60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10


روشنیوں سے چمکتے ہال کے ایک کونے میں وہ ٹیبل کے گرد بیٹھی تھی اور بہت سے لوگ پلٹ کر ایک بار اس کی طرف دیکھ کر چہ مگوئی ضرور کرتے اور وہ سب سے بےنیاز ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔
کھانا لگ چکا تھا اور اب سب مہمان اپنی پلیٹوں میں کھانا ڈالے مصروف ہو چکے تھے۔ ہائثم اس کے اپنے لیئے کھانا ڈال لایا تھا اور وہ دونوں چپ چاپ کھانے میں مصروف تھے جب کشمالہ کی چہکتی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اس نے پلٹ کر دیکھا۔ کشمالہ ایک عورت کے گلے لگی ہوئی تھی۔ وہ عورت نہایت دبلی پتلی اور اسمارٹ تھی اور براؤن بال کھلے ہوئے تھے اور رنگ بہت صاف تھی۔ حیا نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا وہ کترینہ تھی۔ کترینہ جہانگیر۔ جہانگیر کی دوسری بیوی اور کشمالہ جہانگیر کی ماں۔ کشمالہ کی خوشی دیدنی تھی۔
ہائثم نے حیا کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سوالیہ ہوا کہ یہ کون ہے؟ ہائثم نے اس سے پہلے اسے کبھی نہ دیکھا تھا۔
کچھ وقت مزید گزرا تو حیا نے ہایثم کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور جانے کا کہا۔ دونوں ایک ساتھ چلتے اسٹیج تک آئے تھے۔ حیا کو دیکھ کر کترینہ جہانگیر کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی۔
” اوہ یہ بھی آئی ہوئی ہے “ ان کے لہجے میں ناگورایت تھی جو حیا کو دیکھ کر ہمیشہ آتی تھی اور حیا کو بھی وہ بلکل پسند نہیں تھی۔
” ہاں آئی ہوں میں بھی کیوں آپ کو کوئی اعتراض ہے “ حیا نے گہرا سانس لیا۔
” ہاں اعتراض تو ہے بیگانی شادی میں عبداللہ بننے کی عادت گئی نہیں تمہاری “ وہ مسکرا مسکرا دل جلانے کے فن سے واقف تھیں۔
” ہاں شادی بیگانی ہے لیکن شادی کے جن انتظامات پر اکڑا جا رہا ہے وہ میرے باپ کی کمائی ہے جسے اڑا رہی ہو آپ دونوں ماں بیٹی مل کر “ اس نے ہال پر ایک نگاہ دہرائی جہاں ہر طرف کی زیب و آسائش پیسے کا پانی کی طرح بہنے کی گواہ تھی۔
” تم نے اس لڑکی کو بلایا کیوں ہے شادی پر “ کترینہ نے غصے سے بیٹی کو دیکھا۔
” جا رہی ہوں موم اور ہاں کشمالہ جہانگیر۔۔ اوہ نہیں کشمالہ عمر سلطان پھر ملاقات ہو گی ابھی چلتی ہوں “ ایک تیز نگاہ عمر پر ڈال کر وہ پلٹی تھی جب کترینہ پھر سے گویا ہوئی۔
” لیکن ھم میں سے کوئی تم سے دوبارہ ملاقات نہیں کرنا چاہتا “
” موم میری پیاری موم! آپ کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اب قسمت نے ہم سب کو ایک لڑی میں پرویا ہے تو کہیں نہ کہیں ہم ٹکراتے ضرور رہیں گے “ وہ دو سیڑھیاں عبور کرتی کترینہ کے پاس آئی ” اور اگلی ملاقات وکیل کے دفتر میں ہو گی میری پراپرٹی کے پیپرز تیار رکھئے گا “ اس کا پتھر لہجہ دونوں ماں بیٹی کو بہت زور کا لگا تھا اور پراپرٹی مانگنے پر مزید جھٹکا لگا تھا۔
” میں بیوی ہوں تمہارے باپ کی مت بھولو “ کترینہ بنا مہمانوں کا لخاظ کئے چلائی تھیں اور اب لوگ تماشائی بنے ان کے تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
” میں اپنا حصہ مانگ رہی ہوں موم آپ سے آپ کا حصہ نہیں اور آپ میرے باپ کی بیوی تھیں۔ میرے باپ کی موت کے بعد آپ دونوں کا میاں بیوی والا رشتہ ختم ہو گیا لیکن میرا ان کا خون کا رشتہ تھا جو کہ ہمیشہ رہنے والا ہے “ وہ چبا چبا کر بولتی ان کے چھکے اڑا رہی تھی اور کترینہ تو حیران تھی کہ اتنی نرم بولنے اور ہر بات پر مسکرانے والی حیا اتنا سخت لہجہ کہاں سے لائی تھی۔
” ٹکہ بھی نہیں ملے گا تمہیں لڑکی “ کترینہ بیگم نے کہا۔
” اگلی ملاقات میں دیکھتے ہیں یہ سب موم “ لفظ موم چبا کر کہتی وہ مسکرا کر اسٹیج سے اتری اور ہایثم کا ہاتھ تھامے اعتماد سے چلتی ہوئی نکل گئی اور پیچھے کھڑے لوگوں کی نظریں اس پر ٹکی رہ گئیں۔
★★★★★★★★★★★
وہ ہال سے نکل کر پارکنگ میں پہنچے تھے اور ابھی گاڑی میں بیٹھنے والے تھے کہ پیچھے سے آواز سنائی دی۔ اس آواز نے حیا کے قدم زنجیر کر دیئے تھے اور بھلا کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اس آواز کو نہ پہچانتی۔ اس آواز سے اس کے دل تک کا راستہ اب بڑا خار دار تھا یہ آواز عمر سلطان کی تھی جسے اس کی سماعتیں ساری عمر سن سکتی تھیں۔ یہ آواز دھڑکنوں کو بےقابو کرتی تھی اور اس کی دھڑکنیں بےقابو ہو گئی تھیں۔ اس نے ایک نظر ہائثم کو دیکھا جس نے گہرا سانس لیتے سر کو خم دیتے عمر سلطان کی بات سننے کا اشارہ کیا۔ اثبات میں سر ہلاتے اس نے اپنی بےقابو ہوتی دھڑکنوں پر قابو پایا اور چہرے کے تاثرات کو متوازن کرتی پلٹ کر عمر سلطان کی طرف آئی۔
” معاف کر دو مجھے حیا “ کیا تھا اس کے لہجے میں جو نہ بتاتے ہوئے بھی بتانے جیسا تھا۔
” مجھ سے معافی مت مانگو۔ تمہاری زندگی ہے اور کسی ایک کے لیئے زندگی کو روکب نہیں جا سکتا تھا۔ میرے بعد تمہیں آگے بڑھنا تھا لیکن یہ آگے بڑھنا میری ہی بہن کے ساتھ ہو گا یہ اچھا نہیں لگا مجھے۔ دل نے بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے لیکن اب جو ہو گیا ہو گیا۔ خوش رہو تم اپنی بیوی کے ساتھ “ وہ کہہ کر مڑی اور آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ عمر سلطان نے بےچینی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اس طرف دیکھا تو نظر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہائثم پر پڑی تو نگاہوں میں کچھ جلا تھا۔ ہائثم نے شان بےنیازی سے کندھے اچکائے اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی ریورس کی اور ہال سے نکال کر باہر سڑک پر لے آیا۔
گاڑی شہر کی سڑک پر بھاگ رہی تھی اور اس میں بیٹھے دو نفوس بلکل چپ تھے اور ہائثم منتظر تھا حیا کے بولنے کا مگر وہ تو صدمے سے نکل کر آئی تھی۔
” یہ جو آج آئی تھیں یہ جہانگیر ماموں کی دوسری بیوی تھیں “ ہائثم نے اس سے پہلے ان کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ جہانگیر نے باہر کی شادی کی تھی اور پھر بیوی کو کبھی لایا نہیں تھا ساتھ۔
” ہاں یہی تھیں کترینہ جہانگیر۔ میرے باپ کی دوسری بیوی اور زندگی کی پہلی اور سب سے بڑی غلطی “ اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ کتنی کوفت ہو رہی تھی حیا کو کترینہ سے۔
” یہ تو کبھی پاکستان نہیں آئیں پھر اب کیسے “ ہائثم نے پوچھا۔
” پیسہ شے ہی ایسے اسے پھینکو اور پھر تماشا دیکھو۔ وہ پاکستان آئی ہے میرے باپ کی چھوڑی ہوئی ساری دھن دولت سمیٹنے جس پر اس کی بیٹی ناگن بن کر بیٹھی ہے “ اس کے لہجے میں نفرت سمانے لگی تھی۔
” تو اس میں غلط کیا ہے حیا۔ کترینہ بیوی تھی ماموں کی ان کا حصہ بنتا ہے ماموں کی جائیداد میں اور کشمالہ اور تم بیٹیاں ہو ماموں کی۔ دونوں آدھی آدھی وارث ہو “ ہائثم اس کے غصے کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
” میں ہوں بیٹی جہانگیر خان کی کشمالہ نہیں۔ وہ کترینہ کی بیٹی ہے “ اس نے کوفت سے کہا تھا۔
” کیا مطلب ہے کشمالہ ماموں کی بیٹی نہیں ہے “ وہ شاکڈ ہوا تھا۔
” کترینہ بابا کی کالج فیلو تھی پھر پڑھائی کے سلسلے میں لندن چلی گئی اور ایسی گئی کہ ٹھان لیا نہیں لوٹے گی اور وہیں ایک انگریز سے شادی کر لی لیکن وہ شادی کشمالہ کی پیدائش پر ختم ہو گئی تھی اور تب بابا کو ملی۔ پرانی دوست تھی اور غمگین بھی۔ بابا کی ماں کی ڈیتھ کے بعد ٹوٹ سے گئے تھے تو دونوں نے ایک دوسرے کو سہارا دینے کا سوچا اور شادی کر لی۔ بابا نے کشمالہ کو اپنا نام دیا اور اپنی بیٹی بنا دیا لیکن وہ بابا کی بیٹی نہیں ہے “ یہ بہت بڑا انکشاف تھا جس کے بارے میں ہائثم نہیں جانتا تھا اور اب جان کر شاکڈ اور حیران ہوا تھا۔
” اوہ مجھے یہ سب نہیں پتہ تھا اور تم کیا سچ میں کیس کروں گی ان دونوں پر “ ہائثم نے پوچھا۔
” گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلا تو کیا کروں انگلی ٹیڑھی کرنی پڑے گی۔ تم یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ دیا کے لیئے کیا سوچ رکھا ہے تم نے “ اس نے بات بدل کر دیا کے دکھ کو بیان کیا کہ اب تو مداوا ہونا چاہیئے اس کے دکھ کا۔
” کیا مطلب کیا سوچا ہے “ گاڑی گاؤں کے رستے پر ڈالتے اس نے پوچھا۔
” وہ منتظر ہے تمہاری۔ کچھ خقوق بنتے ہیں تمہارے اس کی طرف۔ ان میں کوتاہی مت کرو۔ کوئی آپ سے محبت کرے تو اسے حق دو کہ وہ آپ سے محبت کرے “ حیا نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
” میں بھی تو تم سے محبت کا طلب گار ہوں پھر “ وہ اپنا کاسہ لیئے خاضر ہوا۔
“ میں صاف بات کروں گی ھائثم۔ جب تک میری سانس چلے گی ، دل میں دھڑکن رہے گی۔ اس دھڑکن پر صرف عمر سلطان کا نام ہو گا اور ہم دونوں چاہ بھی لیں تو ایک ساتھ نہیں ہو سکتے اس بات کو جتنا جلدی ہو سکے مان لو “ حیا نے دو ٹوک انداذ میں کہا تھا۔ وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔
باقی کا سارا رستہ دونوں میں خاموشی چھائی رہی تھی۔ گاڑی نوید ہاؤس کے سامنے رکی۔
” تم جاؤ میں گاڑی دے کر آتا ہوں “ اس نے کہا اور گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
وہ نوید ہاؤس کے گیٹ سے اندر داحل ہوئی تو تخت پر بیٹھی شائستہ بیگم کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے اور پھر اس کے چاندنی جیسے روپ اور سرخ جوڑے کو دیکھ کر وہ جل بھن گئی تھیں۔
” ڈائن میرا ایک بیٹا کھا کر آرام نہیں جو دوسرے کے پیچھے بھی پڑی ہے۔ میرے بیٹے کو سفید کفن پہنا کر خود سرخ جوڑے میں دلہن بنے کھڑی ہو۔ خدا غارت کرے گا تمہیں بےحیا لڑکی “ شائستہ بیگم تو پھٹ پڑی تھیں اور پھر وہ کتنی ہی دیر گالیاں بکتی رہیں اور وہ کان لپیٹے اپنے کمرے کے دروازے کی کنڈھی چڑھا کر کارپٹ پر اوندھی لیٹی روتی رہی تھی۔
★★★★★★★★★★★
” وہ روئی تو نہیں اسے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر “ وہ گاڑی دوست کو واپس کر کے آیا تو دیکھا حیا نے کمرے کا دروازہ بند کر رکھا ہے اور ماں باہر تخت پر لیٹی ہوئی ہیں۔ مجبوراً اسے دیا کے کمرے میں آنا پڑا اور ابھی وہ فریش ہو کر آیا تھا کہ دیا اس کے لیئے گرما گرم چائے لے آئی جو پیتے اسے توانائی ملی تھی کہ اس عزت کا وہ عادی نہیں تھا جو دیا دیتی تھی وہ تو عادی تھا حیا کے ہاتھوں بار بار دھتکارنے کا۔
” نہیں بہت ڈھیٹ ہیں حیا اور عمر دونوں۔ کمبخت حیا کو رخصت ہوتا دیکھ کر نہیں رویا تھا اور حیا اسے کسی اور کے پہلو میں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر مسکرا دی تھی “ چائے کا گھونٹ بھرتے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
” اب تو اس کی ہر آس ختم ہو چکی ہے۔ آپ اس کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہو “ دیا اس کے پہلو میں آ بیٹھی تھی کہ آج وہ اس کے ساتھ تھا اس کے پاس تھا اس سے بڑھ کر اچھی بات کیا ہو سکتی تھی۔
” آس ختم ہوئی ہے محبت تو نہیں اور ہائثم نوید اور حیا جہانگیر کبھی ساتھ نہیں ہو سکتے باوجود اس کے بھی کہ میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے لیکن نہ وہ میری وجہ سے کھوئے ہوئے عمر سلطان کو بھلا سکتی ہے اور نہ میں اس کی وجہ سے کھوئے ارحم نوید کو بھلا سکتا ہوں اور آج بھی اس نے صاف الفاظ میں کہا ہے وہ جب تک عمر سلطان کو نہیں بھلا دیتی وہ کسی رشتے میں آگے نہیں بڑھنا چاہتی اور جب تک سانس ہے وہ عمر سلطان کو نہیں بھلائے گی “ اس نے گرم گرم چائے کا گھونٹ بھرا تو اندر تک جل کر رہ گیا مگر یہ جلنا روز کے جلنے سے کم تکلیف دہ تھا۔ دیا نے سر جھٹک کر آسمان کو دیکھا کہ یہ دونوں لوگ بڑے عجیب تھے اپنے لیئے خود تکلیف کا سامان کر کے پھر مرہم تلاش کرتے پھرتے تھے اور مرہم بھی نمک میں تلاش کرتے تھے۔
” آپ دونوں کیوں تکلیف دے رہے ہو خود کو پھر۔ فیصلہ کرو اور اذیت سے نجات پاؤ “ دیا نے کہا۔
” فیصلہ سنایا ہے ناں اس نے کہتی ہے تم دیا کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھ جاؤ حیا جہانگیر تمہیں نہیں ملے گی “ اس کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا۔ وہ آنسو جو لاکھ کوششوں کے بعد بھی محبت حاصل نہیں کر پایا تھا۔ دیا نے اس کے بہتے آنسو دیکھے تو خود بھی رو دی تھی۔ محبت رلا رہی تھی ، محبت ذلیل کروا رہی تھی سب کو۔
دیا نے ہائثم کا سر ہولے سے اپنے کندھے پر رکھا اور پھر اس کے ہر آنسو کی ڈھارس بن گئی وہ۔۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔