60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

کشمالہ جہانگیر اور عمر سلطان کی شادی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور آج کشمالہ اپنی ماں کترینہ جہانگیر کے ساتھ آفس میں موجود تھی۔ جہانگیر کی کڑوڑوں کی جائیداد جس پر وہ دونوں قابض ہو گئی تھیں اور کسی صورت حیا کو اس کا حصہ دینے کو تیار نہیں تھیں جو کہ اچھا خاصا بنتا تھا۔
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں اسی متعلق بات کر رہی تھیں جب دروازہ دھڑام سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی۔ اس کا لباس حسبِ توقع سفید تھا اور بال پونی میں مقید تھے۔ دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے پیچھے ہائثم بھی آفس میں داخل ہوا تھا۔
دونوں ماں بیٹی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
” یہ رہے پیبرز۔ میرے حصے کی وہ تمام پراپرٹی مجھے چاہیئے جو آپ دونوں ماں بیٹی اپنے نام کر کے بیٹھی ہو “ اس نے سیاہ رنگ کی فائل ٹیبل پر پٹخی۔
” تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے اس پراپرٹی میں “ کشمالہ نے دانت رگڑتے ہوئے کہا۔
” تو تمہارا حصہ ہے یہ سارا۔ شکر مناؤ صرف اپنا حصہ مانگ رہی ہوں ورنہ تمہارا میرے باپ کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں بنتا “ حیا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے اسی کے انداذ میں کہا تھا۔
” تمہارا باپ خود ساری جائیداد میرے اور میری بیٹی کے نام کر کے مرا ہے اور اس کی وصیت میں بھی یہی لکھا ہے “ کترینہ اب میدان میں اتری تھی۔
” میرے ہی باپ میرے سوا سب کے نام جائیداد کی ہے۔ اسٹرینج ھے ناں “ وہ ہنسی۔
” اب تمہارے باپ کو تم پر اعتبار نہیں تھا اس لیئے اور ٹھیک ہی اعتبار نہیں تھا۔ اس کے مرتے ہی کر دیا ناں کانڈ۔ مار دیا ایک انسان کو “ کترینہ نے اس کے زخم ادھیڑنے چاہے۔ کشمالہ نے ایک دم ہائثم کی طرف دیکھا جو نگاہیں جھکاتا ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔
” میں کسی کی قاتل ہوں یا نہیں اس کے لیئے مجھے تم دونوں کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے اور رہی میرے حصے کی بات تو وہ میں لے کر رہوں گی۔ عدالت میں نہ گھسیٹا میں نے تم ماں بیٹی کو تو میں بھی حیا جہانگیر نہیں “ وہ غصے سے کہتی آفس سے نکلتی چلی گئی اس کے پیچھے ہی ہایثم بھی نکلا تھا۔ دونوں ماں بیٹی نے کھا جانے والی نظروں سے ان دونوں کو جاتے دیکھا اور دانت پیستی بیٹھ گئیں۔
” اس حیا کا کچھ کرنا ہو گا۔ اتنا کچھ ہو گیا اکڑ اس کی حتم نہیں ہوئی بلکہ ذیادہ ہو گئی ہے “ کترینہ بیگم غصے سے بل کھا کر رہ گئی تھیں۔ انہیں حیا کا رویہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہاں وہ اس کی ہر دھتکار پر بھی موم موم کرتی پھرتی تھی اور آج طرزِ تم اور تو پر آ گیا۔
” آپ فکر نہ کرو موم۔ حکم کا اکا میرے ہاتھ میں ہے۔ میں جو چاہوں گی اسے کرنا ہو گا اور وہ کرے گا اور اس حیا کو بھی اس کی بات ماننی پڑے گی۔ وہ ایک حکم کا اکا جسے اسی دن کے واسطے بچا کر رکھا تھا۔ اس حیا کے پر میں کاٹوں گی اب “ انگلیاں مڑوڑتے وہ کچھ سوچتی مسکرائی تھی۔ اس کے شیطانی دماغ میں چلتا حطرناک منصوبہ اس کی مسکراہٹ سے واضح تھا۔
★★★★★★★★★★★
آج آسمان پر پورا چاند چمک رہا تھا اور وہ اس چمکتے چاند کی روشنی میں صحن میں رکھے پتھر پر بیٹھا تھا جب وہ اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔
” دیا سو گئی ہے۔ تم سوئے نہیں ابھی تک “
” نیند نہیں آ رہی تھی تو یہاں آ کر بیٹھ گیا۔ تم کیوں نہیں سوئی “ اس نے مسکرا کر پوچھا۔
” مجھے بھی نیند نہیں آ رہی تھی “ اس کی مسکراہٹ کے جواب میں وہ بھی مسکرائی تھی۔
” اگلے ہفتے جا رہا ہوں میں “ اس نے بتایا۔
” تم مجھ سے محبت کرتے ہو“ اس نے پوچھا
” ہوں بہت بہت ذیادہ “ ہائثم نے دھیما سا کہا۔
” باوجود اس کے کہ مجھ پر تمہارے بھائی کا قتل ثابت ہوا ہے “ اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
” ہاں باوجود اس کے بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے “ اس نے اقرار کیا جو ہر وقت اس کی آنکھیں کرتی تھیں۔
” تمہارے ساتھ زندگی کا نیا سفر شروع کرنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں “ اس نے مسکرا کر کہا تو اس پر حیرت کا پہاڑ توٹا تھا۔
” تمہاری طبیعت ٹھیک ہے “ اسے لگا شاید وہ بیمار ہے تبھی یہ سب کہہ رہی ہے۔
” طبیعت ٹھیک ہے میری۔ بس دو دن دو تیسرے دن حیا جہانگیر تمہارے لیئے دلہن بنے گی۔ سفید اور سیاہ کو زندگی سے نکال کر حیا جہانگیر حیا ہائثم نوید بننے کو تیار ہے “ وہ کہہ کر چلی گئی تھی اور وہ خوشی کی کیفیت میں حیران سا وھاں بیٹھا رہا کہ یہ کوئی خواب تو نہیں۔
★★★★★★★★★★★
وہ صوفے پر بیٹھی پاؤں جھلا رہی تھی کیونکہ اتنی دیر ہو گئی تھی اور وہ اب تک نہیں لوٹا تھا۔ اس نے ایک نظر موبائل کو دیکھا اور اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
بلیو پینٹ پر سفید ڈریس شرٹ اور بلیو کوٹ پہنے ، کندھے تک آتے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے وہ کسی کو بھی گھائل کرنے کی تمام حصوصیات رکھتی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر جیت کی مسکراہٹ تھی وہ جیت جس سے ذیادہ خوشی اسے حیا کی ہار کی تھی۔ اپنے عکس کو دیکھتے اسے اپنے یقین پر بےانتہا یقین ہوا کہ وہ دلوں پر حکمرانی کرنے آئی ہے۔
دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔ بالوں کو جھٹکتے کشمالہ نے ایک نظر اس آنے والے پر ڈالی اور مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ میں غرور تھا۔
” بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے “ وہ ایک ادا سے چلتی بیڈ پر ڈھے گئی۔ اس نظریں چھت پر چلتے پھنی سے ہوتیں اس شخص تک گئیں جو سپاٹ چہرہ لیئے کھڑا تھا۔
” اوہ میرے حکم کے اکّے “ وہ مسکرا کر چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور گال پر ہاتھ رکھا جسے سامنے والے نے بےدردی سے جھٹک دیا۔
” اوہ حکم کے اکے کو غصہ آ گیا “ اس کا ہر انداذ سامنے والے کو اریٹیٹ کر رہا تھا۔
” چلو بہت ہو گیا لاڈ۔ اب سیرئس بات کرتے ہیں تو بات یہ ہے کہ تم میرے حکم کے اکے ہو وہ اکا جس کی کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی تھی اور لو آج پڑ گئی “ وہ سنجیدہ ہوئی۔
” جو بات کرنی ھے سیدھی طرح کہو “ اس کی گھمبیر آواز میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
” حیا جہانگیر وہ اڑیل گھوڑی ہے جسے نکیل تم ڈال سکتے ہو کیونکہ تم وہ واحد انسان ہو جس کی وہ سنے گی “ کشمالہ نے کہا۔
” میری وجہ سے اس نے اتنی تکلیفیں سہی ہیں۔ وہ کیوں میری بات مانے گی “ اس کی گھمبیر آواز پھر سے کمرے میں گونجی۔
” وہ مانے گی اور صرف تمہاری بات مانے گی اور اب تم یہ کیسے کرو گے یہ تم جانو “ اس نے کمال بےنیازی سے کہا۔
” میں اب مزید کچھ بھی نہیں کروں گا سن لو تم “ وہ ٹھوس لہجے میں گویا ہوا۔ کشمالہ کی آنکھوں میں غصہ چمکا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے پلٹی اور پھر اگلے ہی پلٹی اور پھر اگلے ہی پل اس کی کہر برساتی آنکھوں میں مسکراہٹ چمکنے لگی۔
اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اٹھا کر کچھ دیر اس میں لگی رہی اور پھر ایک ویڈیو پلے کر کے موبائل اس کے سامنے کیا۔
سامنے والے کی نگاہوں میں ڈر اور خوف ابھرا۔
” ایسے ہی تو نہیں کہتی تمہیں حکم کا اکا۔ یہ ایک آخری کام ہے وہ کرو پھر تمہارے میرے راستے جدا جدا۔ حیا کے باپ کی دولت پر راج کروں گی میں “ سیٹی بجاتے ہوئے وہ بولی۔
” کیا کرنا ہو گا مجھے “ سامنے والا اب مجبور نظر آنے لگا تھا۔
” حیا کو کہو وہ میرا پیچھا چھوڑ دے اور چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو مار ڈالو اسے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
” اے چپ! محبت کرتا ہوں میں اس سے “ وہ اتنی زور سے چلایا کہ ایک پل کو کشمالہ کا دل دہل گیا تھا مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا۔
” محبت تو میں بھی کرتی ہوں ، محبت حیا بھی کرتی ہے ، محبت ارحم بھی کرتا تھا۔ ارے سب کرتے ہیں محبت لیکن جس سے محبت کریں وہ جیئے یہ ضروری تو نہیں اور ویسے بھی اس محبت کا کیا کرنا جو مل نہ سکے اور حیا تو تمہیں نہیں مل سکتی۔ یاد نہیں ہے تمہاری شادی ہو گئی ہے “ کشمالہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
” کچھ بھی ہو میں اسے مار نہیں سکتا۔ بہت محبت کرتا ہوں میں اس سے “ وہ محبت کے قتل سے انکاری تھا۔
” جہانگیر یاد ہے ناں تمہیں۔ میرا اور حیا کا باپ۔ بھلے وہ میرا بائیولوجیکل باپ نہیں تھا لیکن بڑی محبت کرتا تھا مجھ سے اور میں بھی بڑی محبت کرتی تھی لیکن مار دیا ناں اسے پھر بھی۔ چچچچچچچ جس سے محبت کرتے ہیں ذیادہ تنگ کرے تو اسے مارنا پڑتا ہے “ وہ غصے کی شدت سے چلائی تھی۔
” کیا تتت تم نے۔۔۔۔۔۔“ وہ بول نہیں پایا تھا۔
” ہاں میں نے اور میری ماں نے مار ڈالا۔ بہت تنگ کرنے لگ گیا تھا۔ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ یہ نہ پہنو وہ نہ پہنو۔نشہ مت کرو ، پارٹیز مت کرو لیکن میں نے برداشت کیا لیکن اس دن حد ہو گئی جب اس نے وصیت تیار کروائی اور ساری جائیداد حیا کے نام کر دی۔ بس پھر کیا تھا مار ڈالا اسے۔ اس جیسے شخص کو مر جانا ہی چاہیئے تھا “ اس کی آنکھوں سے درندگی ٹپکنے لگی تھی جس نے اسے انتہائی بدصورت بنا دیا تھا۔
” لیکن میں حیا کو نہیں ماروں گا “ اس کا فیصلہ اٹل تھا۔
” پھر سب کو بتاؤں گی کہ تم نے ارحم نوید کو مارا ہے۔ تم ہو اس ارحم نوید کے قاتل جس کی موت کی سزا حیا جہانگیر بھگت رہی ہے اور میرے پاس تمام ثبوت بھی موجود ہیں اور بس یہ ایک ویڈیو ہی کافی ہے ثبوت کے طور پر اور پھر تمہارا کھیل ختم “ اس نے بلیک میلنگ سٹارٹ کر دی تھی۔
” بلیک میل کرو گی اب مجھے “ اس کا لہجہ عجیب ہوا۔
” حیا جہانگیر کو مار ڈالو تو پھر نہیں کروں گی لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
کشمالہ کی بات منہ میں ہی رہ گئی کہ اس شخص نے پھرتی سے اسے گردن سے دبوچ لیا۔
” تم مر جاؤ گی تو کون سا ثبوت کشمالہ جہانگیر اور تم جیسی کو مر جانا ہی چاہیئے “ کشمالہ کھانستی رہی اور پھر التجا بھی کر ڈالی لیکن اس شخص نے اس کی گردن تب تک نہ چھوڑی جب تک روح نے کشمالہ جہانگیر کا جسم نہیں چھوڑ دیا۔
اس نے کشمالہ کا بےجان وجود فرش پر پٹخا اور اس کا موبائل اٹھا کر ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے بعد اپنے حواس قابو کیئے اور وہاں سے نکل گیا اور پیچھے فرش پر کھلی بےجان آنکھوں والی حسین لڑکی بےجان پڑی تھی اور عکس سے جھانکتا اس کا حسن مسکرا دیا۔
وہ حسین ترین اور امیر ترین ہو کر بھی مر گئی تھی۔
★★★★★★★★★★★
کشمالہ مر گئی۔۔۔ کشمالہ جہانگیر مر گئی۔۔ کشمالہ عمر سلطان مر گئی۔۔۔
یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کشمالہ جہانگیر جو خود موت تھی اسے موت لے گئی۔
حیا نے سنا تو بےاختیار دروازے کا سہارا خود کو گرنے سے بچایا تھا۔
” وہ کیسے مر گئی ہائثم۔۔ وہ تو بلکل ٹھیک تھی “ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ دونوں مقابلے پر تھیں لیکن حیا کو یاد تھا وہ ہر پل جب ننھی کشمالہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے سڑک پر لے جاتی۔ اس کے لیئے فیڈر بناتی اور اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔ وہ تو بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کترینہ نے اسے سر تا پیر نفرت بنا دیا تھا لیکن حیا نے اسے بہن مان کر اس کا ساتھ دیا تھا اور آج اس کا جانا اسے تکلیف دے رہا تھا۔
” کسی نے قتل کر دیا ہے اس کا “ بتانے والے کا انداذ خود بےیقینوں جیسا تھا۔
” آپ کو جانا چاہیئے حیا۔ وہ بہن تھی آپ کی “ دیا نہ بھی کہتی تو وہ تب بھی جاتی جیسی بھی تھی بہن تھی اس کی۔
سفید سوگ زدہ لباس تو تھا تن پر اور کیا چاہیئے تھا۔ وہ شہر آ گئی۔ کشمالہ کی میت جہانگیر مینشن میں تھی۔ اسے دیکھتے ہی کترینہ جہانگیر زخمی شیرنی کی طرح اس پر چھپٹی تھیں کہ عمر سلطان نے بروقت آگے بڑھ کر اسے ان سے بچایا تھا۔
” ان دونوں نے مل کر مارا ہے میری بیٹی کو۔ یہ دونوں قاتل ہیں میری کشمالہ کے۔۔ مل گیا تمہیں اب عمر۔ اسی لیئے تم نے مارا ہے ناں میری کشمالہ کو۔ خدا تمہیں غارت کرے حیا “ وہ چیخ رہی تھیں۔ چلا رہی تھیں۔ اسے بدعائیں دے رہی تھیں۔
” اس شخص نے مارا ہے میری بیٹی کو۔ خوش نہیں تھا یہ۔ اس حیا سے شادی کرنا چاہتا تھا اس لییے مار ڈالا میر کشمالہ کو۔۔ مار ڈالا میری کشمالہ کو “ وہ روتے روتے نیچے بیٹھتی چلی گئیں۔
” میں کیوں ماروں گی کشمالہ کو وہ میری بہن تھی موم “ وہ ان کو دلاسہ دینے پاس آئی تھی لیکن اتنی زور سے دھکا دے کر خود سے دور کیا کہ وہ اندر تک ہل گئی تھی۔
” نہیں تھی وہ تمہاری بہن۔ اس لیئے مار ڈالا تم نے۔ اپنی بہن ہوتی تو نہ مارتی تم “ ان کو کوسنے چیخ و پکار سب جاری تھا اور اسی چیخ و پکار میں اسے دفنانے کے لیئے لے جایا گیا۔
اس کے بعد وہ بھی لوٹ کر ہایثم کے ساتھ گاؤں آ گئی تھی۔ کترینہ جہانگیر اسے ایک منٹ بھی اپنے آس پاس برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔