60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

وہ بجلی کی بِل بھرنے آئی تھی اور اب لائن میں لگی کھڑی تھی جب اس کے کندھے پر لٹکتے بیگ میں موبائل تھرایا۔ اس نے بیگ کھول کر موبائل نکالا۔ ہائثم کی کال تھی یقیناً اس نے شائستہ بیگم سے بات کرنے کو فون کیا تھا کیونکہ یہ موبائل شائستہ بیگم کا تھا جس میں کچھ خرابی ہو گئی تھی تو انہوں نے ٹھیک کروانے کے لیئے دیا تھا۔ وہ ابھی اسی شش و پنج میں تھی کہ کال اٹینڈ کرے یا نہ کرے کہ موبائل چپ ہو گیا اور اس کا نمبر بھی آ گیا۔ وہ بل بھر کر باہر نکلی تو موبائل ایک بار پھر تھرّانے لگا۔ اس نے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا اور بولی۔
” ہیلو “
” حیا آپ۔ ماں کہاں ہیں؟ “ اس نے پوچھا۔
” موبائل خراب تھا بازار آئی تھی تو ابھی ٹھیک کروایا ہے “ حیا نے بتایا۔
” اچھا کیسی ہیں آپ “
” یہ پوچھنے کی فارمیلیٹی کیوں کرتے ہو جب جانتے ہو کہ میں ٹھیک نہیں ہوں “ وہ سڑک کے کنارے چلنے لگی۔
” کیا آپ فرق پڑ رہا ہے میری شادی سے “ وہ خوشفہم ہوا کہ وہ ابھی ہاں کہہ دے گی لیکن وہ بولی تو تمام خوش فہمیوں پر اوس ڈال دی۔
” نہیں “
” لیکن مجھے فرق پڑ رہا ہے حیا “ وہ اذیت بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا اور حیا جان چکی تھی جان کا دشمن جان بنا بیٹھا تھا اسے۔
” دیکھو ہائثم! میری زندگی قید سے قید تک کی کہانی ہے اور اس قید کو مجھے اکیلے ہی کاٹنا ہے۔ تم میرے اچھے دوست ہو میں نہیں چاہتی تمہاری زندگی میری وجہ سے برباد ہو “ حیا نے اسے سمجھانا چاہا۔
” آپ کے بغیر بھی تو زندگی برباد ہی ہے حیا “ یہ پہلا اظہار تھا جو دو سال کی نفرت کے بعد کیا گیا تھا جو دو سال کی اذیت کے بعد کیا گیا تھا۔ حیا نے گہری سانس لی اور سڑک کنارے لگے درخت کے نیچے جا بیٹھی۔
” محبت ایک بار ہی ہوتی ہے ہائثم اور میں اپنے حصے کی محبت کر چکی ہوں اور مجھ سے اس زندگی میں نہیں ہو گی “ اس کا لہجہ سمجھاتا ہوا تھا۔
” محبت میں کر لوں گا حیا “ اس نے التجا کی تھی۔
” حیا جہانگیر تمہارے لیئے نہیں بنائی گئی ہائثم نوید اس بات کو مان کیونکر نہیں لیتے۔ وہ جو ایک تم سے محبت کرتی ہے اس کی محبت کو زندگی دے دو۔ دیا کا دیا بجنے سے بچا لو۔ کسی ایک کو محبت راس آنی چاہیئے “
” تو وہ مجھ کو راس آ جائے تو محبت کا کیا جاتا ہے یار “ اذیت تھی اس کے لہجے میں۔
” میں ایک قاتلہ ہوں اور میری یہی غلامی کی زندگی ہے اور میں خوش ہوں کہ تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ تم خوش رہو گے تو مجھے خوشی ہو گی۔ وہ جو نوید ہاؤس کا ایک مکین میری وجہ سے ہر خوشی سے محروم ہو کر مر گیا تو اب میں چاہتی ہوں کہ تم زندگی کی خوشیوں سی محروم نہ رہو “ حیا کو بس فکر تھی کہ اس کا دوست خوش رہے۔ وہ دوست جو اس کا شوہر تھا۔
” تمہیں مجھے بانٹ کر ذرا دکھ نہیں ہو گا “
” تم میرے ہوتے تو مجھے دکھ ہوتا۔ دوست کو بانٹنے سے کوئی دکھ نہیں ہوتا “ حیا نے کہا۔
” میں تو خود کو بٹا ہوا ہی سمجھوں گا یار اور یاد رکھنا بٹا ہوا مرد کانچ جیسی عورت کو پتھر میں ڈال دیتا ہے۔ یہ نہ وہ دیا جسے تم روشن رکھنا چاہتی وہ پتھر ہو جائے “ ہائے کیا اذیت تھی اس لہجے میں کہ محبت کاٹ رہی ہے اسے۔
” وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ انسان سب کچہ بھول جاتا ہے تم بھی بھول جاؤ گے “
” کیا آپ نے عمر سلطان کو بھلا دیا؟ “ سوال تھا یا پتھر اسے بڑی زور کا لگا تھا۔ اس کی آنکھ میں کچھ چبھا تھا شاید وہ عمر سلطان کی یاد تھی۔ گھبرا کر اس نے جلدی سے فون بند کر کے موبائل بیگ میں رکھا اور چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔ کئی آنسو اس کی آنکھوں سے بہے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی کہ اس کے پشت پر آہٹ ہوئی اور پھر کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ بدک کر پلٹی اور سامنے عمر سلطان کو کھڑے دیکھ کر پتھر ہوئی تھی۔
” دیکھو تم مجھے ہر جگہ دکھائی دیتی ہو “ کانچ ٹوٹ کر کیسے بکھرتا ہے کوئی اس وقت عمر سلطان کو دیکھتا تو جان جاتا۔ حیا فوراً سے کھڑی ہوئی اور جانے لگی تھی کہ عمر سلطان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
” سنو حیا! محبت کرنے والوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتے “ وہ التجا بھرا لہجہ تھا اور التجا بھی ایسی کہ دیکھنے سننے والے کلیجہ نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیتے۔
” مجھے جانے دو “ اپنی کلائی چھڑاتے وہ منمنائی تھی۔
” چلی ہی تو گئی ہو۔ میں تو بس ان فاصلوں کو ماپنے آیا ہوں جو تمہارے اور میرے درمیان حائل ہیں۔ ان کو فاصلوں کو ماپ پر ٹاپوں گا اور تمہیں اپنی دنیا میں لے جاؤں گا “ ہائے وہ لہجہ قربان ہونے جیسا تھا اور کون تھا جو اس لہجے پر قربان نہ جاتا۔
” تم کوئی ٹین ایجر لڑکے نہیں ہو جو یوں ضد بھری باتیں کر رہے ہو۔ ایک میچورڈ مرد ہو یہ باتیں تمہیں سوٹ نہیں کرتی اور وہ جو تمہارے اور میرے درمیاں فاصلے ہیں وہ اتنے ہیں کہ انہیں ماپا نہیں جا سکتا اگر ماپ بھی لو تو انہیں ٹاپتے تمہاری زندگی گزر جائے گی لیکن فاصلے ختم نہیں ہوں گے “ اپنی کلائی چھڑاتی وہ آگے بڑھی تھی جب عمر سلطان نے کچھ ایسا کہا کہ اس کے قدم زنجیر ہوئے۔
” فاصلوں کو ماپا نہیں جا سکتا تو کیا ہوا وہ جو ایک دیوار بنا فاصلہ ہے اسے راستے سے ہٹایا بھی تو جا سکتا ہے “ اس کا لہجہ پلوں میں بدلتا تھا اور اس گھڑی وہ بکھرے ہوئے عمر سلطان نے ضدی عمر سلطان بن گیا تھا جس کے لہجے اور آنکھوں کے مطلب سمجھتے حیا جی جان سے کانپی تھی اور وہی وہ پل تھا جب وہ پلٹی اور ایک زوردار تھپڑ عمر سلطان کے گال پر دے مارا۔
” وہ جو ایک میری وجہ سے مرا ہے بس وہی ایک مرا ہے اب کوئی اور میری وجہ سے نہیں مرے گا اور ہائثم نوید سے دور رہنا عمر سلطان! ورنہ خون پی جاؤں گی میں تمہارا اور ایک بات میری یاد رکھنا ارحم نوید کے مرنے پر حیا جہانگیر ہائثم نوید کو نہیں ملی اور ہائثم نوید مر گیا تو عمر سلطان کو پھر بھی حیا جہانگیر نہیں ملے گی “ وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتے تیز تیز واپک پلٹ چکی تھی اور وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے کتنی ہی دیر اس کے قدموں کے نشان دیکھتا رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ حیا جہانگیر اسے تھپڑ مار کر چلی گئی تھی۔ اس کے اندر دکھ ، تاسف اور جانے کیا کیا امڈنے لگا تھا جب جیب میں رکھا فون بج اٹھا۔
” تم لوٹ کر کب آؤ گے عمر سلطان “ اس نے فون کان سے لگایا۔ دوسری طرف کشمالہ جہانگیر تھی۔ وہی ضدی لہجہ لیئے ہوئے۔
” شام کو نکل جاؤں گا شاکلہ سے۔ فاصلے ماپے نہیں جا سکتے “ اس نے دھیرے سے کہتے فون بند کیا اور اس پتھر پر بیٹھ گیا جہاں کچھ دیر پہلے حیا جہانگیر بیٹھی تھی۔ وہ حیا جہانگیر جو ماروی تھی اور فقط عمر سلطان کی ماروی تھی۔۔
★★★★★★★★★★★
دو مہینے تیز رفتاری سے گزرے اور اتنی تیز رفتاری سے کہ ہائثم نوید کی شادی کا دن آ گیا۔ وہ جب سے چھٹی لے کر گاؤں آیا تھا مسلسل ٹال مٹول کر رہا تھا اور جس کے لیئے کر رہا تھا اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ہائثم نوید کی شادی ہو نہ ہو اسے حیا جہانگیر نہیں مل سکتی اور اس بات کو جان کر وہ اذیتوں میں ڈوب کر ابھرا ماں کے سامنے راضی گیا تھا۔
یہ مارچ کا مہینہ تھا۔ سردی کی شدت ابھی تک برقرار تھی اور اس سرد موسم کی ایک شام ہائثم نوید اور دیا جمشید کا نکاح ہو گیا وہ نکاح جس میں دیا جمشید خوش تھی ، شائستہ نوید خوش تھی ، حیا جہانگیر خوش تھی اور کوئی خوش نہیں تھا تو وہ ہائثم نوید تھا۔
شائستہ بیگم نے دل کے سارے ارمان نکالے تھے شادی پر۔ وہ بےانتہا خوش تھیں اور یہ خوشی ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ چھوٹا سا نوید ہاؤس کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ برآمدے میں برقی قمقمے لگے ہوئے تھے اور ان سنہری قمقموں تلے دیا جمشید سُرخ لباس میں دمک رہی تھی ، وہ سرخ لباس جو حیا جہانگیر کا من پسند تھا لیکن ہمیشہ کی طرح وہ سفید سادہ لباس میں تھی لیکن خلافِ معمول بال کھول کر کندھوں پر بکھیرے ہوئے تھے۔ وہ سوگ میں تھی اور یہ سوگ ہر خوشی غمی میں اس پر فرض تھا۔
کئی رشتے داروں نے حیا کو دیکھا تو رُخ پھیر لیا۔۔ ارحم قتل کیس کے بعد وہ ان کے لیئے قابلِ نفرت ہو گئی تھی۔ کچھ رشتہ داروں نے تاسف سے اسے دیکھ کر سر جھٹکا جیسے افسوس کرنا چاہ رہے ہوں۔ اس نے بھاری دل اور مسکراتے لبوں کے ساتھ بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا اور برقی قمقموں تلے جگمگاتی دیا کی طرف بڑھی تھی کہ شائستہ بیگم کی آواز پر رک گئی۔
” منحوس عورتیں نئی نویلی دلہن کے پاس نہیں جاتیں اور اگر وہ قاتلہ ہو تو مزید دوری بنانے کی ضرورت ہے “ حیا کی گردن شرمندگی سے جھک گئی تھی اور وہیں کئی رشتہ دار کانوں میں سرگوشیاں کرتے پھسپسانے لگے تھے۔ اس کا اور دیا جمشید کا موزانہ کیا جانے لگا اور کسی بھی طرح وہ دیا جمشید سے بہتر ثابت نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ سب کی رضامندی اور خوشی سے ہائثم کی زندگی میں شامل ہوئی تھی۔ کاش وہ بھی اتنی ہی عزت سے عمر سلطان کی زندگی میں داخل ہوسکتی اور کاش ارحم نوید نہ مرا ہوتا تو سب کچھ ممکن تھا۔
شائستہ بیگم اور سعدیہ خانم(دیا کی ماں) نے اسٹیج کی طرف بڑھتے نفرت سے اسے دیکھا۔ شائستہ بیگم کے ہزار بار منع کرنے کے باوجود وہ چلی آئی تھی کہ وہ اپنے دوست کی شادی میں شرکت کرنا چاہتی تھی۔
صوفوں پر براجمان مہمان اسے گردنیں موڑ موڑ کر دیکھ رہے تھے۔ اسکے رخسار گلابی ہوۓ۔۔ بمشکل مسکراتے ہوۓ وہ پیچھے ہٹ گئی۔۔ ہائثم نے نگاہوں کا زاویہ بدلے بغیر اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ اس نے ایک جانب رکھا خالی صوفہ دیکھا اور پھر وہاں بیٹھ گئی۔ وہ قاتلہ تھی اور ایک قاتلہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔ وہ پھر بھی مسکراتی رہی۔۔
یکا یک سب نے دیکھا کہ ہائثم اپنی دلہن کے پہلو سے اٹھا اور تیزی سے گھر سے نکلتا چلا گیا۔ کئی گردنوں نے مڑ کر ہائثم کو جاتے دیکھا اور شائستہ نوید اور سعدیہ خانم نے نفرت سے حیا کو دیکھا۔ دیا جمشید نے حیا جہانگیر کے روشن چہرے پر ایک نظر ڈالی اور سر جھکا دیا۔ کئی آنسو ٹپ ٹپ ہاتھوں پر گرنے لگے تھے۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔