No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
جنوری کی ایک نئی سرد صبح طلوع ہوئی تھی۔ بےحد ٹھنڈی اور پرکشش۔ شائستہ بیگم اپنے تخت پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ وہ شائستہ بیگم کو ناشتہ دینے کے بعد صحن سے جھاڑو لگا رہی تھی کہ جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے جھاڑو سائیڈ پر رکھا اور نلکے سے ہاتھ دھو کر سر پر باندھا دوپٹہ اتار کر مفلر کی طرح گلے میں لپیٹا اور دروازہ کھولا۔ سامنے کاشان کھڑا تھا اور اس کے چہرے کے تاثرات کچھ ایسے تھے جیسے کچھ کہنا چاہ رہا ہو کہہ نہ پا رہا ہو۔ دونوں ہاتھوں کو مسلسل ایک دوسرے میں مسلتے ہونٹ کاٹتے وہ کنفیوز تھا۔ حیا نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ایک لمبا سانس خارج کر کے خود کو پرسکون کیا اور پھر گویا ہوا۔
” عمر سلطان آپ سے ملنا چاہتا ہے “ اب کاشان سی حالت حیا کی ہوئی تھی۔ اسے اس بات پر حیرت نہیں ہوئی کہ کاشان عمر سلطان کی بات کر رہا ہے کیونکہ ارحم نوید قتل کیس دوران جو نہیں جانتا تھا وہ بھی حیا جہانگیر اور عمر سلطان کی محبت سے واقف ھو گیا تھا۔ اسے حیرت اس بات پر ہوئی کہ عمر سلطان تو کافی دن پہلے اس سے ٹکرایا تھا تو وہ ابھی تک یہیں کیوں تھا اور اگر تھا تو وہ کیونکر آیا ہوا تھا؟
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کاشان سے کیا پوچھے۔
” یاد ہے عمر سلطان آپ کو؟ “ اس کے تاثرات سے لگا جیسے وہ پوچھنے کو ہو کہ کون عمر سلطان۔
” آج یاد آ گیا ہے ورنہ کل تک بھولے بیٹھی تھی۔ تم بتاؤ وہ یہاں کیا کر رہا ہے اور کیوں ملنا چاہتا ہے وہ مجھ سے “ وہ خود کو سنبھال چکی تھی اور یہ بھی مان چکی تھی اس کی قسمت میں محبت نہیں لکھی گئی تھی تو لازم تھا وہ محبت پانے کو رسوا نہ ہو۔
” سِرن کے کنارے والی زمینیں خرید لی ہیں انہوں نے۔ ٹوریسٹ پوائنٹ بنانا چاہتے ہیں وہ یہاں۔ اس لیئے رکے ہوئے ہیں اور آپ سے کیوں ملنا چاہتے شاید یہ سوال پوچھنے والا نہیں ہے۔ شاکلہ کی جھیل پر وہ شام کو آپ کا انتظار کریں گے۔ اگر دل مانے تو آ کر مل لیجئے گا “ وہ کہہ کر جیسے آیا تھا ویسے ہی پلٹ گیا اور وہ وہیں دروازے میں کتنی ہی دیر کھڑی رہی جب شائستہ بیگم نے آواز کی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔ دروازہ بند کر کے وہ اندر آئی اور سیدھا کمرے میں گھس گئی۔ جھاڑو آدھے میں ہی رہ گیا تھا۔ شائستہ بیگم نے حیرانی سے اسے دیکھا کہ ان دو سالوں کے درمیان وہ ہر کام کو مکمل کرنے لگ گئی تھی تو بھلا آج کچھ ادھورا رہ گیا تھا تو مطلب کچھ ادھورا تھا جو پھر سے لوٹ آیا تھا۔
★★★★★★★★★★★
چمکتا سورج غروب ہوا تو چاند آسمان پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگانے لگا۔ ہائثم نوید کے گاؤں میں رات اتر رہی تھی اور اس اترتی رات میں کوئی تھا جو شاکلہ کے کنارے بیٹھا منتظر تھا کسی کا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ نہیں آئے گی۔ اس کی نگاہیں کبھی پانی تو کبھی شاکلہ کے اطراف میں سر سبز قطعوں پر جا ٹھہرتیں جو رات میں بھی بڑے خوبصورت لگ رہے تھے۔ شاکلہ کے کنارے لگے سن فلاورز خود کو حول میں بند کر چکے تھے۔
شام کا سرمئی اندھیرا سیاہ ہو چکا تھا لیکن وہ جس کا منتظر تھا اس نے آنا تھا اور نہ ہی وہ آئی۔ سردی کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا اور پتھر پر پرا اپنا جیکٹ اٹھا کر ایک کندھے پر ڈالا اور تھکے ماندے مسافر کی طرح واپس پلٹ گیا۔ اس کی چال می؟ واضح لڑکھڑاہٹ تھی۔ اس کی امیدیں ٹوٹ چکی تھی اور دل میں ارمانوں کا جنازہ پڑا تھا تو بھلا وہ کیسے شان سے اکڑ کر چل پاتا۔
وہ اپنے فام ہاؤس پر پہنچ چکا تھا جس کی تعمیر پچھلے ایک سال سے جاری تھی لیکن مکمل نہیں ہوئی تھی اور اب وہ اسے مکمل کروانے آیا تھا تو دراصل وہ حیا کی قریب ہر گھڑی قریب رہنے آیا تھا۔
یخ ہوا تلے کئی ایکڑ پر پھیلی زمینوں کے درمیان بہت خوبصورت سا فام ہاؤس ایستادہ تھا۔ زیرِ تعمیر وہ فام ہاؤس ابھی صرف ایک دو بندوں کے رہنے کے قابل تھا۔ وہ چھوٹا سا فام ہاؤس شاکلہ کے کناروں سے ذرا فاصلے پر تھا اور اس کے آگے لگی سفید باڑ سے نکلتا لکڑی کا پل شاکلہ کے درمیان تک جاتا تھا اور وہاں کھڑے ہو کر قدرت کے حسن کو دیکھا جا سکتا تھا۔
لکڑی کی باڑ پر چھوٹا سا دروازہ موجود تھا۔ ذرا آگے گھاس کے قطعے پر ِاک کار پارک تھی۔۔ سرخ کار۔ وہ سرخ جو حیا کا رنگ تھا۔
وہ باڑ کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور سیدھا کمرے میں چلا گیا۔ یہ کمرہ شاکلہ میں اس کی رہائش تھی۔ اس نے جیکٹ اتار کر اسٹینڈ پر ڈالا اور جوتے اتار کر بیڈ پر اوندھے منہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔ بند آنکھوں سے پانی کی لکیر نکل کر کنپٹی سے بہنے لگی۔ وہ اسی پوزیشن میں لیٹا تھا کہ پینٹ کی جیب میں رکھا موبائل فون زور سے چنگھاڑا۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ موبائل جیب سے نکالا۔ کشمالہ کالنگ لکھا آ رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے رگڑ کر چہرے کو صاف کیا اور آواز کو متوازن کرتے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا۔
” تم ابھی تک شاکلہ کی ہواؤں میں ناکام محبت کی آہیں بھر رہے ہو “ دوسری طرف کشمالہ تھی۔ حیا جہانگیر کی بہن کشمالہ جہانگیر اور اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ شدید غصے میں ہے۔
” کشمالہ میرا بزنس پروجیکٹ ہے یہاں اسی کو مکمل کرنے آیا ہوں “ عمر سلطان کا لہجہ بھی مظبوط ہو چکا تھا۔ کچھ دیر پہلے والا ٹوٹا پھوٹا عمر سلطان کہیں چھپ گیا تھا۔
” عمر سلطان تمہیں حیا جہانگیر اب نہیں مل سکتی۔ کیوں اپنی زندگی برباد کر رہے ہو۔ بھول جاؤ اسے۔ تمہارے وہاں ہونے سے وہ بھی ڈسٹرب ہو گی۔ تم واپس آ جاؤ۔ پروجیکٹ کو یہاں سے بھی ہینڈل کر سکتے ہو تم “ کشمالہ تھوڑی نرم پڑی تھی۔
” میں یہاں حیا جہانگیر سے ملنے آیا ہوں نہ حیا جہانگیر کے لیئے آہیں بھر رہا ہوں اور جہاں تک پروجکٹ کی بات ہے تو یہ تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ میں کیا کروں یا نہ کروں۔ تم اپنے کام سے کام رکھو “ وہ فون بند کر چکا تھا۔ وہ کشمالہ کے ہر وقت کے لیکچر سن سکتا تھا نہ ہی ان لیکچرز سے اس کے دل میں موجود حیا کے لیئے دیوانگی کم ہو سکتی تھی سو بہتر تھا وہ کچھ کہتا اور نہ سنتا۔
کال ڈسکنکٹ ہو چکی تھی اور اب وال پیپر پر حیا جہانگیر کی تصویر نمایاں تھی۔ سرخ ہیئر بنیڈ سر پر باندھے لال گلاب کو ناک کے قریب کر کے سونگھتے اس کی تصویر اتنی دلکش تھی کہ اس کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگیں کہ وہ جتنی بھی دلکش تھی اس کی تو نہیں تھی اور یہ بات اسے حدرجہ رلاتی تھی۔
★★★★★★★★★★★
آج جمعرات تھی اور ہر جمعرات نوید ہاؤس میں شام کو کچھ نہ کچھ ایسا بنتا تھا جس پر دعا کر کے اسے محلے میں بانٹا جاتا تھا۔ حیا نے آج حلوہ بنایا تھا جسے بانٹنے وہ اب گھر سے باہر نکلی تھی اور اب سارے محلے میں دینے کے بعد وہ کاشان کے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ کاشان کے گھر میں کاشان کے علاوہ اس کی ایک چھوٹی بہن اور ماں تھیں۔ اس نے حلوے کے پلیٹ کاشان کی ماں کو پکڑائی جب کاشان نے اس کے ہاتھ میں فون لا کر تھما دیا۔ حیا نے بدک کر کاشان کو دیکھا۔
” میرے پاس عمر سلطان کا کوئی پیغام لے کر مت آؤ کاشان! نہ میں اس سے ملنا چاہتی ہوں اور نہ ہی بات کرنا چاہتی ہوں “ حیا نے غصے سے کہہ کر فون کاشان کی طرف بڑھایا تھا۔
” کال پر ہائثم ہے بھابھی! “ کاشان نے اپنے بالوں میں انگلیاں پھیریں کہ ہائثم سن چکا تھا اور اب اسے بخشنے والا نہیں تھا۔ حیا نے ایک نظر فون کی سکرین کو دیکھا جہاں ” haism calling” لکھا آ رہا تھا۔ اس نے ایک تیز نظر کاشان پر ڈالی اور سائیڈ پر ہو کر فون کان سے لگایا۔
” کیسی ہیں آپ “ دوسری طرف موجود شخص کی آواز میں زمانوں کا درد تھا۔ حیا بےچین ہو کر رہ گئی۔
” ٹھیک ہو “ مختصر سا جواب دیا۔
” ماں نے میری شادی کی تاریخ طے کر دی؟ “ وہ پوچھ رہا تھا یا اپنی اذیت بیان کر رہا تھا۔
” ہاں تمہیں پتہ ہے دیا بہت خوش ہے۔ وہ تم سے بہت مخبت کرتی ہے “
” تم ماں کے ساتھ دیکھ لینا جس جس شے کی ضرورت ہو۔ میں پیسے بھجوا دوں گا “ وہ کہنا تو چاہتا تھا کہ میں خوش نہیں ہوں حیا اور میں تم سے محبت کرتا ہوں لیکن وہ کہہ نہیں پایا تھا۔
” تم کب آ رہے ہو؟ “
” چھٹی کے لیئے درخواست دی ہے۔ جلد آؤں گا “ ہائثم نے کہا۔
” اچھا چلو ٹھیک ہے میں چلتی ہوں۔ پھپھو انتظار کر رہی ہوں گی “ اس نے کہہ کر فون کاٹنا چاہا تھا کہ ہایثم گویا ہوا۔
” عمر سلطان ابھی تک وہی ہے “
” مجھے نہیں پتہ “
” جس سے محبت ہوتی ہے اس کا پتہ ہوتا ہے پھر وہ کہاں ہے “ ہائثم نے کہا۔
” میرے اندر تو ہر جذبہ اس دن اپنی موت آپ مر گیا جب مجھے بتایا گیا کہ میں نے ایک شخص کو مارا ہے اور اس شخص کی موت کے لیئے نوید ہاؤس جب مجھے عمر قید سنائی گئی تو محبت کے ساتھ ہر جذبہ اس دن مر گیا اور وہ سارے نام بھول گئے جن سے محبت تھی “ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اذیت بیان کرنے لگی تھی۔
” محبت اپنا انتقام تو لیتی ہے نا حیا “ وہ طنزاً گویا ہوا کہ تم نے محبت کو مارا تھا تو لازم تھا محبت بھی تمہارے لیئے مر جاتی۔
” میں نے ارحم نوید کو نہیں مارا۔ کتنی بار بتاؤں تمہیں “ وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔
” مجھے تمہارے کہے پر یقین آ جائے لیکن پھر سوچتا ہوں اور کون ہے جو میرے بھائی کو مار دے کہ اس نے تو فقط تم سے محبت کی تھی “ وہ ان دو سالوں سے خود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ حیا نے غصے سے فون بند کیا اور کاشان کو پکڑاتے بنا حلوے کے برتن واپس لیئے تیز تیز وہاں سے نکلتی چلی گئی اور پیچھے سے کاشان کی ماں آوازیں کرتی رہ گئی۔۔
★★★★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔
