60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

” تم سی لڑکی میں نے پہلے دیکھی نہ ہی سنی حیا “ رات کے کھانے کے برتن دھونے کے بعد کچن سے نکل کر وہ کمرے کی طرف جانے لگی تھی کہ اس کی پشت پر ہائثم کی آواز آئی۔ دوپٹے سے ہاتھ پونجتی وہ واپس پلٹی تو وہ سامنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا۔
” مجھ جیسی لڑکی۔۔۔۔۔۔؟؟“ وہ سوالیہ ہوئی۔
” تم جیسی لڑکی جو سوتن کے ماں بننے پر لوگوں میں مٹھائی بانٹتی پھرے اور فون کر کے ہنستے ہوئے شوہر کو بتائے تم باپ بننے والے ہو “ وہ واقعی عجیب تھی اور اس کہانی میں موجود ہر شخص ہی عجیب تھا۔
” ارے نہیں وہ جسے تم سوتن کہہ رھے ہو وہ اس کا نام لے کر کہو دیا سی لڑکی دیکھی نہ ہی سنی “ وہ اس سب میں اپنا کمال نہیں سمجھتی تھی کہ اگر دیا اس سے دشمنی پالتی تو یقیناً بدلے میں وہ بھی دشمنی کرتی۔ اس نے محبت دی تھی تو محبت لی تھی۔
” تم میرے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہو ؟ “ وہ اپنی چاہ پر آیا تھا۔ وہ اپنے دل کی خواہش پر آیا تھا۔
” فیصلہ تو ہو چکا ناں جی لیں گے ہم ایک تکون میں لیکن مجھے ابھی بھی وقت چاہیئے “ وہ فیصلہ کر کے اٹل تھی اور وہ اس کے اٹل فیصلے پر خوش ہو گیا تھا۔ بھلے اسے وقت چاہیئے تھا لیکن وہ وقت پورا ہونے پر حیا کو لوٹنا اسی کے پاس تھا اور یہ احساس بھرا طمانیت بھرا تھا۔
” میں عمر بھر تمہارے فیصلے کے انتظار میں یونہی کھڑا رہ سکتا ہوں “ وہ لہجہ محبت تھا ، وہ سراپا محبت تھا۔
” کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں جا کر سو جاؤ دیا انتظار کر رہی ہو گی “ اسے بھیج کر وہ بھی اپنے کمرے میں آئی اور دروازے کی چٹخنی چڑھا کر وہ اس دیوار گیر تصویر کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
” ایک تمہاری موت نے دیکھو ارحم سب کو کتنا سفر کروایا۔ تم اس دن نہ مرتے تو آج کہانی مختلف ہوتی ، تم اگر اس دن صرف چند سانسیں ہی اور لے لیتے تو آج کہانی مختلف ہوتی۔ کہیں سمجھوتہ ہوتا نہ کہیں اداسی ہوتی۔ ہر چہرہ مسکراتا۔ کوئی کسی سے نفرت کرتا اور نہ یوں کوئی پھر بےموت مرتا۔ تمہیں جی لینا چاہیئے تھا ارحم۔ تمہیں چند سانسیں اور جی لینا چاہیئے تھا “ وہ اس سے روز شکوے کرتی تھی ، روز شکایت کرتی تھی۔ کبھی وہ اسے بےبس اور بےچارہ معلوم ہوتا تو کبھی اپنا گناہ گار مان کر وہ اس سے نفرت کرتی۔
وہ اپنے آنسو صاف کرتی آ کر بیڈ پر چِت لیٹ گئی۔ آنکھوں کے سامنے چھم سے عمر سلطان آ کھڑا ہوا تھا۔ وہ عمر سلطان جو اس کی پہلی محبت تھا اور عورت کے لیئے مشہور ہے کہ وہ پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی۔
” مت یاد آیا کرو اب مجھے۔ شادی شدہ عورت کو پرانا محبوب یاد آئے تو بڑا گناہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ عورت کسی اور کو سوچے بھی تو خدا روٹھ جاتا ہے “ اس نے آج عمر سلطان کے عکس کو توڑ کر خود سے وعدہ کیا کہ صرف آج اس کا دل عمر سلطان کا کل سے نہ کوئی عمر سلطان نہ کسی عمر سلطان کا خیال اور نہ کوئی محبت۔
اپنے خیالوں سے لڑتے وہ کب سو گئے پتہ ہی نہ چلا۔ آنکھ اس کی تب کھلی جب باہر گیٹ پر کسی نے یوں دستک دی جیسے توڑ ڈالنے کا ارادہ ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور تبھی اسے محسوس ہوا کہ بہت سے قدم باہر تیزی سے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ وہ ان قدموں کی آہٹ پہچانتی تھی کہ ارحم کی موت پر بھی یہیں آہٹیں وہ سن چکی تھی۔
بیڈ سے اٹھ کر اس نے چٹخنی کھولی اور باہر آئی جہاں پولیس ہی پولیس تھی اور ان سب کے بیچ نمایاں تھا عمر سلطان۔ سفید ڈریس شرٹ کے بازو فولڈ کیئے ہوئے تھے اور ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ شان بےنیازی سے کھڑا تھا۔ حیا سمجھ نہ پائی کہ وہاں کیا ہوا تھا اور کیا ہونے والا تھا۔ اسے سمجھ تب لگی جب اس کے کانوں میں شائستہ بیگم کی چیخ و پکار گونجی اور کسی نے کہا تھا۔
” ہائثم نوید کو اریسٹ کرو “ اور پھر اس نے دیکھا ہائثم کو ہتھکڑی پہنا دی گئی تھی۔
” کیا ہو رہا ہے یہ۔ آپ میرے شوہر کو یوں نہیں لے جا سکتے۔ قصور کیا ہے اس کا “ وہ چلائی تھی کہ بہت ہوا اب مزید برا کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔
” ہمارے پاس کمپلین ہے ان کے خلاف اس لیئے ان کو کشمالہ مرڈر کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے “ یہ ایک بم کا گولہ تھا جو اس کے سر پر گرا تھا۔
” کس نے کی یہ کمپلین “ اس نے لہجے کو متوازن رکھنے کی کوشش کی۔
” کشمالہ سلطان کے شوہر عمر سلطان نے “ پولیس آفیسر بتایا تو حیا کی أنکھوں میں بےیقینی ابھری۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر پر اتنا گھٹیا الزام لگانے کی ۔ چاہتے کیا ہو تم “ حیا نے گریبان سے پکڑ کر اسے روبرو کیا تھا۔
” جی میں نے کمپلین کی ہے کیونکہ میری بیوی ہے مری ہے مسز ہائثم نوید اور یہ کتنا الزام ہے اور کتنا سچ یہ اب عدالت میں طے ہو گا “ عمر سلطان نے ایک جھٹکے اپنا گریبان چھڑایا تھا اور پھر شائستہ بیگم کی آہ و پکار ، دیا کے خاموش آنسو اور حیا کا غصہ جاری ہی رہا لیکن پولیس اور عمر سلطان ہائثم کو لے گئے اور وہ کہتا ہی رہ گیا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔
★★★★★★★★★★★
زندگی کی جیب میں چند
کھنکتے سِکے ہیں جن سے وہ
میرے لیے خوشی نہیں خرید
سکتی زندگی میرے کندھے سے
ہاتھ لٹکاۓ ہوے مجھے دلاسے
دے رہی ہے مگر وہ میرے
چہرے پر مسکراہٹ لانے میں
ناکام ہے وہ اب میری مسکراتی
ہوئی شکل کی پینٹنگ بنانا
چاہتی ہے لیکن مسکراہٹ
کینوس سے بہت دور کا معاملہ ہے
ہر صبح جب سورج رات کے
طویل سفر کے بعد لوگوں کو
یہ بتانے مشرق سے طلوع ہوتا ہے
کے مسکراہٹوں بھری زندگی کا
ایک اور دن تمہیں مبارک
تب زندگی میرے گال پر بوسہ
دے کر نکل پڑی ہے میری
کھوئی ہوئی مسکراہٹ کی تلاش میں
دن بھر کی محنت کے بعد
چند کھنکتے سِکوں سے خوشیاں
اور مسکراہٹیں نہیں خریدی جا سکتی
زندگی تیرا شکریہ
حیا نے اپنی پوری کوشش کی کہ ہائثم کے خلاف کیس نہ بنے لیکن کیس بنا اور اتنا اسٹرانگ بنا کہ رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی اور حیا الگ عمر سلطان سے دشمنی پال کر بیٹھ گئی۔ اس نے ابھی تک کوئی ثبوت دیکھا نہ سنا تھا اور اسے لگتا یہی تھا کہ عمر سلطان ہائثم کو پھنسا رہا ہے تا کہ پہلے نہ سہی تو اب حیا اسے مل جائے اور یہ بات اس نے کہتے ہوئے عمر سلطان کو تھپڑ بھی مارنا چاہا تھا مگر اس نے حیا کا ہاتھ جھٹک کر یوں دیکھا جیسے پہچانتا ہی نہ ہو۔ عمر سلطان کا رویہ عجیب تھا یا اس نے کبھی یہ رویہ دیکھا نہ تھا اس لیئے اسے سب سے ذیادہ تکلیف اس کے لہجے اور رویے سے ہوئی لیکن اب کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہائثم کا کیس عدالت پہنچ چکا تھا اور پہلی پیشی کی تاریح بھی آ گئی تھی۔
دیا خاموشی سے روتی رہتی تھی اور شائستہ بیگم صدمے کے زیرِ اثر کچھ دن میں ہی برسوں کی بیمار لگنے لگی تھیں اور ایسے میں صرف حیا تھی جو ساری ہمت یکجا کیئے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی ہائثم کے لیئے اور اسے یقین تھا کہ ہائثم بےگناہ ہے اور وہ اسے چھڑوا لے گی لیکن اس کا یہ یقین تب ٹوٹا جب پہلی پیشی میں ہی عمر سلطان کے وکیل نے ایسے ایسے ثبوت پیش کیئے کہ ہائثم کے کیس کی دھجیاں بکھر گئی۔
اور حیا وہ تو بیٹھے بیٹھے پتھر بن گئی تھی۔ کیا ایسا ہو سکتا تھا؟ کیا اتنا شانت دکھنے والا ہائثم نوید اندر سے درندہ تھا اور صرف حیا ہی نہیں دیا بھی ڈھے گئی تھی۔ اس کا صبر رائیگاں گیا تھا ، اس کی محبت ادھوری رہ گئی تھی اس کا ہیرو درندہ نکل آیا تھا۔
ہائثم نوید کی آزادی کی کوئی صورت نہیں تھی کیونکہ اس کا گناہ پہلی ہی پیشی میں ثابت ہو چکا تھا اور اس کا گناہ کشمالہ جہانگیر کا قتل تھا اور اس کا ثبوت کشمالہ مرتے مرتے دے گئی تھی۔
اس دن کشمالہ نے ہائثم کو ایک ہوٹل میں بلایا تھا اور لیمپ میں سپائی کیمرہ بھی لگا دیا تھا تا کہ آج کی گفتگو کو بھی ریکارڈ کر کے وہ ہائثم کو بلیک میل کر سکے لیکن وہ اس کی موت کا ثبوت بن گیا تھا جس میں سب کچھ واضح تھا۔ ہائثم کا کشمالہ کو مارنا بھی ہے اور پھر کشمالہ کے فون سے چھیڑ چھاڑ کرنا بھی اور اس میں ایک اور گناہ کا خلاصہ ہوا تھا۔ جہانگیر مرا نہیں تھا اسے مارا گیا تھا۔ سلو پوائزن سے رفتہ رفتہ اور یہ ایک اور انکشاف حیا کو پتھر کر دینے کو کافی تھا۔
عدالت نے اگلی پیشی میں فیصلہ سنانے کا کہا اور ساتھ ہی جہانگیر کا کیس رجسٹر کر کے کترینہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت سے نکلتے وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں تھی ہی نہیں۔ اس کے قدم اس کے وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکاری تھے اور روح اس دنیا نامی دھوکے میں جینا نہیں چاہتی تھی۔
اسے خبر ہی نہ تھی کہ اس کے ساتھ دیا بھی آئی تھی جو کب اٹھ کر کمرہ عدالت سے گئی اسے کچھ پتہ نہیں تھا اور جب وہ عدالت سے نکلتے لڑکھڑائی تو دو ہاتھوں نے اسے تیزی سے تھاما تھا۔ وہ ہاتھ جنہیں وہ ہمیشہ تھامنا چاہتی تھی اور وہ آنکھیں اسے آج بھی منتظر نظر آئی تھیں۔ خود کو سنبھالتے وہ بڑی مشکل سے میڈیا کے ہجوم سے نکلی تھی اور وہ کب واپس گاؤں پہنچی اسے کچھ پتہ نہ تھا اور جب گھر میں داخل ہوئی تو شائستہ بیگم اسے تحت پر بیٹھی آنسو پونجتی نظر آئی تھیں اور دیا صوفے پر بیٹھی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ حیا اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی اور اگلے کچھ دن تک گھر میں رہتے وہ تینوں لوگ ایک دوسرے سے نظریں چرائے پھر رہے تھے کہ ایک دن کاشان آیا اور اپنے ساتھ جو خبر لایا تھا وہ اتنی بھیانک تھی کہ ہر شخص اپنے ہی چہرے سے ڈر گیا۔ وہ خبر اتنی دردناک تھی کہ ہر شخص کے چہرے پر درد کی جھڑیاں پڑ گئی اور پل بھر میں سب بوڑھے ہو گئے۔
خبر تھی کہ قیامت جو ٹوٹی تھی تو سب کو بہا گئی تھی۔
ارحم نوید کا قاتل ہائثم نوید تھا۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نوید کا قاتل ہائثم نوید تھا۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نوید کا قاتل ہائثم نوید تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جس نے سنا کانوں پر ہاتھ رکھ دیئے اور بےیقین ہوا۔ یک جان دو قالب۔ جن کے محبت کی مثالیں جہاں دیتا تھا اس محبت کو مار دیا گیا۔ شائستہ بیگم نے سنا تو دھڑام سے گریں اور چند پل لگے وہ دنیا چھوڑ کر چلی گئیں۔ شائستہ نوید بھی مر گئی ہائثم نوید نے آج ان کی بھی جان لے لی۔ حیا دھاڑیں مار مار کر یوں روئی کہ سارا گاؤں اکھٹا ہو گیا اور ایک دیا تھی جو جانے اتنا حوصلہ جانے کہاں سے لاتی تھی جو بڑے سے بڑے غم پر روتی تھی اور بس خاموشی سے روتی تھی۔
حیا کا دل چاہا تھا کہ وہ جائے اور ہائثم کا منہ نوچ کر پوچھے آخر اس نے ایسا کیوں کیا۔ سب کی زندگیاں برباد کر دیں اور پھر شائستہ بیگم کے آخری دیدار کے لیئے پولیس کی خراست میں جب اسے لایا گیا تو گاؤں کے ہر شخص نے اس پر تھوک دیا تھا اور پھر سب نے دیکھا کہ خاموش رہنے والی دیا چیخی تھی۔ دیا کی آواز پورے شاکلہ میں گونجی تھی۔ اس نے ہائثم کو شائستہ بیگم کے جنازے کے پاس پھٹکنے دیا نہ اسے ان کا آخری دیدار کروایا اور اس کا فیصلہ اتنا اٹل تھا کہ وہ روتا رہا چیختا رہا لیکن کچھ بھی کام نہ آیا تھا اور اس سے اگلی باری حیا کی تھی اور حیا تو مار ہی ڈالتی اسے جو پولیس بیچ بچاؤ کی کوشش کرتے اسے واپس نہ لے جاتی۔
سب برباد ہو گیا تھا۔ سب تباہ ہو چکا تھا اور یہ سب فقط ایک ہائثم نے کیا تھا صرف اپنے لیئے سوچ کر۔ اگلی بیشی میں اس نے اپنا ہر جرم قبول کر لیا اور سچ یہ تھا کہ وہ بھی ختم ہو چکا تھا اندر سے۔ وہ جو ارحم کے مرنے پر بڑے دن صدمے میں رہا تھا وہ صدمہ قتل کا تھا۔ اپنے باپ جیسے بھائی کو مار دینے کا تھا اور وہ جو دو سال تک وہ گھر باقاعدگی سے نہیں آیا تھا تو وہ ماں اور حیا کا سامنا کرنے سے ڈرتا تھا۔ اس نے قبول کر لیا کہ ایک حیا جہانگیر کے لیئے اس نے دنیا الٹ دی تھی اور اس میں کشمالہ نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ کشمالہ کو حیا کی جائیداد اور عمر سلطان دونوں چاہیئے تھے اور پلان بھی ایسا بنایا کہ کشمالہ کو بھی سب ملا اور ہایثم کو بھی لیکن پھر کشمالہ کی ایک بیوقوفی نے سارا پلان ایکسپوز کر دیا۔
ہر جرم کا خلاصہ ہو چکا تھا اور عدالت نے ہائثم نوید کو ارحم نوید اور کشمالہ جہانگیر کے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنا دی تھی اور اب اسے پھانسی نہ بھی دی جاتی تو اس کا ضمیر مار ڈالتا اسے جو اب اسے روز آئینہ دکھاتا تھا۔
نوید ہاؤس ایک بار پھر سے ویران ہو چکا تھا اور اس میں صرف وہ دونوں بچی تھیں۔ حیا جہانگیر اور دیا جمشید اور وہ دونوں جانتی تھی دل مر چکا ہے اور روح فنا ہو چکی تھی۔
کچھ دن بعد وہ سنبھلی تو ایک فیصلہ کرتی چادر کندھوں پر ڈالتی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی۔
” کہاں جا رہی ہیں آپ حیا “ دیا نے اسے جاتے دیکھا تو پوچھا۔ ان دنوں دیا پہلے سے ذیادہ خاموش رہتی تھی اور بڑا سا دوپٹہ ڈالے رکھتی تھی۔ اس کا وزن بڑھ رہا تھا۔
” شہر جا رہی ہوں۔ فیکٹریاں کافی دن سے بند ہیں اور بزنس کو بہت نقصان ہو رہا ہے اور جیل بھی جانا ہے۔ ہائثم کی پھانسی کو ابھی وقت ہے اور میں نہیں چاہتی مزید ایک بھی دن میں یا تم اس شخص کے نام کو اپنے نام کے آگے لگا کر گزاریں۔ طلاق کے کاغذات سائن کروا کر آؤں گی آج اس سے “ وہ آنسو پونج کر زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی۔ دیا نے آنکھیں زور سے بند کیں کہ اس کے ذات کے گرد ایک دم تکلیف کا حصار بند گیا۔
حیا کو اس پر بےانتہا ترس آتا تھا۔ وہ اس درد بھری زندگی کے لیئے تو نہیں بنی تھی اور وہ اسے یہ زندگی کبھی جینے بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ گھر سے نکل آئی اور کاشان کی بہن کو دیا کا خیال رکھنے کا کہہ کر وہ ٹیکسی لے کر شہر چلی آئی تھی۔ اس کو اپنے ڈوبتے کاروبار کو بھی بچانا تھا جسے اس کے باپ نے بہت محنت سے اس مقام تک پہنچایا تھا۔
اس نے فیکٹریاں پھر سے کھلوائیں ، ورکرز کو بلایا اور کام شروع کرنے کے پلان بنائے اور اس کے بعد وہ وکیل کے دفتر گئی تھی جسے پہلے سے اس نے پیپرز تیار کرنے کا کہہ دیا تھا اور پیپرز لے کر جب وہ وکیل کے دفتر سے نکل رہی تھی تو کسی سے اس کا زور کا تصادم ہوا تھا اور وہ عمر سلطان تھا۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرایا تھا اور وہ تو مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔ پیپرز پر گرفت مظبوط کرتے وہ جانے لگی تھی کہ اس نے پکارا۔
” میں خوش فہم ہو جاؤں “ وہ سوالیہ ہوا تھا۔ حیا بنا اس کی بات کا جواب دیئے وہاں نکل گئی تھی۔ وہ اب اسے خوش فہم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اب کچھ بھی خود سے نہیں کرنا چاہتی تھی کہ خود سے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا تھا سب کھیل وقت کے تھے۔
کچھ دیر میں وہ جیل پہنچ چکی تھی جہاں وہ محبت کا متلاشی اور خودغرض انسان قیدی بنا بیٹھا اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے دیکھا تو فوراً سے اٹھ کر سلاہوں کی طرف آیا تھا۔
” حیی حیا تم آ گئی۔ میں تمہیں بہت یاد کرتا ہوں “
” کتنا یاد کرتے ہو مجھے؟ “ حیا نے پوچھا۔
” اتنا کہ جس کا کوئی حساب نہیں “
” تو حساب کر لو پھر کیونکہ اب حیا صرف یاد آیا کرے گی آیا نہیں کرے گی “ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ وہ اس شخص کو کیا کہتی جس نے صرف تکلیف نہیں دی تھی اسے رسوا کر ڈالا تھا۔
حیا نے ہاتھ میں پکڑی فائل کھولی اور پین کے ساتھ اس کی طرف بڑھائی۔
” مجھے اور دیا کو آزاد کر دو اب ہائثم۔ کوئی تمہارا نام لے کر جب کہتا ہے دیکھو یہ ہائثم نوید کی بیویاں ہیں تو مر جانے کو دل کرتا ہے “
اور پھر وہ جب وہاں سے نکلی تو کئی آنسو گالوں کو بھگو رہے تھے اور دل تھا کہ پھٹ رہا تھا۔ کس نے کتنا سفر کیا تھا کوئی حساب نہیں تھا۔ کس کے حصے میں کتنا خسارہ آیا تھا اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
آج ڈھائی سالوں سے کندھوں پر رکھا ان جانا بوجھ اتر چکا تھا۔ ان چاہا رشتہ ختم ہو چکا تھا۔ ہائثم سے ہر تعلق ختم ہو چکا تھا۔
وہ فائل پر گرفت مظبوط کیئے جب باہر نکلی تو وہ مسافر آج پھر سے کھڑا اس کی راہ دیکھ رہا تھا۔ گاڑی سے ٹیک لگائے یوں کھڑا تھا جیسے برسوں سے اپنی ماروی کے انتظار میں ہو۔
وہ اسے خاطرخواہ نظرانداذ کرتے آگے بڑھی لیکن نہ اس کی گاڑی تھی اور نہ ڈرائیور۔
” میں نے ڈرائیور کو واپس بھیج دیا “ اس کے کہنے پر وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے اس کی گاڑی کی طرف بڑھی جس کا فرنٹ ڈور کھولے وہ منتظر تھا۔ وہ بیٹھی تو وہ بھی فوراً سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
گاڑی گاؤں کی طرف مڑی تھی لیکن دونوں نے کوئی بات کی تھی اور نہ ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔ حیا کو ہوش نہیں تھا تو وہ ہوش میں تھا لیکن اس بار طے کیئے بیٹھا تھا حیا کو زندگی سے جانے نہیں دے گا۔
گاڑی گھر کے دروازے کے آگے رکی تو وہ فوراً سے اترنے لگی تھی وہ عمر سلطان کی گھمبیر آواز سوالیہ ہوئی۔
” کیا برسوں بعد کہانی میں کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ ماری عمر کو مل جائے “
” میں اور دیا اکیلے ہوتے ہیں گھر پر ورنہ آپ کو ضرور چائے پوچھتی “ اس کے سوال کو نظرانداذ کرتے وہ جا چکی تھی لیکن اس بار طے تھا وہ اسے جانے نہیں دے گا۔ اس بار وہ زندگی سے زندگی کو جانے نہیں دے گا۔
★★★★★★★★★★★
جیل کی کال کوٹھری میں بیٹھا وہ شخص شدت سے اپنی موت کے وقت کا منتظر تھا۔ وہ دعا کرتا تھا اس کی سزا کا وقت آئے تو زندگی کی سزا سے اسے چھٹکارا مل جائے۔ وہ کئی راتوں سے سویا تھا نہ کچھ کھا پایا تھا۔ وہ کیسے سوتا کہ اسے وہ شخص یاد آتا تھا جو اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا تھا تب تک جب تک وہ سو نہیں جاتا تھا اور اسی شخص کو اس نے اپنے ہاتھوں سے مارا تھا۔ وہ کیسے کچھ کھا پاتا کہ وہ شخص اسے شدت سے یاد آتا تھا جو اپنی خواہشیں مار کر خود کم کھا کر اسے کھلاتا تھا اور اسی شخص کو اس نے مار ڈالا تھا۔ اسے یاد تھا کتنی بےیقینی تھی ارحم کی آنکھوں میں۔ وہ مرتا ہوا شخص کتنا بےیقین تھا کہ جسے جینا سکھایا تھا وہ اسے ہی مار رہا تھا۔ اسے یاد تھا اسے حیا سے محبت تھی بےتخاشا اور ایک وقت ایسا آیا جب اس نے جانا کہ اگر وہ محبت اسے نہ ملی تو وہ دنیا کو آگ لگا دے گا اور پہلے پہل اس نے حیا اور عمر کے محبت نامے سنے تو سوچ لیا اب محبت سے دور رہے گا لیکن حیا سے دور رہنا ممکن نہیں تھا اور پھر کشمالہ آئی پلان کے ساتھ جس سے سانپ بھی مر جاتا اور لاٹھی بھی باقی رہتی لیکن پلان سن کر وہ آگ بھگولا ہو گیا تھا۔ کوئی اس کے بھائی لگاتا تو وہ ہاتھ توڑ ڈالتا لیکن پھر کچھ وقت کے بعد اس نے جانا اگر وہ ارحم کی جگہ عمر سلطان کو راستے سے ہٹا دیتا ہے تب بھی اسے حیا نہیں ملتی کیونکہ پھر وہ ارحم نوید کو مل جائے اور کچی عمر میں محبت کا جوش اس قدر حاوی ہوا کہ وہ سب بھول بیٹھا یاد تھا تو صرف حیا کو پانے کی دھن اور کشمالہ کا پلان ہر طرح سے کامیاب تھا۔
کشمالہ نے فون کر کے دھوکے سے ارحم کو بلایا تھا اور پھر کئی دن تک اسے قید رکھا کیونکہ ہائثم ہمت یکجا نہیں کر پا رہا تھا اور ایک دن ہمت کجا کی تو پلان کو انجام تک پہنچانے کا وقت آیا۔
ارحم کے فون سے اس نے حیا کو فون کر کے بلایا اور کشمالہ کے لوگ ارحم کو اس فیکٹری میں لے آئے اور پھر جب وہاں ہائثم آیا تو اسے دیکھ کر ارحم بےتخاشہ خوش ہوا تھا۔ اسے لگا تھا دونوں بھائی مل کر یہاں سے نکلنے کی راہ نکال لیں گے اور وہ ہائثم کے گلے لگا تھا اور اسی موقعے کا فائدہ اٹھاتے ارحم نے اس کے پیٹ میں خنجر گھونپ ڈالا تھا۔
ارحم پیٹ پر ہاتھ رکھے اس سے دور ہوا تھا۔ بےیقینی اس کی أنکھوں میں واضح تھی اور وہ لڑکھڑا کر گرنے کو تھا کہ ہائثم نے اسے تھاما اور پیٹ سے خنجر نکال کر پے در پے دو تین وار کر ڈالے۔ خون کا فوارہ پھوٹ پڑا تھا اور لگ رہا تھا ارحم کو تکلیف یقین کے ٹوٹنے کی تھی مرنے کی نہیں۔
ہائثم نے ایک جھٹکے سے اکے چھوڑا تو وہ نیچے گر پڑا تھا۔ خنجر پیٹ میں ہی موجود تھا۔ ہائثم گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور پھر ارحم کے سر سے سر ٹکاتا وہ دھاڑیں مار مار کر رویا تھا۔
” مجھے معاف کر دینا بھائی لیکن حیا مجھے آپ کی موت کے بدلے ہی مل سکتی ہے۔ میں خودغرض ہوں بھائی۔ مجھے معاف کر دینا “ وہ رو رہا تھا۔ اسے درد ہو رہا تھا اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی اور اس سے ذیادہ تکلیف ارحم کی آنکھوں میں تھی اور پھر کشمالہ روتے ہوئے ہائثم کو کھینچ تان کر وہاں سے نکال کر لے گئی تھی اور پھر کئی دن تک وہ صدمے کے زیرِاثر رہا تھا اور یہ صدمہ کون سا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔
اسے آج بھی ارحم کی وہ بےیقین آنکھیں یاد آ رہی تھیں اور اسے وہ ماں یاد آ رہی تھی۔ اس نے سب کچھ برباد کر ڈالا تھا۔ اس نے جسے پانے کے لیئے یہ سب کچھ کیا تھا وہ بھی اس کے ساتھ نہیں تھی۔ اس نے چھل کیا تھا ہر محبت کرنے والے کے ساتھ اور محبت خود سے چھل کرنے والوں کو معاف نہیں کرتی۔
اسے جیل کی دیواروں پر ارحم کی بےیقین آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ ٹانگوں میں سر دیئے بیٹھا وہ بےتخاشہ خوفزدہ تھا جیسے بچپن میں ہو جایا کرتا تھا اور ارحم اسے سنبھال لیتا تھا لیکن اب ارحم نہیں تھا۔ وہ اپنی چھت اپنے ہاتھوں سے توڑ بیٹھا تھا ، وہ اپنا سہارا خود ہی مار بیٹھا تھا۔ وہ خود کو خود ہی تباہ کر بیٹھا تھا۔
★★★★★★★★★★★
دو سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جادو سُخن!
اے مرے خوش رو سجن
تری غزلیں مرے گیت،
اور تری نظمیں میرے دل کی گفتگو ہوئیں
اے رخشاں و منظورِ نظر!
اپنے بوسے کو مرے ماتھے کا جھومر،
اپنی بصیرتِ پرنور کو مری روح کا نکھار کر
میں ترے لئے تری حسین عورت ہوں
مری شدتوں کو قبول کر، آ مرا ہاتھ تھام
اور مجھے امر کر!
” تم آئے نہیں ابھی تک تو سن لو اب آنا بھی مت۔ میں اکیلی جا سکتی ہوں “ حیا فون کان سے لگائے غصے میں تھی اور دوسری طرف وہ گاڑی کی چابیاں لیتا تیزی سے آفس سے نکلا تھا۔ ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے وہ پارکنگ کی طرف بھاگا۔
” سوری حیا بس میں یہ پانچ منٹ میں پہنچا “ گاڑی پارکنگ سے نکالتے اس نے کہا اور دوسری طرف ٹھک کے فون رکھ دیا گیا۔
حیا کے کے چہرے پر غصے کی لالی تھی اور ہاتھ عجلت میں چلتے بیڈ پر پڑی مختلف اشیا اٹھا کر باسکٹس میں رکھ رہے تھے۔ حیا نے سفید رنگ کی شرٹ کے ساتھ میرون گاؤن اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا اور سفید دوپٹہ ایک کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ اس کی زندگی سیاہ و سفید سے نکل آئی تھی اور اب وہ رنگوں سے مزین دنیا میں دل کی خوشی کے ساتھ جیتی تھی اور ان خوشیوں کو اس تک لانے والا عمر سلطان تھا۔ عمر ٹھیک کہتا تھا برسوں بعد روایت بدلی تھی۔ عمر کو اس کی ماروی ملی تھی اور زندگی مکمل ہو گئی تھی۔
عمر سلطان ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر گھر پہنچ چکا تھا لیکن حیا کا موڈ بحال نہیں ہو سکتا تھا اب۔ وہ کھلونوں کو باسکٹ میں رکھ رہی تھی جب عمر سلطان نے اس کے گرد باہوں کا حصار کر کے ٹھوری اس کے سر پر ٹکا دی۔
” یار تھوک بھی دھو اب غصہ۔ میں آ گیا ہوں ناں “
” تم آتے ہو اور ہمیشہ دیر سے آتے ہو “ حیا نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا۔
” کہو تو اٹھک بیٹھک کروں “ وہ کان پکڑ کر اس قدر معصومیت سے بولا کہ حیا مسکرا دی۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ جیسے جی اٹھا تھا۔
” تعریف کروں میں تمہاری “ وہ اس کے نزدیک آیا تھا۔
” کرو “ وہ اترا کر بولی تھی۔ اس کے سامنے کھڑا اونچا لمبا مرد صرف اس کے لیئے جیتا تھا اور بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ خوش ہو جاتی تھی۔
” مسکراتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو اور تب بہت اچھی لگو جب میری ننھی منی غلطیاں نظرانداذ کر دیا کرو “
” اچھا جی جو حکم آپ کا جناب عمر سلطان صاحب! اب باتیں بنا چھوڑیں اور یہ سامان گاڑی میں رکھوائی جانا ہے ہمیں “
سامان کچھ دیر تک گاڑی میں رکھ کر وہ دونوں گاڑی میں سوار ہو گئے اور عمر نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
ہلکی پھلکی پیار بھری نوک جھوک میں راستہ کٹا تھا اور گاڑی گاؤں کی گلی میں داخل ہوئی۔ اس گاؤں سے حیا کے لیئے کچھ اچھی یادیں وابستہ نہیں تھیں لیکن وہاں ایک دیا رہتی تھی جسے وہ بھول سکتی تھی نہ رشتہ توڑ سکتی تھی۔
گاڑی نوید ہاؤس کے پاس سے گزری تو دل پر ہاتھ پڑا تھا کہ وہ ہنستا بستا گھر آج بند تھا۔ گیٹ کو تالا لگا تھا اور گھر کی درودیوار سے ویرانی ٹپک رہی تھی۔ گاڑی نوید ہاؤس کے پاس سے گزری اور کچھ فاصلے پر بنے ایک بلیو گیٹ کے سامنے رک گئی۔
دونوں گاڑی سے اترے۔ کئی گھروں کی کھڑکیوں سے کئی گردنوں نے جھانک حیا کو دیکھا۔ جس حیا کو قاتلہ کہا جاتا تھا آج اس کو خوش دیکھ کر سب بھونکچا رہ گئے۔
عمر سلطان نے ڈگی سے سامان نکالا تب تک حیا گیٹ پر دستک دے چکی تھی اور گیٹ کھل بھی چکا تھا۔ کھولنے والی دیا تھی۔ حیا کو دیکھ کر اس کے چہرے پر قوس قزخ کے رنگ بکھر گئے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملتے یوں لگ رہی تھیں جیسے سگی بہنیں ہوں۔
” مجھ بےچارے کو بھی اندر آنے کی اجازت ملے گی “ دونوں ہاتھوں میں ڈھیروں سامان اٹھائے وہ بولا تو دیا اور حیا مسکرا کر ایک طرف ہوئیں تو وہ اندر گیا۔ اس کے پیچھے وہ دونوں بھی اندر بڑھیں۔
” جگ جگ جیو آ گئی تم حیا پتر “ ایک بوڑھی عورت نے حیا کا ماتھا چوم کر اسے گلے سے لگایا تھا اور پھر حیا ان کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گئی۔ عمر سلطان بھی تمام سامان رکھ کر حیا کے برابر میں ہی آ بیٹھا۔
” عارفین کہاں ہے “ حیا نے دیا سے اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا جو اب ایک سال تین ماہ کا ہو چکا تھا۔
” باپ کا دم چھلا ہے۔ ابھی بازار بھیجا انہیں ساتھ ہی عارفین کو بھی لے گئے “ دیا مسکرائی تھی اور اس کی مسکراہٹ میں خوشی کا عنصر دیکھ کر حیا بھی خوش ہو گئی تھی۔
وہ باتیں ہی کر رہے تھے جب دروازے سے عارفین اپنے بابا کے ساتھ آیا۔ اس نے ایک بازو میں عارفین کو اٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کچھ شاپرز تھے۔ حیا کو دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔
دیا نے اس کے ہاتھ سے شاپرز لیئے اور کچن ک. طرف چلی گئی۔ اماں جی نے اس سے عارفین کو اٹھایا اور وہ عمر سلطان سے گلے ملنے لگا۔ اس کے بعد وہ حیا کی طرف متوجہ ہوا۔
” کیسی ہیں آپ حیا “
” میں بلکل ٹھیک اور فٹ فاٹ۔ تم سناؤ کیسے ہو کاشان “ کاشان نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔ عارفین اپنی توتلی زبان میں پا پا پا کہنے لگا تو کاشان نے مسکراتے ہوئے اسے اٹھا لیا۔ دیا کچن سے فیڈر لے کر آئی اور کاشان کو پکڑایا کہ وہ عارفین کو پلائے۔
دیا کو مکمل زندگی جیتے دیکھ کر حیا کے دل و جاں میں سکون اترا تھا۔
وقت تھا اور بڑا کٹھن تھا لیکن گزر گیا تھا اور اب اپنے حصے کی خوشیاں وصول کی جا رہی تھیں۔ حیا اور دیا کے حصے کی خوشیاں بہت غموں کے بعد آئی تھیں تو اتنا کافی تھا۔
★★★★★★★★★★★
ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔