Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

قسط نمبر دو۔۔۔۔
آؤ میری بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکو دہلیز پر ہی رکتے دیکھ کر آغا ہاشم نے اس کے پاس آکر نہ صرف اسے اپنے ساتھ لگایا تھا بلکہ پیشانی چوم کر اندر کی طرف لیے بڑھے فازیہ نے ان کے والہانہ انداز پر ایک ناگوار نظر ان پر ڈالی تھی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ان لوگوں نے کیسے کیسے ڈارمعے کرنے تھے۔
“آؤ میں تمہارا تعارف کرواتا ہوں سب سے۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم فازیہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے بھی سرد تاثرات نوٹ کر چکے تھے اس لیے فازیہ کا تعارف کروانے لگے جس پر فازیہ نے سپاٹ انداز میں صرف سلام لینے پر ہی اکتفا کیا تھا۔
“تمہارے دونوں تایا اور تایا زاد حاشر اس وقت آفس میں ہیں وہ شام کو آئیں گئے،جبکہ نائل اور عامر یونیورسٹی ہیں اور تمہارا اکلوتا بھائی اسد سکول میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا جان بڑے پرجوش انداز میں اسے سب سے ملواتے ساتھ ساتھ بتا رہے تھے فازیہ نے ایک قہر بھی نظر راحیلہ بیگم اور ان کے ساتھ کھڑی پندرہ سالہ اپنی سوتیلی بہن ہادیہ پر ڈالی تھی اور یہ نظر رخسار بیگم کی آنکھوں سے چھپی نہ رہ سکی تھی وہ جو سر سے پاؤں تک اسکا جائزہ لیتی اس کے چہرے کے تاثرات ہی نوٹ کر رہی تھیں جبکہ ثمرہ اور حمرہ نے بغیر کسی بھی تاثر کے فازیہ سے اچھے سے بات چیت کرنی چاہی تھی مگر اسکی خاموشی پر چپ ہو گئیں۔
“لگتا ہے فازیہ بیٹی تھک گئی ہے اس لیے ثمرہ بیٹا تم فازیہ کو اپنے کمرے میں لے جاؤ یہ تب تک فریش ہو جائے گی اور اچھی سی خاطر مدارت ہونی چاہئیے میری بیٹی کی پھر رات کو سب سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور اچھا سا ڈنر بھی جو آج اسپیشل تمہارے لیے تیار کروایا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے ثمرہ اور حمرہ کو اشارہ کیا تو وہ اسے لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
“راحیلہ بیٹی فازیہ کا سامان فلحال ثمرہ کے کمرے میں پہنچا دیجئے پھر کل نائل کے کمرے میں بجھوا دیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی بات پر راحیلہ بیگم نے ایک نظر اپنی بہن رخسار ڈالی اور ٹیبل صاف کرتی صدف کو اپنے ساتھ لیے چلی گئیں۔
“آپ میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں چچا جان،لڑکی کی اکڑ اور اس کے چہرے پر پھیلی نفرت دیکھی ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جیسے پھٹ پڑیں۔
“ایک لڑکی جس نے پچیس سال مسلسل ہمارے خلاف باتیں سنی ہوں تم اس سے محبت کی امید کیسے لگا سکتی ہو رخسار،کچھ دن اسے ہمارے ساتھ رہنے دو حقائق کا پتہ لگنے دو پھر دیکھنا کہ میرا فیصلہ کتنا اچھا ثابت ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی بات پر وہ تلخی سے ہنکارہ بھرتی رخ موڑ گئیں۔
“نائل کا کل نکاح ہے اس لیے تیاری کرنا تمہاری زمعداری ہے تنزیلہ،فلحال نکاح سادگی سے اپنے گھر کے لان میں کر رہے ہیں مگر تین ماہ بعد سب کے متفق فیصلے سے نہ صرف ولیمہ بڑا ہوگا بلکہ مہندی برات سارے ارمان نکالیں گئے جیسے حاشر کی شادی پر کیے تھے،میں کمرے میں جا رہا ہوں ڈنر پر ملاقات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تنزیلہ بیگم کو ہدایت دیتے وہاں سے چلے گئے۔
“تجربے کے لیے میرا ہی بیٹا ملا انکو؛دیکھا آپ نے بھابھی کتنی چالاک ہے لڑکی اپنی ماں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہ صرف چالاکی پر ماں جیسی ہے بلکہ حسن اور خوبصورتی میں بھی ماں سے دو ہاتھ آگے ہے اور مجھے ابھی سے ڈر لگنے لگا ہے رخسار،کہیں اپنے حسن کے جال میں الجھا کر نائل کو ندیم بھائی جیسا نہ کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اللہ نہ کرے بھابھی،میرا بیٹا اتنا کمزور نہیں ہے اور دوسرا علیشہ اس سے زیادہ پیاری ہے اور نائل اسے پسند بھی کرتا ہے اس لیے اس بات کی آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے تنزیلہ بیگم سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی۔
“ہماری تو دعا ہی ہے،اچھا پھر ڈنر کے بعد شاپنگ پر چلتے ہیں،چاہے نکاح جس سے بھی ہے اور جیسی بھی حالت میں ہے مگر کل ہمارے خاندان نے تو شامل ہونا ہی ہے نہ تو پھر اچھے سے تیاری کرنی پڑے گی باقی ہم ارمان نائل کی علیشہ کے ساتھ شادی پر نکالیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کی بات پر رخسار بیگم نے سر ہلا دیا۔
~~~~~ “سنا ہے بھابھی گھر آ چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں گھر کی طرف روانہ ہونے لگے تھے کہ عامر جس کو ابھی ثمرہ نے فون پر اطلاع دی تھی نائل کے پاس آتا کہہ گیا۔ “ردا بھابھی کے بھائی کی منگنی تو اتوار کو ہے اتنی جلدی گھر آ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل لاپرواہی سے بولتا عامر کو گھورنے پر مجبور کر گیا ۔ “میں نے ردا بھابھی کی بات نہیں کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔” “پر میں تو بس اپنی ایک بھابھی کو ہی جانتا ہوں اور وہ ردا بھابھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید کچھ سمجھ کر بھی انجان بن رہا تھا۔ “میں تمہاری نہیں اپنی ہونے والی بھابھی کی بات کر رہا ہوں جو آفندی ہاؤس میں تشریف لا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر چبا چبا کر بولا۔ “تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کندھے اچکائے۔ “تو بھائی صاحب کل آپ کے نکاح کا فنکشن ہے اور آپ ابھی تک اپنی ہونے والی بیوی کی دید سے محروم ہیں جانتے ہی نہیں کہ وہ کالی موٹی اور پھینی سی ہیں یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” “میرے لیے یہ سب جاننا ضروری نہیں ہے کیونکہ آغا جان نے بعد کے سارے آپشنز میرے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے فکری سے بولتا اپنی ہیوی بائیک سٹارٹ کر چکا تھا۔ “اور اگر پسند آ گئیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر کے سوال پر اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہیلمٹ پہنتا وہ زن سے بائیک لے اڑا جبکہ عامر گہرا سانس بھرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ “جس بندے کو علیشہ جیسی لڑکی سے محبت نہیں ہوئی اسے اس انجان لڑکی سے کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ کے ڈنر کے پیغام پر وہ اپنے حلیے پر ایک نظر ڈالتی ہوئی باہر کی جانب چل دی اس وقت وہ بلیک کلر کے ڈریس جس میں پنک ایمبرائیڈری ہوئی تھی اور پنک شیفون کے جارجنٹ ڈوپٹے میں جسے سلیقے سے گلے میں ڈالا ہوا تھا اپنے لئیر کٹنگ بالوں کو کیچر میں مقید کیے چہرے پر کسی بھی میک اپ کے بغیر بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور یہ خوبصورتی بلاشبہ اسے اپنے ماں باپ سے وارثت میں ملی تھی۔ وہ بنا کسی کی طرف دیکھے اور بلائے آ کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی جبکہ باقی اس کے انداز پر حیران ہوئے تھے جبکہ نائل جس نے بڑی گہری نگاہوں سے سر تا پیر اسکا جائزہ لیا تھا اب نظریں آغا ہاشم پر مرکوز کرتا جیسے انہیں کچھ جتا گیا تھا جو نائل کی طرف ہی دیکھ رہے تھے اس کی نگاہوں کی زبان سمجھتے نگاہیں چرا گئے۔ “ابھی تو شروعات ہیں آغا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل ہی دل میں مسکایا۔ “فازیہ بیٹا یہ تمہارے تایا سلیم اور یہ تایا ابراہیم ہیں،یہ تمہارا بھائی سعد اور یہ عامر اور حاشر سلیم کے بیٹے ہیں……………”آغا ہاشم نے اسکی توجہ انکی طرف کروائی جس پر اس نے بس ان پر نظر ڈالی تھی جبکہ تیرہ سالہ سعد کو دیکھ کر وہ نفرت سے چہرے کا رخ پھیر گئی۔ “جن کی وجہ سے میں نے باپ ہوتے ہوئے بھی یتیمی بھری زندگی گزاری اب میں ان پر سلامیاں بھیجتی پھروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تلخی سے سوچنے لگی اور پھر نظر آغا ہاشم کے پاس بیٹھے نائل کی طرف اٹھی جو کہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو بڑی گہری نگاہ سے جانچ رہا تھا فازیہ نے کچھ الجھن سے اسے دیکھا کیونکہ آغا ہاشم نے اسکا تعارف ابھی تک نہئں کروایا تھا۔ جبکہ دوسری طرف آغا ہاشم کے تعارف پر سلیم آفندی تو خاموش رہا تھا مگر ابراہیم آفندی نے اس کا حال احوال پوچھا جس پر اس نے فقط سر ہلایا تھا جس پر رخسار بیگم نے اس کے مغرور انداز پر ایک غصیلی نگاہ ڈالی تھی۔ “اور یہ نائل ابراہیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ آغا ہاشم نے اسی لڑکے کا نام لیا تھا جس نے اسے شش و پنج میں ڈالا تھا وہ اس پر نظر ڈال کر رہ گئی جس نے مکمل انگور کرتے جیسے کسی چیز کا بدلہ لیا تھا۔ “میرے خیال میں اب کچھ کھا لینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آغا ہاشم پر جتاتی نگاہ ڈالتا اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگا جنہوں نے جلد ہی اٹھ کر اس کی پسند کی اچاری کڑاہی اس کی پلیٹ میں نکال کر اس کے سامنے رکھا تھا اور پھر دیکھا دیکھی باقی بھی سب کھانے میں مصروف ہو گئے فازیہ نے بریانی اپنی پلیٹ میں نکالی اور رغبت سے کھانے لگی مگر ساتھ ساتھ وہ سب کے چہروں پر بھی نگاہ ڈالتی جیسے سب کو نوٹ کر رہی تھی اور پھر نگاہ کچھ پل کو نائل ابراہیم پر رکی تھی جو آف وائٹ پولو شرٹ میں اپنی مضبوط کلائی میں مہنگی گھڑی باندھے ،سلیقے سے بنے بال،ہلکی ہلکی شیو اور خوبصورت خدو خال میں ایک مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا اگر اسے یوسف ثانی بھی کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا سب سے خاص چیز اس کے بائیں گال پر پڑتا ڈمپل تھا جو آغا ہاشم کی کسی بات پر مسکرانے سے جیسے چاند کی طرح روشن ہوا تھا وہ جلدی سے نگاہ ہٹا گئی۔ “سلیم تمہیں میں نے کل کے فنکشن کی زمعداری سونپی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے سلیم آفندی کو مخاطب کیا۔ “جی میں نے ساری ارینجمینٹ کروا لی ہے بس کھانے کا انتظام رہ گیا ہے وہ صبح ہو جائے گا ویسے بھی فنکشن رات کو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔” “اور منزہ (بیٹی) کے دیور کو بھی کال کر دینا اسکا نام مجھے لسٹ میں لکھوانا یاد نہیں رہا وہ تو آج منزہ سے بات ہوئی تو اس نے یاد دلایا،چاہے سادگی سے کر رہے ہیں مگر پھر بھی سارے خاندان والوں کی موجودگی ضروری ہے اور فازیہ بیٹی کو بھی تو سب سے ملوانا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے اسکی طرف پیار بھری نگاہ ڈالی جو کے یوں انجان بنے کھانا کھا رہی تھی جیسے کوئی اور موجود ہی نہ ہو ۔ ویسے آغا جان میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی نکاح ہی کر دیتے ہیں رخصتی کچھ ماہ بعد سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیم آفندی نے وہ بات کر ہی دی جس پر تنزیلہ بیگم اور رخسار بیگم نے انکو رضامند کیا تھا کیونکہ ابراہیم آفندی بھی آغا جان کے فیصلے کے حق میں تھے۔ “نہیں،ہم ولیمہ بعد میں کر لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے دو ٹوک انداز پر رخسار بیگم صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئیں جبکہ نائل نے گہرا سانس بھر ا کیونکہ اس نے بھی یہی بات کی تھی آغا ہاشم سے مگر انہوں نے اسے بھی انکار کر دیا تھا۔ “دیکھو نائل ایک عورت کو مرد ہی کنڑول کر سکتا ہے اگر بیٹی ہے تو باپ اگر بیوی ہے تو شوہر،اور میں چاہتا ہوں کہ فازیہ کو تم احساس دلاؤ کہ ہم ہی اس کے اصل خیر خواہ اور اپنے ہیں اسکی ماں تو ایک ناگن ہے جو اپنی بیٹی کو بھی ڈسنے سے باز نہیں آ سکتی،دوسرا میں چاہتا ہوں کہ تم اسے اتنی عزت اور مان دو کہ اسے تم سے بڑھ کر کوئی اور اپنا نہ لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” “بھابھی تو سہی ٹکڑ کی ڈھونڈی ہے آغا جان نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عامر نے فازیہ کے اٹھ جانے کے بعد نائل کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر وہ اسے فقط گھور کر اٹھ گیا۔ “مما میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں پلیز کافی بھیج دیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ابراہیم آفندی کے سوالوں سے بچنے کے لیے جلدی جلدی میں بولتا اپنے کمرے کی طرف مڑا۔ “کافی خوش لگ رہے آپ کے صاحبزادے اور آپ مجھے کل سے کہہ رہی ہیں کہ آپکا بیٹا پریشان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے طنز رخسار بیگم کو مخاطب کیا جس پر وہ ناراضگی سے وہاں سے واک آوٹ کر گئیں۔ ~~~
“کس سے کروا رہا وہ بڈھا تمہاری شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کے سوال پر وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گئی۔
“مجھے نہیں پتہ مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے پتہ کرو نہ،یہ نہ ہو انکی کوئی چال ہو فازیہ،کسی ایرے غیرے کے ساتھ تمہارا نکاح کر کے تمہیں چلتا کریں اس لئے تو چھپ چھپا کر سب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسا تو میں ہونے نہیں دونگی آپ اچھے سے جانتی ہیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ تو پتہ ہے پر میری جان یہ لوگ بہت چالاک ہیں تم معصوم انکو سمجھ نہیں سکتی یہ ہوتے کچھ ہیں بتاتے کچھ ہیں اور ظاہر کچھ اور ہی کرتے ہیں،تنزیلہ کے دو لڑکے تھے اور ایک کی تو شادی ہو گئی باقی ایک یا پھر منزہ کے دو بیٹے تھے بس،یہی لڑکے ہیں ان کے خاندان میں،میری سب سے بڑی دشمن اس رخسار کو تو اللہ نے اولاد کی نعمت سے محروم ہی رکھا تھا آخر مجھ پر کیے ظلم کی سزا تو ملنی تھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے الفاظ میں کڑواہت ہی کڑواہٹ تھی۔
“نہیں مما،ابراہیم آفندی کا ایک بیٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں میں نائل کی صورت اتری تھی۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری جانب وہ ششدر تھیں۔
“ابراہیم کا بیٹا ہے،اس عورت میں سے؟ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ ڈائن کیسے ابراہیم کے بیٹے کی ماں سکتی ہے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے چیخیں تھیں فازیہ ان کے ردعمل پر حیرت زدہ تھی۔
“مما،کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں فازیہ،اس عورت نے مجھے اتنے ذخم دئیے ہیں کہ مجھے ایک ایک کر کے سب تازہ ہو گئے ہیں مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے انہوں نے کال بند کر دی جبکہ فازیہ پریشان سی وہی بیٹھے رہ گئی۔
“مما میں آپکی تکلیف کا ہی ازالہ کرنے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑائی۔
جبکہ دوسری طرف نائلہ بیگم نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ساری ایشیا نیچے گرا دی تھیں۔
“کیسے تم میرے ابراہیم کے بیٹے کی ماں بن سکتی ہو کیسے؟یہ حق صرف میرا تھا کیونکہ ابراہیم آفندی بس میرا تھا مگر تم نے چھین لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رو نہیں رہی تھیں بلکہ چیخ رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمرہ ،حمرہ اور ہادیہ کچھ بیگز اور ڈبے لے کر اس کے پاس آئیں تھیں۔
“یہ آج کے فنکشن کے لیے ڈریس،جوتے اور جیولری ہے،مما کہہ رہی ہیں کہ اگر اس کے علاوہ کچھ پہننا ہو تو بتا دیں وہ ارینج کروا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثمرہ کے کہنے پر اس نے ایک نظر شاپنگ بیگ کے اندر سے جھانکتے سکن کلر کے ڈریس پر ڈالی تھی اور دوسری ان پر جو جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“ابھی ٹائم نہیں میرے پاس ان فضول کاموں کے لئے،جب ہوگا تو بتا دونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر بھابھی تین گھنٹے بعد فنکشن سٹارٹ ہے اور پالر والی بھی بس پہنچنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار حمرہ نے لب کشائی کی تھی جس پر فازیہ نے ایک تیز نگاہ ڈالی تھی۔
“یہ باتیں میرا سر درد نہیں ہے پلیز اب تم تینوں جا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ انداز میں کہتی موبائل کی طرف متوجہ ہو گئی جبکہ وہ تینوں ایک دوسرے پر پریشان سی نظر ڈال کر رہ گئیں۔
پھر جب ثمرہ نے آ کر اپنی ماں کو من و عن بتایا تو ان کے پاس سنتیں رخسار بیگم غصے سے اس کے پاس جانے لگیں مگر راحیلہ بیگم نے روک لیا۔
“آپا آپ مت جائیں ،وہ لڑکی بہت ڈھیٹ ماں کی بیٹی ہے اتنی جلدی کیسے آپکی مان لے گی آپ آغا جان پر چھوڑ دیں سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ سمجھتی کیا ہے خود کو،اب آغا جان نے ہمیں زمعداری دی ہے تو ہم ہی پورا کریں گئے نہ،ابھی اس کے ہوش ٹھکانے نہ لگائے تو میرا نام رخسار نہیں،ارے ایک تو زبردستی ہماری زندگیوں میں گھس رہی ہے دوسرا ہمیں ہی اکڑ دکھا رہی ہے جیسے اسکی اصلیت سے ہم واقف نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہمارا کام تھا کہنا،بس ہم نے کہہ دیا باقی دفعہ کریں آپ میرا تو دل نہیں کر رہا اسکی شکل بھی دیکھنے کو۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کے لہجے میں اس کے لیے صاف نفرت محسوس کی جا سکتی تھی جبکہ رخسار بیگم طیش کے مارے آغا ہاشم کے روبرو پیش ہونے کے بجائے نائل ابراہیم کے کمرے میں آ گئیں جو بیڈ پر اپنا آف وائٹ کرتا پھیلائے بیٹھا تھا۔
“مما اس کے ساتھ بلیک کوٹ اچھا لگے گا یہ ویسکوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو پہلے ہی برہم تھیں اس کے سوال پر اور جل بھن گئیں۔
“بڑا شوق ہو رہا ہے تمہیں شادی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے سوال پر اس نے ان کے تاثرات سے انکی بات کا مطلب سمجھا اور پھر گہری سانس بھر کر کہنے لگا۔
“پلیز مما میں نے آپ سے ساری بات کلیر کر دی تھی نہ اب مجھے پریشان کرنے یا خود کو کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا کروں میں،مجھے لگا شاید اس لڑکی کی رگوں میں ندیم بھائی کا خون دوڑنے کے باعث اسے کوئی دید مرید یا کوئی شرم و حیا چھو کر گزری ہوگی مگر نہ جی اس نے ثابت کر بھی دیا کہ وہ اپنی اس ہی ماں کی بیٹی ہے جس نے بے غیرتی میں ریکارڈ قائم کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے پوچھنے پر انہوں نے سارا معاملہ گوش و گزار کر دیا تو وہ مسکرا دیا۔
“تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے مما،اچھی بات ہے آغا جان کو بھی اندازہ ہو کہ انہوں نے کس کو گھر میں لا کر عزت دے کر غلطی کی ہے،آپ پریشان نہ ہوا کریں یہ تو کچھ نہیں ابھی میں اسے دیکھ کر ہی جان گیا تھا کہ وہ ہم سب کو اپنی طرف سے سزا دینے آئی ہے ہمیں یوں تنگ کر کے سکون حاصل کرنا چاہتی ہے اور آپ لوگ ابھی سے تنگ ہونا شروع بھی ہو گئے یہ تو اسکی جیت کی طرف پہلا قدم ثابت ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیا چپ کر کے اسے برداشت کریں ہم سب۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی بات سے خفا سی ہوئیں۔
“جی اس کے علاوہ فلحال تو کوئی آپشن نہیں،اچھا چھوڑیں سب،بتائیں نہ کیا پہنوں میں آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے ان کا دھیان ہٹانا چاہا۔
“تم اتنے پرسکون کیسے ہو نائل؟یہ سب جو ہو رہا ہے میری تو برداشت سے باہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر تھام کر وہی بیڈ پر ٹک گئیں نائل گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھا۔
“کیونکہ مجھے اتنا پتہ ہے کہ یہ سب وقتی ضرورت ہے،آپکو لگتا ہے کہ وہ جو ہمیں بلانے کیا دیکھنے کی روادار نہیں وہ اس گھر میں رہنے آئی ہے ہرگز نہیں اس لیے پلیز مجھے آغا جان کی خواہش پوری کر لینے دیں بعد کے سارے فیصلے سارے اختیارات میرے پاس ہونگے اور میں جیسا مرضی فیصلہ کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور اس خواہش کے لیے ہمیں کیا کیا برداشت کرنا ہوگا کس کس اذیت سے گزرنا پڑے گا یہ نہ تم سوچ رہے ہو اور نہ تمہارے آغا جان،جب میں نے آپا سے بات کی تو جو علیشہ کا ری ایکشن آیا تم جانتے ہو نہ،وہ تمہیں بھی سو دفعہ فون کر چکی ہے مگر تم اٹھا نہیں رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میری بات ہو گئی اس سے،میں نے سمیع کو بھی کہا ہے کہ اسے ایک دو دن کے لیے کہیں گھمانے لے جاؤ دماغ درست ہو جائے گا،عجیب کم عقل لڑکی ہے،آپ جانتی ہیں علیشہ کو وہ کس قدر جذباتی ہے اور مجھے ایسے لوگوں کو ہینڈل کرنا پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان کے پاس سے اٹھتے ہوئے کچھ بے زاری سے بولا کیونکہ علیشہ نے صبح سے ہی اسکا دماغ چاٹ لیا تھا کہ آخرکار اسے اپنا موبائل ہی آف کرنا پڑا تھا۔
“اور یہ جو بلا تمہاری زندگی میں آ رہی ہے اسے ہینڈل کرنا پسند آ گیا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟رخسار بیگم کے طنز پر وہ کچھ کہتے ہوئے رکا پھر ہلکے پھلکے انداز میں کہنے لگا۔
“دیکھتے ہیں کیسے ہینڈل ہوگا،آپ یہ ساری باتیں چھوڑیں اور جلدی سے مجھے مشورہ دیں ورنہ عامر نے مرضی اپنی ہی چلانی ہے کہ اچھا لگے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میرا بیٹا ہے ہی اتنا پیارا کہ اس پر ہر چیز سوٹ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنکھوں میں پیار سموئے حقیقت بیان کر گئیں جس پر وہ ہولے سے مسکرا دیا جبکہ رخسار بیگم نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت آفندی ہاؤس میں نکاح کی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا ایک کنال پر مشتمل لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ایک طرف فریش گلاب اور موتیا کے پھولوں سے باڑ بنائی گئی تھی جس پر ایک صوفہ رکھا تھا دلہا اور دلہن کے بیٹھنے کے لیے جبکہ باقی مہمان کرسیوں پر براجمان تھے۔
“ماشااللّہ،نائل تو بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جو اس وقت خوبصورت سے برانڈڈ سوٹ میں ہلکے پھلکے میک اپ میں خود بھی بہت گریس فل لگ رہی تھیں اور مہمانوں کا استقبال کر رہی تھیں کہ ہر مہمان کے منہ سے نائل کی تعریف سنتے وہ بے اختیار نائل پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مارنے لگی تا کہ ان کے بیٹے کو کسی کی نظر نہ لگ جائے وہ آف وائٹ کرتے شلوار میں بلیک ویسکوٹ پہنے عام روٹین سے ہٹ کر کافی گریس فل لگ رہا تھا۔
“بھابھی اس نے تو پالر والی سے میک اپ کروانے سے بھی انکار کر دیا ہے،اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بند منزہ بیگم انکے پاس آ کر بتانے لگیں جن پر انکے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھ گیا۔
“یہ لڑکی اپنی ماں کی طرح ہماری ناک ہی تو کٹوانے آئی ہے،پورا خاندان جمع ہے وہ کیا سوچیں گئے اگر ایسے ہی منہ اٹھا کر چلی آئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ابھی اپنی تشویش کا زکر کر رہی تھیں کہ تبھی بلیک فراک میں ملبوس فازیہ آتی دکھائی دی جسے دیکھ کر آفندی ہاؤس کی خواتین بھونچکی رہ گئیں کیونکہ وہ ان کے بھیجے گئے ڈریس،زیور کی بجائے اپنے ہی سادہ سے بلیک فراک جس پر گولڈن کام ہوا تھا اور گولڈن سنہری ڈوپٹہ ایک طرف کندھے پر رکھے بغیر کسی زیور اور میک اپ کے ان کے درمیان موجود تھی اور اوپر سے وہ بجائے ثمرہ حمرہ کے اکیلی ہی چلی آئی تھی بنا نظریں جھکائے وہ سیدھا چلتی آ کر صوفے پر ایک شان سے ٹک گئی تھی سب تو سب اسکی طرف حیرانی سے متوجہ تھے جبکہ نائل ابراہیم نے اس کے اعتماد پر اب کی بار کچھ خاص اور گہری نگاہوں سے اسکا جائزہ لیا تھا۔
“اب لگا کہ یہ نائل کی ہونے والی بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے نائل کے پاس آ کر کچھ جتایا تھا جس پر وہ گہرا سانس بھرتا مسکرایا۔
“آپ ہی چاہتی تھیں کہ کوئی کمانڈو ٹائپ دیورانی آنی چاہئیے جو مجھ پر حکمرانی کر سکے مگر لگتا آپکی دعا کچھ زیادہ ہی اللہ کو پسند آ گئی ہے یہ تو پورے آفندی ہاؤس کو ہلا کر رکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آغا ہاشم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو اب کچھ خفیف سے ہو کر اپنی پوتی کا سب سے تعارف کروا رہے تھے۔
“پر اتنی خطرناک دیورانی بھی نہیں چاہتی تھی جسکو آئے ابھی چوبیس گھنٹے ہوئے ہیں مگر ہر ایک کی زبان پر اسکی ہٹ دھرمی کے قصے ہیں جو کسی کو خاطر میں ہی نہیں لا رہی،دیکھو تمہارے ساتھ کیا کرتی ہے جس سے آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کم از کم حاشر بھائی کی طرح رن مرید نہیں بننے لگا میں۔۔۔۔۔۔۔”پاس آتے حاشر کو دیکھ وہ شرارت سے بولا جو اسے گھور رہا تھا۔
“باز آ جاؤ لڑکے اب،کیونکہ تمہاری لگامیں کسنے والی نہ صرف آ چکی ہے بلکہ لگ بھی کافی سخت رہی ہے جو تمہیں بولنے کا موقع بھی شاید سوچ کر دے،دو سال بڑی ہونے کا روب بھی تو جمائے گی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ لوگ فکر نہ کریں کیونکہ میں حاشر آفندی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان پر چوٹ کرتے ہوئے مسکرایا جس پر اس سے پہلے کہ حاشر اور ردا اس پر ایک ساتھ حملہ کرتے وہ آغا ہاشم کئ آواز پر انکے پاس آ گیا۔
“جی آغا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یار اپنی ہونے والی بیوی کے پاس بیٹھو،وہ بور ہو رہی ہوگی ،ابراہیم مولوی کو لے کر آ رہا ہے بس۔۔۔۔۔۔۔.”آغا ہاشم کی بات پر اس نے مڑ کر صوفے پر بیٹھی فازیہ کی طرف دیکھا جو اپنے موبائل میں یوں گم تھی جیسے اس وقت وہ دلہن بن کر نہیں اپنے کمرے میں آرام دہ حالت میں بیٹھی ہو۔
“آپکو لگتا ہے کہ وہ بور ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے طنز کیا۔
“میں نے جو کہا ہے وہ کرو،تمہارا باپ آتا ہوگا پھر نکاح کر دیتے ہیں تاکہ مہمانوں سے جان چھوٹ جائے جو نہ جانے کونسی کونسی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں اور تمہاری ماں تب سے مجھے یوں گھور رہی ہے جیسے سارا قصور میرا ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی آخری بات پر نائل بے کچھ معنی خیز نظروں سے انکے معصوم پن کو دیکھا تھا جس پر وہ مسکراتے ہوتے گھورنے لگے۔
“آپ کے مسکرانے کے دن ختم ہو رہے ہیں آغا جان کیونکہ آپ ایک ایسے پٹاخے کو گھر لے کر آئے ہیں جو دن رات ہمارے سروں پر پھوٹا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا وہ جا کر فازیہ کے کچھ فاصلے پر ٹک گیا جس پر موبائل سے نظریں ہٹاتی وہ اسے غور سے دیکھنے لگی جیسے یہاں بیٹھنے کی وجہ جاننا چاہ رہی ہو مگر نائل مکمل اطمینان سے اپنی جیب میں سے موبائل نکال کر اس کے ساتھ چھیڑ چھانی کرنے لگا ارادہ اسے مکمل نظرانداز کرنے کا تھا۔
“یہاں بیٹھنے کی وجہ جان سکتی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آخر کار اسے سوال کرنا پڑ گیا مگر نائل نے کمال بے نیازی سے اسکا سوال انگور کیے موبائل سے لگا رہا شاید جیسے اس سے کچھ حساب بے باق کرنے ہوں۔
“کیا اس سے میرا نکاح ہونے لگا ہے؟نائل ابراہیم سے؟مما کی سب سے بڑی دشمن کے بیٹے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کے زہن میں کچھ سوال ابھرے جن کے جواب اسے جلد ہی مل گئے جب مولوی کے آنے کے بعد انکا نکاح شروع ہوا تھا۔
“آغا ہاشم کے اشارے پر رخسار بیگم نے سرخ نیٹ کا ڈوپٹہ اس کے سر پر ڈال کر گھونگھٹ گرا دیا اور فازیہ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈوپٹہ پیچھے نہ کر سکی کیونکہ نکاح خواہ نکاح شروع کر چکا تھا مگر وہ آج کے لیے اتنے پر ہی خوش تھی کہ اس نے عام سے حلیے میں آ کر آفندیوں کی شان میں کچھ تو گستاخی کی تھی کیونکہ وہ رخسار بیگم کے سرخ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی جو اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔
“آج سے آفندی والا کی تباہی شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نکاح نامعے پر دستخط کرتی ایک عزم کر گئی تھی۔