60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی
کہ ان کی نسلیں اداس ہونگی
ادھیڑ عمری میں مرنے والوں کو کیا پتہ تھا
کہ ان کے لوگوں کی زندگی میں
جوان عمری ناپید ہوگی
سمے کو بہنے سے کام ہوگا
بڑھاپا محو کلام ہوگا
ہر ایک چہرے میں راز ہوگا
حواس خمسہ کی بدحواسی
بس ایک وحشت کا ساز ہوگا
زمیں کے اندر آرام گاہوں میں
سونے والے مصوروں کو کہاں خبر تھی
کہ بعد ان کے تمام منظر، سبھی تصور
ادھورے ہونگے
دعائیں عمروں کی دینے والوں کو کیا خبر تھی
دراز عمری عذاب ہوگی
رات پوری طرح سے کائنات پر اتر چکی تھی لیکن چاند آسمان پر ناپید تھا۔ یہ دسمبر کے دن تھے۔ آسمان دن رات بادلوں سے ڈھکا رہتا تھا یا برستا رہتا تھا اور وہ دن بھر کی تھکی ہاری اپنے بستر پر لیٹی کمرے کی کھلی کھڑکی سے اس تاریک آسمان کو دیکھے جاتی۔ وہ تاریکی جو عرصہ ہوا اس کی ذات کا حصہ بن چکی تھی۔ وہ تاریکی جو اب اس کی ذات تھی۔ سیاہ سے بھی سیاہ۔ فقط سیاہ۔
اس نے اٹھ کر کھڑکی بند کی اور کڑوٹ پر کروٹ بدلنے لگی مگر ان گزرے ماہ و سال کی طرح نیند أج بھی کہیں منہ چھپائے بیٹھی تھی۔ وہ کروٹ کے بل بائیں طرف مڑی تو نظر سامنے صوفے پر سیدھا لیٹے ہائثم پر پڑی۔ اس نے آنکھوں پر بازو رکھا ہوا تھا لیکن پاؤں کا ہلتا انگوٹھا بتا رہا تھا کہ وہ جاگ رہا ہے اور نیند تو نوید ہاؤس کے مکینوں سے پچھلے دو سال سے روٹھی پڑی تھی۔
اس نے پھر سے کروٹ بدلی تو نظر سامنے دیوار پر لگے کیلینڈر پر پڑی۔ آج چھبیس تاریح تھی یعنی کہ دسمبر کی چھبیس۔ ارحم کی برسی کو ایک دن رہتا تھا یعنی کہ سارے سال کی ذلت کا امتحان ایک دن ہونا تھا اور وہ دن ارحم نوید کی برسی کا ہوتا تھا۔
کیلنڈر کے ساتھ دیوار پر ارحم اور ہائثم کی دیوار گیر تصویر نصب تھی جو ہائثم کے لیئے تو ایک یاد تھی لیکن حیا کے لیئے تکلیف کا باعث تھی۔
” دیکھو ارحم! تمہاری محبت بھلا کی طاقت ور تھی کہ تم جا کر بھی نہیں گئے۔ تم میری زندگی میں ایسا باب بن ٹھہر گئے ہو جسے نہ زندگی کی کتاب سے پھاڑ سکتی ہوں اور نہ مٹا سکتی ہوں “ اس کا دل سرگوشیوں میں جانے کیا کیا کہتا رہا تھا۔ ارحم سے شکوے کرتا رہا تھا جو محبت کر کے اس پر عذاب نازل کر گیا تھا۔ محبت دعا ہوتی ہے مگر ارحم کی محبت اس کے لیئے بدعا تھی ، سزا تھی اور عذاب تھی۔
اس نے پھر سے گردن موڑ کر صوفے پر لیٹے ہائثم کو دیکھا جو ایک بازو ابھی آنکھوں پر رکھے ہوئے تھا اور دوسرے ہاتھ سے سینے کو ہلکا ہلکا مسل رہا تھا جیسے اس کی سانس رک رہی ہو اور سانس رکی ہی تو تھی۔ ہائثم نوید کی جان بستی تھی ارحم نوید میں۔ نوید سجاد کے مر جانے کے بعد ارحم نوید نے ہائثم نوید کو بھائی سے ذیادہ باپ بن کر پالا تھا۔ وہ جینے کی واحد وجہ تھا ہائثم نوید اور اپنی ماں کے لیئے اور وہ وجہ ختم ہوئے دو سال ہونے کو آئے تھے۔
نیند ک پری جب اس پر مہربان نہ ہوئی تو وہ اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹہ گئی۔ نظریں اسی تصویر پر تھیں جس میں وہ دونوں بھائی مسکرا رہے تھے۔ خوس تھے اور وہ تصویر زندگی سے بھرپور تھی۔
اسے ان دو سالوں میں ہر روز اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے ہر دن خود کو کوسا کہ اچھا ہوتا اگر وہ کبھی پاکستان آئی ہی نہ ہوتی لیکن بابا کی ایموشنل بلیک میلنگ کی وجہ چلی آئی تھی۔
” ہائثم مجھے پیاس لگی ہے “ اس نے لیٹے ہوئے ہائثم کی طرف دیکھا تھا۔ یہ نہیں تھا کہ وہ اکیلے ڈرتی تھی ہاں یہ تھا کہ وہ پہلے کی طرح اب بھی ہائثم پر دھونس جماتی تھی اور بدلے میں وہ چپ رہتا تھا اور اس کی آنکھیں سب بول دیتی تھیں۔ نفرت کی ہر ایک کہانی۔
ہائثم نے بازو آنکھوں سے ہٹایا اور بنا اس کی طرف دیکھے اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔ اس نے ہائثم کو جاتے ہوئے دیکھا جو کل ہی نوکری سے واپس آیا تھا۔ اس کی نوکری اسلام آباد میں تھی اور وہ اب بس ارحم کی برسی پر آیا کرتا تھا۔ ماں کی یاد آتی تو فون پر بات کر لیتا کا ایک دو ہفتے کے لیئے بلا لیتا اور باقی بچی حیا تو وہ کسی گنتی میں نہیں تھی۔ وہ اپنی ماں کی طرح اسے ذلیل نہیں کرتا تھا لیکن وہ اسے عزت بھی نہیں دیتا تھا جو کہ بطورِ کزن وہ اسے پہلے دیا کرتا تھا۔ تب جب وہ حیا کا بیسٹ فرینڈ ہوا کرتا تھا اور حیا اس سے ہر بات شیئر کر لیتی تھی۔ وہ حیا سے عمر میں دو سال چھوٹا تھا لیکن ایک اچھا دوست تھا اور وہ دوستی جب زبردستی کے رشتے میں بندھی تو نفرت بن گئی۔
اس نے پانی لا کر حیا کو دیا اور خود واپس صوفے پر لیٹ گیا۔ حیا بھی پانی پی کر چپ چاپ لیٹ گئی تھی اور ساری رات کروٹیں بدلتے ہی گزرنی تھیں۔
★★★★★★★★★★★
ملنا تھا اتفاق اور بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا
پھر میں اس کو دیکھنے کو ترستا ہی رہ گیا محسن
ارے جس شخص کی ہتھیلی پر میرا نصیب تھا
گھر کا سارا راشن ختم تھا اور کل ارحم کی برسی بھی تھی۔ برسی کے لیئے سارے لوازمات ہائثم نے ہی لانے تھے مگر گھر کا سودا سلف وہی لاتی تھی۔ شائستہ بیگم(ہائثم اور ارحم کی ماں) گھر باہر کا کام اسی سے کرواتی تھیں۔ ہائثم گھر پر ہوتا نہیں تھا اور ارحم اب تھا نہیں۔ ذمہ داریاں حیا کے کندھوں پر تھیں۔
اسٹور سے سامان لے کر وہ اب ایک سبزی کی ریڑھی پر کھڑی سبزیاں پرکھ رہی تھی۔
شروع شروع میں وہ بازار آتی تو سامان خریدتے ، بھاؤ تاؤ کرتے رو پڑتی تھی۔ وہ جسے سبزیوں کے نام تک نہیں پتہ تھے اب قیمتیں بھی خفظ ہو گئی تھیں۔ وہ شروع سے ہی اچھا کھانے اور اچھا پہننے کی بہت شوقین تھی۔ انواع و اقسام کے کھانوں کا اس کی ٹیبل پر ڈھیڑ ہوتا تھا۔ باورچی وہ پرکھ کر رکھتی جو مٹن اور چکن کی ریسیپیز بنا سکے۔ اس کے ڈریسنگ سینس کی دنیا تعریف کرتی تھی۔
بڑی بڑی آنکھوں ، بھرے بھرے سرخ گالوں اور زندگی سے بھرپور مسکراہٹ والی حیا جہانگیر قصہ پارینہ ہو گئی تھی۔ کوئی پرانا جاننے والا دیکھتا تو یقین نہ کر پاتا کہ یہ وہی حیا ہے۔ حیا جہانگیر جس کی خوبصورتی اور اسٹائل کا معترف ایک جہاں تھا۔
اب تو آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے پڑ گئے تھے ، گال پچکنا شروع ہو گئے تھے ، ہونٹ سوکھ چکے تھے۔ اعلی ڈریسنگ سینس والی حیا جہانگیر اب سال کے گیارہ مہینے سفید کپڑوں میں ہوتی تھی۔ وہ سفید کپڑے جو اب بوسیدہ ہو کر پھٹنے کے قریب تھے۔ وہ بال جنہیں جن کا وہ ہر مہینے ٹریٹمنٹ کرواتی تھی اب عرصہ ہوا روکھے پھیکے ہو چکے تھے اور ہر وقت مظبوط چوٹی میں بندھے رہتے تھے۔
پریوں سی حیا جہانگیر اب عام سے گھرانے کی عام سی عورت تھی۔ وہ عورت جسے قاتلہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
وہ سبزی خرید کر فٹ پاتھ کے کنارے چلنے لگی۔ دونوں ہاتھوں میں سامان کے شاپرز تھے۔ سفید دوپٹہ مفلر کی طرح گلے میں پڑا ہوا تھا۔ وہ نظریں جھکائے پاؤں گھسیٹتے چل رہی تھی جب اس کے پاس سرخ رنگ کی کار آ کر رکی اور پھر کار سے تھری پیس سوٹ میں ، گاگلز پہنے ایک خوبرو سا مرد باہر نکلا اور اگلے سیکنڈ میں وہ اس کے روبرو تھا۔ حیا نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا اور سامنے موجود شخص کو دیکھ کر وہ ٹھہر ہی تو گئی تھی۔ آنکھوں میں نمی سی تیری تھی۔
سامنے والے کی آنکھیں بھی شاید ڈبڈبائی تھیں۔ گاگلز اتار کر اس نے انگلیوں کی پوروں سے آنکھوں کے کنارے صاف کیئے تھے۔
آنکھیں میچتے حیا نے نمی کو اندر دھکیلا تھا۔ ہونٹ چباتے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ وہ اب دانستہ بھی اس شخص کو دیکھتی تو ریت کی مانند بکھر کر رہ جاتی۔ وہ شخص جسے اس آخری دن کے بعد آج پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ آخری دن جو رخصتی سے ایک دن پہلے کا تھا۔ وہ دن جس دن وہ رو پڑا تھا۔ وہ دن جب دونوں کی پانچ سالہ محبت کے راستے جدا ہوئے تھے۔
” کیسی ہو حیا! “ یہ رسمی سا سوال بس بات کا آغاز تھا ورنہ وہ جانتا تھا سامنے کھڑی لڑکی ٹھیک نہیں ہے۔
” اچھی ہوں “ اس نے لہجے کو مستحکم رکھنا چاہا تھا مگر ہائے افسوس ایک آنسو اس کے ضبط کی توہین کر گیا۔
” میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں “ اس نے سامان کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ حیا نے فوراً سے ہاتھ پیچھے کئے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں خود نبھانا چاہتی تھی۔ وہ اپنے کئے کی سزا خود بھگتنا چاہتی تھی۔
” میں تمہیں یاد کرتا ہوں حیا بہت یاد کرتا ہوں “ بدحالیاں اوڑھے اس شخص کی آواز میں اوس اترنے لگے تھے۔۔ وہ سر جھٹک کر مسکرائی۔
” اور مجھے اپنا ماضی یاد کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی “ اس نے سچ بولا تھا اگرچہ سچ تلوار تھا جو سننے والے کو کاٹ ڈالتا تھا۔
دونوں کے درمیان کتنی دیر تک خاموشی چھائی رہی تھی۔ اس خاموشی کو موٹرسائیکل کی بےہنگم آواز نے توڑا تھا۔ حیا نے رخ موڑ کر دیکھا۔ وہ موٹرسائیکل سوار ہائثم نوید تھا جس کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ حیا نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اچھے دوست کو شوہر نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ وہ آپ کے ماضی سے واقف ہوتا ہے اور ایک شوہر بیوی کا ماضی فراموش نہیں کر سکتا۔
ہائثم نوید جانتا تھا حیا جہانگیر عمر سلطان سے محبت کرتی ہے اور آج دونوں کو یوں سرِ راہ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے دیکھ کر وہ غصے سے بل کھا کر رہ گیا تھا۔
عمر سلطان کو نظرانداذ کرتا اس نے بائیک سے اتر کر اس نے حیا سے شاپرز پکڑے اور بائیک پر رکھ دیئے۔ حیا پیچھے بیٹھی تو وہ بائیک بھگاتا ہوا لے گیا اور پیچھے کھڑا مسافر اسے جاتا دیکھتا رہا وہ مسافر جو ٹھکانے تلاش کر رہا تھا اور ٹھکانہ بھی حیا جہانگیر کی زندگی میں۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔