No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
مہمان آہستہ آہستہ جا چکے تھے اور نئی نویلی دلہن شائستہ بیگم کے تخت پر سر جھکائے بیٹھی اور شائستہ بیگم اور سعدیہ خانم چلے پیر کی بلی کی طرح پورے گھر میں گھوم رہی تھیں۔ ہائثم کو گئے تین گھنٹے ہو گئے تھے اور اس کا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔ حیا ایک کونے میں سمٹی ہوئی بیٹھی تھی کہ سعدیہ خانم اور شائستہ بیگم کی نفرت بھری نگاہیں اسے اندر سے کاٹ رہی تھیں اور کبھی دیا جمشید کو دیکھ کر اس کا دل مٹھی میں آ جاتا تھا۔
کچھ وقت مزید گزرا تھا کہ دروازہ کھلا اور وہ واپس آ گیا۔ ماتھے پر بکھرے بال اور آنکھوں میں چمکتی نمی اس مسافر کی تکلیف کا پتہ دیتی تھی۔ شائستہ بیگم فوراً سے بیٹے کی طرف بڑھیں۔
” کہاں تھے میرے بچے ٹھیک ہو نا تم “ شائستہ بیگم نے کہا۔ دیا جمشید نے جھکی گردن اٹھا کر اسے دیکھا جو آج اس کا ہوا تھا لیکن وہ اس کا نہیں ہو سکتا تھا۔۔
” ٹھیک ہو ماں “ اس نے دھیما سا کہا اور خفظ ہو جانے تک حیا کے چہرے کو دیکھا۔ دیا نے اس کی نگاہوں کا تعاقب کیا تو کئی آنسو اس کے گالوں پر بہہ گئے تھے۔ یہ دیکھتے شائستہ بیگم تیزی سے حیا کی طرف بڑھی تھیں۔
” کون سے جادو ہیں تمہارے پاس جادوگرنی۔ میرا ایک بیٹا کھا گئی دوسرا بھی مجنوں بنا پھر رہا ہے تمہارے لیئے “ وہ چیخی تھیں۔ حیا ڈر کر پیچھے ہوئے۔
” حیا کو کچھ مت کہیں ماں اس کا کوئی قصور نہیں ہے “ وہ پہلی بار ماں کے سامنے بولا تھا اور بولا تھی حیا جہانگیر کے لیئے تھا تو شائستہ بیگم کا بھڑکنا بنتا تھا۔
” آج بتا دو کس کا قصور ہے۔ اس کا نہیں ہے تو قصور کیا میرے ارحم کا تھا جو وہ مر گیا “ شائستہ بیگم رونے لگی تھیں۔
” ماں جیسے بھی مرا لیکن مر گیا آپ کا ارحم۔ اب آپ اور میں تڑپ تڑپ کر مر جائیں یا حیا کو تڑپا تڑپا کر مار دیں ارحم نوید واپس نہیں آئے گا۔ آپ چاہتی ہو حیا جہانگیر مر جائے لیکن حیا جہانگیر کے مر جانے سے ارحم نوید واپس نہیں آئے گا بلکہ ہائثم نوید بھی مر جائے گا “ شائستہ بیگم کی زبان کو بریک لگا تھا۔ سعدیہ خانم نے ناگواری سے حیا کو دیکھا تھا۔ دیا جمشید کی آنکھوں سے بہتی رم جھم میں تیزی آئی تھی اور حیا وہ تو گنگ رہ گئی تھی۔ اسے انداذہ ہو رہا تھا کہ وہ شاید ہائثم کو پسند آ گئی ہے لیکن محبت کی توقع وہ نہیں کرتی تھی۔
وہ ان سب کو ایسے ہی چھوڑتا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا حیا بھی اس کے پیچھے ہی کمرے میں گئی تھی اور سرخ جوڑے میں ایک چاند سی لڑکی چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
” تم ٹھیک نہیں ہو ہائثم یہ لو پانی پیو “ حیا نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا تھا جسے اس نے کھینچ کر دیوار پر دے مارا۔ کمرے میں کانچ کے ٹکڑے بکھر کر رہ گئے۔
” ہاں نہیں ہوں میں ٹھیک اور اس کی وجہ تم ہو۔ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ جو تم نے چاہا میں آباد ہو جاؤں تو سنو میں نے ایک اور لڑکی برباد کر دی “ وہ کنپٹی سہلاتا کرسی پر بیٹھ گیا اور قریب تھا کہ وہ رو پڑتا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا ہم دونوں اچھے دوست تو ہیں ناں اور ہمیشہ رہیں گے “ اس نے ہائثم کے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے اس نے فوراً سے پہلے جھٹک دیا۔
” ارے نہیں چاہیئے تمہاری دوستی مجھے اور تم دوست بلکل بھی اچھی نہیں ہو اگر تم اچھی دوست ہوتی تو اتنے سالوں سے اپنے دوست کی آنکھوں میں پنپتے محبت کے ہزار رنگوں کو دیکھ لیتی لیکن تم نے تو کبھی یہ بھی نہیں پوچھا کہ سنو ہائثم تمہیں کسی سے محبت تو نہیں “
” تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ تمہیں اپنے باپ جیسے بھائی کی قاتلہ سے محبت ہے۔ کیا تمہیں حیا جہانگیر سے محبت ہے؟ “ اس نے سوال کیا تھا اور ہائثم کی سانسیں اس سوال پر رکی تھیں اور نگاہیں بس اس چہرے سے ہو ہو کر روئی تھیں۔
” ہاں مجھے تم سے محبت ہے اور بہت محبت ہے “ اس نے برملا اعتراف کیا تھا۔ حیا نے ایک گہری سانس لی۔
” وہ جو تمہارے اور میرے درمیان رشتہ ہے کیا تم اسے آگے بڑھانا چاہتے ہو؟ اگر چاہتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تم جو چاہو گے وہی ہو گا “ وہ خلافِ توقع اتنے آرام سے بولی تھی کہ ہائثم نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ حیا اس کی خاموشی سے مطلب اخذ کرتی دروازے کی طرف بڑھی اور دروازے کی چٹخنی چڑھا دی۔ باہر کھڑی شائستہ بیگم اور سعدیہ خانم نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دیا کسی ہارے ہوئے مسافر کی طرح لڑکھڑاتے قدموں سے اس کمرے کی طرف بڑھ گئی جسے آج کے دن سجایا گیا تھا اور صرف اس کے لیئے سجایا گیا تھا۔
حیا نے دروازہ بند کرنے کے بعد گلے میں ڈالا دوپٹہ اتار کر صوفے پر پھینکا اور کلپ میں لگے بال کھول دیئے۔ ہائثم حیرانی سے اسے دیکھا۔ وہ کیا کر رہی تھی یا کہہ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
” تمہارے اور میرے درمیان جو رشتہ ہے میں اسے آگے بڑھانے کو تیار ہوں اگر یوں تمہاری خوشی ہے تو میں انکار نہیں کروں گی “ اس کی بات ذرا ہائثم کے پلے پڑی تو اس نے بےاختیار اپنی کنپٹی سہلائی اور اٹھ کر صوفے پر پڑا اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے کندھوں پر ڈالا۔
” میری خوشی تمہاری خوشی میں ہے اور تمہاری خوشی میرے ساتھ میں نہیں ھے۔ میں نے تمہیں کبھی پانے کا سوچا ہی نہیں۔ تم چلی جاؤ یہاں سے۔ تم عمر سلطان کے پاس چلی جاؤ “ اسے کندھوں سے تھامے وہ کہہ رہا تھا اور وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیوں جاؤں میں؟ “
” کیونکہ تمہارے ہوتے ہوئے میں اپنے نئے رشتے میں آگے نہیں بڑھ پاؤں گا۔ تم جاؤ یہاں سے کچھ دن بعد بھول جاؤں گا تو دیا کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کروں گا پھر کبھی زندگی کے کسی موڑ پر ملے تو دوستوں کی طرح ملیں گے “ وہ اسے جانے کو کہہ رہا تھا۔ وہ ہر بات کو جانے دے کر اسے جانے کا کہہ رہا تھا۔ حیا نفی میں سر ہلاتی صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ یوں کیسے جا سکتی تھی اور اگر جانا بھی چاہتی تو شائستہ بیگم اسے جانے نہ دیتیں۔۔
★★★★★★★★★★★
دوسری صبح نوید ہاؤس میں ایک اور بھونچال لائی تھی اور وہ بھونچال تھا کشمالہ جہانگیر۔ اس کی گاڑی جب نوید ہاؤس کے گیٹ پر رکی تو زوردار ہارن سے پورا محلہ دہل اٹھا تھا اور اسی زوردار غصے کے ساتھ وہ نوید ہاؤس میں داخل ہوئی تھی۔
دھوپ سینکتی سعدیہ خانم اور شائستہ بیگم نے اسے آتا دیکھا تو ناک منہ چڑھا لیا کہ کشمالہ جہانگیر حیا جہانگیر سے بہت مختلف تھی۔ وہ کسی کا ادھار رکھتی تھی نہ لخاظ کرتی تھی۔
حیا بکھرے گھر کو سمیٹنے میں لگی ہوئی تھی جب اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی کہ اسے بھیجنے کے بعد وہ دو سال تک یہاں آئی نہیں تھی تو آج کیوں آئی تھی۔
” تمہیں کہا تھا میں نے حیا ان لوگوں پر ذیادہ مہربان نہ ہو غریب لوگ ظرف کے بھی غریب ہوتے ہیں “ شایستہ بیگم کی طرف وہ کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” زبان سنبھالو لڑکی “ شائستہ بیگم بھی چیخی تھیں۔ ہائثم بھی کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
” زبان سنبھال کر ہی تو رکھی ہوئی ہے ورنہ جو دو سال آپ نے میری بہن پر ظلم کییے ہیں میں ان کا ایسا منہ توڑ جواب دیتی کہ آپ یاد رکھتی کشمالہ جہانگیر بھی کوئی شے ہے “ وہ بھی اسی انداذ میں بولی تھی۔
” اور جو تمہاری بہن نے ظلم کیا اسے تم نے یاد نہیں رکھا۔ میرا کلیجہ چھلنی کیا ہے تمہاری بہن نے۔ میرے جگر کے ٹکڑے میرے بیٹے کو مارا ہے “ انہیں کشمالہ اپنی منہ پھٹ طبیعت کے باعث بلکل بھی پسند نہیں تھی اور آج تو وہ انہیں اور زہر لگ رہی تھی۔ کشمالہ نے مسکراتے ہوئے کچھ سوچا اور پھر حیا کو ہاتھ سے پکڑ کر ان کے سامنے کر دیا۔
” یہ سامنے کھڑی ہے حیا جہانگیر آپ کے بیٹے کی قاتلہ۔ جان سے مار ڈالیں اسے اور پھر دیکھیں کیا آپ کا بیٹا لوٹ آیا ہے۔ کیا حیا جہانگیر کی موت سے ارحم۔نوید لوٹ آئے گا۔ نہیں آئے گا پھپھو ارحم نوید واپس نہیں آئے گا بلکہ اگر حیا جہانگیر مرے گی تو آپ کو پتہ چلے گا ارحم نوید اب پوری طرح سے مر گیا ہے اور یاد رکھئیے گا اس بار ہائثم نوید مرے گا۔ حیا جہانگیر کی موت آپ سے ایک اور بیٹا چھین لے گی۔ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا آپ کے “ وہ تھوڑا نرم پڑی تھی۔ شائستہ بیگم کا تو دل دہل گیا تھا اور ہایثم نے جانب کہ سچائی تو بس اسی ایک جملے میں ہے کہ حیا جہانگیر کے ساتھ ہائثم نوید بھی مر جائے گا۔
” کشمالہ کیوں آئی ہو تم یہاں۔ پلیز جاؤ یار “ حیا نے اسے کھینچا تھا مگر وہ ہاتھ چھڑا کر دیا کی طرف بڑھی اور سر تا پیر اس کا جائزہ لیا۔ سرخ لباس کی جگہ اب سادہ سا سوٹ تھا اور کندھوں پر شال اوڑھ رکھی تھی مگر آنسوؤں کے نقوش واضح تھے اور آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔
” تو تم ہو شائستہ نوید کی چہیتی اور نئی بہو۔ اپنی ساس کی طرح تم بھی تو نفرت بھر کر آئی ہو گی یہاں “
” محبت محبوب سے جڑی ہر شے سے محبت کرواتی ہے اور مجھے محبت ہے ہایثم نوید بےتخاشا محبت اور میں پھر ایک ایسی لڑکی سے نفرت کیسے کر سکتی ہوں جس سے میرا محبوب بےانتہا محبت کرتا ہے۔ میں تو ہائثم کی محبت کا ادب کرتی ہوں اور اس سے بھی ذیادہ حیا کا کرتی ہوں “ اس کا لہجہ کشمالہ کی توقعات سے یکسر محتلف تھا۔ حیا کو اپنا آپ مجرم لگا تھا اور ہائثم نگاہیں چرا کر رہ گیا تھا۔
” کچھ سیکھ لیں اپنی بہو سے پھپھو۔ چلیں خیر آپ سیکھتی رہئیے گا ابھی حیا پیکنگ کرو فٹافٹ۔ میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی “ کشمالہ کی بات پر شائستہ بیگم کی آنکھوں سے انگارے نکلنے لگے تھے۔ ہایثم نے نگاہیں جھکا دیں۔
” کیوں جائے گی یہ “ شایستہ بیگم نے کہا۔
” کیونکہ کوئی منتظر ہے اس کا۔ خوشیاں منتظر ہیں حیا جہانگیر کی “ وہ مسکرائی تھی۔ حیا کی آنکھوں کے سامنے عمر سلطان کا وجود گھوما۔
شائستہ بیگم نے رولا ڈال دیا اور پھر کشمالہ کی لاکھ کہنے پر بھی حیا جانے کو تیار نہیں ہوئی تھی۔ اس نے کہا تھا وہ اس گھر سے جائے گی اور تب جب سب مان لیں گے کہ وہ قاتلہ نہیں ہے۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔
