Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Last Episode)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

صفوان اس بعد بات کرتا تو رسمی سی۔آیت کو بہت برا لگ رہا تھا اسے اگنور کرنا۔وہ اب بھی اسے اگنور کرتا تھا۔۔ابھی آیت یونی میں اسے ڈھونڈ رہی تھی کہ سامنے اس نے صفوان کو دیکھا جو شاید اسی لڑکی سے بات کررہا تھا۔اور ہنس بھی رہا جس کو اس نے اس دن بچایا تھا۔۔۔

“یہ لڑکی تو صفوان کے ساتھ چپک ہی گئی ہے۔اور صفوان کو دیکھو کیسے مجھے اگنور کررہا ہے اور اس کے ساتھ گھوم رہا ہے۔بڑے محبت کے دعوے کررہا ہے یہ ہے اس کی محبت۔”وہ بس کڑھ ہی رہی تھی۔اس کا دل کررہا تھا کہ اسے زندہ نہ چھوڑے۔وہ بھاگ کے صفوان تک آئی۔۔

“صفوان گھر چلیں۔”وہ اس لڑکی کو اگنور کرتی بولی۔۔۔

“نہیں یار میں ان کے ساتھ کافی پینے جارہا ہوں۔ہاں میں تو نام بتانا ہی بھول گیا۔ان کا نام ہے اقراء۔اور اقراء یہ میری کزن آیت۔”صفوان بامشکل اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا۔آیت بس جل رہی تھی اس کا رنگ لال ہورہا تھا۔آیت اقراء کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچا چبا جائے گی۔۔۔

“کزن اور منگیتر بھی۔”اس نے دانت پیس کے کہا۔۔

“ارے ہم جارہے ہیں کیفے۔تم ہمیں جوائن کرو گی۔”صفوان نے اسے آفر کی۔۔

“نہیں تم ہی جاؤ شوق سے میرے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں۔”وہ غصے سے بولی۔۔۔۔

“اچھا جیسی تمہاری مرضی۔”صفوان نے کندھے اچکائے۔۔

“چلیں ہم صفوان۔”اس نے صفوان کے بازو پہ ہاتھ رکھا تو آیت نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔۔۔

“ویسے آپ کو دوسروں کے منگیتر کے ساتھ زیادہ فری ہونا سوٹ نہیں کرتا۔”آیت نے اسے گھورتے اس کا ہاتھ صفوان کے بازو سے ہٹاتے ہوئے بولی۔۔۔

“ویسے میڈم آپکے فیانسی نے خود مجھے کافی کی آفر کی تھی اور میرے ساتھ فری ہورہے تھے۔ویسے بھی ہم فرینڈز ہیں۔کیوں صفوان۔”اس نے صفوان کی طرف دیکھتے ہوئےکہا۔۔۔۔۔

آیت کی آنکھیں میں نمی اتری۔اس نے صفوان کی طرف دیکھا اور غصے سے پیر پٹختی چلی گئی۔۔

“تھینکس سسٹر آپ نے میری کافی ہیلپ کی ہے۔”صفوان نے آیت کو جیلس کرنے کے لیے اسے ایسا کرنے کو کہا تھا۔

“کوئی بات نہیں آپ نےمیری ہیلپ کی تھی میں آپ کی فیانسی کو منانے میں آپ کی مدد کررہی ہوں۔ویسے وہ بہت پیاری ہیں۔”اس نے آیت کی تعریف کی

“وہ تو ہے میری آیت بہت حسین ہے۔ویسے تھینکس ونس ایگین” ۔صفوان مسکراتا شکریہ ادا کرتا چلا گیا۔اس لڑکی کو آیت پہ رشک آرہاتھا کہ صفوان اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔

“تمہارا بھائی ایک نمبرچکا چھچھورا ہے۔اسے ذرا تمیز نہیں ہے۔اپنی ہونے والی بیوی کے سامنے کسی او لڑکی سے فلرٹ کررہا تھا۔شرم نہیں آتی ہے اسے۔”آیت یونی سے آنےکے بعد کافی آگ بگولہ ہورہی تھی۔شانزے جو صوفے پہ بیٹھی بیزاری سے اسکی باتیں سن رہی تھی۔آیت جلے پیر کی بلی کےمانند پورے کمرے میں چکرا رہی تھی۔اسے بہت غصہ آرہا تھا صفوان پہ۔اور اس لڑکی پہ بھی۔اس کے سامنے بار بار دونوں آرہے تھے۔۔۔

“یار تو تم کون سا بھائی سے محبت کرتی ہو۔جو اتنا جل بھن رہی ہو۔وہ کسی لڑکی سے بات کریں یا ڈیٹ تمھیں کیا۔تمھیں تو وہ پسند نہیں تھے تو پھر اب کیا۔”شانزے نے لاپرواہی سے کہا۔

“یار نہیں ہوتا مجھ سے برداشت۔”وہ جھنجھلا کے بولی۔

“لیکن کیوں۔”،،،،،

“کیونکہ محبت کرنے لگی ہوں میں اس سے۔نہیں دیکھ سکتی میں اسے کسی اور کے ساتھ۔”آیت نے سب قبول کرہی لیا۔سب۔شانزےکے چہرے پہ اس کی بات سن کے جاندار مسکراہٹ آئی۔۔۔

یہ بات باہرکھڑے صفوان نے بھی سن لی تھی۔اس کا دل کررہا تھا کہ وہ ناچے۔اس کےدل میں لڈو پھوٹنے لگے۔بس اب اس سے قبول کروانا باقی تھا۔۔۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“بھائی آگئی شروع کیجیے اور ایکٹنگ تھوڑی کم کیجیے گا اوکے۔”احسن بھاگتا بھاگتا آیا۔آیت اسی طرف آرہی تھی۔اس نے شایان کو ہدایت جاری کی اور دونوں نے ایسی شکلیں بنائیں جیسے کوئی بڑا حادثہ ہوگیا ہو۔۔۔

“کیا ۔لیکن تم نے صفوان کو کڈنیپ کیوں کیا ہے۔جتنے پیسے چاہیے بس میرے بھائی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔”وہ زور زور سے فون پہ بات کرنے لگا۔آیت جو اسے کھانے پہ بلانے آئی تھی۔وہیں تھم گئی۔اسے لگا کسی نے اس کی روح کھنچ لی ہو۔وہ ایک دم دروازہ کھولتی اندر آئی۔اسے حواس باختہ دیکھ احسن اورشایان سمجھ گئے وہ کامیاب ہوچکے ہیں۔۔

“بھائی کیا ہوا صفوان کو۔احسن تم ہی بتادو ہلیز۔کیا ہوآ۔کس نے کڈنیپ کیا ہے اسے۔”وہ آتے ہی سوال پہ سوال کرنے لگی۔اس کے چہرے سے بےچینی واضح چھلک رہی تھی۔۔شایان دھیما سا مسکرایا لیکن پھرسنجیدگی چہرے پہ طاری کرلی۔فون بند کرنے کے بعد شایان بولا۔۔۔۔

“آیت تم نے سب سن لیا۔”شایان نے ایکٹنگ کرنے ہوئے کہا۔۔

“بھائی کچھ بتائیں نا۔کہاں ہے صفوان۔”اس نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔

“آیت صفوان کا کڈنیپ ہوگیا ہے اور ان لوگوں نے پچاس لاکھ مانگے ہیں۔اور یہ بات گھر میں کسی کو بھی نہیں معلوم ہے۔پلیز کسی کو مت بتانا۔سب پریشان ہوجائیں گے۔اور یہ نہ ہو پولیس کو انووال کرلیں گے اسے خطرہ ہے۔”شایان نے مصنوعی پریشانی سے کہا۔۔۔

“میں کسی کو نہیں بتاؤں گی آپ مجھے بھی ساتھ لے چلیے۔”اس نے روتے ہوئے کہا۔۔

“پر۔”شایاں ہچکچایا۔

“پر ور کچھ نہیں۔”آیت نے کہا۔۔۔

“اچھا ٹھیک ہے۔”شایان نے ہاں کہہ دی آیت باہر نکل گئی۔شایان اور احسن کو اپنا پلان کامیاب ہوتا نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔

“شایان بھائی کونسی جگہ بلایا ہے کڈنیپرز نے۔”آیت شایان اور احسن گاڑی میں بیٹھ گئے۔آیت نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھا۔وہ تینوں گھر والوں سے چھپ کے جارہے تھے۔سب کے سونے کا ویٹ کررہے تھے۔۔۔

“پتا نہیں آیت ایک کھنڈر سی جگہ ہے۔بس دعا کرو کے صفوان کو کچھ نہ ہو۔”احسن بولا۔۔۔

“کچھ نہیں ہوگا صفوان کو۔میرا صفوان بلکل ٹھیک ہوگا۔”آیت نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

شایان اور احسن اسکی بات پہ مسکرانے لگے۔وہ مطلوبہ جگہ پہ پہنچے جہاں بہت اندھیرا تھا۔کافی سنسان جگہ تھی۔۔

آیت احسن اورشایان اترے کے اچانک ان کے سامنے ایک ماسک والا شخص نمودار ہوا۔۔وہ ان تک آیا۔۔

“پیسے لائے ہو۔”،،،،،،

“ہاں لیکن پہلے صفوان کو بھیجو۔”آیت نے شایان کے بولنے سے پہلے ہی دھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔

“بھیجو اسے۔”کڈنیپر نے اونچی آواز سے کہا۔صفوان سامنے آیا۔کافی بری حالت میں تھا۔آیت اسے ایسے دیکھ کے رونے لگی۔۔۔

اس کڈنیپر نے صفوان کے سر پہ گن رکھ دیا۔۔۔

“اے چھوڑو صفوان کو۔پیسے لائے تو ہیں۔”آیت غصے سے بولی۔

“ارے پیسوں کی کسے ضرورت ہے ملکوں کےبچوں کو یہاں بلانا مقصد تھا۔جو پورا ہوا۔پکڑو سب کو۔”کچھ لوگوں نے آیت احسن آور شایان کو پکڑ لیا۔سب کے سر پہ گن تان لی۔وہ انسان زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔۔

“اب سب مریں گے۔”اس نے بھاری آواز میں کہا لیکن آیت کو اسکی آواز جانی پہچانی لگی۔۔سب نے ٹریگر پہ انگلی رکھ دی۔سامنے کھڑا صفوان آیت کی تکلیف دیکھ سکتا تھا۔اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔۔۔

“شوٹ کرو۔”اس نے کہا۔اس پہلے وہ شوٹ کرتا آیت بولی۔۔۔

“صفوان مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ہم مرنے والے ہیں لیکن مرنے سے پہلے میں تم سے اپنی محبت کا آظہار کرنا چاہتی ہوں۔صفوان میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔”آیت نے زور زور سےصفوان کو کو دیکھ کر محبت کا اظہار کیا۔وہاں کھڑے سب مسکرائے۔سب کڈنیپرز نے تالیاں بجائی اور انھیں چھوڑ دیا۔سب ہنسنے لگے۔آیت کو عجیب لگا۔جب سب نے ماسک اتارے ۔اس کے پیچھے رافع تھا اور اس کے کچھ دوست۔آیت نے سب کو غصے سے دیکھا تو اب نے کان پکڑ کے سوری بولا اور ان دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔آیت صفوان کو دیکھ رہی تھی۔جیسے کھا جائے گی۔صفوان سینے پہ بازو لپیٹے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اس کی نظروں میں دنیا جہاں کی محبت تھی۔۔۔

آیت اس تک گئی اور اسے مارنے لگی۔۔۔

“او تو یہ تمہارے کام۔کتنا ڈرگئی تھی میں پتا ہے تمھیں۔شرم نہیں آئی ایسا کرتے ہوئے بھی۔”آیت اسے مارتی روتی ہوئی بولی۔صفوان ہنستے ہوئے مار کھا رہا تھا۔۔۔

“ہاں تو تم ضدی نمبر ون تم سے اظہار بھی تو کروانا تھا۔”،،،

“ہاں جھوٹ بول کے۔تم نہیں پتا میری کیا حالت ہورہی تھی۔یہ سوچ سوچ کے کہیں تمہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا۔”وہ سسکتے ہوئے تو صفوان نے اس کے آنسو صاف کیے۔۔

“کچھ ہوا ۔ نہیں نا۔چلو کوئی بات نہیں اب تم نے بھی اظہار کرلیا ہے تو۔۔۔

“Will you marry me.”

صفوان ایک گھٹنے کے بل بیٹھتا پرپوز کررہا تھا۔آیت نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھمادیا اور ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

“Yes I’ll.”..

آخرکار آیت مان ہی گئی۔اس نے اپنی محبت کا اظہار کرہی لیا۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

دو مہینے بعد۔۔۔۔۔

آیت اس وقت لال رنگ کے جوڑے میں بیڈ پہ بیٹھی صفوان کا انتظار کررہی تھی۔آج ان کی شادی تھی۔اور آیت اپنا سب کچھ صفوان کے حوالے کرچکی تھی۔وہ شرماتی اس کا انتظار کررہی تھی۔۔

باہر سے قدموں کی بھاری آواز آئی تو اسے ٹھنڈے پیسنے آرہے تھے۔آج اسے بہت ڈرلگ رہا تھا۔۔۔صفوان اندر آیا دروازہ بندکرکے شیروانی اتاری اور بیڈ پہ بیٹھ کے اسے نہارنے لگا۔وہ کیل کانٹوں سے لیس اس کی جان لینے پہ تلی تھی۔۔۔

“آج تمہیں دیکھ کے پتا ہے کیا لگ رہا ہے۔”اس نے آیت کا اپنے ہاتھوں میں لیتے ہی اپنے ہونٹوں سےلگایا۔۔۔

“کیا لگتا ہے۔”ایت نے مسکراتے پوچھا اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنے لگی لیکن گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔

“جیسے کسی چڑیل کو لال جوڑا پہنا دیا گیا۔لیکن شکل اس کی بدلی نہ وہ پھر بھی چڑیل ہی لگتی ہو۔”اس نے ہنسنی دبانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور اس کا قہقہہ چھوٹا۔آیت کو منہ کھل گیا اور اس کی کمر پہ تھپڑ رسید کیا اور غصے سے بولی۔۔۔

“او تم ڈیکولا لگ رہے تھے اس کالی شیروانی میں۔کریلے تو ہو ہی کڑوا تو بولو گے۔”آیت کا دل کررہا تھآ کہ اسے مار دے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *