Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

فازیہ کو کافی گہرا کٹ لگا تھا اس لیے ڈاکٹر نے سٹچیز کر کے اور کچھ میڈیسن دے کر اسے گھر بھیج دیا وہ سر پر پٹی باندھے جب نائل کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوئی تو جلن کی آگ علیشہ کا تن من جلا گئی وہ جو کچھ دیر پہلے گلٹی فیل کر رہی تھی اب خود کو حق پر سمجھنے لگی۔
“دیکھا کیسے موقعے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ رخسار بیگم سے بولی۔
“اور اسے یہ موقع فراہم کرنے والی تم ہو،یہ بھی یاد رکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس پر برہم ہوئیں جو آگے سے ممنا کر رہ گئی۔
“نائل کو دیکھیں کیسے اٹھا کر لے گیا اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے رہ رہ کر نائل پر غصہ آ رہا تھا جو کچھ بدلا بدلہ سا لگ رہا تھا۔
“نائل اس معاملے میں بہت نرمی دکھا رہا ہے ،پتہ نہیں یہ جائے گی کب اس گھر سے ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی جیسے اس سب سے تھک چکی تھیں ۔
نائل نے فازیہ کو بیڈ پر بٹھا کر اسکی میڈیسن سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور خود تھوڑے فاصلے پر ٹک گیا نظریں اس کے چہرے پر ٹکائیں جسکا چہرہ زردی مائل تھا صرف کچھ پلوں میں ہی اسکا چہرہ کملایا گیا تھا۔
“رونے کی کوئی وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی آنکھوں سے جاری برسات کی طرف دیکھ کر پوچھا وہ دیکھ رہا تھا کہ فازیہ وقفے وقفے سے آنسو بہا رہی تھی پہلے تو یہی لگا کہ اسے درد ہو رہا ہے مگر اب ؟
“میرا دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”بھرے بھرے لہجے میں کہتی نائل کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
“تمہارا دل بھی تمہاری طرح پاگل ہے،رونے پر کس کا دل کرتا ہے،اچھا بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنسو صاف کرنے لگی اب وہ کیا بتاتی کہ جب سے اس نے حرا بیگم کی کال سنی تھی اسکا دل ہی بھاری سا تھا ۔
“میں علیشہ کے ساتھ نہ چلا جاؤں اس لیے رو رہی ہو،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل نے جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“میں بھلا کیوں رونے لگی اس بات پر،تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چہرے کا رخ موڑ گئی۔
“تمہیں پتہ ہے کہ ایک دشمن کے لیے سب سے تسکین زدہ پل کونسے ہوتے ہیں؟جب وہ اپنے دشمن کو اپنے سامنے آنسو بہاتا دیکھتا ہے اسکی کمزوری اسے پرسکون کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات پر فازیہ نے نہ سمجھی سے دیکھا ۔
“مگر تمہیں یوں دیکھنا کچھ اچھا نہیں لگ رہا اس لیے رونا بند کرو ورنہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے سوالیہ نگاہ کی
“پھر یہ کہ میں اپنے طریقے سے چپ کروا دونگا،سمجھ تو رہی ہوگی تم ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارتی ہوا جس پر فازیہ نے فقط گھورا۔
“ویسے میں نے کہا تھا کہ مجھے روک لو مگر ایسے روکنے کا نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہارے ہوئے لہجے میں کہتا فازیہ کو خوش کر گیا اس کے پورے وجود میں ایک پرسکون لہر پھیل گئی تبھی دروازے پر دستک ہوئی نائل اٹھ کر کھڑا ہوا اور کمرے میں آتی ثمرہ اور راحیلہ بیگم کو دیکھا ثمرہ کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھا جو اس نے فازیہ کے آگے بیڈ پر رکھا ۔
“یہ تمہارے لیے یخنی اور گرم دودھ ہے،سوپ پی کر دودھ کے ساتھ میڈیسن استعمال کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم نے اسے یخنی کا باؤل پکڑا نے کے لیے ہاتھ آگے گیا جسے ایک نظر دیکھ کر وہ نائل کی طرف دیکھنے لگی جو پوری طرح اس طرف متوجہ تھا مگر چہرہ بے تاثر تھا فازیہ نے باؤل پکڑ لیا۔
“سوپ پی کر میڈیسن کھا لینا اور ریسٹ کرو،دیکھو تو چہرہ کیسے زرد ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”راحیلہ بیگم کے نرمی سے کہنے پر وہ فقط انکو دیکھ کر رہ گئی چاہ کر بھی کوئی ناگواری نہ برت سکی۔
“نائل اسکا دھیان رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے چلی گئیں نائل نے خوشگوار حیرت سے اسکا رویعہ راحیلہ بیگم کے ساتھ دیکھا وہ زیر لب مسکرا دیا۔
“اب لگا ہے مجھے کہ چوٹ واقع تمہارے سر میں لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا بیڈ کے دوسری طرف بیٹھ گیا فازیہ نے بات سن کر اور سمجھ کر بھی اگنور کر دیا۔
*^
علیشہ تیار ہو کر نائل کے کمرے میں آئی دروازہ ناک کیے بنا وہ اندر داخل ہوئی جہاں دونوں بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھے کسی بات پر مسکرا رہے تھے جہاں علیشہ انکو یوں بیٹھے دیکھ کر جل کر خاک ہوئی تھی وہی نائل کے چہرے پر ناگواری صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
“علیشہ تمہیں مینرز کب سے بھول گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“جب سے تمہیں میں بھولنے لگی ہوں؟ویسے بھی یہ میرا ہی کمرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولتی ہوئی اندر آئی اور ایک زہر بھری نگاہ فازیہ پر ڈالی جو کہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“کوئی فضول بات نہیں،تم چلو میں آ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اٹھتے ہوئے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔
“تم تو ابھی تیار بھی نہیں ہوئے؟جلدی کرو،ساتھ دو ڈریس بھی رکھ لینا دو دن فارم ہاؤس پر رکنا ہے ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔”خاص سنایا گیا فازیہ نے جلتی نگاہ سے علیشہ کے مسکراتے چہرے کی طرف دیکھا جیسے اسے سالم ہی نگل جانے کا دل چاہ رہا ہو۔
“تم جاؤ میں آ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”نائل بس اسے یہاں سے بھیجنا چاہ رہا تھا وہ چلی گئی تو نائل نے فازیہ کی طرف نگاہ کی جو بیڈ پر لیٹ کر بازو آنکھوں پر رکھ چکی تھی جیسے ناراضگی کا اشارہ دے گئی ہو نائل زیر لب مسکرایا ان کا رشتہ خوبصورتی سے آگے بڑھ رہا تھا اس موڑ پر آگیا تھا جہاں روٹھنے منانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
“کیا نیند آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے استفسار کیا مگر دوسری طرف سے گہری خاموشی ملی۔
نائل کپڑے نکال کر واشروم میں چلا گیا جب دس منٹ بعد تیار ہو کر آیا تب بھی اسے اسی حالت میں لیٹے پایا نائل کے سینے میں جیسے کوئی بوجھ سا بڑھ گیا وہ علیشہ کے ساتھ نہ جا کر اپنی مما کو مزید ناراض کرنے کا رسک نہئں لے سکتا تھا اور اس کے ساتھ جانے کا بھی دل نہیں تھا شاید فازیہ کے خیال سے؟
“تمہاری میڈیسن یہ پڑی ہیں انکو یاد سے کھا لینا ،آنی اور ثمرہ تمہارا خیال رکھیں گئیں،کل رات تک ملاقات ہوتی ہے بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اس کے قریب آتا بولنے لگا مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی مگر نائل جانتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے اور اسکی بات نہ صرف سن چکی تھی بلکہ اندر ہی اندر بل کھا کر بھی رہ گئی۔
نائل اس کے کسی بھی رسپونس کو نہ پاکر گہرا سانس بھرتا موبائل اور والٹ پکڑتا کمرے سے باہر نکل گیا فازیہ کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“بھاڑ میں جائے میری طرف سے،مجھے کیا پرواہ ؟میں کونسا یہاں رہنے آئی ہوں بس بہت ہو گیا مجھے نہیں رہنا یہاں،میں چلی جاؤنگی کل ہی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو جیسے باور کروانے لگی مگر تکلیف اتنی ہوئی کہ آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جن کو بے دردی سے صاف کیا۔
“یہ خاندان ہے ہی ایسا،میری ماں کو بھی یہاں اذیت دی گئی اور مجھے بھی دی جا رہی ہے،مجھے کیوں پروا ہو رہی ہے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طیش میں آ کر سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارتی ساری دوائیاں نیچے گرا گئی کشن اور تکیے پکڑ کر نیچے پھینک دئیے مگر دکھ اور غصہ ایک ساتھ حملہ آور ہوئے تھے کیسے اتنی جلدی سکون آ جاتا!؟
~~~~~~~~
“رات ہونے والی ہے اس لیے آرام سے جانا،جلدی پہنچنے کے لیے تیز گاڑی مت چلانا نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کی نصیحتوں پر وہ فقط سر ہلا گیا ورنہ اسکا سارا دھیان اپنے کمرے میں بیٹھی ہستی کی طرف تھا ۔
“چلیں۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کے کہنے پر وہ رخسار بیگم کو خدا حافظ کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا علیشہ کے بیٹھنے پر اس نے گاڑی پورچ سے ریورس کر کے نکالی اور پھر گاڑی لمبی تارکول پر فراٹے بھرتی چلنے لگی۔
“خالہ جانی نے کہا تھا گاڑی تیز مت چلانا اور تم۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ اتنی سپیڈ میں گاڑی چلاتے دیکھ کر بولے بنا نہ رہ سکی۔
“پہلے کونسا تمہاری خالہ جانی کی ہر بات پر تم نے عمل کرنے کا کہا ہے،ڈر لگ رہا ہے تو بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بنا دیکھے کہا جس پر وہ فورا سر نفی میں ہلا گئی حالانکہ وہ ہر طرف رات کی تاریکی پھیلی دیکھ کر فل سپیڈ سے گھبرا گئی تھی ۔
ڈھائی گھنٹے کا سفر نائل نے پونے دو گھنٹے میں طے کر لیا تھا علیشہ جو سارا راستہ اسکا سپاٹ چہرہ جانچتی نظروں سے دیکھتی آئی تھی اسے گاڑی فارم ہاوس کے باہر ہی روکے دیکھ کر بولے بنا نہ رہ سکی۔
“گاڑی یہاں کیوں روک دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم جاؤ تمہاری منزل آگئی ہے،مجھے کہیں اور جانا ہے،کل رات کو عامر تمہیں پک کر لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا؟تم میرے ساتھ اندر نہیں جاؤ گئے؟کیا اس دو ٹکے کی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شٹ اپ علیشہ،جو کہا ہے وہ کرو،اترو نیچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے غصے سے اسے گھورا وہ اس کے تیوروں سے خائف ہوتی گاڑی سے اتر گئی کیونکہ آگے سے اسکی دوست اس کے قریب آ چکی تھی اور وہ کوئی تماشہ نہیں بنانا چاہتی تھی۔
نائل نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے گاڑی کو سٹارٹ کیا اور زن سے اس کے پاس سے بھگاتا لے گیا جو اب رخسار بیگم کا نمبر ملانے لگ پڑی تھی۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ جب گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے ہال میں داخل ہوا تھا تب رات کے دس بج رہے تھے سب اپنے اپنے کمروں میں تھے نائل رخسار بیگم کے کمرے کی طرف دیکھتا آگے بڑھ گیا اسے اندازہ تھا کہ علیشہ سب سے پہلے انکو ہی کال کرے گی اور وہ اس سے بازپرس کرنے کے لیے ہال میں ہی موجود ہونگیں مگر اس وقت انکو نہ پا کر وہ پرسکون ہوتا اپنے کمرے میں آیا جہاں کمرے میں بکھری دوائیاں اور کشنز اس بات کا ثبوت تھے کہ اس کا جانا فازیہ کو شدید ناگوار گزرا تھا ۔
نائل مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا جو کروٹ کے بل سوئی ہوئی تھی نائل نے جوتا اتارا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اسکو اٹھانے کا ارادہ کرتا اس کے قریب ٹک گیا اور ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا وہ نیند میں ہی کسمکسا کر سیدھی ہوگی ڈوپٹہ اسکا سائیڈ پر پڑا تھا اور وہ یوں پہلی بار بغیر ڈوپٹے کے اس کے سامنے تھی کہ نائل اسے بڑے دھیان سے دیکھ سکتا تھا اور وہ دیکھ بھی رہا تھا۔
“اٹھ جاؤ لڑکی ،مجھے اتنا بے چین کر کے خود آرام سے سو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے جھک کر اس کے کان میں سر گوشی کی پھر اسکا ناک دبایا جس پر وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور نائل کو روبرو دیکھ کر چونکی جو مسکرا رہا تھا ۔
“تم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیران ہوتی ٹائم دیکھنے لگی جو چار سے پانچ گھنٹوں کے بعد اس کے پاس تھا۔
“مجھے تو لگا کہ مجھے جاتا دیکھ کر تم غصے سے کمرے میں چکر کاٹ رہی ہوگی مگر تم تو بڑے پرسکون انداز میں سوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس پر چوٹ کی جو اب اٹھنے لگی تھی مگر نائل نے اس کے دونوں طرف ہاتھ جما کر اسے اٹھنے سے روکا۔
“میں کیوں غصے ہونے لگی بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئی تھی مگر خوشی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“اوہ تو کیا میں فضول میں اتنا سفر کر کے آیا ہوں،الٹا علیشہ کو بھی ناراض کیا اور مما بھی شاید ہی بات کریں اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مصنوعی غصے سے دیکھنے لگا جو مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
“اوکے ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا،میں ابھی چلا جاتا ہوں ،علیشہ تو مجھے دیکھ کر خوش ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے اس کے ارد گرد سے بازو ہٹائے اور پیچھے ہونے لگا کہ فازیہ بے اختیار اس کی شرٹ پکڑتی اسے اپنی طرف گھینچ گئی جو اس کے انتہائی قریب آ گیا تھا نائل نے اسکی حرکت سے محفوظ ہوتے ہوئے مسکراتی نظروں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو پلکوں کی چلمن گراتی اسکی ساری توجہ حاصل کر گئی۔
“تم پر فرض ہے اب شکریہ ادا کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے دھیمے لہجے میں بولتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے رخسار تپ رہے تھے نائل نے نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھے اس پرکیف لمس سے دونوں کے اندر جیسے کوئی برقی سی پھیل گئی۔
“کچھ ایسا جو مجھے خوش کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اب اس کی آنکھوں پر آیا ۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے اس کے سینے پر ہاتھ جما کر اسے جیسے باز رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں ان لمحوں کی گرفت میں آ کر کمزور نہ پڑ جائے مگر نائل اس کے لبوں سے اپنا نام سن کر جیسے نثار ہوتا اس کے لبوں کو چھو گیا فازیہ کے پورے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا وہ اس جان لیوا قرب پر مچل کر رہ گئی۔ وہ دونوں ہی جذبات میں بہنے لگے ایک دوسرے میں پوری طرح گم ہوتے وہ ہر بات ہر چیز کو سائیڈ پر رکھ گئے فازیہ اس کی پیار بھری شرارتوں اور حرکتوں پر خود میں سمٹی جا رہی تھی جب وہ اس کے انتہائی قریب آتا اسکی راہ فرار کے سارے راستے بند کر گیا فازیہ بھی خود سپردگی کے عالم میں اس کے بنا شرٹ کے سینے پر ہاتھ رکھ گئی جو اپنی پوری شدتیں لٹاتا اسے خود سے لگا گیا۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
صبح جب نائل کی آنکھ کھلی تو صبح کے نو بج رہے تھے اس نے اپنے قریب سوئی فازیہ پر پیار بھری نظر ڈالی جو اسکی شرٹ میں ملبوس گہری نیند میں تھی نائل نے جھک کر اسکا ماتھا چوما اور آہستہ سے اٹھ گیا جب دس منٹ بعد وہ فریش ہو کر ٹرازر شرٹ میں باہر آیا تب بھی وہ ویسی ہی سوئی پڑی تھی۔
نائل بھوک کے خیال سے کمرے سے باہر نکلا اس نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا اس لیے کافی کی طلب اسے کچن میں لے آئی جہاں رخسار بیگم اور راحیلہ ناشتہ بنانے میں مصروف نظر آئیں۔
“گڈ مارننگ مما اینڈ آنی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بلند آواز میں کہتا ہوا فریج کے پاس آیا وہ ترچھی نظروں سے دیکھ چکا تھا کہ آنی نے خوشدلی سے جواب دیا تھا جبکہ رخسار بیگم خاموش اپنے کام کی توجہ رہی تھیں وہ انکا ناراض چہرہ دیکھ چکا تھا۔
“تم تو علیشہ کے ساتھ گئے تھے نائل؟کیا واپس آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟راحیلہ بیگم نے پوچھا۔
“جی آنی،وہ کچھ کام تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رخسار بیگم کو دیکھتا مدھم لہجے میں بتانے لگا۔
“اس سے پوچھو کہ کونسا ایسا ضروری کام تھا اسکا؟جو علیشہ کو بیچ سڑک پر اتار کر آ گیا،آخر یہ چاہتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم غصے سے پلٹ کر بولیں۔
“مما پلیز،ایسے بات مت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیسے بات کروں یہ ہی بتا دو،یا بات ہی نہ کروں؟تمہاری بیوی تو یہی چاہتی ہے کہ نہ تم مجھ سے بات کرو اور نہ میرا کہنا مانو،وہ پہلے دن سے ہی تمہیں حاصل کرنے کے لیے اس گھر میں آئی تھی اسکا مقصد صرف ابراہیم آفندی کے بیٹے کو اپنے قابو میں کر کے اس گھر سے لے کر جانے کا تھا اور اس مقصد میں وہ بہت اچھے سے کامیاب بھی ہو رہی ہے،ارے ایک چھوٹی سی چوٹ کیا لگ گئی میرا بیٹا تو دیوانہ ہی ہو چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم شاید رات کی بہت بھری بیٹھی تھیں جو کچھ علیشہ نے بتایا یا پڑھایا تھا سب کچھ باہر آ رہا تھا راحیلہ بیگم نے پریشانی سے نائل کو دیکھا جو لب بھینچے ہوئے تھا ۔
“آپا کیا ہو گیا ہے؟نائل کو اس طرح پریشان مت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور جو اس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے وہ؟اتنے دنوں سے یہ علیشہ کی ہر بات پر انکار کر رہا تھا کل اس کے ساتھ گیا بھی تو چھوڑ کر آ گیا اسے ،اب وہ ناراض ہو کر واپس گھر چلی گئی ہے اور یہی کہا ہے کہ تب ہی بات کرے گی جب یہ اس ناگن کو طلاق دے گا جو ہم سب کی خوشیاں ڈسنے آ گئی ہے،کاش کل کی چوٹ سے کچھ ماہ کومے میں ہی چلی جاتی کچھ تو سکون۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئم صوری مما،میں آپکی بات کاٹ رہا ہوں مگر آپ زیادہ بول رہی ہیں بس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بس یہی تک ہی برداشت کر سکتا تھا ۔
“تو کیا غلط کہہ رہی ہوں میں؟تم اس بے غیرت لڑکی کے لیے ہی آئے ہو نہ واپس ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ راحیلہ بیگم کے اشارے پر بھی باز نہ آ رہی تھیں ۔
“جی میں اسی لڑکی کے لیے ہی واپس آیا ہوں اس لیے کہہ رہا ہوں آپ سے کہ بس کریں ،میں اگر اسکی زبان سے آپ کے خلاف کچھ نہیں سن سکتا تو میں آپکو بھی اجازت نہیں دونگا کہ آپ اس کے بارے اتنے گھٹیا الفاظ استعمال کریں،آپ میری مما ہیں آپکا ہر حکم سر آنکھوں پر ،مگر پلیز ایسی باتیں مت کیجئے کہ مجھے آپکی بات کاٹنی پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھیمے مگر مظبوط لہجے میں کہتا کچن سے نکلتا چلا گیا رخسار بیگم نائل کے انداز دیکھ کر حیران ہی رہ گئیں۔
“تم نے دیکھا؟اس کے انداز دیکھو کہہ رہا ہے کہ میں اس کے خلاف کچھ سن نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔”
“آپا پلیز آپ برداشت سے کام لیں،آپ نائل کو بولنے پر مجبور کر رہی ہیں،کبھی اسکی بھی سن لیا کریں ،ہو سکتا ہے اسکا دل نہ ہو وہاں رکنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سن لی میں نے اسکی،بس اب بہت ہو گیا اب کچھ دنوں تک طلاق ہو گی یا میں اس گھر میں ،بہت ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ کر حتمی فیصلہ کر گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭