60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3


دسمبر جانے والا ہے
چلو ایک کام کرتے ہیں
پرانے باب بند کر کے
نظر انداز کرتے ہیں
نئے سپنے سبھی بُن کر
اُلفت کے راستے چن کر
وفا داری پہ جینے کی
راہیں ہموار کرتے ہیں
بھلا کر رنجشیں ساری
مِٹا کر نفرتیں دِل سے معافی دے دلا کر اب
دِل اپنے صاف کرتے ہیں
جہاں پر ہوں سبھی مُخلص
نہ ہو دِل کا کوئی مُفلس
اِک ایسی بستی اپنوں کی
کہیں آباد کرتے ہیں
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے
ہوں سانجھی سب وہاں ٹھہرے
سب ایسے ہی مكینوں سے
مکاں کی بات کرتے ہیں
نہ دیکھا ہو زمانے میں
نہ پڑھا ہو فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم
سبھی آغاز کرتے ہیں
رات دس بجے کا وقت تھا۔ ہائثم اور شائستہ بیگم دونوں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہے تھے جب ٹی وی پر کسی نے خوبصورت انداذ میں یہ نظم پڑھی تھی۔ ہائثم نے کن اکھیوں سے چائے کے کپ اٹھاتی حیا کو دیکھا تھا جیسے وہ بھی پرانے سب نقش مٹانا چاہ رہا ہو لیکن یہ بس میں نہ ہو۔ وہ بھی ایک نئی جنوری کا آغاز کرنا چاہتا تھا اور یہ بس میں نہیں تھا کیونکہ اسی فیصد مردوں کی طرح وہ بیوی اور ماں میں سے ماں کو چنتا تھا اور اس بیوی کو کیسے کر چنتا جس پر قتل کا الزام تھا اور قتل بھی ایسا کہ اس قتل نے ہائثم نوید کو یتیم کر دیا تھا۔
کپ اٹھا کر جاتے ہوئے حیا نے اس کی طرف دیکھا کیونکہ وہ اتنی دیر سے اس کی نظریں خود پر جمی محسوس کر سکتی تھی اور اس پل حیا نے دیکھا کہ ایک نیا سال اپنی شریکِ حیات کے ساتھ گزارنے کی چاہ اس کی آنکھوں میں امڈ امڈ کر آ رہی تھی۔ کئی جگنو تھے جو جل کر اور پھر بجھ کر مر گئے تھے۔ ہائثم نے نگاہوں کا زاویہ بدلا کہ وہ جو دو سال سے ایک دوسرے کے ہو کر بھی ایک دوسرے کے نہیں تھے تو خدا کا فیصلہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ہیں ہی نہیں۔ قسمت لکھ چکی تھی حیا جہانگیر ہائثم نوید کو کبھی بھی نہیں ملے گی چاہے وہ اس کے نام پر ہو یا اس کی ہو۔
حیا کپ لیئے وہاں سے نکلی اور کچن میں کپ دھو کر وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ باہر لوگوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ دنیا نیا سال منانے کو اتاولی ہو رہی تھی اور اس پر تو وہ گزرے سال ہی ٹھہر چکے تھے۔
وہ کارپٹ پر بیٹھ گئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سب سے آخری دراز کھول کر سیاہ رنگ کا ایک بیگ نکالا اور پھر اسے کھولنے لگی۔ بیگ سے سرخ رنگ کی ایک ڈائری نکلی تھی۔ سرخ رنگ اسے ہمیشہ سے بہت پسند تھا اتنا پسند کہ اس کی زندگی کی ہر شے میں سرخ کا دخل تھا لیکن ان دو سال میں وہ سرخ رنگ کو بھول بیٹھی تھی لیکن اس دن عمر سلطان کو سرخ رنگ کی کار میں دیکھ کر اسے ماضی کی لالی ضرور یاد آئی تھی۔ اسے یاد تھا عمر سلطان کو سرخ سے چڑ تھی لیکن وہ اس کے لیئے اپنی زندگی میں سرخ رنگ کو جگہ دینے لگا تھا۔ عمر سلطان کا لیپ ٹاپ سیاہ سے سرخ ہوا تھا ، اس کی بیڈ شیٹ فقط سرخ رنگ کی ہو گئی تھی اور پھر حیا کی فرمائش پر اس نے گاڑی بھی سرخ لے لی تھی خالانکہ اسے شدید چڑ تھی سرخ رنگ سے لیکن جب محبت ہوتی ہے تو محبوب کو پسند ہر شے پسند ہوتی ہے۔
حیا نے ڈائری کے کور پر ہاتھ پھیرا۔ یہ ڈائری اسے عمر نے دی تھی۔ عمر کہتا تھا حیا اس کی ماروی ہے۔ کہیں بہت پہلے جب ماروی عمر کو ٹھکرا گئی تھی تو محبت کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی اس لیئے محبت نے صرف محبت کے واسطے عمر ماروی کو پھر سے جنم دیا ہے اور اب کی بار عمر ماروی الگ نہیں ہوں گے لیکن محبت چاہے کتنی بھی بار جنم لے لے اس کی قسمت جدائی ہی ہے۔
اس نے ڈائری کھولی۔ ڈائری کے پہلے صفحے پر سرخ روشنائی سے حیا اور عمر لکھا تھا۔ اس کی آنکھ سے آنسو نکل کر عمر کے نام پر گرا تھا۔ اسے وہ تمام سال یاد آئے جن کی شروعات اس نے عمر کے ساتھ کی تھی۔ اس نے صفحہ پلٹا۔ اگلے صفحے پر دو سوکھے سرخ پھولوں سے محبت کی داستاں رقم تھی وہ داستاں جو قدیم تھی بہت قدیم۔ وہ فقط پھول نہیں تھے وہ عمر ماروی کی داستاں تھی۔ وہ محبت کی عجیب داستاں تھی جس کی قسمت ہر بار جدائی تھی فقط جدائی تھی۔
اس نے بھری بھری آنکھیں اٹھا کر دیوار پر آویزاں تصویر کو دیکھا۔ اسے لگا ارحم نوید مسکرا رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے حیا سلطان! تم مجھے نہیں ملی تو کیا ہوا تمہیں بھی تو عمر سلطان نہیں ملا۔
” تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ ارحم نوید۔ تمہیں مرنا نہیں چاہیئے تھا تمہیں جی کر مجھ سی تکلیف سہنی تھی۔ تمہیں بار بار جدائی کا کرب جھیلنا تھا “ اس کی آنکھوں سے بےشمار آنسو نکلے وہ آنسو جن پر وہ پچھلے دو سال سے بندھ باندھے بیٹھی تھی لیکن عمر سلطان کا سامنے آنا اس کے ضبط کو توڑ گیا تھا۔ اسے آج بھی محبت تھی اور بےتخاشہ محبت تھی عمر سلطان سے مگر افسوس قسمت جدائی تھی اور مقام کچھ ایسا تھا کہ اب ملن ہو جاتا تو وہ نِری رسوائی تھی۔
★★★★★★★★★★★
آج نئے سال کا پہلا دن تھا۔ محلے سے بچوں کے پٹاخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ صبح فجر کی اٹھی کام میں لگی ہوئی تھی۔ سیاہ لباس دھو کر الماری میں اگلے دسمبر کے لیئے رکھ چکی تھی۔ سفید جوڑا پھر سے اس کے تن پر تھا وہ سفید جو کفن تھا۔ وہ سفید جوڑا جو پھندا تھا جو دو سال سے اس کے گلے میں پڑا ہوا تھا مگر نہ مرنے دے رہا تھا نہ جینے دے رہا تھا۔
کچن سے فارغ ہو کر اس نے دھوپ پر پڑے سارے کپڑے اتار کر تہہ کئے اور ہائثم کے کپڑے استری کرنے کے لیئے سٹینڈ پر رکھے۔ وہ کل واپس جا رہا تھا۔
” اماں آپ نے اپنا بہت سا خیال رکھنا ہے کل میں جا رہا ہوں “ وہ شائستہ بیگم کی دوائیاں لے کر آیا تھا اور اب ان کو کھلانے کے بعد ہدایات جاری کر رہا تھا۔
” اپنے آفس کال کر کے ہفتہ دس دن اور چھٹیاں مانگ لو “
” کیوں اماں “
” تمہاری شادی کی تاریح طے کرنے جانا ہے اور پھر شادی بھی “ شائستہ بیگم کی بات پر ہائثم نے اچنبے سے اپنی ماں کو دیکھا۔ حیا کے شرٹ استری کرتے ہاتھ ایک سیکنڈ کو رکے تھے اور وہ پھر سے شرٹ پریس کرنے لگی۔ ہائثم نے نگاہ اٹھا کر حیا کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا تو گویا دو سال کا یہ رشتہ نام نہاد تھا تو نام نہاد ہی تھا۔
” ماں کیسی باتیں کر رہی ہو آپ میری شادی تو ہو چکی ہے “ چاہے حیا اس کے بھائی کی قاتلہ تھی اس کی ماں کے لیئے ایک بدلہ تھی لیکن بیوی تو تھی اس کی نا۔ حیا وہ لڑکی تھی جسے اس نے بہت شدت سے چاہا تھا۔ بہت محبت کی تھی۔
” یہ شادی نہیں سزا تھی اور سزا صرف اس قاتلہ کے لیئے ہے۔ تم میرے بیٹے ہو اور بیٹے کو سزا کی زندگی نہیں جینے دے سکتی “ شائستہ بیگم نے کہا۔
” چاہے جیسے بھی ہوئی ہو جن حالات میں بھی ہوئی ہو وہ میری بیوی ہے ماں۔ میں اس کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتا کیونکہ شرعاً اور قانوناً یہ جائز نہیں ہے “ اس نے پھر سے ٹال مٹول سے کام لینی چاہی تھی اور اس بات پر شرٹ ہینگ کرتی حیا مسکرائی تھی۔ وہ اس کا گریز سمجھ رہی تھی۔ شرٹ کو اسٹینڈ پر ہینگ کر کے وہ کمرے میں آئی۔
” مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ہائثم! میری طرف سے تمہیں اجازت ہے اور میں تحریری اجازت نامہ دینے کو بھی تیار ہوں “ شائستہ بیگم نے ہاتھ جھلا کر اسے دفع دور کیا تھا۔ ہائثم نے ہونٹ کاٹتے بےبسی سے حیا کو دیکھا اور پھر اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔ یہ طے تھا فیصلہ ماں کو کرنا تھا ہمیشہ کی طرح لیکن وہ اس بار کے فیصلے پر کانپ اٹھا تھا۔ کچھ بھی تھا بس اتنا تھا کہ وہ حیا جہانگیر جس سے اس نے بےتخاشا محبت کی تھی وہ اس کی تھی اور چاہے حیا جہانگیر نے عمر سلطان سے بےتخاشہ محبت کی تھی لیکن وقت کچھ یوں تھا کہ اب صرف اور صرف ہائثم نوید اس کا تھا۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔