No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
موٹرسائیکل تیز رفتاری سے سڑک پر بھاگ رہی تھی اتنی تیز کہ اسے اپنے گلے سے اڑتے دوپٹے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑنا پڑا۔ بائیک سڑک سے ہوتی ہوئی کچی سڑک پر اتری اور پھر گلی میں داخل ہو کر آسمانی رنگ کے گیٹ کے سامنے رک گئی۔ حیا نے اتر کر شاپرز پکڑنے چاہے تو ہائثم نے سختی سے اسے اندر جانے کا کہہ دیا تو وہ اندر چلی گئی۔ ہائثم نے موٹرسائیکل گیٹ سے اندر کر کے گیٹ بند کیا اور سامان کے سارے شاپرز لا کر کچن میں رکھے۔ اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے اور شائستہ بیگم اس وقت سوئی ہوتی تھیں۔
وہ واپس سیدھا اپنے کمرے میں آیا جہاں حیا واش روم سے منہ دھو کر نکل رہی تھی۔ بیڈ پر پڑے دوپٹے سے اس نے اپنا منہ پونجا۔
” پھپھو سوئی ہوئی ہیں؟ تم نے ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔ میں ناشتہ بناتی ہوں “ اس کے ہر انداذ سے بےنیازی جھلک رہی تھی جیسے کچھ دیر پہلے جو ہائثم نے اسے اس کے محبوب کے ساتھ دیکھا وہ کچھ معنی نہ رکھتا تھا۔
ہائثم نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنے روبرو کیا تھا۔ حیا تو اس کی حرکت پر حیران ہوئی تھی کہ شادی کے ان دو سالوں میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ ضرورت سے ذیادہ اس سے بات کرتا ختیٰ کہ ہاتھ پکڑتا۔
” کیا کر رہا تھا وہ تمہارے ساتھ “ اس کے اندر کا مرد جاگا تھا وہ مرد جو ایک شوہر تھا جو کبھی حیا کا بہترین دوست تھا جو حیا کی محبت کی داستاں سے الف سے ے تک واقف تھا۔
” کیسے بات کر رہے ہو تم ہائثم “ حیا نے اپنے کلائی چھڑانی چاہی تھی مگر ہائثم کی گرفت مظبوط تھی۔ اس کی کوشش بس کوشش ہی رہ گئی۔
” وہ شخص اور تم ایک ساتھ کیونکر تھے؟ “ وہ دبا دبا سا چیخا تھا کہ وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں سرگوشی بھی دوسرے کمرے تک جاتی تھی اور وہ اپنی ماں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
” تم کون ہوتے ہو مجھ سے یہ پوچھنے والے “ اب کے وہ بھی غرّائی تھی۔ ہائثم کی نگاہوں سے شعلے نکلنے لگے۔
” تمہارا شوہر ہوں حیا بی بی! “
” واؤ! ان دو سالوں میں مجھے تمہاری ماں نے اپنے لہجے اور تم نے اپنی آگ اگلتی آنکھوں سے مجھے فقط ایک ہی بات بتائی ہے کہ میں ایک قاتلہ ہوں۔ میں ارحم نوید کی قاتلہ ہوں ، میں اس گھر کی نوکرانی ہوں تو آج تمہیں یہ کیونکر یاد آیا کہ میں تمہاری بیوی ہوں۔ تمہیں یاد ہے میں تمہاری بیوی ہوں “
ہائثم کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔ اس نے بےاختیار نگاہیں چرائی تھیں۔ حیا نے اس کا گریبان پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
” اگر میں تمہاری بیوی ہوں تو مجھ پر وہ سوگ فرض کیوں کیا گیا ہے جو ایک بیوہ پر ہوتا ہے۔ میں اگر تمہاری بیوی ہوں تو میں ارحم کی بیوہ کی طرح دو سالوں سے سوگ میں کیوں ہوں۔ میں تمہاری بیوی ہو کر ایک بیوہ کی سی زندگی پچھلے دو سال سے گزار رہی ہوں۔ اگر میں تمہاری محرم ہوں تو ایک نامحرم کا سوگ مجھ پر کیونکر لازم ہے۔ میں اگر شادی شدہ ہوں تو میری زندگی سیاہ اور سفید میں کیونکر قید ہے “ اس کا گریبان پکڑتے وہ ان دو سالوں میں آج پہلی بار چیخی تھی۔ جو اس پر گزر رہی ہے وہ بولی تھی۔
” آپ پر یہ سوگ آپ کی غلطی کی پاداش میں آپ پر فرض کیا گیا ہے۔ آپ کے گناہ کی سزا ہے جو آپ کو سیاہ اور سفید کے چکر میں قید کر دیا گیا ہے۔ آپ نے بھائی کو نہ مارا ہوتا تو آج سب کی زندگی مختلف ہوتی “ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ وہ کیا کرتا وہ اپنے بھائی کو بھولتا ہی نہیں تھا۔ وہ بھائی جو کبھی باپ سا اچھا لگتا تھا اور کبھی دوست سچا لگتا تھا۔
” میں نے نہیں مارا ارحم کو تم سمجھتے کیوں نہیں ہو۔ مجھے کیوں ایک ایسی غلطی کی سزا دے رہے ہو جو میں نے نہیں کیا۔ میری زندگی اپنے مرے ہوئے بھائی کے بدلے کیوں تباہ کر رہے ہو تم “ وہ چلا اٹھی تھی اتنا تیز کہ شائستہ بیگم بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھیں۔
ہائثم صوفے پر ڈھے گیا تھا۔ حیا کی آنکھ سے ایک قطرہ فقط ایک قطرہ پانی نکلا تھا۔ وہ آج عمر سلطان کو دیکھ کر آئی تھی۔ وہ آج اپنے محبوب کو دیکھ کر آئی تھی وہ عمر سلطان جس سے پانچ سال بلاناغہ اس نے محبت کی تھی اور اس محبت کا رازدار ہائثم تھا۔ وہ ہر بات ہائثم کو بتاتی تھی۔ وہ ہر محبت نامہ ہائثم کو دکھاتی تھی اور آج وہ محبت اس سے چند قدم کے فاصلے پر بھی بڑی دوری پر تھی۔
” کیوں چلا رہی ہے یہ منحوس لڑکی “ شائستہ بیگم نہایت غصے سے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ انہیں حیا کا بولنا ، چیخنا ختٰی کہ اس کی شکل سے بھی نفرت تھی۔ وہ جب بات کرتی تھیں تو حیا کے لیئے حقارت ہی حقارت ہوتی تھی۔
” کچھ نہیں ہوا اماں۔ چلیں اماں آپ “ ہائثم شائستہ بیگم کو لیئے باہر چلا گیا تھا اور اس کی نگاہیں پلٹ کر کمرے میں آویزاں اس فوٹو فریم تک گئیں۔ جس میں وہ تھا جس میں ارحم نوید تھا۔ وہ ارحم نوید جو مر کر اس کی زندگی عذاب کر گیا تھا۔
کہتے ہیں مرے ہوئے سے نفرت نہیں کرتے لیکن اس وقت اس پل حیا جہانگیر نے ارحم نوید سے شدت سے نفرت کی تھی۔
★★★★★★★★★★★
اس کی آنکھیں صحرا تھیں تو چہرہ پتھریلا۔ جذبات ان دو سالوں میں اس کے اندر سے کہیں رخصت ہو گئے تھے اور یہ تب ہوا جب وہ رخصت ہو کر اس گھر میں آئی تھی۔ وہ دن جو لڑکیوں کے اندر زندگی جگاتا ہے اس دن زندگی اس کے وجود میں مر گئی تھی اور زندگی کو اس کے اندر مرے دو سال ہو گئے تھے۔ وہ الماری کے پٹ کھولے حالی حالی نظروں سے ان دو رنگوں کو دیکھ رہی تھی جن کے گرد پچھلے دو سال سے اس کی زندگی گھوم رہی تھی۔ وہ دو رنگ سیاہ اور سفید تھے۔ سفید رنگ جو اس کی زندگی کو بےرنگ کر کے اس پر مسلط کیا گیا تھا۔ سیاہ جو سوگ کی علامت تھا وہ سوگ جو کرنا اس پر فرض تھا۔
اس نے سیاہ لباس نکالا اور پہن لیا۔ بالوں کی چوٹی باندھ کر دوپٹے کو اچھے سے سر پر لیا اور ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے سیاہ رنگ کی ڈائری نکالی۔ اس کی زندگی میں موجود ہر شے اب سیاہ ہی تو تھی اور بقول ہائثم نوید کے وہ دل کی بھی سیاہ تھی۔
28-12-2016 ارحم نوید کی جدائی کا دن۔
دو سال گزر گئے تھے اس قیامت سے مشابہت رکھتے اس دن کو جو حیا کی زندگی میں بھی طوفان لایا تھا۔ اس نے پین نکالا اور آج کی تاریح نوٹ کی-28-12-2018
کمرے کا دروازہ کھلا۔ اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا کیونکہ جانتی تھی آنے والا ہائثم نوید ہے۔ وہ بھی سیاہ لباس زیب تن کئے ہوئے تھا کیونکہ آج سوگ کا دن تھا۔ نوید ہاؤس میں 28 دسمبر سوگ کا دن تھا کیونکہ اس دن ارحم نوید مرا تھا اور ساتھ حیا جہانگیر کی سانسیں بھی چھین گیا تھا۔ اس کا مجازی خدا جس کے ساتھ اسے دو سال پہلے بیاہا کیا گیا تھا لیکن اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ کبھی ہائثم نے اسے کبھی نظر اٹھا کر دیکھا ہو۔ وہ تو دو دن کی دلہن کو چھوڑ کر گیا ان دو سالوں میں دوسری بار آیا تھا اور حیا کو بھی دلچسبی نہیں تھی کہ وہ اسے دیکھتا ہے یا نہیں لیکن اپنی بےوقعتی پر تکلیف ہوتی تھی شدید تکلیف۔
” ہائثم اس کلموہی قاتلہ کو بول باہر دفع ہو “ یہ آواز ہائثم کی ماں کی تھی۔ حیا کے لیئے دنیا جہاں کی نفرت اس چھوٹے سے گھر کے مکینوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور کیونکر نہ ہوتی وہ قاتلہ تھی۔ اس گھر کے لاڈلے سپوت ارحم نوید کی۔
حیا نے ڈائری بند کر کے دراز میں ڈالی اور روٹین کے مطابق ذلیل ہونے باہر چلی گئی۔ ہائثم نے پلٹ کر اسے جاتا ہوا دیکھا لیکن ان آنکھوں میں دیکھنے جیسا کچھ نہیں تھا۔ ان آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ اگر بس میں ہوتا تو وہ حیا جہانگیر کا قتل کر ڈالتا۔ وہ حیا جہانگیر جو معاشرے میں حیا ہائثم نوید کہلاتی تھی۔
ہائثم نے انگلیوں کی پوروں سے بےاختیار کنپٹی کو سہلایا تھا۔ وہ خود شدید مشکل میں تھا۔ یہ جو ایک فیصلہ گلے کا طوق بن گیا تھا وہ یہ فیصلہ کبھی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ماں کے مجبور کرنے پر اس نے حیا سے شادی کر لی تھی اور وہ تب حیران ہوا تھا کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ماں حیا کو بہو بنانا چاہ رہی ہے لیکن نہیں وہ تو اسے تکلیف دینا چاہتی تھیں۔ وہ بہو نہیں نوکرانی چاہتی تھیں ایسی سوگ زدہ نوکرانی جسے وہ ہر پل اور پل پل اذیت دیں اور پہلی اذیت کی شروعات شادی سے تھی کیونکہ عمر سلطان اتنی پاور رکھتا تھا کہ وہ کچھ بھی کر کے حیا جہانگیر کو ارحم نوید کے مرڈر کیس سے باہر نکال دیتا اور پھر وہ اور حیا ایک اچھی زندگی جیتے جو کبھی بھی قابلِ قبول نہیں تھی۔
ہائثم چلتا ہوا فریم تک آیا۔ وہ فریم جس میں ماضی مسکراتا تھا ، خوشی کی نوید سناتا تھا اور زندگی سے بھرپور گیت گاتا تھا۔
اور اس سکون بھرے ماضی میں پتھر تب پڑا تھا جب حیا جہانگیر پاکستان آئی تھی۔ وہ حیا جہانگیر جس سے ارحم نوید نے بےتخاشہ محبت کی تھی اتنی محبت کہ اس محبت نے پھر اس کی جان لے لی۔
” دیکھو بھائی کیا کیا ہو رہا ہے اور اس ہونے میں آپ کو ہونا چاہئیے تھا۔ وہ کہتی ہے اس کا کوئی قصور نہیں ہے لیکن میں کہتا ہوں سارا قصور اسی کا تو ہے۔ سارا قصور حیا جہانگیر کا ہے جس کی محبت نے ایک شخص کو مار دیا اور کل ایک شخص زندہ لاش بنا راستے میں کھڑا تھا اور بچا میں تو میں نے تو کبھی اسے حاصل کرنے کے لیئے تو اس سے محبت کی ہی نہیں تھی “ وہ تصویر پر ہاتھ پھیرتا سرگوشیاں کر رہا تھا وہ سرگوشیاں جو وہ دو سال سے اپنے مرے ہوئے بھائی سے کر رہا تھا۔
★★★★★★★★★★★
ارحم نوید کی برسی کا دن گزر چکا تھا۔ اٹھائیس دسمبر گزر چکا تھا اور اب نیا سال آنے والا تھا۔ وہ نیا سال جو نوید ہاؤس کے مکینوں کے لیئے صرف دو سال پہلے تب آنے والا تھا جب ارحم نوید زندہ تھا۔ موجود تھا ان سب میں۔ اس چھوٹے سے گھر میں خوشیاں اچھلتی کودتی تھیں۔
نوید صاحب کی وفات تب ہوئی جب ارحم کالج میں تھا اور پھر باپ کے بعد اس پر ذمہ داریاں پڑ گئیں۔ ہائثم چھوٹا تھا۔ ابھی آٹھویں کلاس میں تھا وہ۔ ارحم نے کالج چھوڑ دیا اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے لگا جس سے وہ اپنا اور ماں کا پیٹ پال لیتا تھا۔ ساتھ ساتھ اس نے پڑھائی بھی جاری رکھی مگر ذمہ داریوں میں ڈوبے ہر انسان کی طرح معمولی نمبروں سے پاس ہوتا تھا اور پھر وقت کچھ اس پر مہربان ہوا تو اس کو گورنمنٹ جاب مل گئی۔
گھر کے حالات پہلے سے قدرے بہتر ہو گئے۔ پہلی تنخواہ پر گھر میں قرآن خوانی کروائی گئی۔ رشتہ داروں کو بلایا گیا اور وہیں پہلی بار حیا جہانگیر آئی۔ وہ ارحم کے ماموں کی بیٹی تھی جو عرصہ دراز سے ملک سے باہر مقیم تھے اور وہ پہلی بار کا آنا ارحم جہانگیر کے دل میں اٹک کر رہ گیا۔
حیا دوستانہ طبیعت کی مالک تھی برعکس اپنی چھوٹی بہن کشمالہ کے۔ بہت جلد وہ نوید ہاؤس کے مکینوں کے ساتھ اٹیچ ہو گئی اور سب سے ذیادہ دوستی اس کی ہائثم سے ہوئی تھی۔ ہائثم ان دنوں گریجوئیشن کر رہا تھا۔
وہ حیا کا بیسٹ فرینڈ بن گیا اور پھر حیا اسے اپنی محبت کی طویل داستانیں سنانے لگی۔ وہ داستاں جس میں ایک شہزادہ تھا عمر سلطان اور شہزادی تھی حیا جہانگیر۔ اپنی محبت کی داستاں سا پہلا صفحہ سناتے وہ بہت خوش تھی اور اس دن ہائثم نوید نے خود کو خوشفہمیوں کے جال سے باہر نکالا کہ حیا جہانگیر اس سے بھلا کیسے محبت کر سکتی ہے۔
کہاں عمر سلطان سا شہزادہ اور کہاں وہ ایک عام سا شخص۔
اس دن کے بعد ہائثم نوید نے حیا جہانگیر سے بس محبت کی اور بہت محبت کی لیکن کبھی اسے اپنانے کا نہ سوچا۔ وہ اس کے لیئے خوش تھا کہ وہ عمر سلطان کے ساتھ خوش ہے لیکن اس میں دراڑ تب پڑی جب ایک شام اس نے ارحم نوید کی ڈائری سے ایک تصویر نکالی۔ وہ تصویر جو حیا جہانگیر کی تھی اور اس وقت وہ بہت رویا تھا اتنا کہ جتنا وہ عمر سلطان کے وجود کا سن کر نہیں رویا تھا۔
اس کی جان بستی تھی ارحم میں اور ارحم کی اب حیا جہانگیر میں بسنے لگی تھی۔ وہ اس دن رویا کہ ایک دن اس کا بھائی یوں رو دے گا جب جانے کا کہ ایک عمر سلطان بھی ہے کہانی میں جس سے حیا جہانگیر پاگلوں کی طرح پیار کرتی ہے۔
حیا جہانگیر ایسی تھی کہ کسی کو بھی اس سے محبت ہو سکتی تھی لیکن حیا جہانگیر ایسی نہیں تھی کہ کسی بھی ارحم نوید یا ہائثم نوید کو مل جاتی۔
وہ حیا جہانگیر تھی جو عمر سلطان کے لیئے بنی تھی۔ حیا جہانگیر صرف عمر سلطان جیسے شہزادے کے نصیب میں تھی۔
اور پھر ایک دن وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیئے تھا جس کا سوچا نہیں تھا کہ وہ ہو گا۔ حیا جہانگیر کو پاکستان شفٹ ہوئے کوئی دو سال ہوئے تھے کہ اس کے باپ کی موت ہو گئی اور پھر فقط ایک سال بعد ارحم نوید مر گیا۔ وہ ارحم نوید جو نوید ہاؤس کے دو افراد کے جینے کی وجہ تھا۔ ہائثم جاب کے سلسلے میں اسلام آباد میں تھا جب اسے یہ خبر ملی تھی اور کراچی آنے پر معلوم ہوا کہ ارحم نوید کی موت خادثاتی نہیں تھی۔ وہ ایک قتل تھا اور قاتلہ حیا جہانگیر تھی۔ سارے شواہد حیا جہانگیر کے خلاف تھے۔ اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عمر سلطان نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا حیا کو بچانے کے لیئے اور قریب تھا کہ وہ حیا کو اس کیس سے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیتا شائستہ بیگم نے صلح کر لی۔ وہ صلح جو قید کی شروعات تھی۔ وہ صلح جس کے دستخط ہائثم نوید اور حیا جہانگیر کے نکاخ کے دستخط کے ساتھ ہوئے تھے۔
باز. پلٹ چکی تھی۔ عمر سلطان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا تھا کچھ نہیں بچا تھا۔ حیا جہانگیر ہائثم نوید کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔
