Tera Naam Dil Rakh Diya By Mahnoor Khan Readelle50233 Last updated: 13 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Tera Naam Dil Rakh Diya
By Mahnoor Khan
روشنیوں سے چمکتے ہال کے ایک کونے میں وہ ٹیبل کے گرد بیٹھی تھی اور بہت سے لوگ پلٹ کر ایک بار اس کی طرف دیکھ کر چہ مگوئی ضرور کرتے اور وہ سب سے بےنیاز ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔ کھانا لگ چکا تھا اور اب سب مہمان اپنی پلیٹوں میں کھانا ڈالے مصروف ہو چکے تھے۔ ہائثم اس کے اپنے لیئے کھانا ڈال لایا تھا اور وہ دونوں چپ چاپ کھانے میں مصروف تھے جب کشمالہ کی چہکتی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اس نے پلٹ کر دیکھا۔ کشمالہ ایک عورت کے گلے لگی ہوئی تھی۔ وہ عورت نہایت دبلی پتلی اور اسمارٹ تھی اور براؤن بال کھلے ہوئے تھے اور رنگ بہت صاف تھی۔ حیا نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا وہ کترینہ تھی۔ کترینہ جہانگیر۔ جہانگیر کی دوسری بیوی اور کشمالہ جہانگیر کی ماں۔ کشمالہ کی خوشی دیدنی تھی۔ ہائثم نے حیا کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سوالیہ ہوا کہ یہ کون ہے؟ ہائثم نے اس سے پہلے اسے کبھی نہ دیکھا تھا۔ کچھ وقت مزید گزرا تو حیا نے ہایثم کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور جانے کا کہا۔ دونوں ایک ساتھ چلتے اسٹیج تک آئے تھے۔ حیا کو دیکھ کر کترینہ جہانگیر کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی۔ ” اوہ یہ بھی آئی ہوئی ہے “ ان کے لہجے میں ناگورایت تھی جو حیا کو دیکھ کر ہمیشہ آتی تھی اور حیا کو بھی وہ بلکل پسند نہیں تھی۔ ” ہاں آئی ہوں میں بھی کیوں آپ کو کوئی اعتراض ہے “ حیا نے گہرا سانس لیا۔ ” ہاں اعتراض تو ہے بیگانی شادی میں عبداللہ بننے کی عادت گئی نہیں تمہاری “ وہ مسکرا مسکرا دل جلانے کے فن سے واقف تھیں۔ ” ہاں شادی بیگانی ہے لیکن شادی کے جن انتظامات پر اکڑا جا رہا ہے وہ میرے باپ کی کمائی ہے جسے اڑا رہی ہو آپ دونوں ماں بیٹی مل کر “ اس نے ہال پر ایک نگاہ دہرائی جہاں ہر طرف کی زیب و آسائش پیسے کا پانی کی طرح بہنے کی گواہ تھی۔ ” تم نے اس لڑکی کو بلایا کیوں ہے شادی پر “ کترینہ نے غصے سے بیٹی کو دیکھا۔ ” جا رہی ہوں موم اور ہاں کشمالہ جہانگیر۔۔ اوہ نہیں کشمالہ عمر سلطان پھر ملاقات ہو گی ابھی چلتی ہوں “ ایک تیز نگاہ عمر پر ڈال کر وہ پلٹی تھی جب کترینہ پھر سے گویا ہوئی۔ ” لیکن ھم میں سے کوئی تم سے دوبارہ ملاقات نہیں کرنا چاہتا “ ” موم میری پیاری موم! آپ کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اب قسمت نے ہم سب کو ایک لڑی میں پرویا ہے تو کہیں نہ کہیں ہم ٹکراتے ضرور رہیں گے “ وہ دو سیڑھیاں عبور کرتی کترینہ کے پاس آئی ” اور اگلی ملاقات وکیل کے دفتر میں ہو گی میری پراپرٹی کے پیپرز تیار رکھئے گا “ اس کا پتھر لہجہ دونوں ماں بیٹی کو بہت زور کا لگا تھا اور پراپرٹی مانگنے پر مزید جھٹکا لگا تھا۔ ” میں بیوی ہوں تمہارے باپ کی مت بھولو “ کترینہ بنا مہمانوں کا لخاظ کئے چلائی تھیں اور اب لوگ تماشائی بنے ان کے تماشے کو دیکھ رہے تھے۔ ” میں اپنا حصہ مانگ رہی ہوں موم آپ سے آپ کا حصہ نہیں اور آپ میرے باپ کی بیوی تھیں۔ میرے باپ کی موت کے بعد آپ دونوں کا میاں بیوی والا رشتہ ختم ہو گیا لیکن میرا ان کا خون کا رشتہ تھا جو کہ ہمیشہ رہنے والا ہے “ وہ چبا چبا کر بولتی ان کے چھکے اڑا رہی تھی اور کترینہ تو حیران تھی کہ اتنی نرم بولنے اور ہر بات پر مسکرانے والی حیا اتنا سخت لہجہ کہاں سے لائی تھی۔ ” ٹکہ بھی نہیں ملے گا تمہیں لڑکی “ کترینہ بیگم نے کہا۔ ” اگلی ملاقات میں دیکھتے ہیں یہ سب موم “ لفظ موم چبا کر کہتی وہ مسکرا کر اسٹیج سے اتری اور ہایثم کا ہاتھ تھامے اعتماد سے چلتی ہوئی نکل گئی اور پیچھے کھڑے لوگوں کی نظریں اس پر ٹکی رہ گئیں۔ ★★★★★★★★★★★
