Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

“تم دونوں کی تیاری ہو گئی؟شام کی فلائٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”صبح ناشتے کی ٹیبل پر آغا ہاشم نے ناشتہ کرتے نائل اور فازیہ کی طرف دیکھا جس پر نائل نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے فازیہ کی طرف نگاہ کی جیسے اس کے انکار کا منتظر ہو مگر اسکی خاموشی پر وہ حیران ہوا۔
“مگر ہم نے تو بائے روڈ جانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے جیسے آگاہ کیا تھا ۔
“تم لوگ شوق سے بائے روڈ چلے جانا بعد میں مگر فلحال تو یہ دونوں میاں بیوی اپنے نکاح کی دعوت کھانے جا رہے ہیں اور میرے خیال میں تم لوگوں کا ساتھ جانا کچھ بہتر نہیں لگے گا،بعد کا پروگرام رکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے دوٹوک انداز پر جہاں رخسار بیگم اور علیشہ کے سینوں پر چھریاں چلیں تھیں وہاں ردا بھابھی اور فازیہ کے دلوں میں ٹھنڈ پڑ گئ ۔۔
“مگر چچا جان علیشہ نے تیاری کی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو کہاں گوارا تھا انکا یوں جانا۔
“کوئی بات نہیں ان کے آنے کے بعد عامر کے ساتھ علیشہ،ثمرہ اور باقی بچے بھی چلے جائیں گئے،سعد اور ہادیہ کے پیپر ہو جائیں گئے تب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے جیسے بات ہی ختم کر دی فازیہ نے فاتحانہ نگاہوں سے رخسار بیگم اور علیشہ کے غصے اور جلن کی ملی جلی کیفیت کو ملاحظہ کیا۔
“میں بھی چلتی ہوں،ابھی مجھے پیکنگ بھی کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ تمسخر اڑاتی نظروں سے علیشہ کو دیکھتی جتا کر بولی جیسے اس کی حالت کا مزہ لے رہی ہو دوسری طرف نائل نے کچھ جانچتی نگاہ اس پر مرکوز کی جو رات کے برعکس اب ریلکیس تھی حالانکہ نائل کو یہی تھا کہ وہ انکار کر دے گی جانے سے مگر؟
“کہیں آغا جان کے فیصلے کے اندر کسی اور کی مرضی یا شرط؟اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے زہن میں جیسے خیال لپکا اور پھر وہ کچھ سمجھتا مسکراتا ہوا پانی کا گلاس منہ کو لگا گیا اس نے صبح فازیہ کو آغا ہاشم کے ساتھ لان میں چہل قدمی کرتا دیکھا تھا اور اب آغا ہاشم نے جس طرح علیشہ کا جانا کینسل کیا تھا اس سے یہ بات واضح تھی کہ فازیہ نے وہاں جانے کی شرط یہی رکھی ہوگی ۔
“تمہیں اتنا اترانے کی ضرورت نہیں ہے لڑکی،دو دن کے لیے جا رہی ہو میرے بیٹے کے ساتھ ساری عمر کے لیے نہیں ،میں چاہوں تو نائل ایک قدم بھی تمہارے ساتھ نہ چلے مگر مجھے چچا جان کے فیصلوں پر اعتراض کرنا مناسب نہیں لگ رہا کیونکہ ہم خاندانی لوگ ہیں بڑوں کی عزت کرنے والے تمہاری ماں کی طرح نہیں جو تمہیں اتنا نہیں سکھا سکی کہ بڑوں سے بات کس طرح کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شام کو تیار ہو کر جب باہر نکلی تو رخسار بیگم کہے بنا رہ نہ سکیں انکو رہ رہ کر آغا ہاشم پر غصہ آ رہا تھا مگر ابراہیم آفندی کی وجہ سے چپ رہ گئیں۔
“میرا آپ کے ساتھ اس وقت بحث کا موڈ نہئں وہ کیا ہے نہ میں جلے کو اور جلانے کے حق میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے طنز علیشہ کی طرف دیکھا جو نائل کے ساتھ کسی لمبی بحث میں مصروف تھی۔
“تمہیں لگام کس طرح ڈالنی ہے پتہ ہے مجھے ،بہت جلد اس گھر سے جانے والی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ بھی وقت پر چھوڑ دیتے ہیں میرے خیال میں اب آپکو اپنی بھانجی کے آنسو صاف کرنے کی ضرورت ہے کافی دلبراشتہ سی میرے شوہر سے تسلیاں حاصل کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے ایک کاٹ دار نگاہ ان پر ڈالی اور آغا ہاشم کی طرف بڑھ گئی۔
عامر انکو ائیرپورٹ چھوڑنے آیا تھا سارا راستہ جس طرح خاموشی سے کٹا تھا اسی طرح دونوں کا پہلا ہوائی سفر بھی خاموشی کی نظر ہوا تھا وہ دونوں جب ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو موسی ان کو لینے کے لیے آگے بڑھا۔
“کیسی ہیں آپ بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موسی نے نائل سے ملنے کے بعد فازیہ سے دریافت کیا جس نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
“اور گھر میں سب کیسے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان دونوں کے گاڑی میں بیٹھنے پر وہ گاڑی ریورس کر کے مین روڈ پر لاتا پوچھنے لگا ۔
“سیدھی طرح پوچھو کہ ثمرہ کیسی ہے؟گھر والوں کا ایسے پوچھ رہے ہو جیسے کبھی بات نہیں ہوئی،عامر سے پل پل کی خبر لینے والا مجھ سے پوچھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی اتنی صاف گوئی پر وہ فازیہ کے سامنے جیسے شرمندہ سا ہو کر نائل کو گھورنے لگا جس پر زرا بھی اثر نہیں ہوا۔
“بھابھی آپ نے اتنا بے لگام کیوں کیا ہوا ہے اسے،یہ پہلے سے زیادہ بدتمیز ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موسی نے پیچھے بیٹھی فازیہ کو گفتگو میں شامل کیا جس کی نظریں اگرچہ موبائل پر تھیں پر دھیان سارا ادھر ہی تھا۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں اپنی لگامیں کسی کے ہاتھ میں دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟نائل نے فازیہ کے بولنے سے پہلے بول کر جیسے کچھ جتایا۔
“خیر اب یہ بھی نہ کہو،میں نے جب آنے کا بولا تھا تو تم نے یہی کہا تھا اگر تمہاری بھابھی رضامند ہوئی تو آ جائیں گئے ورنہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موسی نے اسے کچھ دن پہلے کی بات یاد کروائی جس پر نائل فازیہ کے سامنے کچھ جذ بذ ہوا جبکہ فازیہ نے اپنی مسکراہٹ روکنے کو چہرہ موڑ لیا تھا مگر نائل نے بیک مرر سے اسکی مسکراہٹ کی جھلک دیکھی اور موسی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا جو فقط کندھے اچکا کر رہ گیا۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
فازیہ اور نائل کا استقبال بہت اچھے طریقے سے کیا گیا اور جس طرح سب نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا فازیہ تو حیران رہ گئی بلکہ حیران تو منزہ بیگم بھی رہ گئی تھی فازیہ کے اچھے اخلاق پر جو اتنا زیادہ بول تو نہیں رہی تھی مگر سب سے اچھے طریقے سے پیش آنا ہی انکو چونکانے کا باعث بنا تھا ورنہ رخسار بیگم کی کال کے بعد وہ پریشان تھیں کہ فازیہ یہاں صرف کسی تماشے کے لیے ہی آ رہی ہے مگر فازیہ کا یوں دھیمے سے سب کو مسکرا کر جواب دینا انکو اچھا لگا تھا ۔
“جاؤ مشی بیٹا ،بھابھی کو انکا کمرہ دکھا کر آؤ تاکہ فریش ہو کر یہ ڈنر کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم نے اپنی اکلوتی بیٹی مشال سے کہا جو سر ہلاتی ہوئی اٹھ گئی فازیہ بھی اسکی راہنمائی میں کمرے میں چلی آئی۔
“آپ فریش ہو جائیں ،ڈنر پر ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”مشال نے کہتے ہوئے چلی گئی ۔فازیہ نے پستہ کلر کا ایک اچھا سا ڈیزائنر سوٹ نکالا اور واشروم میں گھس گئی جب وہ دس منٹ بعد نکلی تو نائل کو بیڈ پر لیٹے پایا جو موبائل کے ساتھ لگا ہوا تھا فازیہ دیکھ رہی تھی کہ جب سے وہ اسلام آباد آئے ہیں نائل موبائل کے ساتھ ہی گم تھا اور یہ بات اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ دوسری طرف ہے کون ؟
“اوکے یار میں زرا فریش ہونے لگا ہوں پھر بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے کال بند کی اور اسکی جانب دیکھا جو گیلے بالوں کو سلجھاتی اسکی نظروں کو اپنے وجود میں الجھا گئی۔فازیہ جو اسے فون میں مصروف دیکھ کر ایزی ہو کر اپنے کام میں مصروف تھی مگر اسکی نظروں کی تپش کو محسوس کرتی جھجک سی گئی پاس کرسی پر پڑا ڈوپٹہ اٹھا کر ایک طرف کندھے پر رکھا۔
“کیا مسلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آخر جھنجھلائی وہ کہہ اٹھی۔
“مجھے تو تم سے بہت سارے مسلے ہیں ایک ایک کر کے بھی بتاؤں تو صدیاں لگیں مگر فلحال یہ بتاؤ کہ تمہیں علیشہ سے کیا مسلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھے اس سے کیا مسلہ ہونے لگا،ہاں اسے جو مسلہ یا تکلیف ہو رہی ہوگی اسکا پتہ لگ رہا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اسے جو بھی تکلیف ہو رہی ہے اس کا حق ہے کیونکہ وہ میری مما کی ہونے والی بہو ہے مگر تم مجھے لے کر کیوں انکو غلط باتیں کر کے تکلیف دے رہی ہو؟تمہاری کیا غرض ہے اس سب سے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے قریب آتا سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا جس نے نظریں چرائیں۔
“میں نے کونسی غلط بات کر دی اب تمہاری ماما کی ہونے والی بہو کو جو تین گھنٹوں سے تم سے اپنی تکلیف پر پھاہے رکھوا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی جوابا چبا چبا کر بولی ۔
“یہی کہہ کر آئی ہو نہ کہ ہم دعوت پر نہیں ہنی مون پر جا رہے ہیں اور ایک ویک کا سٹے ہمارا مری اور ناردن ایریاز کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے کہنے پر وہ دو پل کو چپ ہوئی کیونکہ یہ سچ تھا کہ آتے ہوئے علیشہ کو جلانے کے لیے وہ اسکے کان میں یہی سرگوشی کر کے آئی تھی۔
“ہاں تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بجائے مکرنے کے ڈھٹائی سے بولی نائل نے کافی گہری نگاہ مرکوز کی۔
“پھر یہ کہ ہنی مون منانے کا اگر اتنا ہی شوق تھا تو مجھے کہتی تاکہ میں تمہیں اصل ہنی مون کیا ہوتا ہے وہ بتا دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل طنز بولا۔
“مجھے ایسا کچھ بھی جاننے کا شوق نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی ہوئی اس کے آگے سے ہٹ گئی۔
“واہ ہنی مون پر جانے کا شوق ہے مگر اسے منانے کا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غصے سے پلٹی مگر نائل اسکی بات کاٹ گیا۔
“مگر فکر نہ کرو میں تمہارا یہ ہنی مون کا شوق نہ صرف پورا کرونگا بلکہ تمہیں اس کا سہی مطلب بھی سکھاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کا لہجہ زومعنی تھا فازیہ گڑبڑاتی ہوئی کمرے سے ہی باہر نکل گئی نائل بھی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے لپکا۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
“پہلی ملاقات میں فازیہ مجھے مغرور سی لگی تھی مگر اب تو بہت اپنی اور پیاری لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم کی دیورانی کوثر نے ڈنر کی ٹیبل پر فازیہ کی تعریف کی جس پر منزہ بیگم خوشدلی سے بولیں۔
“اصل میں نکاح والے دن فازیہ پہلی دفعہ سب سے ملی تھی اس لیے سب کو اس کا انداز ایسا لگا،مگر اب تو ہم سب آغا جان کے فیصلے پر شکر کرتے ہیں کہ نائل کو اس کے قابل ہی بیوی ملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم کے کہنے پر نائل نے فازیہ کی طرف دیکھا جو مدھم مسکراہٹ لیے اپنی تعریف سن رہی تھی ۔
“زبان چاہے لمبی بھی ہے مگر قابل تو ہے نائل ابراہیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بڑبڑا کر رہ گیا
“اور لو نہ بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کو کھانے سے ہاتھ روکتے دیکھ کر کوثر بیگم نے اس کے آگے سالن کا ڈونگہ رکھا۔
“نہیں آنٹی مجھے بس اتنی ہی طلب تھی،ابھی تھوڑی دیر پہلے تو پانی کے نام پر اتنا کچھ کھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے کہہ گئی۔
“تکلف نہ کرو فازیہ،مشال اور کوثر نے خاص تمہارے لیے سب بنایا ہے،پتہ تو نہیں تھا کہ تمہیں کیا پسند ہے اس لیے بس جو خاص لگا بنا لیا،اصل دعوت تو تم لوگوں کی کل ہے پی سی میں،وہاں تمہاری پسند کو ہی خاص اہمیت دیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم اسے پیار سے دیکھتی بولیں ۔
“یہ کیا دعوت کے اہتمام سے کم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بھرے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔
“برخودار یہ تو بھتیجے کی آنے کی خوشی میں تھا ،بھتیجے کی بیوی کے آنے کی خوشی میں کل کی دعوت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم کے شوہر فیاض علی کے کہنے پر وہ مسکراتا سر ہلا گیا۔
پھر ڈنر کے بعد ہال میں ہی چائے کا دور چلا اور سب گپ شپ کرنے لگے فازیہ بھی مشی اور اسکی کزنوں کے ساتھ ہلکی پھلکی بات کرتی رہی پھر منزہ بیگم کے کہنے پر سب نے محفل برخاست کی نائل تو عیسی اور موسی کے ساتھ لان کی طرف نکل گیا جبکہ فازیہ آرام کے خیال سے کمرے میں آ گئی۔
“میرا موبائل کہاں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے موبائل کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگی مگر اسے نہ ملا تبھی نائل کمرے میں داخل ہوا۔
“میرا موبائل نہیں مل رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف دیکھتی اس سے بولی۔
“یہاں ہی ہوگا،تمہارا موبائل لے کر کسی نے اپنی شامت بلوانی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ مذاق کرتا ہوا واشروم کی طرف بڑھا۔
“فضول بولنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ تپتی نگاہ ڈالتی بولی نائل نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے اسکی طرف بڑھایا جیسے کہہ رہا ہو کہ کال کر کے دیکھ لو۔فازیہ نے اس سے موبائل لیا اور اس کے پاس کوڈ بتانے پر اپنا نمبر ملانے لگی مگر وہ بھونچکی رہ گئی کہ اسکا نمبر “جنگلی بلی” کے نام سے سیو تھا۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موبائل نائل کے سامنے کرتے وہ تڑخ کر پوچھنے لگی جو مسکرایا۔
“کچھ غلط تو نہیں لکھا،جو ہو وہی تو ہے۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے موبائل اسکے ہاتھ سے لیا تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔
“بھابھی یہ آپکا موبائل،نیچے رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مشی کے موبائل دینے پر وہ اپنی عقل کو کوس کر رہ گئی۔
“میرے خیال میں اب سو جانا چاہئیے ،باقی بحث صبح۔۔۔۔۔۔۔۔”مشال کے جانے کے بعد وہ پھر نائل کی طرف متوجہ ہوتی ابھی کچھ کہنے لگی تھی کہ نائل دوٹوک بولتا بیڈ پر لیٹ گیا کیونکہ وہ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔
فازیہ نے تیکھی نظروں سے اسکی پشت کو دیکھا اور موبائل لیے صوفے پر بیٹھ گئی کوئی دس منٹ حرا بیگم سے چیٹ کرنے کے بعد اس نے کچھ دیر سوشل میڈیا یوز کیا پھر بھی نیند نہ آئی تو اٹھ کر بیڈ کی طرف آئی جہاں نائل لمبی تان کر سو رہا تھا ۔
“کیسے سو رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اسکی نیند سے جیلس ہوتی بیڈ پر ٹک گئی مگر نیند تھی کہ کوسوں دور ! آخر کار جھنجھلا کر اس نے نائل کا کندھا ہلا دیا۔
“تم کیوں سو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”؟
“تم پاگل ہو ؟کیا بے تکا سوال پوچھ رہی ہو ،دوسرا مجھے جگایا کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟نائل نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔
“مجھے نیند نہیں آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے بسی سے بولی۔
“تو مجھے کیوں بتا رہی ہو؟میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ بےزاری سے کہنے لگا ۔
“تم کچھ کرو نہ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پہلے اس “کچھ” کی وضاحت کرو پھر کرتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے شرارتی لہجے میں اسکی طرف دیکھا جو کہ اب گھور رہی تھی ۔
“نئی جگہ مجھے نیند نہیں آتی ہے،ہمارے کمرے میں اتنی مشکل سے سونے کی عادت ڈالی تھی اب یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بنا سوچے ہی ہمارا کمرہ کہہ گئی نائل نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا جو کہ بیڈ سے نیچے لاؤں لٹکائے بیٹھی تھی ۔
“تو میں کیا لوری دے کر سلاؤنگا تمہیں ؟نہیں نیند آ رہی تو اپنی مما کو کال کرو جہاں وہ تمہیں اتنے نایاب مشورے دیتی ہیں وہاں نیند آنے کا بھی کوئی ٹوٹکہ بتا دیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گہرا طنز کرتا کمبل سر تک لیتا لیٹ گیا فازیہ نے غصے سے پاس پڑا تکیہ اسے دے مارا جس پر نائل نے اسکی کلائی پکڑتے ہوئے اسے اپنے اوپر گرایا تھا۔
“ایسی بدتمیزی کی سزا جانتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا وہ جو اس افتاد پہلے ہی حق دق تھی اب ہوش میں آتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جسکی گرفت مضبوط تھی۔
“چھوڑو مجھے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ورنہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جو نہایت قریب تھی۔
“چھوڑو مجھے،ورنہ میں شور مچادونگی اور تم یقیناً یہ نہیں چاہتے کہ میں یہاں کوئی تماشہ کروں۔۔۔۔۔۔”
“نہیں مجھے دیکھنا ہے کہ میرے حصار میں بند ہو کر تم کیا تماشہ کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بے خوفی سے کہتا اسے چیلنج کر گیا مگر وہ جس حالت میں تھی اس حالت میں خود بھی کسی کو کمرے میں آنے کی دعوت نہیں دے سکتی تھی اور یہ شاید نائل بھی جانتا تھا اس لیے تو پرسکون تھا۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا پورا زور لگانے لگی مگر نائل نے اسے پاس لٹا کر کروٹ کے بل اسکو اپنے حصار میں لیا اب سیچویشن یہ تھی کہ وہ بیڈ پر تھی اور نائل اس پر جھکا ہوا۔
“میں تمہیں کمپنی ہی دے رہا ہوں جس کے لیے تم نے مجھے جگاتے ہوئے اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دلکشی سے مسکراتا اسکی بے بس حالت سے جیسے مزہ اٹھا رہا ہو فازیہ نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ جما کر اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی جس پر نائل نے اس پر ترس کھاتے ہوئے پیچھے ہٹ کر لیٹ گیا مگر اس کے ہاتھ آزاد نہیں کیے تھے۔
“سونے کی کوشش کرو گی تو نیند بھی آ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے نرمی سے کہتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں تھیں فازیہ جو اسی پوزیشن میں لیٹی تھی نہ تو اٹھنے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی اپنا ہاتھ چھڑوانے کی بلکہ پرسکون ہوتی وہ دس منٹ میں واقع سو گئی نائل نے مسکراتے ہوئے اس کے خوابیدہ چہرے کو دیکھا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگاتا خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔
“فازیہ نائل،تم مجھے اپنی ہر بدتمیزی کے ساتھ قبول ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
*
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو خود کو نائل کے حصار میں پاکر دم بخود رہ گئی کل کی تھکن کی وجہ سے اسے رات بہت گہری نیند آئی تھی جس سے اسے زرا بھی احساس نہ ہو سکا کہ وہ نائل کی گرفت میں ہے۔
“میں کیا خود اس کے قریب آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟فازیہ سوچتی ہوئی اس کے خوبرو چہرے کو دیکھنے لگی جو اس کے دو انچ کے فاصلے پر تھا وہ مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا اگر بندہ یہ کہے کہ خوبصورت اور حسین مرد کیسے ہوتے ہیں تو نائل ابراہیم اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت تھا وہ ہر لحاظ سے پر فیکٹ ایک بھرپور مرد تھا جو اپنی عمر کے حساب سے بھی زیادہ سمارٹ اور ایکٹو تھا۔
“خوبصورتی کا اچار ڈالنا ہے اگر بندے کی زبان میں ہی مٹھاس نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بڑبڑائی اور آہستہ سے اس سے الگ ہوتی اٹھ بیٹھی جو اس کے اٹھنے پر خود بھی آنکھ کھول کر دیکھنے لگا۔
“سو جاؤ ابھی تو آٹھ بجے ہیں،یہ لوگ اتوار کو گیارہ سے پہلے کمروں سے بھی باہر نہیں نکلتے سوائے پھوپھو کے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کہتا ہوا کشن منہ پر رکھتا پھر سے آنکھیں بند کر گیا مگر فازیہ کو اب نیند کہاں آ سکتی تھی اس لیے اٹھ کر فریش ہوتی باہر نکلی جہاں ہال میں اسے کوثر بیگم بیٹھیں ملیں۔
“ارے تم اتنی جلدی اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کوثر بیگم اسے دیکھ کر مسکرائیں ۔
“جی بس آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ ان کے پاس صوفے پر ہی ٹک گئی۔
“نئی جگہ ہے نہ اس لیے،اچھا یہ بتاؤ چائے پیو گی یا کافی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“فلحال کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“منزہ بھابھی چائے بنانے گئی ہیں،اب تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جانا،ناشتہ تو گیارہ بجے ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے کہنے پر وہ فقط سر ہلا گئی۔
“تمہاری مما کے کتنے بچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کوثر بیگم کے سوال پر فازیہ نے نہ سمجھی سے دیکھا ۔
“مطلب کہ دوسری شادی سے ان کے کتنے بچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”کوثر بیگم کی وضاحت پر فازیہ نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا۔
“میری مما نے دوسری شادی کی ہی نہیں اس لیے میرے سوا انکا کوئی بچہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ کیا بات ہوئی بھلا؟تمہاری مما نے آصف غوری سے دوسری شادی کی تھی جو ندیم بھائی کے دوست کا بھائی تھا،پھر وہ لوگ لندن شفٹ ہوگئے تھے اس لیے پھر رابطہ ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کوثر بیگم کے انکشاف پر وہ ٹھٹھکی تو تھی مگر منزہ بیگم کے آنے پر چپ ہی رہ گئی مگر انکی یہ بات اس کے دل و دماغ میں جیسے جم کر رہ گئی۔
“مما نے ٹھیک کہا تھا فازیہ،یہ لوگ مما پر الزام ہی لگائیں گئے اور جھوٹے بہتان۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے بولتی جیسے کسی بوجھ سے آزاد ہوئی۔
رات کو وہ سب ڈنر پر جانے کے لیے ریڈی ہونے لگے تو مشال جو فازیہ کو ہلکا پھلکا میک اپ کرنے آئی تھی اب ٹی پنک کلر کے ڈریس کو پکڑ کر بیٹھ گئی۔
“بھابھی پلیز آپ یہ ڈریس پہنے،پتہ تو چلے کہ آپکی شادی کی دعوت ہے،یہ ڈل سا کلر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے نکالے ہلکے پھلکے آف وائٹ ڈریس کو دیکھ کر منہ بنانے لگی فازیہ نے مسکراتے ہوئے ٹی پنک کلر کی ہیوی فراک کی طرف دیکھا۔
“یہ زیادہ اوور ہو جائے گا،یہ تو میں نے بنا دیکھے ہی رکھ لیا تھا ردا بھابھی کے کہنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو بس اب آپ یہی پہن لیں ،نائل بھائی پلیز آپ ہی بھابھی کو کہیں کہ یہ ڈریس پہنے۔۔۔۔۔۔۔۔”مشال نے کمرے میں آتے نائل کی توجہ اس طرف دلائی جو ایک نظر ڈریس کو دیکھ کر فازیہ کو دیکھنے لگا جس کئ خود بھی کان شاید منتظر تھے ۔
“اگر چاہتی ہو کہ ہم ڈنر پرسکون ماحول میں کریں تو اپنی بھابھی کو اپنی مرضی کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات پر جہاں مشال منہ لٹکا گئی وہی فازیہ بھی جل کر خاک ہوئی۔
“بھائی پلیز مذاق نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے مشی میں یہی پہن لیتی ہوں،مجھے کسی کی سفارش کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بھی اسے سنانے کو بولی جو مسکراتا ہوا سر ہلا گیا جیسے اسکی بات سے سو فیصد ایگری ہو ۔
جب پندرہ منٹ بعد فازیہ پنک فراک میں ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تو نائل ابراہیم اسے دیکھتا ہی رہ گیا جو ہلکے پھلکے میک اپ میں اور جیولری میں قیامت ڈھا رہی تھی شادی سے لے کر اب تک نائل پہلی بار اسے یوں ہیوی ڈریس اور گولڈ کی جیولری میں تیار شیار دیکھ رہا تھا ۔
“تھوڑی سی اپنی زبان ہلا کر دکھاؤ تاکہ پتہ لگے تم ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی آنکھوں میں تو اپنے لیے ستائش وہ صاف دیکھ سکتی تھی مگر اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اسے طیش دلا گئے وہ غصے سے اس کے آگے سے گزر کر جانے لگی مگر برا ہو اس ہیل کا جو اسکی فراک کے ساتھ ہی الجھتی اسے ڈگمگانے پر مجبور کر گئی اس سے پہلے کہ وہ گرتی نائل نے نرمی سے اسے سنبھال لیا۔
“نظر لگ گئی نہ میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے پیار سے اسکے کان میں سر گوشی کی فازیہ اپنی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی۔
“دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے اسکا دھیان ہٹانا چاہا جو نرمی سے اسے اپنے احصار سے آزاد کرتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا شاید اپنی سانسوں کو بحال کر رہا تھا ورنہ اسکا قرب اسے کچھ اور ہی کرنے پر اکسا رہا تھا ۔
“چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسے چلنے کا کہا اور قدم آگے بڑھا دئیے فازیہ بھی اس کے تعاقب میں نکل پڑی۔