نے مہرون کلر کا کیونکہ نائل کو بلیک اور مہرون کلر پسند ہے مگر وہ بھی اس نے پسند کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھیں ان کی خواہش تھی کہ فازیہ اپنا بیوی ہونے کا حق جتائے اور علیشہ کو نائل سے دور رکھنے کی ہر کوشش کرے۔
“اس لڑکی کو میں مزہ چکھاتی ہوں کہ کیسے اپنی خالہ کے نقش قدم پر چلنے کا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نفرت سے کہتی واپس کمرے میں چلی آئی جہاں نائل لائٹ آف کیے یقیناً سو رہا تھا فازیہ نے سارے بیگز صوفے پر رکھے اور غصے سے اس کے قریب جا کر کمبل کھینچ گئی جو ابھی سوئی جاگی کیفیت میں تھا یکدم اٹھا مگر اسے اپنی طرف خونخوار نظروں سے دیکھتا پا کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
“زندگی تو خراب اس دن ہی ہوگئی تھی جس دن تم سے نکاح کیا تھا مگر سکون بھی برباد کر دو گی یہ اب یقین ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خشمگیں نگاہوں سے دیکھنے لگا جو خود بھی اس وقت جلی ہوئی تھی۔
“اور جو میرا سکون تمہاری ماں نے برباد کیا ہوا ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تمیز سے بولا کرو کیا جاہل عورتوں کی طرح بات کرتی ہو،کون کہتا ہے تم لندن سے پڑھ کر آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اب سونے کا ارادہ ترک کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں تو جاہل ہی سہی مگر تمہاری وہ تعلیم یافتہ ہونے والی بیوی کے کرتوت کس کھاتے میں ڈالو گئے جو کل تمہیں صرف میری ضد میں لے کر گئی اور آج کہہ رہی کہ وہ بھی اسلام آباد جائے گی تو ایک کام کیوں نہیں کرتے تم اس کے ساتھ ہی چلے جاؤ شادی کی دعوت شادی سے پہلے کھا کر آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلی بھنی جو بول رہی تھی نائل جو تھوڑی دیر پہلے بیزاری سے سب سن رہا تھا اب کی بار دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
“اچھا آئیڈیا ہے،عمل کرونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی جیلسی سے محفوظ ہوا مگر اس کے تو سر پر لگی اور پیروں پر جا کر بجھی۔
“نکلو اس کمرے سے،اب جا کر اس کے پاس ہی رہو میری بلا سے،مجھے نہ تم سے مطلب ہے اور نہ تمہارے ساتھ کہیں بھی جانے سے،اپنے آغا جان سے بھی کہہ دینا کہ مجھے کہیں نہیں جانا اور نہ مجھے آ کر کوئی کہے ورنہ سب کی اوقات ایک منٹ میں واضع کر دونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غصے سے پھنکارتی ڈریسنگ روم میں جا کر دروازہ زور سے بند کر گئی نائل نے بے ساختہ گہرا سانس بھرا اور اس سیچویشن پر غور فکر کرنے لگا کیونکہ آغا ہاشم کے مطابق کل انکو ہر حال میں جانا تھا۔