Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

قسط نمبر چار
اور پھر رات تک یہ خبر پورے آفندی ہاؤس میں پھیل گئی کہ فازیہ نے اپنی جائیداد کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے اس گھر کے مرد تو خاموش رہے مگر عورتیں چپ نہ رہ سکیں۔
“آغا جان غلطی پہ غلطی کر رہے ہیں ،ابھی سب اس کے ہاتھ میں دینے کا مطلب ہے کہ لو پکا پکایا کھاؤ اور چلتی بنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم بھی خوش نہ تھیں ۔
“وہ اسی مقصد کے لیے تو اس گھر میں آئی ہے،اس میں حیرانگی والی تو یہ بات ہے کہ آغا جان نے کہا تھا کہ تین ماہ بعد وہ اسے سب دیں گئے تاکہ وہ اس لڑکی کو اسکی ماں کی اصلیت بتا کر محفوظ مستقبل دے سکیں مگر اب اس کے حوالے سب کرکے کیا رہ جائے گا باقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم بھی کہہ اٹھیں۔
“اچھا ہے جلدی جان چھوٹ جائے گی،مجھے تو ایک پل نہیں برداشت ہو رہی یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جہاں اس کو جائیداد میں حصہ دینے پر نہ خوش تھیں وہی اس کے جلد چلے جانے سے خوش بھی تھیں۔
“آپکو لگتا ہے کہ سب حاصل کرنے کے بعد وہ عدالت سے خلع کے لئے رجوع کر لے گی۔۔۔۔۔۔۔”منزہ نے سوال کیا۔
“کر ہی لے تو اچھا ہے،پیسہ تو آنی جانی چیز ہے مگر کم از کم اس گھر میں سکون تو ہوگا اس کے دفعہ ہو جانے سے،ویسے وہ ایک دفعہ کہے تو سہی نائل کو کہوں کہ اس کے منہ پر دے مارے تین لفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم بہت بیزار ہوئی ہوئیں تھیں۔
اور پھر رات کو ڈنر پر جب سب موجود تھے آغا ہاشم نے ایک فائل فازیہ کو دیتے ہوئے سب کو مخاطب کیا تھا۔
“آج سے فازیہ اس گھر کی بہو ندیم کی بیٹی اور نائل کی بیوی ہونے کے ناطے اس گھر،بزنس اور جائیداد کی حصے دار ہے،میں نے ندیم ٹیکسٹائل ،ڈی ایچ اے میں ایک کنال کا پلاٹ،اور اکاؤنٹ میں دس کڑوڑ کی رقم اس کے نام کر دی ہے باقی نائل نے جو حق مہر میں اپنا لاہور والا اپارٹمنٹ اس کے نام کیا وہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات پر فازیہ نے تمسخر سے مسکراتی نگاہوں سے سب کے سپاٹ چہرے دیکھ کر جیسے سب کی تکلیف پر مزہ لیا تھا۔
“گاڑی جو ابراہیم نے اسے شادی پر گفٹ کی ہے وہ بھی اور جو ہماری طرف سے زیورات اسے دئیے گئے وہ سب اس کے ہیں ،مگر یہ سب وہ بیچ تب سکتی ہے جب اسکا شوہر یعنی کے نائل ابراہیم اسکی اجازت دے گا،اسکی اجازت کے بغیر یہ اپنی پراپرٹی کسی اور کے نام بھی نہئں کروا سکتی ہے کیونکہ میں نے اس کی ساری پراپرٹی کا اٹھارٹھی ایجنٹ نائل کو بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی آخری بات جہاں سب کو پرسکون کر گئی وہی فازیہ کو ناگوار گزری تھی وہ تو خوش ہوئی تھی کہ ان کی جائیداد کسی تیسرے بندے کو سیل کر کے وہ ان سب کو سبق سکھائے گی مگر اب !
“اور اگر نائل ابراہیم میرا شوہر ہی نہ رہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں سوال پوچھتی نائل کی طرف دیکھنے لگی جس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔
“اس سے زیادہ خوشی کی بات ہی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو نائل کے جواب پر سکون ملا تھا جبکہ آغا ہاشم نے نائل کو باز رہنے کا اشارہ کیا۔
“طلاق کا حق نائل کے پاس ہے،وہ چاہے تو چھوڑ بھی سکتا ہے چاہے تو تمہیں راضی کر کے یہاں رکھ بھی سکتا ہے،یہ تم دونوں کے آپس کا معاملہ ہے مگر خدانخواستہ اگر تم دونوں الگ ہو جاتے ہو تو پھر بھی سب تمہارا ہی ہوگا کیونکہ مجھے تمہارے باپ کی خواہش کو مدںنظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بات مکمل کرتے ہوئے فازیہ کی طرف دیکھنے لگے جو اس بات سے جیسے پرسکون ہوئی تھی۔
“میرے خیال میں اب تمہیں کوئی مسلہ نہیں ہوگا اس گھر میں کیونکہ سب پر واضع ہو چکا کہ تم اس گھر کی مہمان نہیں مالکن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے نرمی سے فازیہ کی طرف دیکھ کر کہا جس نے کچھ جتاتی نظروں سے نائل کی طرف دیکھا تھا جو مکمل اگنور کر گیا تھا ۔
“مہمان تو یہ ہے چچا جان ،یہ صرف تین ماہ کے لیے ہی اس گھر میں آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو اس کے اس گھر کی مالکن کہلانے پر کھلا اعتراض تھا۔
“تین ماہ تین سال بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے انکو جلانے کی کوشش کی تھی مگر نائل کے جواب پر جل خود گئی۔
“اگر میں چاہوں تو تین دن بھی پورے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی طرف برارست دیکھا تھا۔
“میرے خیال میں اب کھانا شروع کر دینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے انکی الفاظی گولہ باری کو روکنے کے لیے سب کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کی مگر رات کو کمرے میں جاتے ہی فازیہ نے وہ فائل اسکے سامنے پھینکی۔
“اس کو غور سے پڑھ لو اور اپنے زہن میں یہ بات بٹھا لو کہ میں مہمان نہیں مالکن ہوں اس گھر کی جیسے تمہاری ماں اور مکار خالہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“خالہ کی مکاری تو میں نے آج تک دیکھی نہیں مگر تمہاری مکاری اور چالاکی ضرور تین دونوں میں جان گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی دو بدو بولتا فائل کو بنا دیکھے ٹیبل پر رکھ گیا۔
“اور دوسری بات،میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ عورت بزدل ہوتی ہے اس کے پاس زبان کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہوتا ہے اس لیے مجھے تم سے ہر گری ہوئی بات کی توقع ہے مگر پھر بھی کہہ رہا ہوں کہ میری مما کے خلاف کبھی اپنی زبان اس انداز سے استعمال مت کرنا کہ میں برداشت نہ کر سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا لہجہ دو ٹوک اور کچھ باور کرواتا تھا فازیہ کو اسکی ہر بات زہر لگی تھی اس لیے تو بولے بنا نہ رہ سکی۔
“اور جو میری مما کے ساتھ تم لوگوں نے سلوک کیا تھا؟تمہاری ماں نے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چپ۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کی بات کاٹی۔
“تم حقائق سے پہلے اچھے سے واقف ہو جاؤ اس ٹاپک پر پھر بات کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھنے لگا مگر اسے راستے میں ہی رکنا پڑا اور رکنے کی وجہ فازیہ ندیم تھی جو اسکے سامنے راستہ روکے ہوئے تھی۔
“اس بیڈ پر مجھے اکیلے کو سونا ہے،تم کہیں اور ٹھکانا کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتی ہوئی وہ بڑے آرام سے بیڈ کے درمیان یوں لیٹ گئی جیسے واقع میں بیڈ کی اکلوتی مالکن تھی۔
“مانا کہ آغا جان آج تمہیں زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا چکے ہیں مگر پھر بھی اس فائل میں کہیں بھی اس گھر ،میرے کمرے اور میرے بیڈ کی ملکیت نہیں لکھی،اس لیے میڈم آپ شوق سے کہیں اور جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنز کرتا ہوا بیڈ کے پاس آ کھڑا ہوا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی بلکہ خاموشی سے آنکھیں یوں موند گئی جیسے نہ کچھ سنا ہو اور نہ کچھ کہنے کا موڈ ہو۔
نائل ابراہیم نے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں پھر گہرا سانس بھرتا خود کو ریلکیس کرتا بیڈ کی طرف بڑھا اور تکیہ سیٹ کرتے ہوئے لیٹ گیا دونوں میں ایک انچ کا فاصلہ بھی نہ رہا تھا فازیہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی اور غصے سے اسکی طرف دیکھا جو آنکھیں موندیں اسی پوزیشن میں چلا گیا تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے وہ تھی۔
“یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑک اٹھی۔
“آرام سے محترمہ،چلانے کا شوق کہیں اور جا کر پورا کر لیں،مجھے نیند ڈسٹرب کرنا زرا پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ رکھائی سے بولتا کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر گیا فازیہ بے تلملا کر کشن اسے دے مارا تھا مگر وہ ویسے ہی پڑا رہا آخرکار دو منٹ اسکی پشت کو گھورنے کے بعد وہ دوسری طرف لیٹ گئی۔
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
وہ اور عامر ایک ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہوئے تھے آگے سے آتی علیشہ کو دیکھ کر دونوں کے قدم ہی رک گئے تھے۔
“تم کب آئی واپس۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟عامر نے خوشگواریت سے پوچھا۔
“رات کو،جب تمہارا یہ پتھر دل کزن میرا فون سننے کے بجائے موبائل آف کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نائل ابراہیم کو دیکھتی طنز کرنے لگی۔
“اب رات کے بارہ بجے کال کر کے میری نیند ڈسٹرب کرنے کی کوشش کرو گی تو یہی کچھ ہوگا نہ۔۔۔۔۔۔۔”نائل ہلکے پھلکے انداز میں کہنے لگا۔
“کیسا رہا ٹور؟بہت مس کیا تمہیں ،واحد لڑکی ہو ہمارے گروپ میں وہ بھی غائب۔۔۔۔۔۔۔”عامر علیشہ کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“اور مجھے غائب کروانے کے پیچھے تمہارے اس گھنے کزن کا ہاتھ ہے،اس نے حارث بھائی کو کہا تھا کہ اسے سوات لے چلیں تاکہ یہ یہاں اپنی شادی اور نئی نویلی دلہن کے ساتھ انجوائے کر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ جو کتنے دنوں سے بھری پڑی تھی اب بھڑاس نکالنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
“واقع میں اسکی نئی نویلی دلہن انجوائے تو بہت کروا رہی اسے۔۔۔۔۔۔۔”عامر بھی معنی خیز انداز میں بولتا ہنسا تھا جبکہ نائل ابراہیم فقط گھورتا وہاں سے آگے جانے لگا۔
“اتنی جلدی کس بات کی ہے نائل،مجھے تم سے بات کرنی ہے تم جانتے ہو نہ میں کس آگ میں جل رہی ہوں اتنے دنوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے اسکا ہاتھ تھاما تھا جسے اگلے پل ہی وہ آزاد کروا گیا تھا۔
“کلاس کا وقت ہو رہا ہے علیشہ،تمہاری بات کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولتا عامر کو اشارہ کرتا کلاس روم کی طرف بڑھ گیا۔
اب تو اس نے ٹال دیا تھا مگر واپسی میں پھر علیشہ نے اسے گھیر لیا تھا ۔
“تم جانتے ہو نہ کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم بھی تو جانتی ہو کہ شادی کن حالات میں اور کن وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے پھر اس فضول بحث کا مقصد کیا ہے علیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اب کی بار بے زاری سے بولا تھا جیسے ایک ہی رٹ سے وہ تنگ آ گیا ہو۔
“مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا نائل،وہ تمہارے ساتھ تمہارے کمرے میں رہ رہی ہے،تصویریں دیکھی ہیں تمہارے نکاح کی میرا تو خون جل اٹھا کیسے شان سے تمہارے ساتھ بیٹھی تھی وہ،اتنی خوبصورت بھی نہیں ہے وہ جتنا خالہ نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کو جو جلن ہو رہی تھی وہ اسکا لہجہ صاف بتا رہا تھا نائل نے گہرا سانس بھر کر عامر کو دیکھا جو مسکراتا ہوا اسے ہاتھ ہلا کر گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے نکل چکا تھا ۔
“بات خوبصورتی کی نہیں ہوتی ہے اور میرے نزدیک تو بلکل نہیں،سب سے زیادہ واسطہ تو دوسرے کی زبان اس کے اطوار طریقوں سے پڑتا ہے تو وہ تمہاری خالہ تمہیں اچھے سے بتا چکی ہونگی کہ اس میں ایک ہی خوبی پائی جاتی ہے اور وہ ہے اسکی تیز دھار زبان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں سن تو کافی کچھ رکھا ہے میں نے مگر میں دیکھنا بھی چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نائل کے ایٹی ٹیوڈ سے پرسکون ہوتی اب کی بار ریلیکس انداز میں بولی۔
“کس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے قدم اپنی ہیوی بائیک کی طرف بڑھائے۔
“وہی جسکی زبان کے چرچے ہر طرف پھیل چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھنا چاہتی ہو کہ اسے سننا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل نے بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔
“دونوں ہی،آخر پتہ تو چلے اکڑ کس بات کی ہے اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ویل اگر اس سے بات کرنا چاہتی ہو تو شوق سے مگر پھر مجھ سے شکایت مت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زیر لب مسکراتا بائیک زن سے اڑا لے گیا جبکہ علیشہ اسکی بات پر غور کرتی س جھٹک کر رہ گئی ۔
“اتنی اوقات نہیں ہے اسکی کہ میرے سامنے کھڑی ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
“میں تو کہتی ہوں بیٹا اب واپس آ جاؤ،میرا دل ہر وقت پریشان رہتا ہے تم میرے دشمنوں کے درمیان ہو،پتہ نہیں کب کونسا نقصان پہنچا دیں تمہیں ،طلاق لو اس لڑکے سے اور آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کی بات پر وہ بھی سوچ میں پڑ گئی۔
“تمہیں تمہارا حق مل گیا ہے باقی جہاں آفندی ہاؤس کی بربادی کی بات ہے تو وہ خود ہی ہو جائیں گئے اس کے لئے میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈال سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکے لب و لہجے میں ممتا والی فکر اور چاہت تھی۔
“جی مما،میں سوچتی ہوں کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بھی جیسے مدھم پڑی تھی پھر ان سے دو چار اور باتیں کرتی کال بند کر گئی پھر کچھ دیر سستی سے پڑی رہی۔
“کیا مجھے یہاں سے چلے جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے سوال کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“نہیں سب یہی سمجھیں گئے میں ڈر کر بھاگ گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زیر لب کہتی کمرے سے باہر نکلی۔
لاؤنج میں آئی جہاں گھر کی خواتین براجمان گفتگو کر رہی تھیں۔
“آ جاؤ فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تھا۔
“مجھے پاستا کھانا ہے،دس منٹ تک میرے کمرے میں بھیج دیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آڈر کرتی وہاں سے ہی پلٹنے لگی۔
“یہاں کوئی تمہارا نوکر نہیں بیٹھا اور نہ تمہاری ماں نے کسی کو تمہارے حکم ماننے کے لیے بھیجا ہے جو تم یوں حکم چلا کر جانے لگی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جن کو یہ چلتی پھرتی زہر لگتی تھی اب کیسے چپ رہ سکتی تھیں۔
“آپ بھی یہاں نوکر لے کر نہیں آئی تھیں جو سب پر حکم چلاتی رہتی ہیں دوسری بات اگر آپ اپنے شوہر کے بل بوتے پر یہاں عیش کر رہی ہیں تو شاید آپ بھول رہی ہیں کہ آپکا بیٹا میرا شوہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بھی جلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
“وقتی نام نہاد شوہر اور ساری عمر کے ساتھ والے شوہر میں فرق ہوتا ہے لڑکی،تم نے جس وجہ کے لیے میرے بیٹے کو اپنا شوہر مانا تھا وہ پورا ہو چکا ہے اس لیے سب کچھ لو اور چلتی بنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم تلخی سے گویا ہوئیں ۔
“جس وجہ سے مانا تھا وہ کام تو ابھی پورا ہونا ہے ،آپ اور آپکی یہ بہن ابھی تک تو اس تکلیف سے گزری ہی نہیں جس تکلیف سے آپ نے میری مما کو گزارا تھا،ابھی تو مجھے آپ سے بہت سارے حساب چکتا کرنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کا پارہ ہائی ہونے لگا تھا۔
“مجھ سے کرنے ہیں نہ؟پھر میرے بیٹے کے ساتھ کس خوشی میں رہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات پر فازیہ پر جیسے ٹھنڈی پھوار برسی تھی وہ بے ساختہ مسکرائی تھی یہی جلن تو اسے مزہ دیتی تھی۔
“آپ کے بیٹے کے ساتھ کمرہ ہی نہیں بیڈ بھی شیئر کر رہی ہوں بلکہ شاید آپکو پتہ نہیں جو آپ یہ کاغذی تعلق مان کے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے بیٹے نے اسے ازواجی تعلق میں بدل دیا ہے،یہ جو میں اتنی لیٹ اٹھتی ہوں اسکی وجہ یہ ہے کہ آپکا بیٹا مجھے ساری رات سونے نہیں دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکو جلانے کو جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی جبکہ باقی سب اسکی بے باکی پر بھونچکے رہ گئے تھے جبکہ لاؤنج میں داخل ہوتا نائل ابراہیم تر تو ایک پل کو چکرا کر رہ گیا اپنی ماں اور باقی سب کی موجودگی میں اسکی اس طرح کی بے شرم گفتگو اسے حقیقی معنوں میں شرمندہ کر گئیے تھیں۔
“کیا ہو رہا ہے؟مما چائے تو پلوادیں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسکی گفتگو اور گفتگو کے اندر چھپے معنی کا اثر زائل کرنے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں بولتا آ کر صوفے پر بیٹھا تھا اس نے اپنی ماں کو دیکھنے سے احتراز برتا تھا مگر اس نے ایک تیز اور چھبتی نظر فازیہ پر ضرور ڈالی تھی جو اب اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔
“میں لاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثمرہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی
“بہت بے شرم اور بد لحاظ ہے یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کہے بنا نہ رہ سکیں۔
“کیا ہوا ہے؟کیا پھر سے کوئی بات ہوئی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ جان کر بھی انجان بنا سوال کر گیا اس نے اپنی ماں کا سپاٹ چہرہ دیکھا تھا۔
“بد لحاظ تو پہلے ہی تھی اب تو بے شرم بھی بن چکی ہے،ابھی پتہ نہیں اور کونسے رنگ دکھانے ہیں اس نے،مجھے تو ایک منٹ بھی یہ اس گھر میں تمہاری زندگی میں گوارا نہیں ہے نائل،آج ہی میں چچا جان سے بات کرتی ہوں کہ بس کریں اور مت لیں ہماری برداشت کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے ہر انداز سے غصہ چھلک رہا تھا اور کیوں یہ نائل اچھی طرح جانتا تھا اس لیے فلحال خاموش رہا تھا مگر رات کو ان کے کمرے میں آ کر اس نے جیسے انہیں ریلکیس کرنے کی کوشش کی تھی۔
“مما آپ اسکو اتنا سیریس کیوں لے رہی ہیں،اگنور کریں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اگنور کروں؟کیسے؟وہ میری دشمن کی بیٹی ہے جس نے جو کیا ہمارے ساتھ تم سب جانتے ہو،اب اسکی بیٹی مجھے اور راحیلہ کو تکلیف دینا چاہتی ہے اس کے خیال میں اسکی ناگن ماں کے دشمن ہم ہیں،وہ بار بار میری بے عزتی کر رہی ہے،میرے بیٹے کے ساتھ اسکا کمرہ نہ صرف شئیر کر رہی ہے بلکہ تمہارے ساتھ تعلق بھی بنا چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے اختیار انکو ٹوک گیا رخسار بیگم نے غصیلی نظروں سے دیکھا تھا۔
“وہ اپنے منہ سے کہہ چکی ہے کہ تم۔۔۔۔۔۔۔”وہ لحاظ کرتیں چپ کر گئیں۔
“فضول ہے وہ لڑکی اس لیے فضول بکواس کرتی رہتی ہے،آپ تو جانتی ہیں اسے وہ آپکو ،ہمیں غصہ دلانے کے لیے سب کرتی رہتی ہے آپ کو میرا پتہ ہے نہ؟میں وضاحت دینا پسند نہیں کرتا مگر آپکو دے رہا ہوں کہ ہمارا ریلیشن جہاں پہلے دن تھا وہی ہے،وہ میری بیوی ہے پر کاغذی حد تک،آپکا بیٹا اتنا کمزور نہیں ہے اور نہ مجھے اکیلی خوبصورتی اپیل کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کھلے ڈھلے الفاظ میں بولتا انکو بہت کچھ باور کروا گیا تھا جس سے رخسار بیگم کے ماتھے کی تیوریاں کم ہوئیں تھیں۔
“بہت گھٹیا قسم کی ہے وہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ اسکو جتنا اگنور کریں گی اچھا ہوگا،اسکا ایک مقصد تو پورا ہو گیا ہے دوسرا وہ آپ سب کو اذیت دے کر پورا کرنا چاہتی ہے اور آپ یوں پریشان ہو کر اسے خوش ہونے کا موقع دے رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل ابراہیم کے رسانیت سے سمجھانے پر وہ سر ہلا کر اسکا ماتھا چوم گئیں۔
“میرا پیارا بیٹا بہت مشکل میں پڑ گیا ہے،چچا جان نے بہت کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کوئی بات نہیں ہے مما،میں تو خود اسے بہت ہلکا لے رہا ہوں ورنہ عورت کو سیدھا کرنا مرد کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اٹھتا ہوا اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسا گیا۔
“علیشہ ملی تھی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ بات کو دوسری طرف موڑ گئیں۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔”فقط یہی بولا تھا۔
“وہ یہاں آنا چاہ رہی ہے میرا بھی خیال ہے کہ کچھ دن آ کر رہے یہاں تاکہ کسی کو پتہ چلے کہ وہ جس جگہ کو ملکیت سمجھ کر بیٹھی ہے اسکی مالکن کوئی اور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے انکی بات پر لب بھینچے تھے وہ اس حق میں نہیں تھا کہ علیشہ یہاں رہے کیونکہ آفندی ہاؤس ان سات دنوں میں پہلے ہی سرد جنگ کا شکار تھا اور علیشہ کے آنے کا مطلب تھا ہر روز کی ایک نئی جنگ وہ اس طرح کی بحث کو پسند نہیں کرتا تھا مگر اب اسے ہر روز سننا بھی پڑ رہا تھا اور برداشت بھی کرنا پڑ رہا تھا۔
“دیکھ لیں جو آپکو مناسب لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا ان سے اجازت لیتا کمرے سے نکل گیا۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
وہ کمرے میں آیا تو فازیہ کو ادھر سے ادھر ٹہلتے پایا جو اسے دیکھ کر رک گئی تھی اور حیرانگی کی بات تھی کہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی دوسرا تمیز کے ساتھ بولا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل سپاٹ لہجے میں بولتا وارڈ رب کی طرف بڑھا۔
“دو سال چھوٹے ہو تم مجھ سے،تمہیں مجھے عزت کے ساتھ مخاطب کرنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ رئیلی مس فازیہ ندیم،میں دو سال چھوٹا ہونے کے ناطے آپ سے عزت کے ساتھ پیش آؤں اور وہ لوگ جو تم سے عمر میں بھی بڑے ہیں اور رتبے میں بھی ان کے ساتھ تم بدتمیزی کرو واہ جی واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنزیہ ہنسا تھا
“اوہ تو اتنی دیر سے جو تم اپنی مما کے کمرے میں موجود تھے یہی کچھ سیکھ کر آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی طنز بولی۔
“کم از کم میری مما نے مجھے آج تک اس طرح کے سبق نہیں دئیے جو تم اپنی مما سے جہیز میں لے کر آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی دوبدو بولتا اسکی جان جلا گیا۔
“تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“اور تم۔۔۔۔۔۔۔؟وہ کپڑے بیڈ پر پھینکتا جارحانہ تیور لیے اس کے قریب آیا تھا جو قدم پیچھے کو موڑ گئی۔
“تم نے آج کیا بکواس کی ہے سب سے؟جانتی ہو اس بکواس کا مطلب؟آج تم نے ثابت کیا ہے کہ تم کس عورت کی بیٹی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تمیز سے نائل ابراہیم ورنہ۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا ورنہ بتاؤ؟میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہاری حد کیا ہے،تم اور کتنا گر سکتی ہو میری نظروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کا لہجہ بہت تلخ تھا
“اور جو تم لوگ گرے ہو میری نظروں میں؟تم لوگوں کی وجہ سے ہی مجھے یوں زلیل ہونا پڑ رہا ہے ،تمہارے ماں باپ کی وجہ سے مجھے اپنے باپ کے بغیر زندگی گزارنی پڑی کیسے بھول سکتی ہوں میں وہ سب اذیت؟میں تو ابھی کچھ کر ہی نہیں رہی پھر تکلیف کس بات کی ہو رہی ہے تم سب کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی چٹخ کر جواب دے گئی
“تم اصل حقیقت سے واقف ہی نہیں کہ قصوروار کون تھا آج سے پچیس سال پہلے ،تم جس دن جان جاؤ گی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جانتی ہوں میں سب کچھ،تم بتاؤ تم کیا جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟
“ابھی بتانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ویسے بھی اپنی عقل پر بندھی ہوئی اپنی ماں کی محبت کی پٹی اتار کر زرا حقائق جاننے کی کوشش کرو تاکہ تمہیں سچ جھوٹ کا پتہ لگے،دوسری بات آئندہ سے میری مما کے ساتھ کوئی ایسی بات مت کرنا جو انکو ناگوار گزرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کرونگی کیا کر لو گئے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کمر پر ہاتھ ٹکائے بے خوفی سے کہہ گئی نائل نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا جو پنک سوٹ میں ملبوس تھی۔
“پھر جو کچھ تم نے سب کے سامنے بے شرمی سے کہا ہے نہ میں اس جھوٹ کو سچ ثابت کر دوں گا اور مجھے ایسا کرنے پر مجبور مت کرنا کیونکہ چاہے میں تم سے چھوٹا سہی پر ہوں ایک مرد اور کبھی کسی مرد وہ بھی شوہر ہو اسے ہلکا لینے کی غلطی نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے لہجے میں کیا کچھ نہ تھا خود تو وہ واش روم میں چلا گیا مگر فازیہ کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا وہ پہلی دفعہ خوفزدہ ہوئی تھی۔
“ڈرو مت فازیہ ،تمہیں ڈرانے کی ایک ناکام کوشش تھی اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو تھپکی دیتی جلدی سے بیڈ پر جا کر کمبل میں گھس گئی۔
نائل جب نائٹ ڈریس میں باہر آیا تو اسے سر سے پاؤں تلک کمبل میں لپٹے دیکھ کر مسکرایا تھا۔
“تمہیں لائن میں لانے کو بہت سارے طریقے ہیں میرے پاس،شکر کرو ایزی لے رہا ہوں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل دل ہی دل میں بولتا ایک طرف جا کر لیٹ گیا تبھی اس کے موبائل پر علیشہ کالنگ کے الفاظ جگمگائے تھے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کال ریسسیو کر گیا۔
“میرے خیال میں رات کے اس پہر کال کرنے کی کوئی وجہ تو نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے ابھی خالہ نے کال کی کہ صبح میں آفندی ہاؤس آ جاؤں وہ بھی ایک ہفتے کے لیے اس لیے میں نے سوچا تمہیں بتا دوں تم بھی خوش ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چہکی تھی مگر نائل نے تاسف سے سانس لیا۔
“اوکے پھر صبح ملتے ہیں،اب اجاذت دو تاکہ میں سکون سے سو سکوں ۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا وہ لڑکی پاس ہے تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کے سوال پر اس نے اپنے سے پانچ انچ کے فاصلے پر پڑے وجود کو دیکھا جو بلکل ساکت تھا۔
“صبح یونی سے تمہارا آف ہے بٹ میرا نہیں اس لیے کل رات کو آفندی ہاؤس میں ملاقات ہوگی،بائے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بنا اسکی سنے کال بند کر گیا اور سونے کے لئے کروٹ بدل گیا۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
“علیشہ کے لیے کیا بناؤں کھانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟راحیلہ بیگم نے رخسار بیگم سے پوچھا جو اس وقت صدف سے علیشہ کا کمرہ صاف کروا کر باہر نکلی تھیں۔
“تم جانتی تو ہو کہ اسے وہ سب پسند ہے جو نائل کو پسند ہے،اس لیے آج ڈنر پر نائل کی پسند کو ہی خاص اہمیت ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے کہنے پر وہ سر ہلا کر کچن میں چلی گئیں کیونکہ رات کے کھانے کئ زمعداری راحیلہ بیگم نے اپنے سر لی ہوئی تھی جبکہ خانسا ماں انکی بس مدد کرتا تھا۔
“کتنے دنوں کے لیے آ رہی ہے علیشہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم کے پوچھنے پر فازیہ کے کان بھی کھڑے ہوئے تھے وہ صبح سے ہی نوٹ کر رہی تھی کہ رخسار بیگم یوں چہک کر سب کام کروا رہی تھیں جیسے وہ پہلی دفعہ یا لندن سے آ رہی ہو۔
“ایک ویک کا پروگرام ہے اسکا،آپکو پتہ ہے کہ نائلہ آپا کی اکلوتی بیٹی ہے وہ انکو کہاں گوارا ہوتا اس کا یوں اتنے گھر سے دور رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شادی کے بعد کیا کریں گی آپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟تنزیلہ بیگم مسکرا کر بولیں ۔
“میں بھی یہی کہتی ہوں،پھر کہتی ہیں نائل میرا بھانجا ہے مجھے پتہ ہے وہ ہر دوسرے دن اسے ملوانے لے آیا کرے گا،بس اللہ جلدی سے وہ دن لائے جب علیشہ میری بہو بن کر اس گھر میں آئے اور نائل کو سنبھال لے جو کسی کے قابو میں نہیں آتا ورنہ لوگ تو پتہ نہئں کس کس مقصد کے تحت اس کے آس پاس پھرنے کی بلاوجہ کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے ایک طرف صوفے پر بیٹھی فازیہ کو خاص طور پر سنایا تھا جو سن کر جلی تو تھی مگر ظاہر نہیں کیا تھا۔
“بھابھی یہ لیں چائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حمرہ نے کپ فازیہ کے سامنے کیا تھا جس کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر ثمرہ نے اشارہ کیا تھا کہ مت چھیڑو اسے مگر اگلے پل دونوں حیران ہوئیں تھیں کہ اس نے نہ صرف کپ پکڑا تھا بلکہ شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
“موسٹ ویلکم بھابھی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حمرہ نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر فازیہ صرف ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گئی جو اس کے زرا سے عمل پر خوش ہو گئی تھی۔
“علیشہ کے آنے سے خوب رونق ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔”ثمرہ نے جیسے بات کر کے گفتگو کو آگے بڑھانا چاہتی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ فازیہ کو ناگوار گزر رہا تھا۔
“رونق کہاں؟بس ہر ٹائم نائل کے آگے پیچھے گھومتی ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے فازیہ کو آگاہ کرنا چاہا تھا جو خاموشی سے چائے پینے لگی تھی جو ان سات دنوں میں پہلی دفعہ یوں سب کے درمیان وہ بھی خاموشی سے بیٹھی شاید کچھ آبزرویشن کر رہی تھی۔
تبھی ہنستی مسکراتی علیشہ ہال میں داخل ہوتی سبکی توجہ اپنی طرف مبذول کروا گئی سب اسے دیکھ کر اٹھے تھے ما سوائے فازیہ کے جس نے خاموش مگر سرد نگاہوں سے اسکا سر سے لے کر پاؤں تک جائزہ لیا تھا جو اس وقت وائٹ شارٹ کیپری پر بیلو لونگ شرٹ پہنے اپنے شولڈر سے نیچے گرتے بالوں کو پیچھے کی طرف جھٹکتی ایک پرکشش لڑکی تھی فازیہ کو اسے دیکھ کر کچھ فیل نہیں ہوا تھا بس وہ ایک نظر ڈال کر اپنے چہرے کا رخ موڑ گئی تھی جو سب سے ملتی اسکے قریب آئی تھی۔
“ہیلو آئی ایم علیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے اسے مخاطب کیا تھا کیوں کیا تھا یہ شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
“نن آف مائے بزنس،کیپ اوے فرام می۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ تڑخ کر بولتی ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
“تم نے بلایا ہی کیوں اسے،جانتی تو ہو اسے تمیز چھو کر بھی نہیں گزری۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو ناگوار گزرا جبکہ علیشہ مسکرائی تھی۔
“خالہ جانی میں نے اپنی تربیت کے مطابق عمل کیا اس نے اپنی تربیت دکھا دی،اس میں غصے والی بات ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے جملے فازیہ کو آگ لگا گئے تھے وہ غصے سے پلٹی تھی نگر آغا ہاشم کو ان کے کمرے سے نکلتے دیکھ کر ضبط کرتی اپنے کمرے میں گھس گئی۔
“علیشہ بیٹی آپکو اس طرح کی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئیے،امید ہے رخسار بیٹی اچھے سے سمجھا دے گی آپکو۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے کانوں میں اس کے آخری جملے پڑ چکے تھے اس لئے خشک لہجے میں کہتے ثمرہ سے چائے کا کہتے اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ علیشہ اپنی توہین سے سرخ ہوئی تھی مگر جلد ہی خود پر قابو پاتی رخسار بیگم کے ساتھ باتوں میں لگ گئی جو خود بھی آغا ہاشم کے الفاظ کا اثر ذائل کرنے کے لیے اسکی خاطر مدارت میں لگ گئیں تھیں۔