60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

دو ماہ بعد۔۔۔۔۔۔
وہ اوائل اپریل کے دن تھے۔ موسم کی ٹھنڈک کم ہو رہی تھی اور حدت بڑھتی جا رہی تھی۔ موسم بدل چکا تھا لیکن نوید ہاؤس کے حالات ویسے ہی تھے۔ نہ کچھ بدل سکتا تھا اور نہ ہی بدلا۔ ہائثم اپنے اور دیا کی شادی کے دوسرے دن ہی واپس اسلام آباد چلا گیا تھا اور اب پورے دو ماہ بعد لوٹا تھا تو ویسا ہی تھا دیا کے لیئے سرد اور حیا کو نم آنکھوں سے دیکھتا ہوا۔ دیا ان دو ماہ میں ویسی ہی ہو گئی تھی جیسی کہ حیا تھی سوگ زدہ سی کیونکہ وہ سہاکن ہو کر بھی سہاگن نہیں تھی اور اس کا رویہ حیا کے لیئے حیرانی کا باعث تھا کیونکہ حیا کے ساتھ وہ نہ لڑی تھی اور نہ ہی روایتی سوکنوں والی چپقلش پالی تھی بلکہ وہ خاموشی سے اس کے کام بانٹتی رہتی تھی یا کام کرتی ہوئی حیا کو یک ٹک دیکھے جاتی تھی۔ آج بھی حیا دھوئے ہوئے کپڑے تار سے اتارنے کے بعد تخت پر بیٹھی تہہ کر رہی تھی جب اس نے خود پر نظروں کا حصار محسوس کیا تو جان لیا کہ آج بھی دیا جمشید اس کے چہرے کو تک رہی ہے اور اس کا یہ تکنا حیا کو کبھی کبھار الجھا دیتا تھا کہ جانے دیا اس کے چہرے پر کیا کھوجتی رہتی تھی اور پوچھنے پر سر جھٹک کر مسکرا دیتی تھی۔
” کیا میں آج سوال کر لوں تو کیا مجھے آج میرے سوال کا جواب ملے گا “ اس نے مسکرا کر دھیمی آواز سی پوچھا۔
” آپ کا چہرہ دیکھتی ہوں تو محبت کو دیکھنا چاہتی ہوں جو صرف آپ کے چہرے پر روشن ہے۔ کتنی خوش قسمت ہو نا آپ کہ ہائثم نوید آپ سے محبت کرتا ہے “ ہائے اس لہجے میں کتنی حسرت تھی۔ دیا کی آنکھیں ڈبڈبائیں کہ وہ جو دیا کو خوش قسمتی لگ رہی تھی وہ اس کے نزدیک بدقسمتی تھی۔
” مت دیکھا کرو میرے چہرے کو۔ لگتا خوبصورت ہے مگر بڑا بدصورت ہے ، لگتا خوش قسمت ہے مگر بڑا بدقسمت ہے “ محبت بھی کتنی عجب شے ہے نا کہ کسی کے لاڈ اٹھانے کی چاہ رکھنا والا کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔
” نہیں حیا! آپ بدقسمت نہیں ہو۔ ارحم بھائی آپ کے لیئے مر گئے تو عمر سلطان آپ کے لیئے زمانے سے لڑ گیا اور ہائثم نوید جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ کو پیش کرتا ہے۔ بھلا محبت جس پر مہربان ہو وہ بدقسمت کیسے ہو سکتا ہے “ اس کے اپنے دکھ تھے۔ حیا کے دکھ سے کوسوں دور۔
” طنز کر رہی ہو “ اس کا حسرت بھرا دکھ حیا کو طنز کی آمیزش لیئے ہوئے لگا تھا۔
” نہیں میں تو آپ پر رشک کر رہی ہوں “ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” مجھ سے پوچھو محبت جس پر مہربان ہو اس سے بڑا بدقسمت کوئی نہیں ہے۔ میں محبتوں کی چاہ نہیں کی تھی میں نے بس محبت چاہی تھی اور صرف یہ ایک چاہ لے ڈوبی مجھے۔ مجھے محبت لے ڈوبی دیا۔ مجھے خوش قسمت نہ کہو بڑی تکلیف ہوتی ہے مجھے “ اس نے تہہ کیئے ہوئے کپڑے اٹھائے اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ دروازہ کھولو تو سب سے پہلی نظر بیڈ پر پڑتی جہاں وہ سو رہا تھا۔ وہ دو ماہ بعد کل ہی آیا تھا۔ کمرے میں پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔
حیا نے کپڑے الماری میں رکھے اور اس کے سرھانے جا کھڑی ہوئی۔ وہ پرسکون سا سو رہا تھا اور جب جاگتا تھا تو بڑا بےچین نظر آتا تھا۔
محبت کا تکون سب کو برباد کر رہا تھا۔ کوئی نم آنکھیں لیئے ہائثم کا منتظر تھا تو ہائثم کی نگاہیں اس کے گرد گھومتی رہتی تھیں۔
وہ کمرے کا دروازہ بند کرتی پلٹ گئی تھی۔
★★★★★★★★★★★
رات اپنی تمام تر تاریکیوں سمیت شاکلہ پر اتر چکی تھی اور نوید ہاوس کے کچن میں حیا اور دیا کام میں مصروف تھیں۔ شائستہ بیگم تخت پر براجمان ٹی وی دیکھنے میں مگن تھیں۔ ہائثم کہیں باہر گیا ہوا تھا۔ حیا اور دیا نے کھانا بنا کر شائستہ بیگم کے تخت کے آگے دسترخوان بچھایا اور اب دونوں کھانے کے برتن لا لا کر رکھ رہی تھیں۔ حیا جگ میں کولر سے پانی ڈال رہی تھی کہ جب ہایثم گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ انویلپ جیسا تھا اور چہرے پر پریشانی اور سوچ کی لکیریں ایک ساتھ نمایاں ہو رہی تھیں۔ حیا نے اس کے پرسوچ چہرے اور پریشان چال کو دیکھا تو کچھ پل کے لیئے بریشان ہو گئی۔ ہائثم بنا کسی کی طرف دیکھے سیدھا کمرے میں گیا اور جب وہ واپس آیا تو ہشاش بشاش تھا اور ہاتھ حالی تھی۔ خاموش ماحول میں چاروں نے کھانا کھایا اور اس کے بعد جیسے ہی حیا دسترخوان سے برتن سمیٹنے لگی اسے ہائثم کی آواز آئی۔
” حیا ذرا میری بات سنیں “ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” میں دسترخوان سمیٹ کر آتی ہوں “
” آپ جاؤ حیا میں سمیٹ لوں گی “ دیا کی نم آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور ہائثم کے پیچھے ہی چلی گئی۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا اور ہاتھ میں وہی کچھ دیر پہلے والا انویلپ تھا۔ حیا کو دیکھ کر جیسے اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی تھی۔ اس کا ہر انداذ بتا رہا تھا کہ کچھ بات ہے جو ہائثم کو پریشان کر رہی ہے اور وہ کہہ بھی نہیں پا رہا۔
حیا نے کچھ پل اس کے بولنے کا انتظار کیا اور پھر اس کے چہرے سے جھلکتی ہر پریشانی کو پسِ پشت ڈال کر دیا کا کاسہ لیئے سامنے ہوئی تھی۔
” تمہیں پتہ ہے تم دو ماہ بعد آئے ہو۔ وہ دو ماہ سے تمہاری شکل دیکھنے کو ترس گئی ہے “
” تم سے شادی کے بعد میں ایک سال بعد آیا تھا کیا تم بھی میری شکل دیکھنے کو ترس گئی تھی “ وہ الٹا استفہامیہ ہوا تھا۔
” مجھے اور دیا کو کمپرومائز نہ کرو۔ وہ تم سے محبت کرتی ہے “ وہ ذرا غصے سے بولی تھی۔
” یہی تو کمبخت محبت کا مسئلہ ہے ہمیں جس سے ہوتی ہے اسے ہم سے محبت نہیں ہوتی “ دیا کی آنکھوں سے بہتا دکھ ہائثم کے لہجے سے جھلکنے لگا تھا۔
” وہ تمہاری بیوی ہے۔ تمہاری ماں کی پسند سے آئی ہوئی ہے کسی قتل کے بدلے نہیں آئی وہ “ حیا نے دیا کی وکالت کرنی چاہی تھی۔ اسے دیا کا دکھ پریشان کرتا تھا۔
” تم بھی بیوی ہو میری۔ میری پسند ہو تم اور وہ جو ایک دوسری آئی ہے نا وہ میرے دل کے قتل کے بدلے آئی ہے “ عجیب دکھ سے۔ ذرا سا انسان بدل دیتے تو ایک جیسے تھے۔
” نکلو تم کمرے سے “ حیا نے دو ٹوک انداذ میں کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ؟ “
” میں نے کہا نکلو میرے کمرے سے اور باہر جا کر تخت پر بیٹھو۔ ابھی وہ چائے بنا کر دے گی تو پی کر اس کے کمرے میں چلے جانا اور جب تک یہاں ہو میرے کمرے کے پاس بھی نظر نہ آؤ مجھے “ وہ سخت لہجے میں بولی۔
” اچھا چلا جاتا ہوں پہلے کچھ دکھانا ہے تمہیں دیکھ لو پھر چلا جاؤں گا کیونکہ اس کے بعد تمہیں رونے کے لیئے تنہائی درکا ہو گی “ اس نے انویلپ کھولا تو اس کے اندر سے لکڑی کا بنا ایک خوبصورت کارڈ نکلا۔ حیا نے ناسمجھی سے اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھا جسے اس نے کھول کر حیا کی طرف بڑھا دیا۔۔ حیا نے ناسمجھی سے اسے پکڑا لیکن پھر اس کا ہاتھ کانپا تھا اور آنکھیں ساکت ہوئی تھیں کہ اس پر لکھے لفظ کاٹ کر لے گئے تھے اسے۔
Kashmala Jahangir Weds With Umer Sultan
وہ لڑکھڑائی تھی اور پھر اس کے ہاتھ سے کارڈ چھوٹ کر کارپٹ پر جا گرا۔ آنکھون کے سامنے یکدم اندھیر چھانے لگا تھا اور دماغ میں ماضی انگڑائی لے کر اٹھنے لگا تھا۔ دل میں محبت کی میت پر بین سنائی دیئے اور بےیقینی نے آنکھوں سے آنسو بہا دیئے۔۔
اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہائثم کی طرف دیکھا جس کی اپنی آنکھیں حیا کی تکلیف پر نم ہو رہی تھیں لیکن حیا کو یہ سب سہنا تھا۔ خود ہی برداشت کرنا تھا۔
وہ اسے روتا ہوا چھوڑ کر کمرے سے نکل آیا اور شائستہ بیگم کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا۔ دیا اسے چائے کا کپ پکڑا کر حیا کے کمرے کی طرف جانے لگی تو اس نے روک دیا۔
” وہ اس وقت چائے پینے کی پوزیشن میں نہیں ہے “ دیا سمجھی نہیں تھی۔ وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ٹھیک تھی تو اچانک پوزیشن خراب کیوں ہو گئی۔ اثبات میں سر ہلاتے وہ چائے لیئے واپس کچن میں چلی گئی اور ہائثم کی نگاہیں دروازے پر ٹھہر گئیں۔ وہ وہاں بیٹھے ہوئے بھی جان سکتا تھا کہ اندر وہ ہچکیوں سے رو رہی ہے۔۔۔
★★★★★★★★★★★
محبّت سے ہوئی نفرت ہے تیری بے وفائی سے
شکستہ دل ہوا میرا ہے تیری یوں جدائی سے
نہیں ہے حوصلہ مجھ میں کسی سے اب محبّت کا
کہ ڈرتا ہوں میں دوبارہ کسی بھی جگ ہنسائی سے
جسے اپنا بنایا تھا بڑا ہی بے وفا نکلا
ارادہ ہی نہیں بدلا اُس نے مری دہائی سے
مجھے تیری محبّت پر کبھی بھی شک نہیں گزرا
مگر وہ جھوٹ تھا سارا جو بولا تھا صفائی سے
چلو اب جان چھوٹی ہے ہوئے آزاد بندھن سے
یہ آزادی ہے بہتر محبّت کی گدائی سے
وہ گھٹنوں میں سر دیئے کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ آنکھوں سے بہتا سمندر خشک ہو چکا تھا اور اب اسے وہ تمام وعدے یاد آ رہے تھے جو اس سے کیئے گئے تھا۔
” عمر سلطان نے کہا تھا حیا تم سے بچھڑوں گا تو مر جاؤں گا اور کیا ہی سچ کہا تھا مجھ سے بچھڑ کر میری ہی بہن پر مر مٹے “ اس کی سرگوشیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
” اور مجھے آ کے دیکھو میں زندہ تو ہوں مگر کیسی حالت میں۔ ایک سانس لیتے وجود میں مر چکے دل کے ساتھ ہوں میں اور تم جو کہتے تھے تم چھوڑو گی تو خودکشی کر لوں گا اور اب تم نے مجھے ہی مار ڈالا ہے ، میں لڑ رہی تھی حالات سے کہ یہ کبھی تو سازگار ہوں گے اور ہم ملیں گے لیکن تم نے تو اچھے وقت کا انتظار ہی نہیں کیا۔ تم نے اپنے لیئے اچھا وقت خرید لیا “ اس کی دھیمی آواز پش بھر کو اونچی ہو جاتی اور پھر وہ دوبارہ آہستہ آہستہ شروع ہو جاتی۔
اس کو صدمہ پہنچا تھا۔ اس کو شاک لگا تھا کہ بھلے وہ عمر سلطان کی نہیں تھی لیکن ایک مان تھا کہ عمر سلطان اس کا ہے لیکن اب یہ مان بھی ریزہ ریزہ ہوا تھا اور ساتھ وہ بھی بکھر گئی تھی۔
اس کی گھٹی گھٹی سی سسکیاں ساری رات کمرے میں گونجتی رہیں اور ایک کمرے کے فاصلے پر وہ بھی ساری رات سو نہیں پایا تھا۔ شائستہ بیگم کے تخت پر لیٹا وہ رات بھر اس کی سسکیوں سے بےچین رہا تھا لیکن وہ اسے جا کر چپ کروانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسے سارے دکھ آنسوؤں بہا دینے دینا چاہتا تھا کہ وہ ہمت پکڑے اور اس ہمت کے ساتھ وہ کشمالہ جہانگیر اور عمر سلطان کی شادی میں شریک ہو۔۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔