No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
“آؤ نائل ،تم بھی تو سنو تمہاری یہ نام نہاد بیوی آخر کہہ کیا رہی تھی ،میں نے کہا تھا کہ ان دونوں ماں بیٹی کا مقصد صرف دولت کے ساتھ ساتھ مجھ سے بدلہ لینے کا تھا جس کے لیے انہوں نے تمہیں استعمال کیا اور ابھی اور کرنا چاہتی ہے تمہیں اس گھر سے لے جانے کے خواب دیکھ رہی ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم نائل کو متوجہ کرتیں اپنی بھر اس نکالنے لگیں جبکہ فازیہ سے تو سر ہی نہ اٹھایا گیا وہ بن دیکھے ہی محسوس کر سکتی تھی کہ نائل ابراہیم سپاٹ چہرہ لیے اسے مکمل نظر انداز کر گیا تھا۔
“میں کہیں بھی نہیں جا رہا مما،آپ فضول باتوں پر یقین کرکے خود کو پریشان نہ کریں میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اپنے بیٹے پر یقین رکھیں میں کبھی بھی آپکو ہرٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر میں اب اس لڑکی کو ایک منٹ بھی اپنے گھر برداشت نہں کر سکتی،اس کو اسی وقت یہاں سے دفعہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کسی صورت معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں۔
“آپ مجھے اس گھر سے کبھی بھی نکال نہیں سکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ اپنی شرمندگی ایک سائیڈ پر رکھتی رخسار بیگم کو جواب دینے سے باز نہیں آئی ۔
“دھکے دے کر نکالوں گی میں تمہیں اور آج ہی،نائل اگر میرے بیٹے ہو تو نکالو اسے اس گھر سے ورنہ میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو جیسے اس کے چیلنج پر طیش آیا تھا اس لیے ضدی لہجے میں نائل سے بولیں جسکا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا تھا۔
“تم کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے فازیہ سے کہا۔
“کمرے میں کیوں؟اس گھر سے نکالو گئے اس فتنہ پرور لڑکی کو،جیسی ماں ویسی ہی بیٹی ،ماں نے بھی پچیس سال پہلے اسی طرح میرا شوہر چھیننے کی کوشش کی تھی اور آج بیٹی میرا بیٹا چھین لینا چاہتی ہے اور میں اس چیز کی اجازت ہرگز نہیں دونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکا لب و لہجہ نہایت تلخ تھا ۔
“آپکی اجازت مانگی کس نے ہے،آپکو میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں نے کہا فازیہ اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار بات کاٹتا نائل غصے میں بولا۔
“تم مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولا نہیں دھاڑا تھا فازیہ اس کے غصیلے تاثرات کو دیکھتی وہاں سے جانے لگی مگر ابراہیم آفندی اور آغا جان کو کچن میں آتا دیکھ کر رکی تھی جو ابھی باہر سے واک کر کے واپس آئے تھے مگر شور کی آواز پر اس طرف آ گئے۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے گرم ماحول دیکھتے ہوئے سوالیہ نگاہوں سے رخسار بیگم کی طرف دیکھا ۔
“مجھے یہ لڑکی اس گھر میں ایک منٹ برداشت نہیں ہے ابراہیم صاحب اور اب کی بار نہ آپ اور نہ ہی چچا جان مجھے دلائل سے چپ کروا سکتے ہیں ،بہت برداشت کر لیا میں نے،مگر مجھے اپنا بیٹا اس لڑکی کے آس پاس گوارا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولیتں فازیہ کو بہت بری لگیں بمشکل وہ خود کو کچھ کہنے سے باز رکھ پائی اور وجہ نائل تھا جو مٹھیاں سختی سے بھینچے جیسے بہت تحمل سے سب برداشت کر رہا تھا ۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں رخسار،یہ کوئی ٹائم ہے اس بحث کا،چلو سب اپنے اپنے کمرے میں جاؤ صبح بات کریں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے جیسے معاملے کو رفع دفع کرنا چاہا ۔
“ہرگز نہیں چچا جان،مجھے ابھی اسی وقت فیصلہ چاہئیے یہ لڑکی اس گھر میں رہے گی یا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوٹوک بولیں۔
“رخسار تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ابراہیم آفندی برہمی سے کہہ اٹھے۔
“آ رہی ہے مجھے ،بلکہ بہت اچھے سے اس لڑکی کے پلان کی سمجھ آ گئی ہے یہ نائل کو ہم سے چھین کر لے جانا چاہتی ہے اس کا مقصد صرف نائل کو ہم سے دور کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فارگاڈسیک مما،میں کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں ہوں کہ جو مجھے میری ماں سے دور لے جانے کی کوشش کرے گا تو میں چل دونگا،آپ ایک بے بنیاد بات پر پریشان ہو رہی ہیں ،اس پر نہ سہی مجھ پر تو اعتبار کریں پلیز اس طرح کی ٹینشن کریٹ مت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل تحمل سے بولتا آخرکار منت بھرے لہجے میں انکو رام کرنے کی کوشش کرنے لگا جس میں وہ ناکام ہوا تھا ۔
“مجھے اندازہ ہو رہا ہے نائل،تم جس قدر اس پر لٹو ہو رہے ہو،پچھلے کچھ دنوں سے جو تم اس کے آگے پیچھے پھر رہے ہو سب پتہ لگ رہا ہے آخر اس نے تمہیں اپنے حسن میں الجھا ہی لیا،ویسے بھی ان ماں بیٹی کا شروع سے وطیرہ رہا ہے اپنے حسن سے مردوں کو لجھانے کا آخر سوائے حسن کے ان کے پاس ہے کیا ؟نہ کردار نہ تربیت،پتہ نہیں لندن میں بھی ماں نے اسے اسی کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اینف از مما،بس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑتا غصے میں آیا تھا اس کے چہرے پر برہمی کے آثار دیکھے جا سکتے تھے ۔
“آپ کو یہ اس گھر میں گوارا نہیں مگر میں اسے اس گھر سے نکال نہیں سکتا کیونکہ یہ میرے نکاح میں ہے ،بیوی ہے میری اور میں اسے پوری رضامندی کے ساتھ بیوی مان چکا ہوں اس لیے میرے اختیار میں یہ نہیں ہے اور نہ ہی میرے میں اتنا حوصلہ ہے کہ میں آپکو اس گھر سے جاتا دیکھوں مگر ایک چیز ہے اور وہ ہے کہ میں خود اس گھر سے ہی چلا جاؤں تاکہ آپ سب کو سکون آ جائے ،آپ سب دن رات صرف اپنی اپنی انا کے لیے مجھے کتنا پریشان کر رہے ہو اسکا اندازہ نہیں ہے،میں کس قدر بے بسی سے یہ روز روز کی اذیت برداشت کر رہا ہوں یہ بھی آپکو معلوم نہیں ہے بس اگر پتہ ہے تو وہ نفرت جو کھلے عام آپ لوگ کر رہے ہیں یہ سوچے بنا کہ میں اس نام نہاد نفرت کی وجہ سے کس تکلیف سے گزر رہا ہوں،اینی ویز بہت شکریہ آپ سب کا اس طرح میری زندگی میں آگ لگانے کے لیے کہ دل کرتا ہے کہیں جا کر سر دے ماروں تاکہ سب کی جان چھوٹ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے زخمی لہجے میں سب کی طرف سرد نگاہوں سے دیکھا اور آخری کاٹ دار نظر اس نے لب کاٹتی فازیہ پر ڈالی تھی جو کہ سن کھڑی تھی وہ کچن سے نکلتا چلا گیا ۔
“نائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی اس کے پیچھے لپکے آغا ہاشم نے بھی ایک ملامتی نگاہ رخسار بیگم پر ڈال کر چلے گئے جو نائل کی آخری بات پر دہل کر رہ گئی تھیں اور اس کے اس طرح جانے پر پریشان ہو گئی تھیں جبکہ فازیہ دھندلائی آنکھوں سمیت اپنے کمرے کی طرف بھاگ لی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“نائل،کیا ہو گیا ہے بچے،تم تو اس طرح کبھی بھی جذباتی فیصلے نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم اور ابراہیم آفندی نے اسے گاڑی کے پاس ہی روک لیا جو انکی بات پر سختی سے لب بھینچ گیا۔
“ہمیں معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ہمیں یہ فیصلہ تمہارے سر تھوپنا نہیں چاہئیے تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے اس فیصلے پر اعتراض کل تھا مگر آج نہیں ہے،میں اسے قبول کر چکا ہوں مگر مما اسے کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہیں ،میں بہت دیر سے برداشت کر رہا تھا کیونکہ یہ تلخی صرف زبانوں کی حد تک تھی مگر اب وہ ڈیمانڈ کرنے لگیں ہیں تو کیا میں اس کے خلاف احتجاج بھی نہ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ باپ کی طرف دیکھتا شکوہ کر گیا جنہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
“میرے شیر بیٹے ہو تم،اور میں جانتا ہوں کہ تم نہ تو اپنی ماں کو ناراض کر سکتے ہو اور فازیہ کی حق تلفی،تم پریشان مت ہو میں تمہاری مما سے بات کرتا ہوں انکو کوئی آسان راہ نکالنے کی درخواست کرتا ہوں جس سے نہ تمہیں مسلہ ہو اور نہ انکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب رخسار بیٹی کو دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے،یہ روز کی محاز آرائی اب ختم ہو جانی چاہئیے،تم پریشان نہ ہو اور نہ اس طرح کے ری ایکشن دے کر ہمیں پریشان کرو،بہت جلد اسکا حل ڈھونڈ لیں گئے یا پھر فازیہ کو تمہارے اپارٹمنٹ میں شفٹ کر دیں گئے جو آل ریڈی تم اس کے نام کر چکے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم کے حل پر وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا وہ اس طرح کر کے اپنی ماں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا مگر فلحال وہ خاموش رہا۔
—————————————————
فازیہ کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگاتی گہرے اضطراب میں مبتلا تھی وہ نائل کا نمبر ڈائل کرنے لگی مگر اسکا موبائل بیڈ پر ہی پڑا دیکھ کر جھنجلا کر رہ گئی ۔
“اف،کہاں چلے گئے ہو نائل،میری بات تو سن لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ پریشان ہوتی خود کو کوسنے لگی جس نے بنا سوچے سمجھے رخسار بیگم کو وہ سب کہہ دیا تھا اور نائل شاید وہ سب سن کر اس سے خفا ہو گیا تھا ۔
تبھی نائل کمرے میں داخل ہوا جسے دیکھتی فازیہ نے تشکر بھرا سانس لیا جو بنا اسکی طرف دیکھے بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا اور موبائل پکڑ کر اس کے ساتھ لگ گیا وجہ فازیہ کو مکمل اگنور کرنا تھی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا تھا اور فازیہ کی تو جیسے جان پر بن گئی۔
“نائل ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے پکارتی اس کے قریب آئی جو بنا کوئی ردعمل دئیے موبائل میں گم تھا ۔
“نائل پلیز،بات سنو میری،مجھے تم پریشان کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ قریب آ کر ٹکی۔
“کوئی بات رہ گئی ہے سننے کو تو کہہ دو وہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں کہہ گیا ۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے تم جانتے ہو نہ،میں بنا سوچے سمجھے سب بولتی چلی گئی ،صرف تمہاری مما کو جلانے کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ سچائی بیان کرنے لگی مگر نائل اٹھ کھڑا ہوا جیسے سننا نہ چاہ رہا ہو فازیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا۔
“نائل ایسے نہ کرو،مجھ سے خفا مت ہو ورنہ میں رو دونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ روہانسے لہجے میں بولتی اس کے ساتھ لگ گئی نائل نے ایک گہرا سانس لیا۔
“رونے سے پہلے یہ بات کنفرم کرو کہ مجھ سے محبت کرتی ہو کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بہت کرتی ہوں،محبت کرتی ہوں تو تمہارے خاندان سے نفرت کے باوجود ،اپنی مما کی ناراضگی کے باوجود تم سے تعلق قائم کیا ہے،میں نے وہ سب صرف تمہاری مما کی وجہ سے کہا تھا ورنہ تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کسی دھوکے میں نہئں رکھا ہے،تم یوں خفا مت ہو میری جان جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولتی نائل کو پرسکون کر گئی اس کے گرد اپنی بانہوں کا احصار کھینچتا وہ اس کی پیشانی چوم گیا ۔
“مجھے بس یہی سننا تھا ورنہ مجھے غصہ اس بات پر نہیں آیا کہ تم یہ کہہ رہی ہو کہ میں نائل سے محبت نہیں کرتی بلکہ اس بات پر آیا کہ مما کو اس طرح غلط بیانی سے غصہ دلانے کی کیا ضرورت تھی،وہ پہلے ہی بہت خفا ہیں اور بدظن کرنا اچھی بات نہیں کیونکہ میں اب سب کچھ سیٹل آؤٹ کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اور مدد بھی بس اتنی کہ پلیز جتنا ہو سکے ان سے الجھنے سے پرہیز کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کی بات پر وہ متفق تو نہیں ہوئی تھی مگر چپ ضرور ہو گئی تھی کیونکہ اسے نائل سے زیادہ کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی ۔
“میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سینے سے لگی وہ اپنے خوف کا اظہار کر گئی جو تھوڑی دیر پہلے رخسار بیگم کی ڈیمانڈ اور اوپر سے نائل کی ناراضگی کی وجہ سے عود کر آیا تھا ۔
“اپنے دل سے سارے ڈر نکال دو کیونکہ نائل نہ تو فازیہ کو خود سے دور کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ میری بیوی کو مجھ سے دور کرنے کی بات بھی کرے،میں کبھی تمہیں اس چیز پر خوفزدہ نہیں ہونے دونگا کہ تمہیں کوئی اس گھر سے یا میری زندگی سے نکال سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا حصار مضبوط کرتا وہ اسکے دل کے سارے ڈر نکال لے گیا فازیہ کے اندر تک سکون کی لہر اتری۔
“تم اب مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوا کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا ہاتھ آگے کو پھیلاتی وہ جیسے وعدہ لینا چاہ رہی تھی نائل اسکی چالاکی پر وہ ہنس پڑا۔
“خیر ناراض ہونے کا مجھے پورا حق ہے اور منانا تمہارا فرض بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کے گال کو پیار سے چھوا۔
“تو صاحب بہادر اب مان گئے ہیں نہ،اس لیے گڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ شرارت سے بولتی اسکی گرفت سے نکلی اور بیڈ کی طرف بڑھی نائل پہلے تو سمجھ نہ سکا اور جب سمجھ آئی تو پیچھے سے اسے اپنی گرفت میں لے لیا جو کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“تمہیں کس نے کہا کہ میں بس اتنے پر ہی راضی ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”؟نائل نے کہتے ہوئے ایک بھرپور شرارت کی تھی جس پر وہ شرم سے سرخ ہوتے ہوئے اس کے سینے میں ہی منہ چھپا گئی۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ نائل کے ساتھ ہی تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آئی جہاں رخسار بیگم نے دونوں کو ایک ساتھ آتا دیکھ کر چہرے کا رخ موڑ لیا نائل جانتا تھا انکی ناراضگی اس لیے فقط خاموشی سے ناشتہ کیا اور فازیہ کو اشارہ کرتا سب کو خدا حافظ کہتا وہاں سے نکل پڑا ۔
“دیکھا آپ نے نائل کو؟کیسے نظرانداز کر کے گیا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم برہمی سے ابراہیم آفندی سے گویا ہوئیں فازیہ کا یوں نائل کے ساتھ جانا انکا خون جلا گیا۔
“جس طرح تم صبح سے اس سے منہ پھیر رہی ہو وہ پھر چپ ہی کرے گا نہ،دوسرا تمہیں معلوم ہے کہ نائل صبح صبح کی بحث پسند نہیں کرتا اس لیے یونی سے آ کر تمہیں راضی کر لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے انکو ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔
دوسری طرف نائل نے فازیہ کو حرا بیگم کے گھر چھوڑا اور دو گھنٹے بعد پک کرنے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔
“مما تو اس وقت اٹھی بھی نہیں ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”چوکیدار اسے دیکھ کر دروازہ کھول چکا تھا فازیہ سیدھا حرا بیگم کے کمرے میں آئی جہاں سے باتوں کی آواز آ رہی تھی۔
“یہ نو بجے کون آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیرت میں مبتلا ان کے دروازے کے قریب آئی جہاں سے آتی آواز اسے وہاں رکنے پر مجبور کر گئی۔
“تمہیں اب تیسری شادی کے لیے سوچنا چاہئیے،مجھے حیرت ہوئی تمہیں دیکھ کر ابھی بھی اس ابراہیم کی محبت میں پاگل پھر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بلاشبہ یہ آواز فروا انٹی کی تھی جو کہ حرا بیگم کی فرسٹ کزن تھی اور فازیہ ان کے پاس ہی سات سال گزار کر آئی تھی۔
“ابراہیم مل جائے تو میں شادی کرنے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم کے مسکرا کر بولنے پر فازیہ جو فروا کی بات پر پہلے ہی ساکت تھی اپنی ماں کی زبان سے سنتی ٹھٹھک گئی اس کے دماغ میں رخسار بیگم کی ساری باتیں گونجنے لگیں جو انہوں نے حرا بیگم کے بارے میں کی تھیں۔
“ابراہیم تب تمہیں اتنی کوششوں سے نہیں مل سکا تھا تو اب کیسے مل سکتا ہے،تب بھی میں نے تمہیں کہا تھا کہ چھوڑ دو اسکا پیچھا ندیم بھی اچھا خاصہ تھا دوسرا پیار بھی تم سے اتنا کرتا تھا مگر تم پاگل بس ابراہیم کو پانے کے لیے سب کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فروا کے انکشاف پر فازیہ دم سادھے وہی کھڑی رہی اس کے دل و دماغ جیسے سن ہو رہے تھے ۔
“محبت ہوگئی تھی مجھے ابراہیم آفندی سے تو کیا کرتی پھر؟اگر وہ ڈائن ہمارے درمیان نہ آتی تو اس وقت میں مسز ابراہیم ہوتی،میں اپنی کوشش میں کامیاب ہونے والی تھی اگر اس رات راحیلہ کمرے میں نہ آتی جہاں میں نے اتنے پلان سے ندیم اور رخسار کو ایک ساتھ بند کیا تھا،مگر راحیلہ نامی اس چڑیل نے آ کر میرا سارا بنا بنایا کھیل خراب کر دیا اور ابراہیم رخسار کو طلاق نہ دے سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم اپنے ماضی کو تازہ کرتیں جیسے زہرخند ہوئیں دوسری طرف فازیہ اپنی ماں کا اتنا گھناؤنا روپ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھتی وہی بیٹھتی چلی گئی ۔
“فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہونا تھا حرا،ابراہیم کو اپنی بیوی پر بہت اعتبار تھا،خیر میں نے تو تب بھی سمجھایا تھا کہ نہ کرو یہ سب اور تب بھی سمجھایا جب تم اس آصف غوری سے شادی کر رہی تھی صرف ندیم آفندی کو جلانے کے لیے اور پھر وہی ہوا شادی کے کچھ سال بعد ہی طلاق لینی پڑی اس کی شراب نوشی کی وجہ سے،اب بھی کہہ رہی ہوں کہ کوئی اچھا سا آدمی دیکھو اور شادی کر کے آرام کرو،یہ اس عمر میں کبھی کسی مرد کے ساتھ تو کبھی کسی کے ساتھ ڈیٹ پر جانا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فروا بیگم شاید انکو سچ میں سمجھانے پر تلی ہوئی تھیں اس لیے سب کہتی اس بات سے انجان تھی کہ باہر بیٹھی فازیہ غم ،غصہ اور شرمندگی کی کس دلدل میں دھنستی جا رہی تھی اس نے بے اختیار اپنے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کا گلہ گھونٹا ورنہ جو پردہ آج اسکی نظروں سے ہٹا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ اونچی اونچی روئے جس ماں پر فخر کے ساتھ وہ اتنے ماہ نائل اور اس کے خاندان کے ساتھ لڑتی آ رہی تھی آخر میں وہی ماں اسکی شرمندگی کا باعث بنے گی اس نے سوچا نہ تھا۔
“ہاں میں بھی سوچ رہی ہوں لیکن اس سے پہلے مجھے فازیہ کی طلاق دلوا کر وقار کے ساتھ شادی کروانی ہے،تمہیں پتہ اس کے بدلے وہ آدھی جائیداد ہمارے نام کرنے کو تیار ہے اور سب سے اچھی بات کہ اپنا دوبئی والا اپارٹمنٹ اور ہوٹل بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا بیگم خوشی سے بتا رہی تھیں جبکہ فروا نے تاسف سے دیکھا تھا انکا لالچ اسے شروع سے ہی پسند نہ تھا ۔
“تم کیوں فازیہ کا بسا بسایہ گھر اجاڑنے پر تلی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیونکہ مجھے زہر لگتے ہیں وہ سب،وہ رخسار اور اسکی بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور میں؟میں بھی آپکو زہر لگتی ہوں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ سے اور برداشت نہیں ہو سکا اس لیے کمرے میں داخل ہوتی بھیگے لہجے میں پوچھتی حرا بیگم کا سانس خشک کر گئی وہ ششدر سی اسے دیکھنے لگیں کیونکہ فازیہ کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ سب سن چکی ہے۔
“فازیہ میری جان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ حلق کے بل چیخی
“مت لیں میرا نام آپ،مت پکاریں مجھے اپنے مکرو فریب زدہ زبان سے،میں سمجھتی رہی کہ میری ماں دنیا کی مظلوم ترین ہستی جس کا گھر کسی عورت نے اجاڑ کر رکھ دیا ،جس نے اتنے سال بغیر باپ کے مجھے ہر سہولت دی اور خود معاشرے کے رحم و کرم پر رہیں مگر نہیں سب جھوٹ تھا سب ایک فریب ایک جال تھا صرف مجھے الجھانے کے لیے مجھے دھوکہ دینے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کے لہجے میں ٹوٹے اعتماد کی کرچیاں صاف محسوس کی جا سکتی تھیں حرا بیگم ایک پل کو شرمندہ ہوئیں مگر دوسرے پل جیسے کسی ڈر سے آزاد ہوئیں۔
“کیا دھوکہ دیا ہے میں نے تمہیں ،تمہارا ہی شوق تھا اپنے خاندان میں جا کر شادی کرنے کا،میں نے نہیں کہا تھا،میں تو بنا شادی کے ہی ان سے تمہارا حق لینا چاہتی تھی مگر تمہیں ان سے بدلہ لینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ الٹا اس پر بھڑک اٹھیں فازیہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے تاسف سے دیکھا ۔
“مجھے آپکی باتوں سے جتنی ٹھیس پہنچ سکتی تھی پہنچ گئی مگر افسوس کہ آپ کو پھر بھی شرم نہیں آ رہی کہ آپ اپنی ہی بیٹی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں،آپ صرف جائیداد کے لیے مجھے وہاں بھیجنا چاہ رہی تھیں مگر میں نے آپکی محبت میں مبتلا ہو کر آپکی اذیت کا بدلہ لینے کے لیے ان لوگوں میں گئی جن کو باپ کے زندہ ہوتے ہوئے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فازیہ بیٹے،بیٹھو آپ یہاں ،آرام سے بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فروا آنٹی نے جیسے اس سیچویشن کو ہینڈل کرنا چاہا تھا۔
“میں یہاں بیٹھنا تو دور ایک منٹ رہنا بھی نہیں چاہتی ،آپکا بہت شکریہ آنٹی ،آپکی بدولت مجھے اصلیت پتہ چلی اور یہ پتہ لگا کہ جسے ماں سمجھ کر سب کچھ کر رہی تھی وہ ماں ہی نہیں ،میری ماں تو آج سے پچیس سال پہلے ہی مر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ تلخی سے کہتی ایک نفرت سے بھر پور نگاہ حرا بیگم پر ڈالتی وہاں سے نکلتی چلی گئی اور حرا بیگم نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
**
فازیہ روتی ہوئی وہاں سے نکل تو آئی تھی مگر نائل کو کال کرنے یا ٹیکسی لینے کے بجائے وہ پیدل ہی چلے جا رہی تھی آنسو تھے کہ جیسے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ اس قدر دلبراشتہ اور ماں کے اس روپ کو دیکھ کر ٹوٹ چکی تھی کہ پاؤں ایک جگہ رکھتی تھی تو جاتا دوسری طرف تھا ۔
“آج آپ نے میرا مان میرا غرور اور میری زات کا وقار سب کچھ چھین لیا مجھ سے،میں اتنے سالوں سے اپنے باپ سے نفرت کرتی آئی ،انکے خاندان سے ،اپنے باپ کی وفات پر بھی ان کا چہرہ دیکھنے سے انکار کیا،اتنے ماہ سے نائل کے ساتھ اسکی مما کے ساتھ لڑتی جھگڑتی آئی مگر آخر میں نکلا کہ میری ماں ہی اس خاندان میں آگ لگانے والوں میں سے تھی،کسی کا گھر اجاڑنے والی انکی خوشیوں کو نگلنے والی،اف میں کیسے سب برداشت کرونگی ،نائل کا سامنا کیسے کرونگی جسکی ماں کو میں نے ہر طرح کی زبان کے ساتھ جواب دئیے،کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ سوچے جا رہی تھی اور اسکا دماغ پھٹا جا رہا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“تم جاؤ مجھے فازیہ کو اس کی مما کے گھر سے پک کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل عامر کو کہتا خود موبائل نکالے فازیہ کا نمبر ملانے لگا جہاں بیل تو جا رہی تھی مگر وہ فون اٹھا نہیں رہی تھی۔
“ٹائم تو ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل ٹائم دیکھتا اپنی گاڑی میں آ بیٹھا اور گاڑی کا رخ حرا بیگم کے گھر کی طرف کیا۔
ان کے گھر کے سامنے گاڑی روک کر بھی وہ کال کرتا رہا مگر فازیہ کال پک نہیں کر رہی تھی اور یہ بات اب نائل کو پریشان کرنے لگی تھی ۔
“اگر ابھی نہیں جانا تو کم از کم بتا تو دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل اسے میسج بھی کر رہا تھا کال بھی مگر جواب ندارد!
“تمہاری فازیہ بی بی اندر ہیں انکو بلا دو زرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل گاڑی سے نکل کر چوکیدار سے مخاطب ہوا۔
“فازیہ بی بی تو بہت دیر پہلے کی چلی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”چوکیدار کی اطلاع پر نائل چونکا ۔
“کس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کو لگا شاید اپنی مما کے ساتھ کہیں چلی گئی ہو مگر جو بات کرنے کے لیے وہ یہاں آئی تھی اس کے بعد ؟؟؟؟
“اکیلی ہی نکلی ہیں یہاں سے اور پیدل ہی چلی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے بتانے پر اب کی بار نائل حقیقتا پریشان ہوا تھا اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھتا اسی طرف گاڑی ریورس کر گیا جس طرف چوکیدار نے نشانداہی کی تھی۔
“پیدل کیوں گئی؟مجھے کال کیوں نہیں کی؟میری کال پک بھی نہیں کی؟کہاں ہو فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔”بہت سارے سوال اس کے زہن میں ایک ساتھ ابھرے جو اسکی پریشانی کو مزید بڑھا رہے تھے وہ تفکر میں مبتلا ادھر ادھر دیکھتا گاڑی چلا رہا تھا ۔
