No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
بےبس نگاہوں سے سارا دن حیا کو تکتا وہ اگلے دن ماں کے آگے سر جھکا کر اسلام آباد واپس چلا گیا تھا۔ شائستہ بیگم بیٹے کے اقرار پر خوشی سے پھولے نہ سماتی سیدھی اپنی نند کے گھر جا پہنچی تھیں۔ حیا کو تو کوئی اعتراض تھا ہی نہیں۔ وہ دیا کو جانتی تھی اور ایسا تھا کہ جب وہ پاکستان آئی تھی تو شائستہ پھپھو کے گھر میں یہ چھوٹی شرمائی لجائی سی لڑکی اسے بہت پسند آئی تھی اور گزرتے وقت کے ساتھ حیا نے اس کی آنکھوں میں امڈتے محبت کے ہزار رنگ بھی دیکھے اور ہائثم نوید کی بےزاری بھی دیکھی لیکن اب جب پھپھو نے کہا تو حیا کو لگا کسی کو تو محبت ملنی چاہییے۔ اب سب حالی ہاتھ رہ جائیں گے تو محبت پڑھائے گا کون۔
شائستہ بیگم رشتہ طے کر آئی تھیں اور اب پورے محلے میں مٹھائی بانٹنے کے بعد ریسیور کان سے لگائے کسی سہیلی کے ساتھ جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھیں۔
” ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم صائمہ! بس میں چاہتی ہوں میرا بیٹا خوش رہے اور منحوس لوگوں سے دور ہو رہے۔ منحوس کلموہی میرا ایک بیٹا تو کھا گئی دوسرا بھی ہڑپنے کے چکر میں ہے لیکن میں ایسا ہونے نہ دوں “ آواز کو جان بوجھ کر اونچا کرتے وہ اس کو تکلیف دینا چاہ رہی تھیں۔
پونچھا لگاتی حیا کے ہاتھ پل بھر کو رکے اور وہ مزید رگڑ رگڑ کر فرش صاف کرنے لگی۔ کبھی کبھی تو شائستہ بیگم کی باتوں پر اس کے کانوں سے دھواں نکل آتا تھا لیکن ایک شے تھی برداشت جو اسے ہر حال میں کرنا تھا۔
” ہاں اتنی سوہنی ہے میری دیا بیٹی اور اوپر سے کم عمر بھی ہے۔ میرے بیٹے کے ساتھ اچھی لگتی ہے “ ان کا نشانہ اب حیا کی عمر تھی جو بہت ذیادہ تو نہیں تھی لیکن ہائثم سے تو ذیادہ ہی تھی۔ ہونٹ کاٹتے اس نے پونچھا نچوڑ کر دیوار پر ڈالا اور پنکھا فل سپیڈ سے چلا دیا۔
” ارے منحوس عورت! تم چاہتی ہی یہی ہو میں مر جاؤں تا کہ اس گھر پر راج کر سکو “ جنوری کا مہینہ اور کڑک دھوپ میں بھی بھلا کی سردی۔ شائستہ بیگم کی بوڑھی ہڈیاں کانپ اٹھی تھیں۔ حیا زیرِ لب مسکرائی تھی مگر بولی کچھ نہیں اور نہ ہی پنکھا بند کیا۔ شائستہ بیگم نے ریسیور کریڈل پر رکھا اور تخت کے نیچے پڑا اپنا جوتا اٹھا کر تاک کر حیا کا مارا جو سیدھا حیا کی کمر میں لگا تھا۔ وہ کراہ کر رہ گئی کہ پھپھو کا آخری ہتھیار تشدد ہی ہوتا تھا۔ حیا نے آگے بڑھ کر پنکھا بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگی جب شائستہ بیگم نے اسے پکارا۔
” اے لڑکی کہاں جا رہی ہے وہ جو کچن میں برتنوں کا ٹوکرا پڑا ہے وہ کون دھوئے گا “
” پھپھو پچھلی پگڈنڈی سے آنے والا پائپ ٹوٹ گیا ہے اس لیئے پانی نہیں آ رہا ٹینکی میں۔ تھوڑد سا پانی ٹھا فرش دھو دیا اب پانی آئے تو برتن دھو دوں گی “ حیا نے تفصیل سے بتایا اور جانتی تھی اب آگے سے شائستہ بیگم کا جواب کیا ہو گا اور حسبِ معمول انہوں نے کہا۔
” تو کیا ان ہٹے کٹے ہاتھوں سے میری قبر کھودو گی۔ جاؤ اوپر کھیتوں میں جو چشمہ ہے وہاں سے پانی لاؤ اور برتن دھو دو “ حیا ہونٹ کاٹتے سر اثبات میں ہلا کر رہ گئی اور کرتی بھی تو کیا کرتی۔ یہاں سے بھاگنے کو دل کرتا تھا لیکن بھاگتی تو جاتی کہاں۔ کشمالہ ساری دولت پر سانپ بن کر بیٹھی تھی اور کسی صورت حیا کی شکل میں مصیبت اپنے گلے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی اور رہ گیا عمر سلطان تو وہ چاہ کر بھی اس کے پاس نہیں جا سکتی تھی اگر چلی جاتی تو سماج اسے جینے نہ دیتا۔ وہ سماج جو اسے پہلے ایک قاتلہ کہتا ہے پھر بدکردار عورت کہے گا۔
اس نے سفید دوپٹہ سٹینڈ سے اٹھا کر مفلر کی طرح گلے میں ڈالا اور پانی کی بالٹی اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی جب پھر سے شائستہ بیگم کی آواز نے اس کے قدم روکے۔
” ساتھ جگ بھی لیتی جاؤ۔ چشمے کا پانی بڑا میٹھا ہے۔ میرا لال شربت پینے کو دل کر رہا ہے “ نئی فرمائش خاضر تھی۔ حیا نے کچن سے جگ لیا اور گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر کھیتوں میں سے چھوٹی سی پگڈنڈی سے چلنے لگی۔
اس کے ایک ہاتھ میں پانی کی بالٹی تھی اور دوسرے میں جگ۔ سر جھکا ہوا تھا اور نگاہیں وہ اپنے قدموں پر جمائے چل رہی تھی۔ اسے اس کا ماضی ہر وقت پریشان کرتا تھا جو بہت خوبصورت تھا اور جب وہ پہلی بار ہائثم کے گاؤں آئی تھی تو بڑا پسند آیا تھا اسے لیکن اب سمجھ آئی تھی وہ صرف پسند آنے کی حد تک تھا اگر اس جیسی شہروں کی باسی یہاں رہے تو بڑا برا ہے یہ گاؤں لیکن پھر بھی وہ دو سال سے یہاں رہ رہی تھی تو بس وہ بہت بےبس تھی اور اس کو وہ دن پھر سے یاد آیا جب عمر سلطان اس سے ٹکرایا تھا۔ جانے وہ کیونکر آیا تھا؟
حیالوں میں گم وہ چشمے پر پہنچ چکی تھی۔ یہ چشمہ کھیتوں کے بیچوں بیچ بنا ہوا تھا اور گاؤں والوں نے اس چشمے کے آس پاس کے حصے کو پختہ کر کے ایک صاف لوہے کا پائپ لگا دیا تھا جس سے شفاف پانی آتا تھا۔
اس نے بالٹی پائپ کے نیچے بھرنے کے لیئے رکھی اور خود ایک طرف پڑے پتھر پر بیٹھ گئی۔ آنسوؤں سے دھندلاتی آنکھوں کے سامنے ایک دھندلا سا منظر ابھرا۔ جب وہ دوسری بار یہاں آئی تھی۔
سرخ جینز کے ساتھ اس نے سرخ لانگ شرٹ پہن رکھی تھی اور سفید دوپٹہ مفلر کی طرح گلے میں لٹکایا ہوا تھا۔
” تمہارے چشمے کا پانی کتنا میٹھا ہے ارحم “ ہاتھوں کا پیالہ بنائے وہ چشمے کے پائپ سے پانی پی رہی تھی اور ارحم مسکراتے ہوئے اسے تک رہا تھا۔
” میرا چشمہ نہیں ہے گاؤں والوں کا چشمہ ہے “
” افف تم تو یوں کہہ رہے ہو جیسے میں اپنے نام کروانا چاہ رہی ہوں اسے “ اس نے پانی کے چھینٹے منہ پر مارے تھے۔
” ایک بار کہہ دو دنیا تمہارے نام کر دوں “ وہ بڑبڑایا تھا اور اس کی بڑبڑاہٹ اتنی ضرور تھی کہ حیا نے سن لی تھی اور یہ نہیں تھا کہ وہ سن کر سمجھی نہیں تھی۔ وہ میچور تھی سب سمجھتی تھی اور سوچ لیا تھا وہ عمر سلطان کو سب سے ملوائے گی۔
” بھابھی! بھابھی!۔۔۔۔“
وہ یک دم ماضی سے باہر آئی تھی۔ کوئی اسے پکار رہا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا سامنے کاشان کھڑا تھا۔ وہ ہائثم کا دوست تھا اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا تھا لیکن پھر شائستہ بیگم نے اسے سختی سے منع کر دیا۔ وہ ہر کام حیا سے لینا چاہتی تھیں تا کہ وہ اذیت میں جیئے اور تنگ آ کر خود کو خود ہی مار ڈالے۔
” آپ جائیں پانی میں گھر لے آؤں گا “ کاشان نے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔
” نہیں میں خود لے جاؤں گی ورنہ پھپھو پھر سے تمہیں ڈانٹیں گی “ اس نے اٹھ کر ایک ہاتھ سے بھری ہوئی بالٹی کا ہینڈل پکڑا اور دوسرے سے جگ اٹھایا۔
” میں صرف دروازے تک لے جاؤں گا اندر آپ لے جائیے گا۔ آنٹی جی کو پتہ ہی نہیں چلے گا “ وہ اس سے بالٹی اور جگ لے کر آگے بڑھ گیا اور وہ آہستہ آہستہ اس کے پیچھے آنے لگی۔
گھر کے پاس پہنچ کر کاشان نے بالٹی اور جگ اسے پکڑایا جسے لے کر وہ اندر چلی گئی اور کاشان نے جیب سے موبائل نکال کر ہائثم کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری بیل پر کال پک کر لی گئی تو وہ فوراً بولا۔
” اس سے بہتر نہیں تھا تم انہیں جیل میں ہی رہنے دیتے۔ جو قید وہ یہاں کاٹ رہی ہیں وہی وہاں بھی کاٹتیں کم از کم اپنوں سے دکھ تو نہ ملتے انہیں “
” کیا ہوا ہے “ دوسری طرف وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔
” یار محبت کرتا ہے تو ان سے تو پھر اتنی تکلیف میں کیوں رکھا ہوا ہے انہیں۔ خود سے پانی نہ پینے والی لڑکی آج اونچی پتھریلی پگڈنڈیوں سے دور چشموں سے پانی بھر رہی ہے تو کبھی بجلی کی لائن میں لگی بل بھر رہی ہیں تو کبھی سامان کے شاپرز بھر بھر کر لا رہی ہیں۔ کیا ہے تو اور کیا کر رہا ہے تو ان کے ساتھ “ کاشان پھٹ پڑا تھا۔
” میں کیا کروں یار۔ محبت اپنی جگہ لیکن میرے بھائی کی قاتلہ ہے وہ اور اگر میں تھوڑا مارجن رکھ بھی لوں تو ماں کے سامنے بےبس ہوں میں “ اس نے اپنی آنکھیں رگڑی تھیں۔ کل سے وہ دیا کا اسٹیٹس بار بار دیکھ رہا تھا جس میں بات پکی لکھا ہوا تھا اور یہ بات اسے اندر سے جلا رہی تھی۔
” تم بےبس نہیں ہو تم سمجھا سکتے ہو آنٹی جی کو اور سمجھاؤ انہیں حیا جہانگیر کے مر مر کے جینے اور پھر مر جانے سے ہائثم نوید واپس نہیں آئے گا۔ حیا جہانگیر مر گئی تو دیکھنا تم محسوس کرو گے ارحم نوید ایک بار پھر مر گیا ہے “
” تو بتا میں کیا کروں “ وہ شدید بےبس تھا۔
” یا پوری طرح سے اپنا یا پوری طرح سے چھوڑ دے۔ خود بھی جی اور انہیں بھی جینے دے۔ ارحم نوید نے محبت کو نہیں جیا تو وہ جو ارحم نوید کی محبت تھی اسے اس کی محبت جی لینے دے۔ اسے عمر سلطان کے پاس جانے دے “ کاشان کے الفاظ اس کا دل چیر گئے تھے کہ بھلا وہ ایسا کیسے کرتا۔ کیسے اپنی حیا کو کسی کو سونپ دیتا۔ اس نے موبائل ٹیبل پر رکھا کال چل تھی اور دوسری طرف سے کاشان ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا لیکن وہ تو کچھ سن ہی نہیں رہا تھا کیونکہ اس کا دماغ سن ہو چکا تھا۔۔
کاشان ٹھیک کہتا تھا وہ اس سے محبت نہیں کرے گی کبھی نہیں کیونکہ وہ عمر سلطان کو نہیں بھلائے گی کبھی نہیں۔ وہ اسے کل کی طرح آج بھی بچہ سمجھتی تھی۔ وہ اس سے چھوٹا تھا۔ وہ اس کی دوست تھی اس پر دھونس جماتی تھی اور بچوں کی طرح لاڈ اٹھاتھی تھی کیونکہ وہ اس سے چھوٹا تھا اور عمروں کا فرق دلوں میں بڑا فرق ڈال دیتا ہے۔ وہ ایک بچے سے محبت نہیں کر سکتی تھی اور یہ بھی سچ تھا وہ محبت کی سلطنت ہائثم نوید کی تھی لیکن اس سلطنت کی ملکہ اس کی نہیں تھی۔ عشق اس کے لیئے بنا تھا مگر حیا جہانگیر اس کے لیئے نہیں بنی تھی۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔
