No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
رات آہستہ آہستہ بیتی صبح کی جاممی روشنی میں داخل ھو رہی تھی جب دور کہیں مسجد میں مؤذن کی آواز سنائی دی تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے پاس پڑا دوپٹہ اٹھا کر سر پر ڈالا اور اذان ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ اذان ختم ہوئی تو وہ بیڈ سے اٹھی اور جوتے پہن کر اپنے کمرے سے باہر نکلی جب پہلی نظر مدھم سی روشنی میں تخت پر لیٹے وجود پر پڑی۔ وہ آہستہ سے اس کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ بازو آنکھوں پر رکھے لیٹا تھا اور پاؤں کا انگوٹھا ہل رہا تھا کہ وہ جاگ رہا تھا۔
” آپ یہاں کیوں سو رہے ہو “ اس نے دھیرے سے ہائثم کو ہلایا تو اس نے بازو آنکھوں سے ہٹائے اور پھر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
” عمر سلطان کی شادی ہے “ اس نے اپنی کنپٹی سہلائی۔ دیا کو جھٹکا لگا تھا۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے “ اس کی حیرت کم نہیں ہو رہی تھی۔
” یہ مت پوچھو کیسے ہو سکتا ہے یہ پوچھو کہ کس سے کر رہا ہے “
” کس سے کر رہا ہے ؟ “
” کشمالہ جہانگیر سے “ یہ نام ایسا تھا کہ جو سن کر اسے ایک اور جھٹکا لگا تھا کہ ایک وہ تھا جو اس کے لیئے سارے زمانے سے لڑ گیا تھا اور ایک وہ تھی جو چند ماہ پہلے یہاں آ کر شائستہ بیگم کو سانپ سونگھا گئی تھی تو اب وہ دونوں حیا کو تکلیف دینے کے در پر کیوں تھے۔
” حیا رو رہی ہیں ؟“ اسے حیا کی فکر ستانی لگی تھی۔
” وہ تڑپ رہی ہے اور بہت تڑپ رہی ہے “ وہ دکھ بیان کرنے سے قاصر تھا۔ کچھ وقت یونہی ہی سرکا اور پھر حیا کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ دونوں نے بیک وقت اس کی طرف دیکھا۔ ہائثم اٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ حیا ٹونٹی کے پاس بیٹھی ہاتھوں کو دھوئے جا رہی تھی شاید وہ وضو کرنے آئی تھی اور اب بھول چکی تھی کہ کیا کرنا ہے اسے۔ دیا نے دکھ سے اسے دیکھا اور اس کے پاس آئی۔
” کب ہے عمر سلطان اور کشمالہ جہانگیر کی شادی “ اس نے پوچھا۔
” کل ولیمہ ہے۔ ولیمے پر بلایا ہے مجھے اس نے “ وہ ہاتھوں کو رگڑتی ہوئی بولی۔
” آپ جائیں گی؟ “ اس نے پوچھا
” نہیں “
” آپ جائیں گی حیا اور آپ کو جانا ہو گا حیا۔ وہ دونوں آپ کو تکلیف دینا چاہ رہے ہیں اور آپ تکلیف میں ہیں حیا۔ آپ جائیں گی آپ ہائثم کے ساتھ جائیں گی۔ پورے وقار کے ساتھ اپنے شوہر کا ہاتھ تھام کر جائیں گی اور مسکرا کر بتائیے گا کشمالہ جہانگیر کو کہ وہ جس پر اترا رہی ہے وہ اترن ہے آپ کا اور جو آپ کے ساتھ ہے وہ ازل سے آپ کا ہے۔ دنیا کو بھلا کر صرف آپ کا ہے حیا “ دیا نے ٹونٹی بند کر کے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیئے تھے۔
” تم خود کو کیوں تکلیف دیتی ہو “ حیا کو اس پر حیرت ہوئی جو ایک سوکن ہو کر اس سے ہائثم کو قریب کرنے کی بات کرتی تھی اور خود دور ہو جاتی تھی۔
” میں محبت میں محبوب سے ذیادہ محبوب سے جڑے ہر رشتے اور شے سے محبت کرتی ہوں “ وہ مسکرائی تھی۔
” بڑی ظرف والی ہو تم جو مجھ سے فقط اس لیئے محبت کرتی ہو کہ ہائثم مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں کتنی کمظرف ہوں کہ کل رات سے کئیں بار میں نے کشمالہ جہانگیر سے نفرت کی ہے “
صبح کا جامنی اندھیرا چھٹ کر اب سرمئی روشنی میں بدلنے لگا تھا اور وہ دونوں صحن میں جائے نماز ڈالے نماز پڑھنے میں محو تھی۔ گیٹ کھلا اور ہائثم بھی مسجد سے نماز پڑھ کر لوٹ آیا تھا۔ اس کی نگاہیں حیا کے چہرے سے ٹکرائیں جہاں آنسوؤں کے نشان تھے اور آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔ اس نے چاہا کہ وہ دنیا کو نیست و نابود کر کے رکھ دے۔
حیا نے سلام پھیر کر اس کی طرف ایک نگاہ ڈالی اور پھر ہاتھ دعا کے لیئے اٹھا دیئے۔ آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔برابر میں رکوع کرتی حیا کی آنکھ بھی بہنے کو بےتاب ہوئی تھی۔
ہائثم جائے نماز پر حیا کے سامنے ہو کر بیٹھ گیا اور یک ٹک اسے دیکھے گیا۔ دیا نے سلام پھیرا تو اس منظر نے اس کی آنکھوں میں کانٹے چبھوئے تھے کہ یہ کتنا مکمل منظر تھا۔
دعا کرنے کے بعد وہ جائے نماز تہہ کر کے کچن کی طرف جا چکی تھی جبکہ حیا بند آنکھوں سے ابھی تک دعا مانگنے میں مشغول تھے اور ہائثم اسے دیکھنے میں۔
حیا نے دعا ختم کر کے ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا اور کھڑی ہو گئی۔ ہائثم نے جائے نماز اٹھا کر تہہ کی اور تخت کے اوپر بنے ریک میں رکھ کر اس کا بازو تھاما اور کمرے میں لے گیا۔ اسے صوفے بر بٹھا کر خود بھی برابر میں بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
” کیا فیصلہ کیا ہے تم نے ؟“
” دیا کہتی ہے مجھے جانا چاہیئے اور اتنا مظبوط ہو کر جانا چاہیئے کہ وہ دونوں ایک عرصہ اس فیز سے نکل نہ پائیں “ اس نے بتایا۔
” تم کیا چاہتی ہو ؟“
” میں ان کو کیا جھٹکا دوں ہائثم میں تو خود ایسے فیز میں ہوں جس سے ایک عرصہ نکل پانا ناممکن ہے اور ویسے بھی سوچا جائے تو ٹھیک کیا ہے عمر نے۔ وہ زندگی ایک میری خاطر کیوں برباد کرتا بھلا “ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
” تو طے رہا کل ہم جائیں اور ضرور جائیں گے “ ہائثم نے اس کا گال تھپتھپایا تو وہ مسکرا دی اور پھر مسکراتے مسکراتے رو دی تھی اور پھر ہائثم کے سینے پر سر رکھے وہ کتنی ہی دیر بس آخری بار ناکام محبت کا سوگ مناتی رہی تھی۔
★★★★★★★★★★★
شائستہ بیگم کو دیا نے سعدیہ خانم کے گھر بھیجنے کے بعد حیا کو اپنے کمرے میں لایا اور اپنی برات کے کپڑوں میں سے ایک خوبصورت جوڑا نکالا۔ وہ جوڑا ہلکے سرخ رنگ کا تھا۔ گھٹنوں سے ذرا اوپر تک آتی فراک اور ساتھ سرخ ٹراؤزر تھا۔ کپڑوں کے اوپر خوبصورت کام ہوا تھا۔
حیا نے تو ان گزرے ماہ و سال میں سرخ پہننا چھوڑ دیا تھا تو اسے اپنے آپ پر سرخ رنگ بڑا عجیب لگا تھا لیکن دیا نے اسے پھر بھی سرخ پہنایا کہ وہ سرخ میں بڑی پیاری لگتی تھی۔ سلیقے سے دیا نے اس کے بال بنائے ، اپنی جیولری پہنائی ، ہاتھوں میں چوڑیاں ڈالیں اور جب تیار کر کے اسے آئینے کے سامنے کھڑا کیا تو حیا خود کو دیکھ کر جھٹکا کھا گئی تھی کہ جو آئینے میں تھی وہ حیا تو نہیں تھی۔
” یہ آپ ہی ہو حیا جو وقت کے گرد میں اٹ گئی تھی “ دیا نے اس کی حیرت نوٹ کر لی تھی اور وہ ابھی تک اپنا ایک ایک نقش چھو کر خود کو دیکھ رہی تھی۔ باہر سے ہائثم کی آواز آئی تو دیا فوراً سے باہر آئی۔ ڈریس شرٹ اور جیکٹ پہنے بالوں کو سلیقے سے جمائے وہ بھی جانے کے لیئے تیار تھا۔
” اسے نکالو اب دیا لیٹ ہو رہا ہے ہم کو “ ہایثم نے گھڑی کی طرف دیکھا جو دن کے تین بجا رہی تھی۔ ہائثم اپنے کسی دوست سے گاڑی لے آیا تھا شہر جانے کے لیئے۔ دیا نے اثبات میں سر ہلایا اور حیا کو لے کر آئی اور ہائثم کی نگاہ تو پلٹنا ہی بھول گئی۔ کتنے سالوں بعد اس نے حیا کو دو رنگوں سے ہث کر دیکھا تھا اور وہ اتنی اچھی لگ رہی تھی کہ وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اس کے بال جوڑے میں بندھے ہوئے تھے اور اطراف سے لٹیں نکلی ہوئی ٹھی اور دوپٹہ بازوؤں پر ڈالا ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔ حیا کو اس کی نگاہوں سے الجھن ہونے لگی تھی۔
” یہ لڑکی کون ہے دیا “ اس کی لٹ کو سنوارتا وہ شرارت سے بولا تھا۔
” آپ کی حیا ہی ہے یہ یقین کر لیں اور لے کر جائیں اب آپ کو دیر نہیں ہو رہی “ دیا نے حیا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھا تو وہ مسکراتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
” سنیں! جب ہال میں داخل ہوں تو ہائثم کے بازو کو یوں پکڑ لیجئے گا “ دیا نے حیا کا بازو ہائثم کے بازو میں ڈالا تھا۔ ہائثم نے مسکرا کر دیا کی ناک دبائی اور باہر نکل گیا اور وہ پیچھے کھڑی اپنے آنسو پونجتے مسکرا دی کہ اس نے محبت سے قربانی دینا سیکھا تھا اور قربانی دینے والے ہمیشہ خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں۔
” تمہیں پتہ ہے کافی اچھی لگ رہی ہو تم “ گاڑی سٹارٹ کرتے ہایثم نے کہا تھا۔
” مجھے پتہ ہے مجھ سا بدصورت کوئی نہیں ہے “ اس کے دکھ گہرے تھے فقط مظبوط باتوں سے وہ مظبوط نہیں ہو سکتی تھی۔
ہائثم نے سر جھٹکا اور اپنی زبان کو بند ہی رکھا اور گاڑی شاکلہ کے راستوں پر بھاگنے لگی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ان کی گاڑی وسیع و عریض میرج ہال کے پاس رکی۔ ہایثم نے گاڑی پارک کر کے اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے نظرانداذ کرتی وہ خود ہی اتر گئی تھی۔ اس نے اپنی بڑھی ہوئی ہتھیلی بند کر دی۔
پارکنگ میں گاڑیوں کا جمِ غفیر جمع تھا اور مہمان آ رہے تھے۔ حیا کی آنکھیں نم ہونے لگیں تو اس نے رخ موڑ کر خود کو کمپوز کیا اور پھر جب وہ پلٹی تو اس کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا اور چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ تھی۔ ہایثم نے اس کو داد دیتی نظروں سے دیکھا۔ حیا نے آگے بڑھ کر ہایثم کا بازو تھاط لیا اور پھر دونوں ایک دوسرے کے ہمقدم انٹرنس کی طرف بڑھنے لگی۔
دونوں اندر داخل ہوئے تو آنکھیں روشنیوں سے چندیا گئی تھیں۔ ہر طرف رنگ بکھرے ہوئے تھے ، قہقہوں اور مسکراہٹوں کا دور تھا اور ان مسکراہٹوں کے بیچ پھولوں سے ڈھکے اسٹیج پر وہ دونوں بیٹھے تھے۔ عمر سلطان اور کشمالہ جہانگیر نہیں بلکہ عمر سلطان اور کشمالہ عمر سلطان۔
عمر سلطان پاس سجی دجی سی کھڑی اپنی بہن کی کسی بات پر مسکرا کر سر اثبات میں ہلا رہا تھا کہ نظر سامنے سے آتے ان دونوں پر پڑی تو وہ ساکت ہو گیا۔ حیا نے کمال مہارت سے مسکراہٹ کو ہونٹوں سے چپکا دیا۔ کشمالہ نے حیا کو دیکھا تو ایک پل کو گڑبڑائی دوسرے پل آنکھوں میں کچھ عجیب سا تاثر ابھرا اور تیسرے پل وہ اپنی جیت پر شادمانی سے مسکراتی ہوئی نظر آئی۔ عمر سلطان کی بہن ٹینا سلطان نے اسے دیکھا تو نفرت سے نگاہیں موڑ لیں۔ وہ سب نگاہوں کو نظرانداذ کرتی ہائثم کے بازو پر گرفت مظبوط رکھے اس کے ہمقدم آگے بڑھی۔ ہائثم نے ہاتھوں میں پکڑا پھولوں کا گلدستہ ان دونوں کی طرف بڑھایا جسے کشمالہ نے مسکراتے ہوئے تھام لیا جبکہ عمر سلطان بنا پلکیں چھپکائے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
” تم دونوں مبارکباد باد کے خقدار ہو۔ بنتا ہے تم دونوں کو جی کھول کر مبارکباد دی جائے آخر کو سرپرائز دیا ہے اتنا بڑا “ وہ مسکرا مسکرا کر متوازن لہجے میں بولی تھی اگرچہ عمر سلطان کی طرف دیکھتے اس کی نگاہوں میں پل بھر کو ہی مگر طنز ابھرا تھا۔
” تم مبارک دے رہی ہو تو میں خوش ہو گئی ہوں ورنہ تمہیں کارڈ بھیجنے سے پہلے انشورنس کروا دی تھی میں نے اپنی کہ کہیں محبت میں پاگل محبوبہ محبوب کی بیوی کی جان نہ لے ڈالے “ کشمالہ ہمیشہ والا لہجہ اپنائے ہوئے تھی جو دو ماہ پہلے حیا نے یکسر بدلا ہوا پایا تھا۔
” یہ تمہیں میرے بغل میں نظر آ رہا ہے ناں ایک شخص یہ میرا شوہر ہے اور بہت محبت کرتا ہے مجھ سے اور مجھے یہی کافی ہے۔ تم بہن ہو میری اور بہن کی چیزوں پر ڈاکہ ڈالنے کی عادت نہیں ہے میری “ اس نے کوئی لخاظ نہ رکھا تھا آج۔
” ہاں بغل میں وہی شوہر کھڑا ہے ناں جو ایک اور شادی کر کے بیٹھا ہے۔ کیا کمال کی محبت ہے میری تو آنکھوں میں پانی آ گیا “ کشمالہ بھی کم نہ تھی۔
” اور وہ جو تمہارے بغل میں ایک شخص بیٹھا ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اگر یہ محبت ہی تو بھئی کمال کی محبت ہے میری آنکھوں میں پانی آ گیا “ اس نے بھی بھگو بھگو کر مارا تھا۔ کشمالہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئی۔ حیا نے مسکرا کر سر جھٹکا اور ہائثم کا بازو تھامے واپس پلٹتے پلٹے مڑی۔
” اور ہاں میری اترن رکھنے کی عادت پختہ ہو گئی ہے تم میں۔ اب میں کہہ سکتی ہوں دونوں بہنوں میں کمال کی محبت ہے “ ایک اور طنز بھرا تیر چلاتے وہ ایک طرف رکھے صوفے پر جا بیٹھی تھی اور اسٹیج پر بیٹھے دو نفوس کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ ٹینا نے کشمالہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے ریلیکس ھونے کا کہتے ہاتھ ایسے جھلایا جیسے کہہ رہی ہو دفعہ کرو۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔
See translation
