No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
قسط نمبر پانچ
رات کو ڈنر پر بھی فازیہ کو علیشہ کے بناوٹی لہجے اور مغرور انداز دیکھنے کو ملے تھے ساتھ نائل کے پاس بیٹھتی وہ جس لگاؤ کا اظہار کر رہی تھی فازیہ کو سب برداشت کرنا مشکل رہا تھا کیونکہ وہ دیکھ رہی تھی کہ یہ سب صرف اسے جلانے اور دکھلانے کے لیے تھا مگر فازیہ کو اسکی کوئی پرواہ نہ تھی ۔
“میں کونسا اس شخص کے ساتھ ساری عمر رہنے کے لیے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو باور کرواتی ایزی ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر ہو نہ پا رہی تھی کیوں ؟یہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
“منزہ نے کال کی تھی مجھے،کہہ رہی تھی کہ بھابھی نے منع کر دیا ہے دعوت کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے رخسار بیگم کی طرف سوالیہ دیکھا تھا۔
“جی،اور وجہ آپ جانتے ہیں یہ نکاح وقتی ہوا ہے تو کس خوشی میں ہم یہ دعوتیں اٹینڈ کرتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر لوگوں کو یہ سب نہیں پتہ ہے اس لیے ہمیں خیال کرنا چاہئیے اس بات کا،منزہ کی دیورانی بار بار اس سے استفسار کر رہی ہے کہ تم نے ابھی تک نائل اور فازیہ کو دعوت پر کیوں نہیں بلایا،وہ کب سے ٹال رہی ہے بہانے بنا بنا کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر میں اس حق میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے دو ٹوک انداز پر آغا ہاشم نے ابراہیم آفندی کی طرف دیکھا تھا جنہوں نے باپ کی آنکھوں کی زبان سمجھتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔
“میرے خیال میں ان دونوں کو اسلام آباد بھیج دینا چاہئیے چلو دعوت کی دعوت اور گھوم پھر بھی لیں گئے ۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے رخسار بیگم کو مکمل نظر انداز کیا مگر اپنے چہرے پر پڑتی انکی نظروں کی تپش سے وہ بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے کہ انکو یہ بات کس قدر ناگوار گزری تھی۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو ،نائل تم کیا کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے خوشدلی سے نائل سے پوچھا جو سب سے انجان بنا کھانا کھا رہا تھا ۔
“دو سے تین دن تو میں یونی سے آف نہیں لے سکتا کیونکہ پریز ٹیشن ویک چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے پھر نیکسٹ ویک کی تیاری کر لینا،راحیلہ تم منزہ کو اطلاع دے دینا کہ نائل اور فازیہ ہفتے کی رات تمہارے پاس پہنچ جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے راحیلہ بیگم سے کہا اور ایک نظر سپاٹ چہرہ لیے رخسار بیگم پر ڈال کر اٹھ گئے۔
“ہم آغا جان کے کمرے میں ہیں،ادھر ہی چائے بھجوا دیجیئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیم آفندی بھی کہتے ہوئے اٹھ گئے جن کی تقلید ابراہیم آفندی نے بھی کی تھی۔
“مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ جب اس نکاح کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو وہاں دعوت پر جانے کی کیا تک بنتی ہے؟ایک تو منزہ بھی نہ،اس نے چار دن یہاں رہ کر دیکھ نہیں لیا کوئی دعوتوں کے قابل بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے ماتھے پر سلوٹیں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔
“قابلیت کی بات تو آپ نہ ہی کریں کیونکہ میری قابلیت میری اس وقت کی حیثیت سے لگا لیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تڑاخ کر بولتی نائل ابراہیم پر ایک نگاہ ڈال گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“وقتی حیثیت سے قابلیت کے اندازے نہیں لگائے جاتے،قابلیت جاننے کے لیے تمہاری زبان ہی کافی ہے اور اس لیے میں نہیں چاہتی کہ تم وہاں جاؤ،پہلے ہی کافی تماشہ لگا چکی ہو ہمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر میں تو چاہتی ہوں جانا وہاں اور ہفتے کو ہی جائیں گئے،میرے خیال میں مجھے اب تیاری شروع کر دینی چاہئے ہو سکتا ہے ہمارا سٹے دو دن کی بجائے پانچ دن کا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟وہ جانتی تھی کہ رخسار بیگم کو ان کا اسلام آباد جانا ناگوار گزر رہا تھا اس لیے وہ جان بوجھ کر ان کو زچ کر رہی تھی حالانکہ آغا ہاشم کی بات پر وہ جواب دینا چاہتی تھی مگر جب رخسار بیگم کا انکار سنا تو وہ ان کے حق میں فیصلہ کرکے انکو خوش نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اب بھی ان پر ایک جتاتی نگاہ ڈال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“دیکھا سب نے،یہ لڑکی صرف میری ضد میں سب کر رہی ہے،اسکا اس گھر میں آنے کا مقصد ہی مجھے زلیل کروانا ہے ہر جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے جانے کے بعد رخسار بیگم بھڑک اٹھیں تھیں اور خاص نائل کو کہا تھا جس نے کھانے سے ہاتھ روک دیا۔
“مما اگر آپ نہیں چاہتی تو میں نہیں جاؤنگا،آپکو اسکی باتوں سے فرق نہیں پڑنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی چچی جان،آپ بلاوجہ خود کو پریشان نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔”حاشر نے بھی نائل کی بات کی تائید کی تھی ۔
“لیکن بات پھر وہی آ جائے گی حاشر،آغا جان کو برا لگے گا،اب تو ابراہیم بھی کہہ کر جا چکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم نے انکی توجہ دوسری طرف دلائی تو کب سے خاموش علیشہ نے سب کے پر سوچ چہروں کی طرف دیکھا اور کہہ اٹھی۔
“اگر ہم بھی چلے جائیں ان کے ساتھ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اس نے اپنی خالہ رخسار کی طرف دیکھا جنہوں نے بات سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تھا ۔
“مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
“میں ،عامر ،ثمرہ اور حمرہ بھی ان کے ساتھ چلے جاتے ہیں،ایسے میں آپ لوگوں کو پریشانی ہی نہیں ہوگی کہ یہ وہاں جا کر کوئی تماشہ نہ کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے اپنی طرف سے حل تلاش کیا مگر اس کے حل کے پیچھے جو بات تھی وہ نائل بھی سمجھ گیا تھا اور ردا بھابھی بھی کیونکہ وہاں دونوں کا اکیلا جانا ہی برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔
“مجھے نہ تو تم لوگوں کو ساتھ لے کر جانے کا شوق ہے اور نہ خود جانے کا اس لیے بات ختم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوٹوک کہتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ علیشہ نے رخسار بیگم کو دیکھا جنہوں نے نظروں ہی نظروں میں کچھ اشارہ کیا تھا جیسے یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر وہ اسلام آباد جائے گا تو تم بھی ساتھ جاؤ گی ورنہ نہیں!
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
اگلے دن وہ دوستوں کے ساتھ ایسا نکلا کہ رات کے نو بجے اسے گھر واپس آنے کا خیال آیا وہ جب پورچ میں بائیک کھڑی کر کے ہال میں آیا تو آغا ہاشم کو کچھ پریشان سا ہال میں بیٹھے پایا جو کسی گہری فکر میں مبتلا تھے۔
“کیا بات ہے آغا جان،کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے کمرے میں جانے کے بجائے ان کے پاس ٹک گیا۔
“تمہارا نمبر کیوں آف جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“آف تو نہیں تھا آؤٹ آف کوریج ہوگا شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ موبائل پاکٹ سے نکالتا ہوا کہنے لگا۔
“تمہیں خبر ہے تمہاری بیوی کہاں ہے اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم اصل بات پر آئے تھے۔
“اسکی خبر نہیں رکھتا میں۔۔۔۔۔۔۔”وہ لاپرواہی سے بولتا آغا ہاشم کو غصہ دلا گیا۔
“تو کس کی رکھتے ہو؟بیوی ہے تمہاری وہ،تمہارا حق بنتا کہ اسکی خبر رکھو کہ اس وقت کہاں ہے وہ؟صبح سے گئی ہوئی ہے ابھی تک واپسی نہیں اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اپنی عزیز ترین ماں کے پاس گئی ہو گی،آپ کیوں فکرمند ہو رہے ہیں ؟بچی تو نہیں وہ پچیس سال کی میچور لڑکی ہے ویسے بھی میری گاڑی پورچ میں نہیں ہے اسکا مطلب کہ آفندی ہاؤس سے بھاگ کر نہیں گئی واپس یہی آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا لہجہ کچھ طنزیہ اور تمسخر اڑاتا تھا جس پر آغا ہاشم نے اسے زبردست گھور یوں سے نوازا۔
“لڑکے تم میری بات کو سیریس کیوں نہیں لے رہے ہو؟وہ صبح سے گئی ہے بغیر کسی کو بتائے اور اب رات کے نو بج گئے ہیں،بات پریشانی والی ہے آخر کہاں ہے وہ اس وقت؟اوپر سے موسم بھی خراب ہو چکا ہے بارش کا امکان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کے لہجے میں فکر تھی۔
“کیا پتہ اسکا اپنی مما کے پاس رہنے کا ارادہ ہو،میرے پاس کونسا اسکا موبائل نمبر ہے جو میں کال کر کے پوچھ لوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ کچھ سنجیدہ ہوا۔
“تو نمبر رکھنا چاہئیے تھا،مجھے بھی اسکا نمبر لینا یاد نہیں رہا،کیا انکے وکیل کو کال کرکے اسکا نمبر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟آغا ہاشم کے دماغ میں خیال میں آیا جس پر انہوں نے فوری عمل کیا اور پھر تین منٹ بعد ہی انہوں نے فازیہ کے وکیل سے نمبر لے لیا تھا۔
“کال کرو۔۔۔۔۔۔۔”انکے حکم پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے موبائل سے اسکا نمبر ڈائل کر کے آغا ہاشم کو موبائل پکڑا گیا۔
“ہیلو،فازیہ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف ہیلو بولنے پر آغا ہاشم بولے۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکو پہچان چکی تھی حالانکہ نمبر انجان تھا۔
“کہاں ہو تم؟رات ہوگئی ہے،موسم خراب ہے،ہم پریشان ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔”
“میں شاپنگ کے بعد گھر آگئی تھی اس وقت مما کے پاس ہوں،بس نکلنے لگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکی پریشانی بھانپتے نرمی سے بتا گئی اور پاس بیٹھی حرا بیگم کڑھ کر رہ گئیں۔
“اوکے جلدی آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے کال بند کرتے نائل کو پکڑا گئے۔
“اب آپکی تسلی ہوگی ہے نہ؟چلیں اپنے روم میں چلئے۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے اٹھنے پر وہ بھی اٹھ گئے۔
نائل کو کمرے میں آئے گھنٹہ ہو چلا تھا مگر فازیہ ابھی تک گھر نہیں آئی تھی اور نائل کو جس چیز نے پریشان کیا تھا وہ تھا باہر زور سے برستی بارش!
“شاید ادھر ہی رک گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے کہتے ہوئے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور بیڈ پر لیٹ گیا موبائل پر بجتی ٹون پر وہ موبائل پکڑ کر نمبر دیکھنے لگا جہاں آغا جان لکھا تھا۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانتا تھا کہ وہ بھی پریشان ہونگے۔
“اسے کال کرو،گھنٹہ ہو گیا ہے،وہاں رکنے کا ارادہ ہے تو بتا دے ویسے بھی تیز بارش میں نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی میں کال کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے انکی کال بند کر کے اس نمبر پر کال کی جس پر آغا ہاشم تھوڑی دیر پہلے بات کر چکے تھے۔
“جی میں گھر کے راستے میں ہی ہوں مگر گاڑی چل نہیں رہی پتہ نہیں خراب ہوگئی ہے یا کچھ اور،بارش بھی تیز ہے اس لیے میں باہر نکلی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے کچھ بولنے سے پہلے ہی فازیہ کی پریشان آواز کانوں میں پڑی تھی اسے یہ تھا دوسری طرف آغا ہاشم تھے۔
“مجھے لوکیشن بتاؤ میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”نائل اٹھتے ہوئے بولا جس پر دوسری طرف فازیہ ایک پل کو چپ ہوئی تھی مگر گرجتی برستی بارش کو دیکھ کر وہ اسے لوکیشن بتا گئی۔
نائل نے عامر سے اسکی گاڑی کی چابی لی اور مختصر آغا ہاشم کو سیچویشن بتا کر چلا گیا تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس کے پاس پہنچا تھا جو گاڑی کو لاک کیے اس طوفانی رات میں یقیناً خیریت کی دعائیں مانگ رہی تھی نائل کو اسکا خوفزدہ چہرہ دیکھ کر ہنسی تو آئی مگر سیچویشن کا اندازہ کرتا وہ ڈور ناک کرنے لگا۔
فازیہ نے اسے دیکھ کر بے اختیار سکون کا سانس لیا تھا وہ اس آدھے گھنٹے میں جتنی خوفزدہ تھی اسکا اندازہ بس وہی لگا سکتی تھی کیونکہ یہ راستہ رات کے اس پہر اور بارش کی وجہ سے کچھ سنسان تھا۔
“باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا جس پر وہ اپنے شاپنگ بیگز سنبھالتی باہر نکلی تھی اور تیز بارش سے بچنے کے لیے بھاگتی ہوئی گاڑی کے پاس آئی تھی نائل نے شاپنگ بیگز اسکے ہاتھ سے پکڑ کر پچھلی سیٹ پر رکھے اور اس کے لیے فرنٹ ڈور اوپن کیا فازیہ کے بیٹھنے پر وہ اپنی گاڑی کی طرف آیا۔
فازیہ نے اپنے گیلے بالوں کو ہاتھ سے جھاڑا اور ڈوپٹے کو ٹھیک کرتی نائل کی طرف دیکھنے لگی جو سکائے پولو شرٹ اور بلیک ٹرازر میں گاڑی کے بونٹ پر جھکا ہوا تھا تیز بارش اسے بھگو چکی تھی مگر وہ بے نیاز گاڑی سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا فازیہ نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا جو اسے پہلے سے کافی الگ لگا تھا شاید دیکھنے کا انداز بدلا تھا کہ پہلے اس کو دیکھنا غصہ دلاتا تھا مگر اب اسے دیکھنا اچھا لگا تھا بلکہ نائل ابراہیم بارش میں بھیگتا ہوا اس کی آواز پر اسکے پاس پہنچنے والا فازیہ کو اچھا لگا تھا۔
اسکی نظروں کی تپش تھی کہ نائل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو مکمل اسکی طرف ہی متوجہ تھی نائل نے ابرو چکا کر جیسے وجہ جاننی چاہی تھی مکر وہ کمال بے نیازی سے تکتی رہی تھی نائل اسے اگنور کرتا گاڑی کو لاک لگا کر آ کر بیٹھ گیا۔
“گاڑی کا انجن کچھ مسلہ کر رہا ہے،اب گاڑی یہی چھوڑنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس سے بولتا موبائل سے ڈرائیور کو کال کرنے لگا اور بارش کے رکنے کے بعد اسے گاڑی واپس لے جانے کا کہہ کر کال بند کر گیا۔
“جب اس طرح کے خراب موسم میں گاڑی خراب ہوجائے تو کیا کرنا چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟فازیہ نے سوال کیا تھا
“کم از کم ایسے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تو نہیں بیٹھنا چاہئیے،کسی کو کال کر لیتی،اپنے گھر یا ڈرائیور کو۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے کہنے پر وہ چپ ہوگئی واقع اس نے کال کرنے کا سوچا ہی نہیں تھا وہ تو اچانک نائل نے کال کر دی تھی۔
“مجھے کسی کا احسان لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تڑخ کو بولتی شاید یہ بھول چکی تھی کہ ابھی کچھ دیر پہلے اسے دیکھ کر ہی اس شکر ادا کیا تھا اور اسکا احسان لے کر ہی گاڑی میں بیٹھی تھی۔
“بہت اچھی بات ہے،کسی کا احسان لینے سے بہتر ہے کہ رات کے اس پہر طوفانی بارش میں اکیلے گاڑی میں بیٹھ کر کسی چور ڈاکو کا انتظار کیا جائے تاکہ دونوں مل کر بارش کو انجوائے کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے بھرپور طنز کیا فازیہ نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی۔
“ویسے ابھی بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہو تو چھوڑ آؤں واپس اسی گاڑی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل نے ڈرائیونگ سے نظریں ہٹا کر اس پر مرکوز کیں۔
“یہ مت بھولو کہ یہاں تمہیں آغا جی نے بھیجا ہے اور یقیناً تم انکی ناراضگی والا کوئی کام نہیں کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کمزور لہجے میں بولتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی وہ اسے بتا نہ سکا کہ وہ آغا جان کے کہنے پر نہیں بلکہ اسکی پریشان آواز کو سنتے بے ساختہ اسکے پاس آنے کو اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷۷
جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو انکے انتظار میں اکیلے آغا ہاشم نہیں بلکہ ابراہیم آفندی ،رخسار بیگم اور علیشہ بھی موجود تھے اور فازیہ بنا دیکھے ہی اندازہ لگا سکتی تھی کہ علیشہ اور رخسار بیگم کے سپاٹ چہروں پر کیا درج تھا۔
“شکر ہے تم لوگ خیریت سے آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے فازیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“بیٹا آپ ڈرائیور کو ساتھ لے کر جایا کریں باہر،اگر کبھی اکیلے جانے کا موڈ بھی ہو تو ہمارے ساتھ رابطے میں رہا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی کے نرم لہجے پر وہ سر ہلا گئی تھی۔
“اب جاؤ کمرے میں،نائل کپڑے بدلو جلدی سے۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے کہنے پر وہ سر ہلاتا ہوا کمرے کی طرف چلا گیا جبکہ فازیہ بھی اپنے شاپنگ بیگز سنبھالتی وہ بھی اسکے پیچھے کمرے میں جانے لگی تھی کہ علیشہ کی آواز پر رکی تھی۔
“خالہ جانی آپکو نہیں لگتا کہ کوئی جان بوجھ کر نائل کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کوئی جتنی بھی کوشش کر لے میرا بیٹا اس طرح کی چالوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نے بھی آگ اگلتی نگاہ سے دیکھا تھا۔
“فلحال تو ابھی میں نے ایسی کوشش ہی نہیں کی مگر پھر بھی ایک بات بتاتی چلوں کہ نائل ابراہیم کا نام میرے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے جس سے میرا اس پر حق ہے کہ میں چاہوں تو ہزار کام چھوڑ کر بھی وہ میرے پیچھے آنے پر مجبور ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ ان دونوں کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھتی اپنے کمرے میں چلی آئی جبکہ وہ دونوں پیچ و تاب کھا کر رہ گئیں۔
فازیہ نے بیگز صوفے پر رکھے اور خود بھی صوفے پر لیٹنے والے انداز میں بیٹھ گئی آج کا دن اسکے لیے کافی تھکا دینے والا ثابت ہوا تھا بلکہ وہ زہنی طور پر تھکی ہوئی تھی حرا بیگم سے ملاقات بھی کافی بری ثابت ہوئی تھی کیونکہ ان کے سامنے اس نے آغا ہاشم کی تعریف کر دی تھی جس پر انہوں نے کافی شور مچایا تھا بہت مشکل سے اس نے انکو پرسکون کیا تھا اور پھر اس کے بعد والی سیچویشن!
“کیا میں ان لوگوں کے ساتھ نرم رویعہ رکھے ہوئے ہوں؟کیا سچ میں مما کے مطابق میں یہاں سکون کے ساتھ رہ رہی ہوں؟کیا میں اپنے مقصد سے ہٹ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔؟بہت سارے سوال اسے کے زہن میں گردش کر رہے تھے وہ کھٹکے کی آواز پر سر جھٹک کر اسکی طرف دیکھنے لگی جو بلیک ٹرازر میں ہی واش روم سے باہر نکل آیا تھا فازیہ اس کے سینے پر نگاہ ڈالتی جلدی سے نگاہوں کا زاویعہ بدل گئی۔
“تُہیں اس طرح کمرے میں گھومنے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے ڈریسنگ کے سامنے بال بناتا دیکھ کر وہ جل کر بولی۔
“یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اپنے کمرے میں ،میں اس طرح نہیں گھوم سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ شرٹ اٹھاتا پھر سے واپس رکھ گیا جیسے اسے چڑانے کا ارادہ ہو۔
“اب یہ کمرہ میرا بھی اتنا ہی ہے اس لیے میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ واش روم میں جاتے ہوئے اسے جتانا نہیں بھولی تھی۔
“تمہاری اجازت مانگی کس نے ہے۔۔۔۔۔۔۔؟وہ بھی جلانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا فازیہ نے غصے سے دیکھا مگر اسے بنا شرٹ کے دیکھ کر نظریں جھکانے پر مجبور ہوتی واش روم میں گھس گئی جبکہ نائل نے مسکراتے لبوں کے ساتھ شرٹ پہن لی تھی۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
“نائل پلیز چلو نہ،بہت مزہ آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کمرے سے نکل کر کچن کی طرف جانے لگی کہ لاؤنج میں بیٹھے نائل اور علیشہ اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کروا گئے علیشہ اس کے قریب بیٹھی پیار بھری منت کر رہی تھی اور رخسار بیگم دونوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے کبھی اسلام آباد نہیں دیکھا،ابھی لاسٹ ائیر گئی تھی تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے موبائل سے نظریں ہٹا کر کہا جس پر وہ ایک ادا سے مسکرائی اور اسکی یہ مسکراہٹ اور بات فازیہ کو جلا کر راکھ کر گئی۔
“مگر تمہارے ساتھ تو نہیں نہ گئی میں،کیا تم چاہتے ہو کہ شادی کے بعد جائیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“شادی کے بعد تو میں تم لوگوں کو پیرس یا سویزرلینڈ کے ٹکٹ گفٹ کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کے مسکراتے لہجے پر علیشہ خوشی سے چہکی تھی جبکہ نائل بات کو اگنور کیا تھا۔
“اس کے لیے تو شادی جلدی کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کی بات پر فازیہ انکی طرف چلی آئی تھی۔
“صدف،ایک کپ کافی ودآؤٹ شوگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے رخسار بیگم کے آگے چائے رکھتی صدف سے کہا تھا جو سر ہلا گئی۔
“صدف پہلے میرے روم میں جاؤ،میرا ایک سوٹ پریس کر دو،مجھے آج نائل کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر جانا ہے،اتنا حسین موسم ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے کچن کی طرف جاتی صدف کو روکا تھا نائل نے نظریں اسکی طرف کیں جس کے حسب معمول ناک نتھنے پھول چکے تھے نائل نے گہری سانس لیتے خود کو ایزی کیا کیونکہ اب ایک معرکہ تو ہونے والا تھا۔
“پہلے صدف میرا کام کرے گی،ویسے بھی مہمان کو گھر کی مالکن سے زیادہ عزت تو ملنے سے رہی۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ مسکائی۔
“وہ بھی اس گھر کی فرد ہے بلکہ ہونے والی بہو ہے۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم بھانجی کی انسلٹ برداشت نہ کر سکیں ۔
“ہونے والی ہے نہ ہوئی تو نہیں اس لیے آپ پہلے اس بہو پر توجہ دیں جو اس گھر میں رہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ بہو جو تین ماہ کے کنٹراکٹ پر آئی ہے جس کے جانے میں دو ماہ اور کچھ دن بچے ہیں جو اس گھر میں بہو کے طور پر کسی کو بھی قبول نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے گہرا وار کیا تھا اور فازیہ کو اتنی گہرائی سے ہی تڑپا گیا تھا۔
“تمہاری جلن کا احساس ہے مجھے مگر افسوس کہ اس بار تم اپنی خالہ کی طرح کامیاب نہیں ہو سکو گی اور نہ ہی مجھ سے میرا شوہر میرا مقام چھین سکتی ہو کیونکہ مجھے حرا سمجھنے کی غلطی مت کرنا کہ میں تم لوگوں کی باتوں میں آ کر تم لوگوں کی چالاکیوں کو کامیاب ہونے دونگی،نائل ابراہیم کو شوہر مانا ہے تو جب تک چاہونگی وہ میرا شوہر رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے بھی آگے سے آگ لگانے میں کوئی کسر نہئں چھوڑی تھی اور حیرت کی بات تھی کہ نائل اس بات سے محفوظ ہوا تھا نہ جانے کیوں؟
“یہ تو مجھے پتہ ہے کہ تم اپنی ماں سے بھی دو نہیں چار ہاتھ آگے ہو،تمہاری ماں نے کسی کا شوہر چھیننے کی کوشش کی تھی اور تم نے ایسا کر بھی دیا ہے،نائل علیشہ کا تھا جو تم نے چھینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کا لہجہ بہت غصیلا اور تیز تھا راحیلہ بیگم نے انکو اشارے سے خاموش رہنے کا کہا تھا مگر وہ نظرانداز کر گئی تھیں۔
“تکلیف ہو رہی ہے نہ؟میں بھی یہی تکلیف آپکو دینا چاہتی ہوں آج سے پچیس سال پہلے آپ نے میری ماں کو بھی یہی تکلیف دی تھی آپ نے میری ماں کے ساتھ ناانصافی کی انکو زلیل کیا۔۔۔۔۔۔۔”
“اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے غصے سے بھڑکتی فازیہ کو روکنا چاہا تھا ۔
“نہیں نائل آج اسے اپنی بھڑاس نکال لینے دو،آخر پتہ تو چلے کہ اسکی ڈائن ماں نے اس کے کان میں کونسے زہر بھر کر بھیجا ہے جس نے اپنی کمینگی چھپا کر اسے ہم سب کے خلاف کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“خبردار میری ماں کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو،اس نے اپنی نہیں مگر آپ کی کمینگی ضرور بتا کر بھیجا ہے کہ کیسے آپ نے میرے باپ کے ساتھ عشق لڑا کر میری ماں کو طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کا ہاتھ اٹھا تھا اور فازیہ کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا جہاں باقی سب فازیہ کے الفاظ اور نائل کے ردعمل پر ساکت ہوئے تھے وہی فازیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے تکتی رہ گئی۔۔۔
