60.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

” اے لڑکی! دیا میں اور کہیں باہر جا رہے ہیں۔ ذرا سوگ سے نکل کر ہوش و حواس میں گھر کی رکھوالی کر لینا “ وہ تخت پر گم صم سی بیٹھی تھی جب شائستہ بیگم کی پاٹ دار آواز اس کی سماعتوں میں گونجی۔
” حیا گیٹ بند کر دیجئے گا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے مامی مجھے ہسپتال لے کر جا رہی ہیں “ دیا ہمیشہ کی طرح مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔ حیا نے بھی مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا اور ان کے جانے کے بعد گیٹ بند کر کے اپنے کمرے میں آ گئی اور صوفگ پر نیم درواز ہو گئی۔ ذہن ایک بار پھر کشمالہ کی طرف چلا گیا۔
کشمالہ کو مرے ایک ہفتہ ہو گیا تھا لیکن وہ چاہ کر بھی اس صدمے سے باہر نہیں آ پا رہی تھی۔ وہ چھ سال کی تھی جب کترینہ تین سالہ کشمالہ کو لے کر آئی تھی اور جہانگیر نے بتایا تھا کشمالہ اور حیا دونوں بہنیں ہیں اور حیا نے مان لیا وہ کشمالہ کی بڑی بہن ہے اور بڑی بہن ماں جیسی ہوتی ہے۔ اس نے ہر طرح سے اس کا خیال رکھا تھا اور پھر حیا کو اس کی عادت ہو گئی۔ وہ سچ مچ اسے اپنی بہن سمجھنے لگی تھی اور کترینہ کو اپنی ماں لیکن پھر وہ کشمالہ جو اس کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی اس سے دور ہوتی گئی اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ کترینہ جہانگیر کا تھا اور پھر ایک وقت وہ آیا جب کشمالہ نے رو دھو کر ایموشنل بلیک میل کر کے ارحم کی موت کے بدلے اسے اپنا سب کچھ تیاگ دینے کو کہا اور حیا نے ایسا کیا کہ وہ نہیں چاہتی تھی اس کی وجہ سے کشمالہ کا فیوچر بھی تباہ ہو جائے۔ لوگ دیکھ کر کہیں دیکھو یہ اس حیا کی بہن ہے جسے جیل ہو گئی۔
اسے کشمالہ سے جڑا ہر پل شدت سے یاد آ رہا تھا اور وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ جانے وہ کون ہے جو پہلے ارحم کو مار گیا اور اب کشمالہ کو۔ اس پر خوف چھانے لگا تھا۔
اسے وہ دن بھی یاد تھے جب سات دن تک وہ ارحم کی گمشدگی پر روتی ہوئی پھپھو کو سنبھالتی رہی اور آٹھویں دن اسے فون آیا۔ فون پر ارحم تھا جس نے اسے شہر میں کسی فیکٹری میں بلایا تھا اور کہا تھا وہ اکیلی آئے ورنہ وہ ہمیشہ کے لیئے روپوش ہو جائے گا اور اس نے سات دن گاؤں میں شائستہ پھپھو کی حالت بھی دیکھی تھی اور اپنے کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے ہائثم کی سسکیاں بھی فون پر سنی تھیں۔ وہ کسی طرح بھی ارحم کو پھر سے گم ہونے نہیں دے سکتی تھی اسی لیئے اکیلے چلی آئی تھی اور جب اس کی گاڑی فیکٹری میں داخل ہوئی تو تب تک اس کی ساری ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ ڈرپوک نہیں تھی مگر نازک تھی۔ پہلے جہانگیر اور پھر عمر سلطان نے اس کے ناز نخرے اس قدر اٹھائے تھے کہ وہ ڈرتی تھی۔
فیکٹری میں جگہ جگہ میٹیریئل اور لکڑیاں بکھری پڑی تھیں جیسے سالوں پہلے کنسٹرکشن کا کام روکا ہو اور پھر کرنا بھول گئے ہوں۔ وہ سیڑھیاں جڑھتی جب اوپر پہنچی تب تک اس کی سانس پھول چکی تھی اور جو اس نے دیکھا اس کی ٹانگیں کانپنے لگی۔ سامنے ہی بجری کی ڈھیر کے پاس کوئی کراہ رہا تھا اور اس کے اردگرد خون ہی خون تھا۔ وہ بمشکل گرتی پڑتی اس کے پاس پہنچی تو دیکھا وہ خون میں لت پت شخص ارحم تھا۔ اس کے منہ سے چیخیں نکلی تھی اور آنکھیں خیرت و بےیقینی سے پھٹ گئی تھیں۔
” حیییییییییییی حیا “ ارحم مرا نہیں تھا وہ ہوش میں تھا۔ اس نے حیا کو پکارا تھا۔ حیا ہونٹوں پر زبان پھیرتی گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گئی۔ وہ تکلیف میں تھا اور اس کی تکلیف دیکھ کر وہ شدت سے رو دی تھی۔
” تمہیں کچھ نہیں ہو گا ارحم۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہو گا “ وہ روتے ہوئے بمشکل بولی تھی اور پھر اس کے پیٹ میں اندر تک اترے خنجر کو نکالنے کی کوشش کرنے لگی۔ ارحم درد سے کراہ رہا تھا کہ خنجر بہت اندر تک بڑی بےدردی سے مارا گیا تھا جسے وہ نازک کی لڑکی نکال نہیں پا رہی تھی۔
” مممم مجججج مجھے ججججججانا ہہہہہہہہہہہہوووووو ہو گا۔ دددددددد دور رررر رہنا آآآآآآ “ تمام الفاظ ادھورے رہ گئے ، چیتاونی ادھوری رہ گئی اور ارحم چلا گیا۔ سانسیں ختم ہو گئیں اور سر ایک طرف کو ڈھلک گیا۔
” ارحمممممممممم “ ایک جھٹکے سے وہ اس کے پیٹ سے خنجر نکالنے میں کامیاب ہو گئی تھی لیکن ارحم جا چکا تھا۔ حیا کی چیخیں پوری بلڈنگ میں گونجنے لگیں اور اسی وقت سیڑھیوں سے بہت سے لوگوں کے قدموں کی آواز آئی اور پھر حیا نے دیکھا وہ بہت سے باوردی پولیس والے تھے۔ اس نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولنا چاہا تھا کہ کسی آفیسر نے اسے اریسٹ کرنے کا حکم سنایا۔ اس کی آنکھوں میں بےیقینی سی ابھری۔ خون آلود خنجر اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے کپڑوں پر خون لگ چکا تھا اور اس کی گاڑی نیچے کھڑی تھی۔
اتنے دنوں بعد ارحم کا فون آج آن ہوا تھا اور لوکیشن ملتے ہی پولیس گمشدہ ارحم کو ڈھونڈنے نکلی تھی لیکن اب مردہ ارحم ملا تھا اور قاتلہ حیا جہانگیر ملی تھی۔
اسے اریسٹ کر دیا گیا۔ ارحم کے فون میں مرنے سے پہلے آخری کال بھی حیا کی تھی۔ ہر طرح سے حیا پھنس چکی تھی۔ کیس عدالت میں چلا اور قریب تھا کہ کیس کا فیصلہ آر یا پار آ جاتا شائستہ بیگم نے صلح کر لی اس شرط پر کہ ہائثم اور اس کا نکاخ ہو گا اور پھر نکاح ہو بھی گیا۔ زندگی ایک دم بدل گئی۔ اسے حوالات سے نکال کر ایک اور جیل میں لا کر پٹخ دیا گیا۔
اس کی ماضی کا یہ قصہ اتنا بھیانک تھا کہ وہ جب بھی سوچتی تھی خوف سے کانپ جاتی تھی اور آج بھی کشمالہ کی موت کے خیال سے شروع ہوتا ہر خیال جب میں ماضی میں گزرے اس واقعے کی طرف گیا تھا وہ رو پڑی تھی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
وہ صوفے پر سکڑی کانپنے لگی تھی کہ نظر گھڑی پر پڑی۔ دیا اور شائستہ بیگم ابھی تک نہیں لوٹی تھیں۔
وہ اٹھ کر باہر صحن میں چلی آئی تھی۔ کچھ دیر مزید گزری تو وہ کچن سے اپنے لیئے چائے بنا کر لے آئی۔ چائے بھی ختم ہو گئی مگر وہ دونوں نہیں آئی اور نہ ہی ہائثم کا کچھ پتہ تھا۔ وہ یوں ہی ادھر ادھر چلنے لگی۔
وہ بےچینی سے صحن میں چکر کاٹ رہی تھی۔ وقت تیزی سے گزرتا صبح سے دوپہر میں بدل گیا تھا۔ دیا کی صبح طبیعت خراب تھی تو شائستہ بیگم اسے ہسپتال لے گئی تھیں اور ابھی تک وہ دونوں واپس نہیں آئی تھیں۔ حیا کو دونوں کی فکر ہونے لگی تھی۔ اس نے تخت پر پڑا اپنا دوپٹہ اٹھا کر ڈالا اور گیٹ سے باہر نکل آئی۔ ابھی وہ گیٹ کو تالا ہی لگا رہی تھی کہ شائستہ بیگم اور دیا گلی کے نکڑ سے آتی اسے نظر آئیں۔ اس نے سکون کا سانس لیا اور دروازہ کھول کر واپس اندر چلی آئی۔
دو منٹ بعد شائستہ بیگم اور دیا اندر آئیں تو دونوں کے چہرے دمک رہے تھے اور شائستہ بیگم کے ہاتھ میں مٹھائی کا ٹوکرا بھی تھا۔
” کہاں رہ گئی تھی دیا! میں پریشان ہو گئی تھی۔ سب خیریت ہے ناں “
” منحوسوں کے کلیجے میں تو آگ لگے گی جب پتہ لگے گا کہ میرے گھر خوشی آنے والی ہے۔ خیر سے دیا مجھے دادی بنانے والی ہے “ ان کا انداذ اور لہجہ تپا دینے والا تھا۔ دیا نے گھبرا کر حیا کے چہرے کی طرف دیکھا کہ اب اس کا ردِعمل کیا ہو گا۔
” دیا پھپھو کیا کہہ رہی ہیں۔ سچ میں تم ماں بننے والی ہو “ حیا نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا تو کنفیوز سی دیا نے اثبات میں سر ہلایا۔ شائستہ بیگم حیا کی کیفیات دیکھنے کے لیئے مزے سے کھڑی تھیں۔
” اوہ مائے گاڈ! یہ تو بہت بڑی خوش خبری ہے اور آپ نے مٹھائی سجانے کو لائی ہیں۔ مجھے دیجئیے میں بانٹتی ہوں “ اس کا چہرہ دیا اور شائستہ سے ذیادہ دمکنے لگا تھا۔ دیا اور حیا گلے لگ گئی تھیں۔ شائستہ بیگم نے حیرانی سے دونوں کو دیکھا کہ کیا سوتنیں ایسی بھی ہوتی ہیں۔
★★★★★★★★★★★
وہ اس وقت شاکلہ جھیل کے کنارے بیٹھا تھا چھوٹے چھوٹے کنکر پانی میں پھینک رہا تھا۔ دن ڈھل چکا تھا اور اب شام کی کرنیں شاکلہ کے پانی میں تیرتی نظر أ رہی تھیں۔ پاس ہی دوسرے پتھر پر کاشان بیٹھا بغور اس کے چہرے کو پڑھ رہا تھا جسے پڑھنا بڑا مشکل تھا۔ وہ عجیب انسان تھا محبت بھی انتہا کی کرتا تھا اور اس سے دور بھی رہنا چاہتا تھا۔ کاشان کو کبھی کبھی کوفت ہونے لگتی تھی اس سے اور کبھی خوف آنے لگتا تھا۔
” اگر تم اس سے محبت ہی کرتے ہو تو اسے حاصل کرنے کے لیئے اتنا انتظار کیوں ؟ “ کاشان نے پوچھا۔
” میں محبت کرتا ہوں اور زور زبردستی سے بڑا ڈرتا ہوں۔ میں بس انتظار کر رہا تھا کہ ایک دن مسکرا کر مجھے کہے لو آج سے میں تمہاری ہائثم نوید! اور اس نے کہا بھی لیکن اپنی قسمت ہی خراب ہے کہ محبت سے ملن کا وقت آیا تو کوئی دنیا سے بچھڑ گیا “ اسے افسوس تھا کشمالہ کی موت کا اور اس سے ذیادہ افسوس تھا اس دن کا جس کا وہ انتظار کر رہا تھا لیکن کشمالہ کی موت کے باعث وہ حیا سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ سنو حیا! کچھ کہا تھا تم نے۔ ایک وعدہ کیا تھا رشتے کو آگے بڑھانے کا۔
” تو اب بات کر لو ان سے یار۔ شوہر ہو تو شوہر بن جاؤ خود خق جتاتے نہیں اور کسی کو ان پر ظلم کرنے سے روکتے نہیں۔ ارے کیسے شوہر ہو تم یار “ کاشان اس کی لاجک سمجھنے سے قاصر تھا۔ جس کی محبت برسوں سے کاشان نے اس کی آنکھوں میں جلتی دیکھی تھی ، جسے پانے کی چاہ اس کی سب سے بڑی خواہش تھی اور اب ڈھائی سال سے وہ اس کے نکاح میں تھی لیکن قربتوں کے یہ سال اس نے بےوجہ گنوا دیئے تھے۔
” زندگی دو چار دن کا کھیل نہیں ہے کاشان کہ میں شوہر بن کر رعب سے اپنے خقوق اس سے وصول کروں۔ زندگی تو عمر بھر کا کھیل ہے پیارے اور اس کھیل کو جیتنے کے لیئے محبت بڑی ضروری ہے اور محبت نہ سہی تو دلی رضامندی۔ وہ راضی ہو گی تو رشتہ آگے بڑھے گا ورنہ زور زبردستی سے اس کے دل میں موجود اپنے لیئے عزت بھی کھو دوں گا۔ بہت محبت کرتا ہوں میں اس سے اگر اس کے دل میں عزت بھی نہ رہی میرے لیئے تو میں تو کھڑے کھڑے ہی مر جاؤں گا یار۔ یہ دو سال اس سے بےرخی کیسے برتی یہ میں ہی جانتا ہوں “ وہ کیسے سمجھاتا کہ زبردستی رشتہ جوڑ بیٹھا تھا دل کیسے جوڑتا اب۔
” عمر سلطان پھر امیدوار بن کر آ گیا اس کا تو۔۔۔۔ “
” جان لے لوں گا میں اس کی۔ جان لے لوں گا اپنی حیا نہیں دوں گا اب۔ بہت ہو گیا اس کا۔ کر لی ایک بہن سے اس نے شادی دوسری کے أس پاس بھی نہیں بھٹکنے دوں گا۔ اس شخص کی قسمت میں ہی دوش ہے کوئی بھی لڑکی اس کی زندگی میں شامل ہو برباد ہو جاتی ہے اور اپنی حیا کو برباد نہیں ہونے دوں گا میں “ اس کی بات کاٹتے وہ چیخا تھا اور اسی وقت اس کی جیب میں رکھا فون چنگھاڑا۔
” جلدی سے گھر آ جاؤ۔ خوشخبری ہے تمہارے لیئے “ دوسری طرف فون بر کھنکھناتی ہوئی آواز حیا کی تھی۔ بہت دنوں بعد اس کی آواز میں خوشی تھی۔ فون جیب میں رکھتا وہ مسکرایا اور کاشان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ گھر کی جانب بھاگا۔
دل میں کئی خوشفہمیوں نے جنم لیا۔ وہ مسکرا کر اسے بلا رہی تھی تو مطلب تھا اپنا رہی تھی۔
گلی عبور کرتا وہ گھر میں داخل ہوا تو صحن میں سب سے پہلا چہرہ جو دیکھا وہ اسی کا تھا۔ چہرے پر بہت جاندار مسکراہٹ تھی البتہ لباس وہی سفید تھا۔
ہائثم پر نظر پڑتے وہ مسکرائی تھی اور پھر میز پر رکھی مٹھائی کی پلیٹ اٹھا کر اس کے سامنے کی اور پورا لڈو اس کے منہ میں ٹھونس کر مسکرائی۔ ہائثم کی نگاہوں نے اس چہرے سے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا۔ دیا نے ہائثم کو اتنی محویت سے حیا کو تکتے پایا تو جانا کہ سب خوشخبریاں ایک حیا کی مسکراہٹ کے آگے پھیکی ہیں۔
” مبارک ہو میرا بچہ تو باپ بننے والا ہے “ شائستہ بیگم نے اس کا ماتھا چوم لیا تھا اور تب اس نے حیا سے نظریں ہٹا کر دیا کو دیکھا جو سر جھکا چکی تھی اور آنکھوں کی نمی کو چھپا چکی تھی۔
خبر بہت بڑی تھی اور اسے بلانے والی حیا تھی تو وہ کیونکر نہ خوش ہوتا وہ مسکرا دیا۔
شائستہ بیگم نے اسے پکڑ کر دیا کے برابر میں بٹھا دیا۔
” اب لگ رہی ہے ناں میرے بیٹی کی زندگی مکمل “۔۔۔۔۔
” نہیں ابھی بھی ادھوری ہے آپ کے بیٹے کی زندگی مامی جان اور وہ مکمل ہوتی ہے حیا کے کچھ رنگوں اور خوبصورت مسکراہٹ سے “ دیا نے حیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے ہائثم کے دوسری طرف بٹھا دیا تھا۔ شائستہ بیگم نے نخوت سے حیا کو دیکھا۔
ہائثم نے مسکرا کر دونوں کی طرف دیکھا اور پھر بازو پھیلا کر دونوں کو اپنے ساتھ لگایا اور جانا کہ اب زندگی دونوں کے بغیر ادھوری ہے اور یہ تکون ہی مکمل زندگی ہے۔۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔