Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“یہ میں کیا سن رہی ہوں فازیہ؟تم اس خاندان میں شادی کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کے لہجے میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی اور کیوں تھی فازیہ کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔
“آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ اس خاندان سے بدلہ لینا چاہتی ہیں،جو کچھ انہوں نے پچیس سال پہلے آپ کے ساتھ کیا تھا وہی سود سمیت انکو لٹانا چاہتی ہوں میں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب مجھے اس خاندان میں جانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رات سے سب سوچ چکی تھی اس لیے انکو بھی آگاہ کرنے لگی جو یقیناً اس کے اقدام سے خوش نہیں لگ رہی تھیں۔
“تو شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے فازیہ؟ہم اس طرح بھی تو ان سے بدلہ لے سکتے ہیں نہ؟میں بس تمہارے آنے کا ہی ویٹ کر رہی تھی اب تم اپنے حق کے لیے کل ہی کورٹ جاؤ گی اور اپنے پاپا کی وراثت کی حقدار کے طور پر آفندی ھاوس نوٹس بجھواؤ گی تا کہ جس دولت کے لیے انہوں نے مجھے اور تمہیں اس خاندان سے نکال کر باہر پھینکا تھا اب ان کو پتہ لگے گا کہ حرا ثقلین آخر چیز کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کے لہجے میں جتنی نفرت تھی اتنی ان کے چہرے پر بھی واضح تھی بلکہ اس سے زیادہ انہوں نے فازیہ کے دل و دماغ میں ڈالی تھی کہ اسے اب اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد نظر آتا تھا اور وہ تھا صرف آفندی ھاوس سے بدلہ ہر صورت !
“تو اس سے کیا ہوگا ماما؟وہ لوگ جتنے طاقتور ہیں کچھ لے دے کہ معاملہ نمٹا دیں گئے اور فرض کریں اگر وہ ہمیں کچھ حصہ دے بھی دیں تو کیا اس سے آپکی وہ اذیت اور میری زندگی کی محرومی ختم ہو جائے گی وہ تکلیف جو باپ ہوتے ہوئے بھی میں نے لا وارثوں کی طرح زندگی گزاری اور آپ کا وہ دکھ وہ درد جب آپ میرے لیے پتہ نہیں کتنے لوگوں کی لعن طعن سن کر اپنے مقام سے نیچے آ کر نوکری کرتی رہیں اور وہ لوگ عیش کی زندگی گزارتے رہے مگر اب نہیں،اب انکی پرسکون زندگیوں میں ہلچل مچانے میں جاؤنگی اور بتاؤنگی کہ میری ماں کا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جتنی انکو سزا دی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کا لہجہ چٹانوں کی طرح سخت تھا اسکی آنکھوں میں انتقام کی چمک صاف دیکھی جا سکتی تھی حرا بیگم جیسے پرسکون ہو گئی تھیں یہی تو وہ چاہتی تھیں اسی لیے تو انہوں نے اپنی ماں کی مخالفت کے باوجود فازیہ کو اپنے ساتھ رکھا تھا کہ وہ پچیس سالوں بعد اسے کیش کروانا چاہتی تھیں اور یہ سونے کی چڑیا اب ان کے لیے بہت بڑا فائدہ بننے والی تھی۔
“لیکن بیٹا،میں کیسے تمہیں ان لوگوں میں بھیج سکتی ہوں،وہ لوگ بہت ظالم ہیں اور منافق اتنے کہ پوچھو مت،وہ تمہارے ساتھ جھوٹا پیار جتا کر تمہیں میرے خلاف کرنے کی کوشش کریں گئے،پتہ نہیں کونسی کونسی چال چلیں گئے انکی چالوں کو تمہاری ماں سمجھ نہیں سکی تھی اور تم اتنی معصوم کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فکر مندی سے بولیں تو فازیہ اٹھ کر ان کے قریب آئی اور ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگائے۔
“آپ کو لگتا ہے کہ آپکی فازیہ ان مطلی اور ظالم لوگو کے بہکاوے میں آ سکتی ہے؟انکی دس دن کی منافقت میرا اور میری ماں کا پچیس سال کا رشتہ کمزور تو دور کی بات ایسی کوشش بھی نہیں کر سکتے،آپکو پتہ ہے کہ میرے باپ کے باپ کی وصیت کے مطابق مجھے اس خاندان سے اپنا حصہ تب ہی ملے گا جب میں اس خاندان کے کسی لڑکے سے شادی کرونگی اور میں بھی اس وصیت کو ہی اپنی منزل کی سیڑھی بنانا چاہتی ہوں،یہ صرف کچھ ماہ کی بات ہے پھر نہ صرف ساری جائیداد میرے پاس ہو گی بلکہ وہ لوگ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گئے اور وہ عورت جس کی وجہ سے میں اور آپ یوں دربدر ہوئیں اسے تو ایسا مزہ چکھاؤنگی کہ یاد رکھے گی کہ کسی عورت سے اسکا شوہر اور کسی بیٹی سے اسکا باپ چھین لینے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے فخر ہے اپنی بیٹی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی پیشانی چوم کر بولیں تو فازیہ کے چہرے پر مسکراہٹ چمکی۔
“آپ بس پریشان ہونا چھوڑ دیں،اب جو ہوگا بہت اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل مجھے یقین ہے تم پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکرائیں آخر کار اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے والی تھیں۔
_\\____________
آغا ہاشم آفندی نے سب کو اپنے کمرے میں بلایا تھا اور یوں سب کو بلانے کی وجہ کچھ خاص تھی اس لیے سب خاموشی سے ان کے کمرے میں براجمان تھے۔
“تم لوگوں سے مجھے کچھ ضروری بات کرنی تھی بلکہ اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا تھا اور امید ہے تم سب میرے اس فیصلے کو اس خاندان کی بہتری کے لیے سمجھنے کی کوشش کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے اپنی بات کی تہمید باندھی۔
“ندیم کی بیٹی پاکستان آچُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اس اطلاع پر کمرے میں موجود سارے نفوس چونکے تھے۔
“کب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کے چہرے پر یہی سوال رقم تھا مگر پوچھنے کی جسارت صرف انکی لاڈلی بھتیجی اور بہو رخسار بیگم نے کی تھی۔
“دس دن ہو گئے ہیں،مجھے دو دن پہلے ہی اس کے وکیل نے بتایا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کر کے ہمیشہ کے لیے پاکستان آ چکی ہے اور اب وہ اپنے باپ کی وراثت کی بطور حصے دار اپنا حق لینا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا جان کی بات پر رخسار بیگم نے معنی خیز نگاہوں سے اپنی دیورانی (چھوٹی بہن بھی تھی انکی ) راحیلہ کی طرف دیکھا جیسے کچھ جتانا چاہتی ہوں جبکہ وہ گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔
“تو آپ نے کیا جواب دیا بابا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟بڑے بیٹے سلیم آفندی نے سوال کیا۔
“وہی جو کچھ میں آج سے پانچ سال پہلے ندیم کی وفات کے بعد اپنی وصیت میں کر چکا ہوں کہ ندیم کی بیٹی کو ہمارے خاندان میں جگہ اور جائیداد تب ہی ملے گی جب وہ اس خاندان کا حصہ بنے گی،کیونکہ ہاشم آفندی کی پوتی اور ندیم آفندی کی بیٹی ہی اپنا حق لے سکتی ہے ورنہ حرا نامی عورت تو اس خاندان سے ایک سکہ بھی نہیں لے سکتی اور نہ ہم اسکی اجازت دیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکے لہجے میں حرا بیگم کے لیے نفرت آج بھی پچیس سال پہلے جیسی ہی تھی جس پر کسی کو بھی شک نہیں تھا کیونکہ اس خاندان کے سبھی لوگ ہی حرا بیگم کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔
“اور اس لڑکی نے ہمیشہ کی طرح اس خاندان کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا ہوگا آخر کو بیٹی تو وہ اپنی ماں کی ہے نہ جس نے پچیس سالوں سے اسے ہم سب سے چھپا کر رکھا اور یہاں تک کہ باپ کے انتقال پر بھی اسے یہاں آنے نہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے لہجے میں فازیہ کے لیے بھی نفرت صاف محسوس کی جا سکتی تھی جس پر آغا جان نے ایک ہنکارہ بھرتے ہوئے اپنے بیٹوں اور بہوؤں کی طرف دیکھا اور وہ کہہ دیا جس کو کہنے کے لیے سب کو یہاں بلایا گیا تھا۔
“وہ ہمارے فیصلے پر راضی ہے اور اس خاندان کا حصہ بن کر ہمارے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات مکمل کر کے انہوں نے سب کے چہروں کے اتار چڑھاؤ نوٹ کیے جن پر زیادہ ناگواری رخسار بیگم کے چہرے پر ہی آئی تھی بلکہ باقی سب کو اگرچہ یہ بات پسند نہیں آئی تھی مگر اتنی کڑوی بھی نہیں لگی تھی کہ وہ اسے ہضم نہ کر پاتے مگر رخسار بیگم جنہوں نے آج سے پچیس سال پہلے ہی حرا بیگم سے کلھم کھلا نفرت کی جنگ کا آغاز کر دیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ نفرت اور مضبوط ہوتی چلی گئی تھی اب اس عورت کی بیٹی کو اپنے گھر میں برداشت کرنے کا حوصلہ وہ کہاں سے لاتیں اور دوسرا جو آغا جان کا فیصلہ تھا اس پر انہیں اعتراض تھا کیونکہ وہ اس خاندان کے کسی بھی لڑکے سے اس کا تعلق نہیں قائم کرنا چاہتی تھیں۔
“آپ کیا چاہتے ہیں آغا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟تب سے خاموش بیٹھے انکے بیٹے ابراہیم آفندی نے پوچھا تھا جو بات کم مگر دوٹوک کرنے کے عادی تھے۔
“میں چاہتا ہوں کہ جو فیصلہ میں نے ندیم کی وفات کے بعد کیا تھا بلکہ اس سے وعدے کی پاسداری میں کیا تھا کہ میں اسکی بیٹی کو اس عورت سے لینے کی ہر کوشش کرونگا اور اسے ہمیشہ اس گھر میں ہی رکھوں گا تا کہ وہ عورت پھر کبھی اس پر حکمرانی نہ جتا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ہم جانتے ہیں مگر تب آپ نے حاشر کے ساتھ اسکا نکاح کرنے کی خواہش کی تھی جس پر ہم سب متفق بھی ہوئے تھے کہ بس یہی طریقہ تھا ندیم کی خواہش پر اسکی بیٹی کو اس گھر میں رکھنے کا مگر آج سے پانچ سال پہلے جب آپکی طرف سے ہر کی گئی کوشش کو اس عورت نے ناکام بنا دیا تھا تو حاشر کی پسندیدگی کو دیکھتے ہوئے ہم نے اسکی شادی کر دی تھی اور اب خیر سے وہ دو بچوں کا باپ ہے،اب آپ کیا چاہتے ہیں؟کیا عامر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیم آفندی کی بات پر انکی بیگم تنزیلہ بیگم نے بے اختیار پہلو بدلہ تھا وہ حاشر کی شادی پر شکرانے کے نوافل ادا کر چکی تھیں کہ اس فتنہ عورت کی بیٹی سے جان چھوٹ گئی تھی مگر اب شوہر کی بات پر وہ دوبارہ سے بدمزہ ہوتیں آغا ہاشم کی اگلی بات کی منتظر تھیں۔
“نہیں عامر کو میں اتنی بڑی زمعداری کے قابل نہیں سمجھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات جہاں تنزیلہ بیگم کو پرسکون کر گئی تھی وہی رخسار بیگم کے کان میں خطرے کی گھنٹی بھی بجی تھی۔
“تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کی نظریں ان پر تھیں۔
“نائل ابراہیم آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے منہ سے نکلتے چند الفاظ رخسار بیگم کو کرنٹ لگا گئے تھے جبکہ باقی بھی کچھ پریشانی سے دیکھنے لگے کیونکہ رخسار بیگم کی سوچ اور نفرت سے اس گھر کا بچہ بچہ واقف تھا۔
“آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں آغا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جیسے تڑپ کر رہ گئیں تھیں انکے اکلوتے بیٹے کا سوال تھا وہ سارے لحاظ بلائے طاق رکھ کر کہہ اٹھیں۔
“کیوں کیا بڑائی ہے اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟الٹا سوال کیا تھا۔
“بڑائی؟؟؟یہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں آغا جان؟اس فتنہ پرور عورت کی بیٹی کو میں کیسے اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی میں زہر گھولنے کی اجازت دے سکتی ہوں؟آپ سب جانتے ہیں کہ پچیس سال پہلے کیسے اس عورت نے ہمارے خاندان میں آگ لگانے کی کوشش کی تھی اور کیسی بدنامی سے ہم سب کو منہ چھپا کر گزرنا پڑا تھا اب اسی فسادی عورت کی بیٹی کو آپ دوبارہ سے ہماری زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں وہ بھی میرے بیٹے کی زندگی میں؟پتہ نہں اس لڑکی میں اپنی ماں کی کونسی خصلت اور کونسا زہر چھپا ہوگا میں آپ کے اس فیصلے کو نہیں مانتی چچا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اٹھا دیں آخر ان کے اکلوتے بیٹے کی زندگی کا سوال تھا وہ اپنی اکلوتی بہو کبھی بھی اس عورت کی بیٹی کو بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔
“یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرا فیصلہ ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے تھنڈے لہجے پر رخسار بیگم کچھ پل کو لب بھینچ گئی تھیں یہ انکی لاڈلی ہونے کی چھوٹ ہی تھی کہ وہ اتنا سب کچھ کہہ گئی تھیں ورنہ آغا ہاشم کے فیصلوں کو رد کرنے کا حوصلہ ان کے بیٹوں میں بھی نہ تھا۔
“گستاخی معاف چچا جان،پر میں اپنے بیٹے کی زندگی برباد کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دونگی،ماں ہو کر بھی آج تک میں نے اس سے کبھی سخت لہجے میں بات نہیں کی اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے دوزخ میں پھینک دوں جہاں وہ دونوں ماں بیٹی پتہ نہیں کونسی گیم کے ساتھ یہاں آ کر میرے بیٹے کے لیے عذاب کی طرح مسلط ہو جائے گی اور دن رات کونسا زہر اس کے کانوں میں بھرے گی،میں اپنے بیٹے کو ندیم آفندی نہیں بنتے دیکھ سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوٹوک انداز میں کہتی اپنے شوہر ابراہیم آفندی کی طرف دیکھنے لگیں بلکہ گھورنے لگیں جو کہ لاپرواہ یوں بیٹھے تھے جیسے ان کے بیٹے نہیں کسی اور کی زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہو۔
“خاندان میں اور بھی لڑکے ہیں،عیسی اور موسی بھی ہیں (انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کے بچوں کے نام لیے تھے)مگر مجھے فازیہ کے لیے نائل ہی بہتر لگا کیونکہ وہ میرے ابراہیم کا بیٹا ہے جس نے آج سے تیس سال پہلے میرے بڑے بھائی کی سب سے منہ پھٹ اور جذباتی بیٹی رخسار کے ساتھ بہت اچھے سے نباہ کیا ہے،آج سے تیس سال پہلے اسی طرح ابراہیم کی ماں نے بھی مجھے یہی کہا تھا کہ وہ اپنے اتنے سلجھے اور خاموش طبعیت بیٹے کے لیے اتنی گرم مزاج بہو نہیں لا سکتی بلکہ ندیم کے لیے تمہارا رشتہ چاہتی تھیں مگر مجھے ندیم کا پتہ تھا کہ وہ جذباتی ہے اس لیے میں نے اس کے لیے راحیلہ بیٹی کو چنا اور ابراہیم کے لیے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے جتاتے انداز پر رخسار بیگم پہلو بدل کر رہ گئیں اپنے مزاج کی تند دہی کی وجہ سے وہ پورے خاندان میں مشہور تھیں ۔
“اور میرے فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ وہ بہترین تھا،کیونکہ تم دونوں کی مثالی زندگی سب کے سامنے ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ نائل بھی اپنے باپ جیسا سمجھدار اور دھیمے مزاج کا ہے وہ جذباتی نہیں ہے اور مجھے یقین ہے وہ بہت اچھی زندگی گزارے گا فازیہ کے ساتھ،ہم فازیہ سے کبھی ملے نہں نہ جانتے ہیں کہ اسکا مزاج اسکے طور طریقے کیسے ہیں مگر نائل کو لے کر اس بات کا یقین ہے کہ وہ خدانخواستہ اپنی ماں جیسی سوچ کی حامل بھی ہوئی تو ہمارا نائل اسے سنبھال لے گا کیونکہ اسے رشتوں کو اپنے مقام پر رکھ کر ان سے اچھے طریقے سے برتنا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے تجزیے پر رخسار بیگم کے علاوہ سبھی متفق ہوئے تھے کیونکہ نائل ابراہیم کی شخصیت کے بارے میں سب ہی اچھی طرح جانتے تھے۔
“مگر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس رخسار،جب آغا جان نے کہہ دیا تو اب تمہیں بھی کھلے دل سے قبول کر لینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے انکی بات کاٹی تھی جس پر وہ مٹھیاں بھینچ کر وہاں سے واک آؤٹ کر گئیں یہ ان کے غصے کا اظہار تھا جس پر آغا جان ریلیکس تھے کیونکہ جتنا بڑا بم پھوڑا تھا انہوں نے اس کے نتیجے میں یہ احتجاج تو کچھ نہ تھا۔
“تم لوگ بھی جاؤ،باقی فیصلہ نائل سے پوچھ کر ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم آفندی نے سب کو جانے کی اجازت دی تھی اور خود اپنے بیڈ پر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئے۔
_______________
وہ غصے اور جھنجلا ہٹ میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھیں اور آغا ہاشم کے اس اقدام کو کسی صورت بھی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں اس لیے ابراہیم آفندی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر ایک طیش کے عالم میں انکے قریب ٹھہریں تھیں۔
“آپ اپنے بیٹے کی زندگی میں زہر گھولتے کیسے دیکھ سکتے ہیں ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“حوصلے سے بات کرو رخسار،یہ بات اتنی بھی نا مناسب نہیں کہ تم یوں کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو ان کے واروں کے لیے تیار ہو کر ہی کمرے میں آئے تھے اس لیے تحمل سے بولتے صوفے پر ٹک گئے مگر انکو اور طیش دلا گئے۔
“آپ جتنا حوصلہ دکھا رہے ہیں وہی کافی ہے کیسے آپ یوں پرسکون رہ سکتے ہیں ہمارے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے،میں کسی صورت اس ناگن کی بیٹی کو اپنی بہو کے طور پر قبول نہیں کر سکتی ارے میں تو اسے اس گھر میں لانے کے حق میں نہ تھی کجا کہ اپنی بہو کے طور پر،کبھی نہیں ابراہیم صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر نفی میں ہلاتیں ان کے سامنے ہی ٹک گئیں۔
“اب تم سکون سے میری بات سن سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے نرمی سے پوچھنے پر وہ صرف انہیں دیکھ کر رہ گئیں۔
“تم جانتی ہو کہ نائل ہمارا اکلوتا بیٹا ہے جسے شادی کے پانچ سال بعد نہ جانے کتنی دعاؤں سے اللہ سے مانگ کر لیا ہم نے،آج تک اسے ہم نے کیا آغا جان نے بلکہ پورے آفندی ہاؤس نے لاڈوں کی طرح رکھا ہے اور ہمیشہ سے یہی کوشش کرتے آ رہے ہیں کہ کبھی بھی وہ فیصلہ نہ ہو جو اس کے لیے پریشانی کا باعث بنے،دوسری طرف نائل نے بھی ہمیں نہ صرف عزت اور مان بخشا ہے بلکہ اس نے بھی تعلیمی میدان ہو یا خاندان میں کوئی بات ہمیشہ ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے تو پھر خود سوچو کہ میں اور آغا جان کبھی اس کے لئے کوئی غلط فیصلہ کر سکتے ہیں،مانا کہ ندیم نے ایک غلط عورت سے شادی کر کے غلط فیصلہ کیا تھا جس کے نتائج اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی بھگتنے پڑے تھے اور اب اسی عورت کی بیٹی کو گھر لانے کا فیصلہ ہو سکتا ہے ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث بنے مگر مجھے پورا یقین ہے کہ غلط ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اب ندیم آفندی نہیں بلکہ نائل ابراہیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر ہم اپنے بیٹے کو اس امتحان میں ڈالیں ہی کیوں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔؟وہ چٹخ کر بولیں انکو کسی صورت گوارا نہ ہو رہا تھا۔
“کیونکہ آغا جان کو ندیم سے کیے وعدے کی پاسداری کرنی ہے وہ چاہتا تھا کہ اسکی بیٹی اسی خاندان کا حصہ بن کر رہے اور حاشر کی شادی کے بعد عامر اور عیسی لاابالی اور غیر سنجیدہ لڑکے ہیں وہ تو کبھی بھی اسکی ماں کی چالاکیوں کو ہینڈل نہیں کر سکیں گئے جس عورت کا یوں اچانک اپنی بیٹی کی شادی اس خاندان میں کرنے کا مقصد یقیناً کچھ بڑا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو سوچ رہے تھے وہی ان کے سامنے بیان کر گئے جس پر رخسار بیگم مزید بگڑیں۔
“آپ سب جانتے بوجھتے نائل کو اس جہنم میں دھکیل رہے ہیں نہ؛وہ لڑکی ویسے بھی دو سال بڑی ہے میرے بیٹے سے دوسرا جس عورت کی وہ بیٹی ہے آپ کو لگتا ہے کہ معصوم اور سیدھی سادھی ہو گی کبھی نہیں،دیکھ لیجئیے گا پورا ڈرامہ ہونے والا ہے اس گھر میں،صرف جائیداد کے لیے وہ اس گھر میں آ رہی ہے اور پھر اس کے بعد اپنی ماں کی طرح دوسروں پر جھوٹے الزامات لگا کر طلاق لے کر وہ چلتی بنے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ایسا ہوگا،اگر ہوگا بھی تو ہم سب ہینڈل کر لیں گئے مگر کم از کم ندیم کی آخری خواہش کو پورا کرکے ہم سب تو پرسکون ہو جائیں گئے کہ ہم نے اپنی اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے اب جو اللہ کو منظور،صرف تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولے جس پر رخسار بیگم صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئیں وہ ابراہیم آفندی کی بات کی نفی کرنا مناسب نہیں سمجھتیں تھیں کیونکہ ابراہیم آفندی وہ انسان تھے جنہوں نے آج سے تیس سال پہلے انکو عزت کے ساتھ محبت بھی دی تھی اور انکے مزاج کو اس خوبصورتی سے ہینڈل کیا تھا ہر جگہ انکی عزت کی بھی تھی اور کروائی بھی تھی اس لیے وہ کسی بھی صورت انکے ساتھ بدتمیزی نہیں کر سکتی تھیں ورنہ انکا بس چلتا تو ہر ایک کی بات رد کر کے اس عورت کی بیٹی کو کبھی بھی نائل کی زندگی میں تو دور اس گھر میں بھی آنے نہیں دے سکتی تھیں۔
“آپ جو بھی کہیں مگر ایک بات یاد رکھیے گا آپ میرے بیٹے کو کسی صورت میں بھی پریشرائیز نہئں کریں گئے،اگر اسے یہ فیصلہ قبول نہیں ہوگا تو آپ اس کا ساتھ دیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان کو باور کرواتیں ہوئی کہہ اٹھیں جس پر وہ گہرا سانس بھرتے سر اثبات میں ہلا گئے کیونکہ اتنا تو وہ بھی جانتے تھے کہ آغا ہاشم آفندی بھی اسکی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
______________
جب اسکی بلیک ہیوی بائیک پورچ میں آ کر رکی تھی تب رات کے دس بج رہے تھے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تھا جب آغا ہاشم آفندی کی کال آئی تھی اور وہ اس سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتے تھے اس لئے وہ ان سے اجازت لیتا گھر آیا تھا اور اب سیدھا آغا ہاشم کے کمرے میں جانے کا ارادہ تھا کہ ہال میں انتظار کرتیں رخسار بیگم کو دیکھ کر انکے قریب آیا۔
“مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے مخاطب کرنے پر وہ کچھ یوں بے تابی سے اسکی طرف مڑیں جس پر وہ کچھ حیران ہوا تھا۔
“کہاں تھے تم نائل؟کب سے انتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بتایا تو تھا کہ اسامہ کی منگنی کی ٹریٹ تھی،خیریت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“جب تک اس عورت کا وجود اس دنیا میں موجود رہے گا تب تک آفندی ہاؤس میں خیریت کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو پہلے ہی جلی بھنی تھیں دانت پیس کر بولتیں اسے چونکا گئیں۔
“کیا بات ہے؟؟کیا پھر سے ندیم چاچو کی بیٹی کا ایشو چل رہا ہے فیملی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانتا تھا آج سے پانچ سال پہلے بھی اس گھر میں ندیم چاچو کی بیٹی کا معاملہ کافی ہلچل کا باعث بنا تھا مگر تب آغا ہاشم کے ہر حربے کو ناکام بناتے ہوئے حرا بیگم نے اسے لندن بھیج دیا تھا اور کہا تھا کہ اپنی تعلیم مکمل کرکے وہ اپنی زات کا خود ہی فیصلہ کرے گی جس سے سب ہی نے جان چھوٹ جانے پر شکر ادا کیا تھا اور حاشر جو اپنی کلاس فیلو اور آغا ہاشم کی رشتے میں نواسی لگتی تھی اس سے شادی کر کے جیسے خود کو آزاد کروایا تھا۔
“ہاں وہی ناگن کی بیٹی اس گھر میں آنا چاہتی ہے جیسے اسکی ماں نے کیا ویسے ہی اب وہ میری بہن کے لیے عذاب بن کر ہم سب کے سینے جلائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“حوصلہ بہو،اسے یہی پکڑے بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی آواز پر رخسار بیگم ان پر ایک ناراضگی کی نظر ڈال کر رخ موڑ گئیں جس پر نائل نے سوالیہ انداز سے آغا ہاشم کی طرف دیکھا جنہوں نے اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کرتے ہوئے رخسار بیگم کو مخاطب کیا۔
“میرے اور نائل کے لیے چائے بھجوا دینا وہ بھی آدھے گھنٹے بعد کیونکہ مجھے اپنے پوتے سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے کمرے کی طرف چلے گئے جبکہ نائل بھی اپنی ماں پر ایک نظر ڈالتا کچھ کشمکش کا شکار ہوتا ان کے پیچھے چل دیا جب کہ رخسار بیگم کڑھ کر رہ گئیں ۔
“کیا بات ہے معاملہ کچھ پیچیدہ سا لگ رہا ہے آغا جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے اپنی نشست سنھبالتے ہوئے اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“آپکے لاڈلے بیٹے کی لاڈلی بیوی آپکی لاڈلی بھتیجی بیٹی سے بہو بن گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ دیر پہلے کے انکے طرز مخاطب کے بارے میں بولا جس پر وہ مسکرائے۔
“برخودار ہم بھی آغا جان سے چچا جان کی سیڑھی پر آ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ مطلب کہ کچھ دن اب میری کوئی شکایت آپ تک نہیں آئے گی نائس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ایزی ہو کر بیٹھا تھا جس پر آغا ہاشم نے اسے گھور کر دیکھا تھا کیونکہ رخسار بیگم اکثر گھر لیٹ آنے پر آغا ہاشم سے کال کرواتیں رہتی تھیں جس پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کئی پلان کیسنل کر کے گھر آنے کی وجہ سے نالاں رہتا تھا۔
“زیادہ مت پھیلو،اپنی مما سے میری صلح کروانا اب تمہارا کام ہے کیونکہ ہو سکتا ہے اگر تم میری بات مانو تو وہ تم سے بھی ناراض ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کونسی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سنجیدہ ہوا۔
“میں نے فازیہ ندیم سے رابطہ کیا ہے اور وہ میری شرط مان کر اس گھر میں آنے کو راضی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے کہتے ہوئے اسکی طرف دیکھا جو کہ پوری طرح انکی طرف متوجہ تھا۔
“اور میں چاہتا ہوں کہ اس گھر میں وہ ندیم کی بیٹی کے بجائے تمہاری بیوی بن کر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات اتنی آسان نہ تھی جتنی انہوں نے کر دی تھی اور بات مکمل کر کے انہوں نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کرنے شروع کر دئیے تھے جو شاید نہیں یقیناً انکی بات پر ششدر ہوا تھا اور پھر جیسے کچھ سنبھل کر انکی طرف دیکھنے لگا۔
“آپ نے یقیناً یہ فیصلہ کچھ سوچ سمجھ کر کیا ہوگا اور اس فیصلے کے پیچھے چھپے محرکات بھی میں اچھے سے سمجھتا ہوں کیونکہ تقریباً آج سے پانچ سال پہلے بھی کچھ ایسے ہی حالات اور واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزرے ہیں مگر آغا جان میں کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ پل کو رکا۔
“آپ جانتے ہیں کہ میرا ایم بی اے کا لاسٹ سمسیٹر چل رہا ہے میں ابھی ان زمعداریوں میں ہرگز پڑنا نہیں چاہتا اور خاص کر کے اس محاز پر لڑ کر تو میں کبھی بھی جیت نہیں سکونگا کیونکہ آگے میری ماں ہے اور آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں مما کو کہ انہوں نے ان پچیس سالوں میں اگر سب سے زیادہ نفرت کی ہے تو وہ اس عورت اور اسکی بیٹی سے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں ایک نئی جنگ چھیڑ دوں ہرگز نہیں،آپ کو میں کوئی ڈکٹیشن تو نہئں دے سکتا ہاں مشورہ ضرور دونگا کہ آپ اس لڑکی کے لیے نائل آفندی کیا بلکہ آفندی ہاؤس کے کسی بھی لڑکے کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ اسے کہیں اور بیاہ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سکون سے اپنی بات مکمل کرتا آخر میں تجویز دیتا انکی گھور یوں کی طرف دیکھتا کندھے اچکا گیا جیسے کہہ رہا ہو کہ میرا کیا قصور؟
آغا ہاشم نے اپنے اس لاڈلے پوتے کی بات پر نہ متفق ہوتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“تم نے جو کہا بے شک درست ہے مگر تم نے پوچھا نہ کہ اس بار تم کیوں؟؟؟تم جانتے ہو کہ حاشر کی سنجیدگی اور بردباری سے میں نے فیصلہ کیا تھا مگر تب وہ عورت نہیں مانی تھی مگر اب فازیہ اس بات پر رضامند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“معذرت مگر آپ کو نہیں لگتا کہ اب مان جانے کے پیچھے وجہ کچھ اور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں جانتا ہوں میں،میری شرط کے مطابق پر وہ اپنی جائیداد لینے کی تب ہی حقدار ہوگی جب وہ اس گھر میں آ کر رہے گی اور اب اگر وہ ماں بیٹی مان گئیں ہیں تو وجہ صاف ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ وہ تمہارے نام سے جڑ کر آئے کیونکہ تم میں وہ ساری خوبیاں ہیں جو تیس سال پہلے مجھے ابراہیم میں نظر آئیں تھیں رخسار کے لیے اور دیکھو تمہارے سامنے ہے اب سب سے زیادہ اگر رخسار کسی کا مان اور عزت رکھتی ہے تو وہ تمہارے والد صاحب ہیں اور کل کو یہی رخسار کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی بات پر وہ سر نفی میں ہلاتا کہنے لگا۔
“مما کا معاملہ اور تھا یہ معاملہ اور ہے آغا جان،یہاں ایک عورت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت گھر میں آ رہی ہے کہ اسکا پلان صرف دولت اور آفندی ہاؤس کے لوگوں سے بدلہ لینے کا ہے آپکو لگتا ہے کہ آپکی پوتی گھر بسانے آ رہی ہے وہ صرف ہم سب کو ایک سبق سکھانے کی چاہت میں آ رہی ہے تاکہ وہ اپنا مقصد حاصل کر کے اس گھر سے رفو چکر ہو سکے اور آپ مجھ سے یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ میں اپنے بابا کی طرح اس کو پیار اور نرمی سے ہینڈل کروں کہ اپنے دل سے لالچ اور فراڈ پن نکال کر ہمارے ساتھ ہنسی خوشی رہو واؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آخر میں طنزیہ مسکرایا تھا آغا ہاشم نے گھورا جیسے اسکی مسکراہٹ پسند نہ آئی ہو۔
“ان باتوں کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں نائل،تم میرے پوتے بھی ہو اور دوست بھی اس لیے میں تم سے کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں ہر طرح کے آزادانہ فیصلے کا اختیار دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سمجھا نہ تھا۔
“مطلب یہ کہ تمہارا آغا جان صرف تم سے اتنی مدد چاہتا ہے کہ تم تین ماہ تک صبر اور تحمل سے میرے فیصلے کو برداشت کر لو اس کے بعد تم آزاد ہو گئے چاہے تو اسے چھوڑ دینا چاہے تو دوسری شادی کر لینا بعد میں تمہاری مرضی اور چاہت کی اہمیت ہوگی ،تم ایک دفعہ میری مان کے مجھے ندیم سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے دو کہ میں اسکی اولاد کو اس گھر میں لایا بھی اور اسے اسکا حق بھی دیا اور مجھے اپنے پوتوں اور نواسوں سے سب سے زیادہ عزیز تم ہو اور میں تمہیں ہی اس مشکل فیصلے کی پاسداری کے لائق سمجھتا ہوں ورنہ تُمہیں لگتا ہے کہ عامر اور عیسی سے میں یہ نہیں کروا سکتا تھا یا انکی ماؤں سے ڈرتا تھا میں تم اچھی طرح جانتے ہو اس معاملے میں،میں بس تمہاری ماں سے ڈرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آخر میں وہ شرارتی لہجے میں بولتے جیسے ماحول کی سنجیدگی کو کم کرنا چاہتے تھے اور یہ کوشش انکی کامیاب رہی تھی نائل بے اختیار مسکرایا تھا۔
“پھر بھی آپ انکے بیٹے کو قربان کرنا چاہ رہے ہیں ،مگر میں مما کو ناراض کر کے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ابھی بھی تذ بذب کا شکار تھا۔
“اسے منانا تمہارے والد کا کام ہے بلکہ کچھ تو وہ رضامند کر بھی چکا ہے مگر باقی فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور اگر میں انکار کر دوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے جیسے ان کے تاثرات جانچنے کے لیے بات ادھوری چھوڑ کر انکی طرف دیکھا تھا جو بڑی آس اور امید سے اسکی طرف رہے تھے۔
“زبردستی تو ہرگز نہیں کرونگا،ہاں عاجزی سے درخواست ہی کر سکتا ہوں کہ تمہیں اپنے دادا جان کے اس فیصلے پر انکا ساتھ دینا چاہئیے کیونکہ میں نے آج تک ہر فیصلے میں تمہارا ساتھ دیا تھا چاہے وہ علیشہ سے منگنی نہ کرنے کا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ جتاتے ہوئے جیسے کچھ یاد کروانا چاہ رہے تھے نائل ابراہیم انکی چالاکی پر ہنس دیا تو آغا ہاشم نے اسکی خوبصورت ہنسی کی دل ہی دل میں نظر اتاری تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ آفندی ہاؤس کیا پورے خاندان میں بھی اگر کسی کو خوبصورت اور ڈیشنگ پرسنالٹی کا ٹائٹل دیا جاتا تو وہ نائل ابراہیم ہی تھا جس نے خوبصورت نین و نقش اپنے بابا ابراہیم کے چرائے تھے اور بائیں گال میں پڑتا ڈمپل اپنی ماما رخسار سے جو اس کے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کیے ہوئے تھے یونیورسٹی میں بھی وہ اپنے شاہانہ رکھ رکھاؤ اور خوبصورتی کی وجہ سے پرنس چار منگ کے نام پر مشہور تھا اس لیے تو رخسار کی بھتیجی اور نائل کی کلاس فیلو علیشہ اس پر دل و جان سے فدا تھی اور نائل اگر اسے پسند نہیں کرتا تھا تو نہ پسند بھی نہیں کرتا تھا مگر وہ ابھی شادی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا اس لیے رخسار بیگم کے پر زور اصرار کے باوجود اس نے منگنی کیا بات پکی کرنے سے بھی منع کیا تھا کہ وہ پانچ سال کے بعد فیصلہ کرے گا کہ اسے علیشہ سے شادی کرنی ہے یا کسی اور سے اور اس فیصلے پر آغا ہاشم نے اسکا ساتھ دیا تھا ورنہ تو رخسار بیگم کی جذباتی بلیک میلنگ سے وہ تھک ہار گیا تھا۔
“اور اب مجھے سمجھ آیا کہ آپ نے ایک سال پہلے میرا ساتھ کیوں دیا تھا آپ یہی سوچ کے بیٹھے تھے ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے درست اندازے پر آغا ہاشم نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
“یقین مانو علیشہ بیٹی کا تمہارے ساتھ جوڑ نہیں بنتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کو آزاد خیال لڑکیاں پسند نہ تھیں۔
“جسے آپ لانا چاہ رہے ہیں آپکو لگتا کہ اسکا جوڑ میرے ساتھ بنتا ہے میرے خیال میں وہ مجھ سے دو سال بڑی بھی ہیں اور کافی چالاک بھی ایویں تو نہیں لندن آتے ہی اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے بھی جتانا مناسب سمجھا۔
“کہہ سکتے ہو مگر مجھے اپنے خون پر یقین ہے وہ اپنی ماں کی باتوں میں آئی ہوگی مگر جب اسے ہم سے ساری حقیقت پتہ چلے گی تو وہ یقیناً اپنی ماں کا ساتھ چھوڑ دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کو جیسے اس بات پر بہت یقین تھا نائل گہرا سانس بھر کر رہ گیا وہ اس فیصلے کے حق میں ہرگز نہ تھا مگر آغا جان کی اسکی ذات سے لگائی گئی امید اور یقین پر جیسے شش و پنج میں پڑ گیا تھا وہ جانتا تھا کہ آغا ہاشم اس پر کبھی زبردستی نہیں کرے گئے مگر انکا اس پر کیا گیا اعتماد بھی وہ توڑنا نہیں چاہتا تھا اور نہ انکا دل اس لیے کھڑا ہو گیا۔
“میں نے اس لڑکی کو نہیں دیکھا نہ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں بس اتنا کہ وہ جس عورت کی بیٹی ہے اس عورت سے ہم ہر گھٹیا پن کی امید لگا سکتے ہیں تو اسکی بیٹی میں ماں کی کونسی کونسی خوبیاں چھپی ہیں یہ کوئی بھی نہیں جانتا پھر بھی اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ اسے اس گھر میں لا کر میرا نام اس کے نام کے ساتھ جوڑ کر اپنے بیٹے سے کیا گیا وعدہ نبھانا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات نے جہاں آغا ہاشم کو خوشی سے نوازہ تھا وہی انکی ساری باتیں سنتی رخسار بیگم کے سینے میں آگ لگا گئی تھی وہ جل کر رہ گئیں تھیں۔
“مگر ایک بات میں آپ کی خوشی کے لیے آپکو اپنی زندگی کے تین ماہ تو دے سکتا ہوں مگر اپنی پوری زندگی برباد نہیں کرنے دونگا،ویسے تو اس کے آنے کے ایک دن بعد ہی اسکی خوبیاں سب کے سامنے آ جائیں گی مگر مجھے پھر بھی تین ماہ برداشت کرنا پڑے گا اور اس کے بعد فیصلہ میرا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہہ کر وہ ان سے اجازت لیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ دروازے سے پیچھے ہٹتیں رخسار بیگم نے چائے کے کپ اپنے پیچھے آتی راحیلہ بیگم کو دئیے اور خود نائل کے پیچھے چل دیں۔
_____________
“یہ کیا فیصلہ کر کے آئے ہو تم نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابھی وہ کمرے میں آیا تھا کہ رخسار بیگم کڑھے تیوروں سے اس پر چڑھ دوڑیں وہ گہرا سانس بھرتا انکی طرف پلٹا۔
“مما پلیز تحمل سے میری بات سن لیجئے پھر جو مرضی کہہ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سن چکی ہوں میں تمہاری ہر بات،آخر تم کیسے انکی بات مان سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ آغا جان ہیں مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جانتی ہوں مگر اس وقت وہ صرف اپنی پوتی کے آغا جان بنے ہوئے ہیں ارے وہ کیسے اس خرافہ کی بیٹی کو ہمارے گھر میں میری بہو کے طور پر لا سکتے ہیں،میں اس لڑکی کو ہرگز قبول نہیں کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولیں نائل نے پیار سے انکو دونوں بازوؤں سے تھام کر بیڈ پر بیٹھا اور خود انکے ہاتھ پکڑ کر ساتھ بیٹھ گیا۔
“آپکا غصہ بجا ہے اور آپکو حق بھی ہے کہ آپ اس فیصلے کے خلاف جا سکیں مگر میں نے صرف اپنے آغا جان کی بات کا مان رکھا ہے مما آپ اور بابا نے ہی مجھے شروع سے سمجھایا تھا کہ اپنے بڑوں کا مان کیسے رکھا جاتا ہے اب اگر میں انکو انکار کر دوں تو انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں کہنا ہے مگر مجھے ساری عمر اس بات کا گلٹ رہے گا کہ میں نے اس وقت انکی بات نہیں مانی جس وقت وہ سب سے زیادہ مجھ سے آس اور امید لگائے بیٹھے تھے پلیز مجھے اس دوراہے پر مت لے کر جائیں کہ میں نہ آپ کو انکار کر سکوں نہ آغا جان کا دل دکھا سکوں پلیز،صرف کچھ دنوں کی بات ہے میں آپکو گارنٹی دے رہا ہوں وہ یہاں عمر بھر رہنے نہیں آ رہی ہے صرف اپنی جائیداد اور ہمیں اپنی اصلیت دکھانے آ رہی ہے تو پھر اس بات سے گبھرانا کیسا،یہی سمجھے ایک امتحان ہے بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور اگر اس نے تمہیں ہم سے بدظن کر دیا تو،یا اپنی ماں کی طرح تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ فکر نہ کریں میں چاچو نہیں ہوں مما،آپ اپنے بیٹے پر یقین رکھیں مجھے ہر بات کا پتہ ہے اور میں کبھی بھی ایسا نہیں کرونگا جس سے آپ کو تکلیف ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“علیشہ کا کیا ہوگا،وہ بہت پاگل ہے تمہارے لیے،کل بھی نائلہ آپا نے بات کی کہ نائل کو بولو کوئی رسم کر لیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات ہر وہ گہری سانس بھر کر بولا۔
“ان سے کچھ چھپا تو ہے نہیں مما،راحیلہ خالہ آپ دونوں کی بہن ہے جن کے ساتھ سب سے برا ہوا تھا آج سے پچیس سال پہلے سو آپ انکو سچ بتائیں کہ یہ صرف کچھ دنوں کی بات ہے یہی سمجھیں جیسے آغا جان ایک ٹرائل دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس لڑکی میں اپنی ماں کا خون زیادہ شامل ہے کہ باپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سر ہلا گئیں تھیں اب وہ اپنے بیٹے کو پریشان ہرگز نہں کرنا چاہتی تھیں جو اپنے آغا جان کی محبت میں خود کو قربان کر رہا تھا۔
……………………………………………
حرا بیگم کمرے میں آئیں تو وہ اپنا سامان پیک کرتی نظر آئی۔
“کل جا رہی ہو پھر تم اس قید خانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سامان پر نظر ڈالتیں وہ اس کے پاس ٹک گئیں۔
“مجبوری ہے مما،کچھ پانے کے لیے کچھ برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ سب تم میرے لیے کر رہی ہو نہ تو چھوڑ دو مجھے بس تم عزیز ہو میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکے لہجے میں ممتا والی چاشنی کھلی تھی۔
“اور مجھے بھی آپ بہت عزیز ہیں اور میں نے آپ کو روتے بھی دیکھا ہے اور تڑپتے بھی،آپکی ایک ایک پل کی اذیت کی گواہ ہوں میں اور سب سے بڑی بات مجھے اپنی محرومیوں کا بھی تو بدلہ لینا ہے ان لوگوں سے جو ایک ہستا بستا گھر برباد کر کے کیسے سکون سے رہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان کے قریب آ کر ان کے ہاتھ تھام گئی۔
“مجھے اس خاندان سے اپنی ہر تکلیف کا حساب لینا ہے مما اور اس کے لیے میں کسی حد تک بھی جا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی جس پر نائلہ بیگم کے اندر اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔
“تو کس سے نکاح کروائیں گئے تمہارا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جس سے بھی،مجھے کونسا ساری عمر وہاں رہنا ہے،یہ تو ایک چھوٹا سا کھیل ہے جس میں مات ان لوگوں کا مقدر ہے چاہے مہرہ کوئی بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر پھر بھی پتہ تو لگے یہ نہ ہو کوئی ایسا ہو جو تمہاری مرضی کی پروا کیے بغیر تمہارے ساتھ کوئی زبردستی کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائلہ بیگم کی بات میں جو ڈر اور مفہوم چھپا تھا اس کو وہ نہ صرف سمجھ چکی تھی بلکہ بہت کچھ سوچ بھی چکی تھی۔
“اسکی آپ فکر نہ کریں،میں اتنی آسانی سے کسی کو میسر ہونے والی نہیں ہوں آنے والے وقت کی ہر چال سے باخبر بھی ہوں اور ہر طوفان سے نمٹنے کا حل بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے اب لگ رہا ہے کہ فازیہ تم اپنی مما سے زیادہ بہادر ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائلہ بیگم کی آنکھوں میں اس کے لیے ستائش تھی وہ مسکرا دی۔
“نہیں بلکہ یہ بہادری مجھے اپنی مما سے ملی ہے جیسے حالات و واقعات کا آپ نے مقابلہ کیا یہ تو کچھ بھی نہیں اس کے بدلے،آپ بس میرے لیے دعا کیجیئے گا باقی تو ہمارا رابطہ رہے گا اور پورے تین ماہ بعد میں جیت کر آپ کے سامنے موجود ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ یقین دہانی سے کہتی ہوئی ان کے گلے لگ گئی۔
____________________
“آفندی ہاؤس “میں اس وقت آغا ہاشم کی سر پرستی میں ان کے تین بیٹوں کی فیملی رہائش پزیر تھی جس میں سب سے بڑے سلیم آفندی اپنی بیگم تنزیلہ دو بیٹے حاشر،عامر اور دو بیٹیوں ثمرہ اور حمرہ کے ساتھ اوپر والے پورشن میں جبکہ ابراہیم آفندی اپنی بیگم رخسار اور اکلوتے بیٹے نائل آفندی کے ساتھ نیچے والے پورشن میں رہتے تھے جبکہ سب سے چھوتے بیٹے ندیم آفندی جو آج سے آٹھ سال پہلے وفات پا چکے تھے انکی بیگم راحیلہ اور ایک بیٹا سعد اور ایک بیٹی ہادیہ کے ساتھ ان کے پورشن میں ہی رہتے تھے۔
آفندی ہاؤس چار کنال پر مشتمل سٹائلش اور جدید طرز سے بنا خوبصورت بنگلہ تھا جس کی خوبصورتی ہر آنے والی آنکھ کو خیرہ کرتی تھی کہ ایک نظر ڈال کر وہ دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔
اپنی گاڑی سے نکلتی وہ بھی اس گھر کی خوبصورتی اور پورچ کے ساتھ بنے کشادہ لان کو دیکھتی اندر ہال کی طرف بڑھی جہاں آغا ہاشم اسی کے انتظار میں کھڑے تھے اور ان کے ساتھ اور بھی ان دیکھے چہرے جن پر واضح رقم تھا کہ وہ اس کی تشریف آوری پر خوش نہ تھے۔