Tere Naam Ka Shajar By Amreen Riaz Readelle50194

Tere Naam Ka Shajar By Amreen Riaz Readelle50194 Last updated: 26 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Naam Ka Shajar

By Amreen Riaz

اور پھر رات تک یہ خبر پورے آفندی ہاؤس میں پھیل گئی کہ فازیہ نے اپنی جائیداد کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے اس گھر کے مرد تو خاموش رہے مگر عورتیں چپ نہ رہ سکیں۔ “آغا جان غلطی پہ غلطی کر رہے ہیں ،ابھی سب اس کے ہاتھ میں دینے کا مطلب ہے کہ لو پکا پکایا کھاؤ اور چلتی بنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منزہ بیگم بھی خوش نہ تھیں ۔ “وہ اسی مقصد کے لیے تو اس گھر میں آئی ہے،اس میں حیرانگی والی تو یہ بات ہے کہ آغا جان نے کہا تھا کہ تین ماہ بعد وہ اسے سب دیں گئے تاکہ وہ اس لڑکی کو اسکی ماں کی اصلیت بتا کر محفوظ مستقبل دے سکیں مگر اب اس کے حوالے سب کرکے کیا رہ جائے گا باقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم بھی کہہ اٹھیں۔ “اچھا ہے جلدی جان چھوٹ جائے گی،مجھے تو ایک پل نہیں برداشت ہو رہی یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم جہاں اس کو جائیداد میں حصہ دینے پر نہ خوش تھیں وہی اس کے جلد چلے جانے سے خوش بھی تھیں۔ “آپکو لگتا ہے کہ سب حاصل کرنے کے بعد وہ عدالت سے خلع کے لئے رجوع کر لے گی۔۔۔۔۔۔۔”منزہ نے سوال کیا۔ “کر ہی لے تو اچھا ہے،پیسہ تو آنی جانی چیز ہے مگر کم از کم اس گھر میں سکون تو ہوگا اس کے دفعہ ہو جانے سے،ویسے وہ ایک دفعہ کہے تو سہی نائل کو کہوں کہ اس کے منہ پر دے مارے تین لفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم بہت بیزار ہوئی ہوئیں تھیں۔ اور پھر رات کو ڈنر پر جب سب موجود تھے آغا ہاشم نے ایک فائل فازیہ کو دیتے ہوئے سب کو مخاطب کیا تھا۔ “آج سے فازیہ اس گھر کی بہو ندیم کی بیٹی اور نائل کی بیوی ہونے کے ناطے اس گھر،بزنس اور جائیداد کی حصے دار ہے،میں نے ندیم ٹیکسٹائل ،ڈی ایچ اے میں ایک کنال کا پلاٹ،اور اکاؤنٹ میں دس کڑوڑ کی رقم اس کے نام کر دی ہے باقی نائل نے جو حق مہر میں اپنا لاہور والا اپارٹمنٹ اس کے نام کیا وہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات پر فازیہ نے تمسخر سے مسکراتی نگاہوں سے سب کے سپاٹ چہرے دیکھ کر جیسے سب کی تکلیف پر مزہ لیا تھا۔ “گاڑی جو ابراہیم نے اسے شادی پر گفٹ کی ہے وہ بھی اور جو ہماری طرف سے زیورات اسے دئیے گئے وہ سب اس کے ہیں ،مگر یہ سب وہ بیچ تب سکتی ہے جب اسکا شوہر یعنی کے نائل ابراہیم اسکی اجازت دے گا،اسکی اجازت کے بغیر یہ اپنی پراپرٹی کسی اور کے نام بھی نہئں کروا سکتی ہے کیونکہ میں نے اس کی ساری پراپرٹی کا اٹھارٹھی ایجنٹ نائل کو بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی آخری بات جہاں سب کو پرسکون کر گئی وہی فازیہ کو ناگوار گزری تھی وہ تو خوش ہوئی تھی کہ ان کی جائیداد کسی تیسرے بندے کو سیل کر کے وہ ان سب کو سبق سکھائے گی مگر اب ! “اور اگر نائل ابراہیم میرا شوہر ہی نہ رہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں سوال پوچھتی نائل کی طرف دیکھنے لگی جس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔ “اس سے زیادہ خوشی کی بات ہی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو نائل کے جواب پر سکون ملا تھا جبکہ آغا ہاشم نے نائل کو باز رہنے کا اشارہ کیا۔ “طلاق کا حق نائل کے پاس ہے،وہ چاہے تو چھوڑ بھی سکتا ہے چاہے تو تمہیں راضی کر کے یہاں رکھ بھی سکتا ہے،یہ تم دونوں کے آپس کا معاملہ ہے مگر خدانخواستہ اگر تم دونوں الگ ہو جاتے ہو تو پھر بھی سب تمہارا ہی ہوگا کیونکہ مجھے تمہارے باپ کی خواہش کو مدںنظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بات مکمل کرتے ہوئے فازیہ کی طرف دیکھنے لگے جو اس بات سے جیسے پرسکون ہوئی تھی۔ “میرے خیال میں اب تمہیں کوئی مسلہ نہیں ہوگا اس گھر میں کیونکہ سب پر واضع ہو چکا کہ تم اس گھر کی مہمان نہیں مالکن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے نرمی سے فازیہ کی طرف دیکھ کر کہا جس نے کچھ جتاتی نظروں سے نائل کی طرف دیکھا تھا جو مکمل اگنور کر گیا تھا ۔ “مہمان تو یہ ہے چچا جان ،یہ صرف تین ماہ کے لیے ہی اس گھر میں آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو اس کے اس گھر کی مالکن کہلانے پر کھلا اعتراض تھا۔ “تین ماہ تین سال بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے انکو جلانے کی کوشش کی تھی مگر نائل کے جواب پر جل خود گئی۔ “اگر میں چاہوں تو تین دن بھی پورے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اسکی طرف برارست دیکھا تھا۔ “میرے خیال میں اب کھانا شروع کر دینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے انکی الفاظی گولہ باری کو روکنے کے لیے سب کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کی مگر رات کو کمرے میں جاتے ہی فازیہ نے وہ فائل اسکے سامنے پھینکی۔ “اس کو غور سے پڑھ لو اور اپنے زہن میں یہ بات بٹھا لو کہ میں مہمان نہیں مالکن ہوں اس گھر کی جیسے تمہاری ماں اور مکار خالہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔” “خالہ کی مکاری تو میں نے آج تک دیکھی نہیں مگر تمہاری مکاری اور چالاکی ضرور تین دونوں میں جان گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی دو بدو بولتا فائل کو بنا دیکھے ٹیبل پر رکھ گیا۔ “اور دوسری بات،میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ عورت بزدل ہوتی ہے اس کے پاس زبان کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہوتا ہے اس لیے مجھے تم سے ہر گری ہوئی بات کی توقع ہے مگر پھر بھی کہہ رہا ہوں کہ میری مما کے خلاف کبھی اپنی زبان اس انداز سے استعمال مت کرنا کہ میں برداشت نہ کر سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا لہجہ دو ٹوک اور کچھ باور کرواتا تھا فازیہ کو اسکی ہر بات زہر لگی تھی اس لیے تو بولے بنا نہ رہ سکی۔ “اور جو میری مما کے ساتھ تم لوگوں نے سلوک کیا تھا؟تمہاری ماں نے۔۔۔۔۔۔۔۔” “چپ۔۔۔۔۔۔”نائل نے اس کی بات کاٹی۔ “تم حقائق سے پہلے اچھے سے واقف ہو جاؤ اس ٹاپک پر پھر بات کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھنے لگا مگر اسے راستے میں ہی رکنا پڑا اور رکنے کی وجہ فازیہ ندیم تھی جو اسکے سامنے راستہ روکے ہوئے تھی۔ “اس بیڈ پر مجھے اکیلے کو سونا ہے،تم کہیں اور ٹھکانا کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتی ہوئی وہ بڑے آرام سے بیڈ کے درمیان یوں لیٹ گئی جیسے واقع میں بیڈ کی اکلوتی مالکن تھی۔ “مانا کہ آغا جان آج تمہیں زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا چکے ہیں مگر پھر بھی اس فائل میں کہیں بھی اس گھر ،میرے کمرے اور میرے بیڈ کی ملکیت نہیں لکھی،اس لیے میڈم آپ شوق سے کہیں اور جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنز کرتا ہوا بیڈ کے پاس آ کھڑا ہوا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی بلکہ خاموشی سے آنکھیں یوں موند گئی جیسے نہ کچھ سنا ہو اور نہ کچھ کہنے کا موڈ ہو۔ نائل ابراہیم نے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں پھر گہرا سانس بھرتا خود کو ریلکیس کرتا بیڈ کی طرف بڑھا اور تکیہ سیٹ کرتے ہوئے لیٹ گیا دونوں میں ایک انچ کا فاصلہ بھی نہ رہا تھا فازیہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی اور غصے سے اسکی طرف دیکھا جو آنکھیں موندیں اسی پوزیشن میں چلا گیا تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے وہ تھی۔ “یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑک اٹھی۔ “آرام سے محترمہ،چلانے کا شوق کہیں اور جا کر پورا کر لیں،مجھے نیند ڈسٹرب کرنا زرا پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ رکھائی سے بولتا کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر گیا فازیہ بے تلملا کر کشن اسے دے مارا تھا مگر وہ ویسے ہی پڑا رہا آخرکار دو منٹ اسکی پشت کو گھورنے کے بعد وہ دوسری طرف لیٹ گئی۔ >>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>