Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“میں نے پہلے ہی کہا تھا فازیہ ندیم کہ میری ماں کے خلاف اپنی زبان کو ایسے مت استعمال کرنا کہ مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کا لہجہ اگر آگ برساتا تھا تو آنکھوں میں بھی غصے کی شدت صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی جنہوں نے سب کاروائی دیکھی تھی نائل کو باز رہنے کو آواز لگا گئے جس نے مٹھیاں بھینچ کر جیسے خود کو کچھ غلط کہنے اور کرنے سے باز رکھا تھا فازیہ جھٹکے سے مڑی اور بھاگتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف گئی تھی ۔
“بہت غلط کیا تم نے نائل۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم کو جہاں فازیہ کے الفاظ برے لگے تھے وہی نائل کا ہاتھ اٹھانا بھی برا لگا تھا مگر انکی نسبت رخسار بیگم اور علیشہ کے سینوں میں جیسے ٹھنڈی پھوار برسی تھی۔
“تم کب سے اتنے شدت پسند ہوگئے؟عورت کے چند الفاظ برداشت نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے غصے سے لتاڑا جس پر وہ شرمندہ ہوتا نظریں چرا گیا۔
“آپ میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئے ہیں اس لڑکی کی بات کو نہیں سنا جس نے کس قدر گھٹیا الفاظ استعمال کیے میرے بارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم بولے بنا نہ رہ سکیں۔
“خاموش رہو رخسار،ہم سب یہ پہلے سے جانتے تھے کہ فازیہ اس گھر میں اگر آ رہی ہے تو ہمیں اس چیز کے لیے تیار رہنا چاہئیے کہ اسکی ماں اسے جو کچھ جیسے بھی بتائے گی وہ وہی ری ایکٹ کرے گی،اسے جو کچھ کہا گیا ہے اسے وہی سچ لگے گا نہ اور نائل کو آغا جان نے اسی مقصد کے لیے ہی چنا تھا کہ یہ فازیہ کو ساری سچائی سے آگاہ کرے اسے بتائے کہ جھوٹا کون ہے سچا کون ہے مگر افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!ابراہیم نے تاسف سے نائل کو دیکھا جس نے لب بھینچ کر قدم باہر کی طرف بڑھائے کہ راستے میں کھڑے آغا ہاشم کو دیکھ کر رکا تھا اور زندگی میں پہلی دفعہ وہ ان سے نظریں چرانے پر مجبور ہوا تھا جن کی نظروں میں شکوہ اسے صاف نظر آیا تھا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کے پاس سے گزر گیا۔
“آپ نے سارا قصور میرے بیٹے کے سر پر ہی ڈال دیا،وہ اپنی ماں کے بارے میں غلط الفاظ کیسے سن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟رخسار بیگم نے نائل کا دفاع کیا تھا جس پر ابراہیم آفندی نے ان پر ایک ناراض نظر ڈالی اور آغا ہاشم کی طرف بڑھ گئے۔
“نائل نے بہت اچھا کیا اسے اپنی اوقات دکھا دی،انکل کیوں نائل پر غصہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کے کہنے پر رخسار بیگم فقط سر ہلاتی کسی سوچ میں گم ہوئیں تھیں۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب اس نے گھر میں قدم رکھا ہال میں کسی کو نہ پاکر وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف آیا مگر اسے حیرت کا جھٹکا تب لگا جب اس نے دروازے کو اندر سے بند پایا۔نائل نے دو دفعہ ہلکے سے ناک کیا مگر دوسری طرف سے کوئی ردعمل نہ آیا ۔
“یہ بھی دن آنے تھے نائل آفندی کہ تمہیں تمہارے کمرے سے آؤٹ کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا
پھر دو منٹ اور انتظار کرتا آخرکار کچن کی طرف آیا جہاں کیز باکس میں سے اپنے کمرے کی چابی ڈھونڈنے لگا مگر راحیلہ بیگم کو کچن میں آتا دیکھ کر جلدی سے فریج کی طرف چلا گیا۔
“کچھ چاہئیے نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پوچھنے لگیں۔
“نہیں آنی،مجھے بس پانی پینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پانی کی بوتل نکال گیا۔
“تم ڈنر پر بھی نہیں آئے،اپیا پریشان ہو رہی تھی کال بھی اٹینڈ نہیں کر رہے تھے ابھی بھی تمہاری بائیک کی آواز سن کر انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے،خود بھائی صاحب کی وجہ سے نہیں آئیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ کرسی پر ٹک گئیں جس پر نائل نے پانی پیتے ہوئے سپاٹ نظروں سے فقط دیکھا تھا ۔
“کیا ناراض ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اسکی خاموشی پر الجھن زدہ ہوئیں۔
“میں نے کیوں ناراض ہونا ہے کسی سے،بس ویسے ہی آغا جان اور بابا جان کا فلحال سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا،مجھے پتہ ہے میں نے غلط کیا مگر اسکی بات مجھ سے برداشت نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔”وہ بوتل فریج میں رکھتا ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“ہاں جانتی ہوں میں سب ہی سمجھتے ہیں کہ تم نے غصے میں آ کر اس پر ہاتھ اٹھایا اور آغا جان بھی یہی کہہ رہے تھے کہ فازیہ نے غلط بات کی مگر عقلمندی تو نائل نے بھی نہیں کی اور میں بھی اس بات پر ہی متفق ہوں وہ زرا جذباتی ہے ویسے اچھی لڑکی ہے،وہ شاید سمجھ رہی ہے کہ ایک زبان کا استعمال کر کے میں ان لوگوں کو تکلیف پہنچا لونگی اور یہی بات اسکی معصومیت کو ظاہر کرتی ہے ورنہ اسکی ماں طرح شاطر ہوتی تو سب کو اپنی طرف مائل کرکے اندر اندر ہی سب کو کھائے جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم کے تجزیے پر وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا جیسے اپنی شرمندگی کو ذائل کرنا چاہتا تھا وہ کبھی بھی ان آدمیوں کو پسند نہیں کرتا تھا جو عورتوں پر ہاتھ اٹھا کر اپنی مردانگی دکھاتے تھے مگر نہ جانے کیوں کیسے وہ آج برداشت نہ کر سکا تھا۔
“اس نے کھانا بھی نہیں کھایا،ردا اور ثمرہ دو دفعہ گئیں بلانے مگر اس نے دروازہ نہیں کھولا،آغا جان پریشان تھے مگر ابراہیم بھائی نے سمجھایا کہ جب اسکا غصہ اترے گا خود کھا لے گی یا نائل کھلا دے گا ،میں کھانا نکالتی ہوں دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے اٹھیں مگر نائل نے انکا ہاتھ پکڑ کر روکا۔
“آپ جا کر آرام کریں آنی،میں خود ہی لے لونگا اگر ضرورت پڑی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب ضرورت پڑی،کیا بھوکا سونے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تعجب سے کہہ اٹھیں۔
“نہیں فلحال موڈ نہیں اور فازیہ تو سو گئی ہے اب اٹھانا مناسب نہیں سمجھ رہا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے جھوٹ پر یقین کرتیں وہ کچن سے نکل گئیں ان کے جانے کے بعد نائل نے کیز باکس سے اپنے روم کی چابی پکڑی اور اپنے روم کی طرف آیا دروازہ کھول کر اس نے آہستہ سے ہی بند کیا اور ایک نظر اپنے کمرے میں دوڑائی جہاں وہ بیڈ پر کمبل تانے سوئی ہوئی تھی نائل گہرا سانس بھرتا موبائل اور والٹ ٹیبل پر رکھتا واش روم میں گیا وہاں سے فریش ہوتا جب باہر آیا تو فازیہ کو اٹھتے پایا جو یقیناً کھٹکے سے اٹھی تھی ۔
“تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو،نکلو باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی طرف کشن اچھالتی چیخی تھی نائل نے کشن کو تھام کر صوفے پر رکھا تھا اور نظریں اس پر جمائیں جسکی سرخ آنکھیں اس بات کی گواہ تھیں کہ رونے کا پروگرام کافی دیر تک چلتا رہا تھا۔
“تم مجھے میرے ہی روم سے نکالنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں کیونکہ اب یہ میرا روم ہے،اس لیے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ،مجھے تمہارے اس خاندان سے تمہاری مکار ماں سے اور تم سے نفرت ہے تم سب کی شکلیں بھی میں دیکھنا نہیں چاہتی،آج سے پچیس سال پہلے یہی کچھ میری ماں کے ساتھ کیا گیا،ان عورتوں نے میری ماں پر بہتان لگا کر پاپا سے طلاق دلوائی وہ بھی زبردستی وہی اب کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ خاندان ہے ہی ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا سارا غبار نکال رہی تھی اس لیے نائل بس خاموشی سے سنتا رہا۔
“میں ہی غلط تھی مجھے مما نے روکا بھی تھا کہ ان لوگوں کے درمیان مت جاؤ یہ کسی کے سگے نہیں یہ ایسے ہی ڈستے ہیں مگر میں نے انکی بات نہیں مانی جسکی سزا اس صورت میں مجھے مل گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے اپنے دائیں گال پر بنے نشان کی طرف اشارہ کیا جس پر نائل نے لب بھینچ لیے۔
“کیا مجھے بولنے کا موقع دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے قریب آیا تھا جو اٹھ کھڑی ہوئی۔
“مجھے تھپڑ مارنے سے پہلے بھی کیا ایسے اجازت لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنز بولی
“تم نے بات غلط کی تھی،میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مما کے بارے میں کوئی غلط بات مت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تمہاری ماں میری ماں کے ساتھ غلط کر لے ٹھیک میرے ساتھ غلط کرے ٹھیک مگر میں ان کے بارے میں کچھ نہ کہوں؟میں نے کونسا کوئی جھوٹ بولا تھا تمہاری ماں کی اصلیت ہی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی بدتمیزی کو تحمل سے اپنے حلق سے اتارا تھا۔
“میری آواز کو روک کر کیا تم اپنی ماں کے کرتوت۔۔۔۔۔۔۔”
“تم۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے آگے بڑھتے ہوئے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ جما کر اسے کچھ فضول گوئی سے روکنے کی کوشش کی تھی فازیہ نے اپنے منہ پر رکھے اس کے ہاتھ کو پیچھے کرنے کی تگ و دو کی مگر بے سود کیونکہ نائل اس کے دونوں ہاتھ اپنے قابو میں کر چکا تھا اس کشمکش میں دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ چکے تھے۔
“تمہاری یہ زبان ہی اس طرح کا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے ورنہ مجھے وہ مرد زہر لگتے ہیں جو بیوی پر ہاتھ اٹھائیں مگر تم نے مجھے نہ صرف مجبور کیا بلکہ بابا، آغا جان اور آنی کی نظروں میں بھی شرمندہ کروایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے کہنے پر وہ تلملائی اور اسکا ہاتھ پیچھے کرنے کے لیے اسکی گرفت میں پھڑکنے لگی جو بلاشبہ اس سے زیادہ طاقتور تھا۔
“یقین کرو یوں خاموش بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے مسکراتے ہوئے اسکی بے بسی کو دیکھا جو اسکی گرفت میں مچھلی کی طرح مچل رہی تھی۔
“اچھا صوری،مجھے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئیے تھا،اب تم بھی صوری کرو کہ تمہیں مما کے بارے ایسے بولنا بھی نہیں چاہئیے تھا۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا مگر اس کے ہاتھ ابھی بھی آزاد نہیں کیے تھے۔
“صوری مانگتی ہے میری جوتی ،میرے ہاتھ چھوڑو نائل ورنہ کاٹ لونگی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ غصے سے چبا کر بولی نائل نے اپنا چہرہ اس کے قریب کیا تھا اگر وہ جلدی سے پیچھے نہ ہٹتی تو پکا اس کے چہرے کے ساتھ اپنا چہرہ ٹچ کروا لیتی۔
“کاٹنے کی اجازت ہے مگر فضول بولنے کی نہیں،اس لیے پھر سے کہہ رہا ہوں جو مرضی کرو جیسے بھی لڑنا چاہو لڑو مگر میری مما کے بارے کوئی بیہودہ بات میں برداشت نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے ۔
“اور تمہاری ماں نے جو کیا وہ؟تم نے اگر آیندہ مجھ پر ہاتھ اٹھایا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔”وہ انگلی اٹھا کر وارن کرنے لگی جس پر نائل کی انا جاگی تھی۔
“تو کیا کر لو گی؟کب سے پیار سے بات کر رہا ہوں اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ پیار سے بات کر رہے تھے تم؟اسے پیار کہتے ہیں تمہیں کیا پتہ بیوی سے پیار کرنا کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو منہ میں آیا بول گئی نائل نے اپنی پر شوق نظریں اس پر جمائیں۔
“مجھے تو پتہ ہے بیوی سے پیار کیسے کیا جاتا ہے تم بتاؤ تمہیں شوہر کی عزت کیسے کی جاتی ہے پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
“شوہر عزت کروانے کے قابل تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سیم بیوی بھی پیار کے قابل تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی بات اسے ہی پلٹائی جس پر وہ اپنے چہرے کا رخ موڑ گئی۔
“کھانا کھانے کا موڈ ہو تو کچن میں چلے جانا،میں تو سونے لگا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بولتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا فازیہ نے گھور کر دیکھا تھا۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
“جنگلی بلی۔۔۔۔۔۔۔۔”صبح جب وہ اٹھا تو فازیہ کو نیند میں اپنے قریب لیٹے دیکھ کر بولے بنا نہ رہ سکا کچھ پل اسے دیکھنے کے بعد وہ اٹھ کر فریش ہوا آج اسکی پریزٹیشن تھی اس لیے یونی جانے کی جلدی میں وہ تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا۔
“گڈ مارننگ آغا جان۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے خاص انکو مخاطب کیا جو سر ہلا گئے نائل نے انکی خاموشی پر ان کے قریب آ کر انکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھکا۔
“بہت معذرت،آپکی پوتی سے بھی کر چکا ہوں ،آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات پر جہاں آغا ہاشم نے خوشدلی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ابراہیم آفندی مسکرائے تھے وہی رخسار بیگم اور علیشہ جیسے جل کر رہ گئیں۔
“اس دو ٹکے کی لڑکی سے تم معافی مانگتے رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کا لہجہ گرم تھا۔
“رخسار۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے انکو باز رہنے کا اشارہ کیا ۔
“مما میں نے جو کیا وہ غلط تھا اسکی صوری کرنا فرض تھا کیونکہ میری تربیت مجھے گوارا نہیں کرتی ایک عورت پر ہاتھ اٹھا کر مرد بنا گھومتا رہوں،جہاں تک آپ کے متعلق ہے وہ اس نے غلط کیا جس پر میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے معذرت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے بردباری سے کہنے پر آغا ہاشم نے فخر سے اپنے پوتے کی طرف دیکھا تھا اور رخسار بیگم کا پھولا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اپنے سپوت سے ناراض ہو چکی ہیں۔
“آؤ بیٹھو،فازیہ کو بھی لے آتے۔۔۔۔۔۔۔۔”ردا بھابھی نے اس کے آگے لوازمات رکھنے شروع کیے۔
“وہ سوئی ہے،رات کی بھوک ہڑتال ہے اسکی ،میں چلتا ہوں چلو عامر۔۔۔۔۔۔۔”وہ ردا بھابھی کو جواب دیتا عامر سے کہتا ہوا چلا گیا اس نے رخسار بیگم کو اگنور کیا تھا جس پر وہ طیش میں ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ کر اس کے پیچھے پورچ میں آئی تھیں۔
“کیا اس کے لیے تم بھی بھوک ہڑتال کرنا شروع ہو گئے ہو،اتنی عزیز کب سے ہوگئی تمہاری بیوی۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے بیوی پر زور دیا نائل نے تاسف سے اپنی ماں کو دیکھا ۔
“مجھے اس طرح کے گھریلو فساد شروع سے ہی زہر لگتے ہیں آپ کیا ساس بہو کے سیریل کی طرح ری ایکٹ کرنا سٹارٹ ہو گئی ہیں،میں نے رات کو فاسق کے ساتھ کافی ہیوی ڈنر کیا تھا جس وجہ سے ابھی فلحال کچھ بھی کھانے کا موڈ نہیں اور کافی مجھے اپنی یونی کے کیفے سے پینی ہے،جہاں تک اسکی بات ہے تو مما اسکے الفاظ غلط تھے میرا ہاتھ اس لیے ہی اٹھا مگر مجھے یوں ایک عورت پر ہاتھ اٹھانے کی تربیت آپ نے نہ دی ہے اور مجھے امید ہے کہ نہ آپ کبھی ایسا کرنے کی حمایت کریں گی،شام کو ملاقات ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکی پیشانی چومتا چلا گیا۔
“حمرہ فازیہ کا ناشتہ لے کر میرے ساتھ آؤ،وہ ناراض ہے اس لیے میں خود منانا چاہتا ہوں اسے۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم اٹھتے ہوئے حمرہ سے کہتے فازیہ کے کمرے کی طرف بڑھے جس پر رخسار بیگم نے ناگواری ہنکارہ بھرا تھا۔
“اسکو سر پر چڑھانے کی فل تیاری ہے آغا جان کی،نائل کو بھی آغا جان نے ہی معافی کا کہا ہوگا۔۔۔۔۔۔”علیشہ اپنی خالہ سے کہہ گئی جس پر انہوں نے فلحال کے لیے خاموشی اختیار کی تھی۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
فازیہ جو ابھی اٹھ کر واش روم گئی تھی دروازے پر نوک ہونے سے وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی جہاں آغا ہاشم اور پیچھے ٹرے میں ناشتہ رکھے حمرہ کو دیکھ کر وہ لب بھینچ گئی۔
“ہم نے سوچا آج اپنی بیٹی کا ناشتہ خود لے کر جاتے ہیں،آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکے بلانے پر وہ صوفے پر آ بیٹھی حمرہ ناشتہ ٹیبل پر رکھتی خود چلی گئی۔
“چلو شروع کرو۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے کہنے پر وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کر ناشتہ شروع کر گئی۔
“رات کو تم کمرے سے باہر نہیں نکلی،کھانا بھی نہیں کھایا،مجھے اندازہ ہے تم بہت ناراض ہوگی وجہ بھی تو ناراضگی والی ہی تھی اس لیے میں نائل کی طرف سے معذرت کرتا ہوں،وہ نالائق بھی ہمیں بتا کر گیا ہے کہ اس نے تم سے معافی مانگی ہے۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کی بات پر وہ چونکی رات کو وہ یہی سمجھی تھی کہ اس نے جیسے آغا ہاشم کے کہنے پر ہی فرض ادا کیا ہوگا مگر اب یہ بات کہ اس نے سب کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا ہے یہ بات اسے اچھی لگی تھی خاص کر کے رخسار بیگم کے تاثرات کا اندازہ وہ بن دیکھے ہی لگا سکتی تھی۔
“تم ہم سب کو قصوروار سمجھتی ہو مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،میں جانتا ہوں اس وقت میں جو کچھ بھی کہونگا تم سب جھوٹ تصور کرو گی اس لئے میں خاموش ہوں مگر ایک بات تمہارا باپ تم سے بہت پیار کرتا تھا ہادیہ اور سعد سے بھی زیادہ بہت تڑپا ہے میرا بچہ تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔”
“اس لیے انہوں نے ہر دفعہ مجھے ملنے کے بجائے صرف میرا خرچ بھیجا وکیل کے ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کہے بنا نہ رہ سکی
“ایسا نہیں ہے،وہ ملنا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پلیز آغا جی،میں آپ سے بحث نہیں چاہتی ہوں ،نہ جانے کیوں چاہنے کے باوجود بھی میں آپ سے بدتمیزی نہیں کر پاتی شاید آپ میرے باپ کے والد ہیں یا کچھ اور،اس لیے میں نہیں چاہتی کہ میرے منہ سے کچھ غلط نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سپاٹ انداز پر آغا ہاشم نے گہرا سانس بھرا۔
“ٹھیک ہے جیسے تم خوش،پر ایک بات یاد رکھنا تم جو چاہو گی ملے گا،جیسا چاہو ویسا ہو سکتا ہے مگر اس گھر سے دور جانے سے پہلے ایک دفعہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرنا ،ناشتہ کرکے باہر آ جانا چیس کی ایک باذی لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر چلے گئے ۔
“حقیقت کو جان کر ہی اس گھر میں آئی تھی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے بولی۔
پھر کچھ منٹ بعد وہ روم سے باہر نکلی اور صدف کو کمرے کی صفائی کا بول کر ہال میں آ کر بیٹھ گئی جہاں ہادیہ اور سعد بیٹھے تھے شاید آج انکا سکول سے آف تھا۔
“نکلو یہاں سے،تم دونوں زہر لگتے ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے شعلے برساتی نگاہوں سے دونوں کو دیکھا جس پر دونوں ہی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگے اور راحیلہ بیگم سب دیکھتیں خاموشی سے پلٹ گئیں۔
“ابھی بھی تمہاری اکڑ ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کچن سے نکلتیں کچھ جتا گئیں۔
“اکڑ تو آپ کی ختم کرنے آئی ہوں میں،زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں آپ نے سن تو لیا ہوگا کہ آپکا بیٹا کیسے معافیاں مانگتا رہا ہے رات بھر اور آپ کے سسر کیسے منتیں کرکے ناشتہ کروا کے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے بھی جوابی وار کرنا مناسب سمجھا تھا رخسار بیگم کا سینہ جل کر راکھ ہوا تھا۔
“اگر وقتی اہمیت مل گئی ہے تو اس میں اترانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ آنے والا وقت اچھے سے بتا دے گا کہ یہ میری وقتی اہمیت ہے یا آپکی خام خیالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ایک ادا سے مسکرائی تھی
“تم تو مجھ سے نفرت کرتی ہو پھر نائل کو کس بنا پر اپنے قریب کرنے کی کوششیں کرتی پھر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟رخسار بیگم تپ کر پوچھنے لگیں جو کھل کر مسکرائی تھی جیسے لطف لے رہی ہو انکی بے بسی پر ۔
“شوہر ہے وہ میرا ،اسے قریب نہیں کرونگی تو کسے کرونگی،ویسے آپکی جیلسی تو بنتی ہے اور آگ تو رات کو لگے گی جب وہ مجھے ڈنر پر لے کر جائے گا اپنے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکو تنگ کرنے کے لیے اپنے پاس سے ہی بات کر گئی مگر انکا خون تو کھول چکا تھا ۔اس کے جانے کے بعد انہوں نے علیشہ کو نائل کو کال کرنے کا کہا تھا۔
“اسے بولو کہ تم اس کے ساتھ آج باہر جانا چاہتی ہو ویسے بھی وہ اتنے دن سے تمہیں ٹال رہا تھا کہ پریزیٹیشن سے فری ہو جائے،اب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے کہنے پر علیشہ نے ویسے ہی نائل کو بولا تھا۔
“یار ابھی گھر تو آ لینے دو،کپڑے چینج کرکے ہی جاؤنگا میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے جلدی سے آؤ میں تیار ہو رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے تحکم بھرے لہجے میں کہا اور کال بند کر کے رخسار بیگم کو وکٹری کا نشان دکھایا جس پر وہ خوش ہوئیں ۔۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
پھر وہی ہوا اس کے آتے ہی علیشہ نے جلدی جلدی کا شور یوں مچایا کہ نائل کو نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے میں آ کر جلدی تیار ہونا پڑا۔
“کہاں جانے لگے ہو۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ جو تب سے اسے تیز تیز ہاتھ چلاتے دیکھ رہی تھی پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
“تمہیں بتانا ضروری تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے جیل لگا کر بالوں کو سیٹ کیا۔
“حالانکہ مجھے ہی بتانا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔”وہ اس کی مکمل تیاری کی طرف دیکھتے بولی جو اب وائٹ شرٹ پر بلیک جیکٹ پہن رہا تھا۔
“ضروری تو اور بھی بہت کچھ ہے مگر تم سے کیا بحث کرنا اس وقت۔۔۔۔۔۔۔”وہ واچ کو پہنتا اب موبائل پکڑ رہا تھا فازیہ نے کچھ سوچتے ہوئے باہر نکل کر دیکھا جہاں علیشہ نک سک سے تیار یقیناً نائل کا ہی انتظار کر رہی تھی فازیہ کو ایک منٹ لگا تھا ساری سیچویشن سمجھتے ہوئے وہ اندر کمرے میں آ کر دروازہ لاک کر گئی اور کل رات والی کیز پکڑ کر بیڈ پر چلی گئی۔
ان سب حرکتوں سے لاپرواہ نائل نے ایک نظر مرر میں خود کو دیکھا اور دروازے کی طرف بڑھا مگر یہ کیا دروازہ تو بند تھا۔اس نے لاک کی طرف دیکھا دوسری نظر فازیہ پر پڑی جو ایک پیر جھلاتی بیڈ پر براجمان تھی ۔
“اب یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔۔۔۔۔”وہ ناگواری سے بولا۔
“کونسا۔۔۔۔۔۔؟اس نے لاعلمی سے کندھے اچکائے
“اس ڈرامے کا مقصد جان سکتا ہوں اب۔۔۔۔۔۔؟وہ موبائل کی طرف دیکھتا بولا جہاں علیشہ کی کال آ رہی تھی۔
“جو نیچے ڈرامہ ہو رہا ہے اسکا تم نے مجھے بتایا تھا جو میں بتاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ لاپرواہی سے کہنے لگی ۔
“مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ علیشہ سے تمہیں پرابلم کیا ہو رہی ہے،تم تو اس رشتے کو کچھ سمجھتی ہی نہیں ،مجھے شوہر مانتی نہیں تو پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سنجیدہ ہوا تھا جبکہ وہ لاجواب ۔
“جب تک شوہر ہو تب تک میں نہیں چاہتی کہ کوئی خوش ہوتا پھرے۔۔۔۔۔۔”
“کسی کو نیچا دکھانے کے لیے یہ حرکت بہت نامناسب ہے،کیز دو مجھے جلدی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کی طرف بڑھا
“میں کبھی نہیں دونگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی دو ٹوک بولتی اسے غصہ دلا گئی نائل بے جارحانہ تیور لیے اسکی طرف قدم بڑھائے تھے جو جلدی سے بیڈ پر چڑھتی پیچھے کو کھسکی نائل نے جھکتے ہوئے اس کے ہاتھ کو پکڑنے کی کوشش کی جو ہاتھ اوپر کو اٹھا گئی جسے پکڑنے کے لیے نائل اس کے انتہائی قریب آیا تھا۔
“میں کہہ رہا ہوں مجھے کیز دو۔۔۔۔۔۔۔”آخری دفعہ وارن کیا گیا تھا مگر اس کے سر نفی میں ہلانے پر نائل نے اسکی کمر سے پکڑ کر اسے قابو کیا تھا اور ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا نائل کی گرفت میں وہ بڑی طرح مچلی تھی نائل نے کیز اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے فاتحانہ نظروں سے دیکھا جو کہ گھور رہی تھی۔
“مجھ سے مقابلہ کرنے کا سوچا بھی نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا جو کہ اپنا آپ چھڑوانے کے چکر میں اس کے اتنے نزدیک آ گئی جہاں سے نائل کو واپسی مشکل لگی تھی اسکی نظروں سے ایک عجیب سے روشنی پھوٹی تھی جسے دیکھتی فازیہ نظریں جھکا گئی اور یہی شاید اس سے غلطی ہوئی تھی کیونکہ نائل جسکی نظریں پہلے ہی بہک رہی تھیں وہ خود بھی بہکتا اس کے چہرے پر جھک گیا تھا۔
فازیہ تو اس کے لمس پر کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی طرح ساکت ہوئی تھی جو پوری شدت کے ساتھ اس جھکا وہ چرا رہا تھا جس پر اسکا ہی حق تھا فازیہ بجائے روکنے کے دم سادھے اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ گئی۔