Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 04)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

.کیا صفوان کی آج پٹائی ہوئی۔”شانزے احسن ملائکہ اور ہما شام کو باہر لون میں بیٹھے تھے۔جب ملائکہ نے احسن کو آج کا واقعہ بتایا۔وہ حیران ہوگیا۔۔

“ہاں کیوں یقین نہیں آرہا کیا؟”آیت چپس کھاتی باہر آئی اور احسن اور باقی لڑکیوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔

“تم نے کیا نہ یہ سب؟”احسن اسی شکی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔

“ہاں تو اور کیا اس نے جھوٹ بولا تھا تو اس کا بدلہ تو بنتا تھا۔”وہ لاپرواہی سے بولی۔۔۔

“ویسے احسن بھائی آپ کو پتا ہے صفوان بھائی کو دادی کی لاٹھی اور امی کے جوتے بھی پڑے تھے،”ملائکہ احسن کو اس کے دوست کی پھینٹی کے بارے میں بتانے لگی۔۔۔

“ہیں ہاہاہاہاہاہاہاہا،”احسن زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔

“تو ہنس لے۔ بیٹا جتنا ہنسنا ہے ہنس لے۔”اوپر بالکنی میں کھڑا صفوان کڑھ رہا تھا اور اسے ہنسنتے دیکھ اسے لگ رہا تھا کہ وہ آیت اور اس کا گلا دبا دے۔۔۔۔

“ویسے آیت آپی آپ نے بلکل بالی وڈڈ کی فلموں ک طرح پانسہ پلٹا ہے۔کیسے بھائی کو پھنسایا ہے۔بچارے اب ایک ہفتے دھوبی کا کام سرانجام دیں گے۔”بالی ووڈ کی دیوانی ہما پاس بیٹھی تھی۔وہ جھٹ سے بولی۔۔۔

“ویسے تم نے اچھا نہیں کیا بھائی کے ساتھ۔”شانزے ابھی بھی منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔۔

“او بھائی کی چمچی۔تمہارے بھائی نے بھی اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔میں تو صرف بدلہ لے رہی تھی۔

Tit for tat”آیت بولی۔۔۔۔۔

“صیح بات ہے ویسے ۔بھی شانزے تمہارا بھائی کسی کام کا نہیں ہے۔”احسن جانتا تھا کہ شانزے کو اپنی بھائی کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں۔اس لیے وہ صفوان کو بار بار برا بھلا کہہ کے اسے تنگ کرتا تھا۔۔۔۔

“ویسے احسن کام کے تم بھی نہیں ہو۔فضول ہی دنیا پہ بوجھ بنے ہوئے ہو۔”شانزے احسن کو طعنہ مارنے لگی۔۔۔۔

“احسن کی ستھری ہوگئی۔ہاہاہاہاہاہاہا۔”احسن کی مختلف شکلیں دیکھ کے آیت ہنسنے لگی۔۔

“دانت اندر رکھو تم بل بتوڑی۔اور تم شانزے دی مسوٹ فالتو گرل آف دس ورلڈ اپنی چونچ بند رکھو۔جب دیکھو اپنے ٹھنڈے جوک سے پکاتی رہتی ہو۔تمہارے جوکس اتنے ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی بھی فریز ہوجائے۔”احسن اسے گھور رہا تھا۔اس کی بات پہ شانزے کو شدید غصہ آیا۔

“اچھا تو احسن صاحب فاریہ کو آپ جانتے تو ہونگے۔میں تو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ لگتا ہے اب اس کا انٹرو تایا ابو اور تائی امی سے بھی کروانا پڑے گا۔”فاریہ احسن کی فرینڈ تھی۔لیکن اسے پتہ تھا کہ شانزے اس امی ابو کو یہی بتائے گی کہ وہ اس کی گرل فرینڈ ہے۔اور پھر گھر میں ایک اور جنگ ہوگی۔اور اس دفعہ صفوان کی جگہ وہ امی اور دادی سے جوتے کھا رہا ہوگا۔۔۔۔

“دیکھو شانزے خبردار جو تم نے اس بل بتوڑی کی طرح دادی یا کسی کو بھی اکسایا۔فاریہ صرف میری دوست ہے سمھجی تم۔”وہ انگلی اٹھا کے اسے وارن کرنے لگا۔۔۔

“ارے بھائی یہ فاریہ کون ہے۔ہوں ہوں۔”ملائکہ جانتی تھی کہ وہ اس کی فرینڈ ہے لیکن پھر بھی اسے تنگ کررہی تھی۔اور ہنسی دبانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔۔

“شالو تم تو یہ سب باتیں مت کرو نا۔”گھر میں ملائکہ کو سب شالو بولتے تھے۔احسن کے لہجے میں التجاء تھی۔۔

“اس کا مطلب فاریہ آپ کی گرل فرینڈ ہے۔یہ کیا ہوگیا؟؟یہ تو ہونا ہی تھا،”ہما حسب معمول بالی ووڈ کی ہیروئنز کی طرح ایکٹنگ کرنے لگی۔سوری سوری اور ایکٹنگ۔اور آخر میں گانا گانے لگی۔احسن کا دل دیوار سر پہ مارنے کو کررہا تھا۔۔۔

“ہما تم بھی۔یار وہ صرف میری فرینڈ ہے۔”احسن اسے بے یقینی سے دیکھنے لگا۔جو اسے بم پھوڑ کے مزے سے

کانوں پہ ہیڈ فونز لگائے گانا سننے لگی۔

“ہاں تو آلو وہ تمہاری فرینڈ ہے۔”آیت حسب عادت اس کا نام بگاڑ چکی تھی۔

“آیت۔”احسن نے آیت کو گھورا جس نے اسے دانت نکال کہ چڑایا اور اس نے کندھے اچکائے۔۔

“احسن فاریہ گرل ہے اور فرینڈ بھی۔تو ہوئی نا وہ تمہاری گرل فرینڈ ہیں کہ نہیں۔”آیت نے شانزے کو تالی دی تو ملائکہ سمیت دونوں زور زور سے ہنسنے لگیں۔

“اور یہ بات تمھیں پتا ہے۔ہمیں پتا ہے کہ وہ تمہاری گرل فرینڈ نہیں بلکہ فرینڈ ہے۔ پر یہ بات گھر والوں کو تھوڑی ہی پتا ہے۔”۔۔۔۔شانزے آنکھیں چھوٹی کرتی احسن کو شیطانی آیڈیا بتارہی تھی۔وہ منہ کھولے حیرانگی سے سب سن رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ صفوان کی طرح اس کی بات پہ بھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔اور اسے بھی امی چپل پڑیں گی۔

“اور ظاہر سی بات ہے آیت آپی اور شانزے آپی چنگاری لگائیں گی اور پھر گھر میں آتش فشاں پھٹے گا۔اور اس کی لیپٹ میں آئیں گے احسن بھائی۔پھر آپ گائیں گے۔

ہم روئیں گے اتنا :ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔۔

بہہ جائے گی یہ ناک ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔۔”

“ہما کانوں سے ہیڈ فون ہٹاتی۔مصروف سے انداز میں بولی۔جو ابھی بھی فون میں کوئی گیم کھیل رہی تھی۔ہما نے گانے کی تباہی کردی۔۔۔

“چھی ہما کتنی گندی ہو تم۔”ملائکہ نے عجیب سے شکل بنائی۔

“بس کردو آپی۔بلکل نانٹیز کی ہیروئن لگ رہی ہو۔ایک دم زہر۔”ہما نے ملائکہ سے لاپرواہ انداز میں کہا۔تو وہ کونسی کم تھی۔۔۔

“میں تو پھر بھی ہیروئن لگتی ہوں تم تو ولن بھی نہیں لگتی۔جل ککڑی۔”ملائکہ منہ پھلا کے بولی۔۔۔۔

“ارے تم دونوں لڑنا تو بند کرو۔ہاں تو میں کہاں تھی۔”شانزے نے دونوں کو ٹوکا۔۔

“وہ گرل فرینڈ۔”آیت نے شہادت کی انگلی کھڑی کرکے اسے یاد دہانی کروائی۔۔۔

“ہاں تو احسن صاحب عرف آلو صاحب اگر تم چاہتے ہوکے ہم دادی اور تایا ابو ؛تائی امی سے تمہیں جوتیاں نہ پڑوائیں۔تو ہم سے تمیز سے بات کیا کرو گے۔”شانزے نے ٹشن سے کہا۔،

“اور ہاں جب بھی ہم کہیں ہمیں آئسکریم کھانے جانا ہے تو ہمیں لے چلو گے۔”آیت نے ڈیمانڈ میں اضافہ کیا۔

“اور بھائی جب کہیں گے ہم سب کو شاپنگ پہ لے جائیں گے۔”ملائکہ بھی ایک ادا سے بولی۔۔۔

“ہما تمھیں بھی کچھ چاہیے۔تو تم بھی بلیک میل کردو۔”احسن ہما سے مخاطب ہوا۔وہ موبائل پہ گیم کھیلتے ہوئے بولی۔۔”obviously بھائی میں کروں گی بلیک میل۔”

احسن کا اس کی بات سن کے منہ کھل گیا۔وہ تو ہما سے کسی اور بات کی امید لگا کے بیٹھا تھا۔اس کی بات پہ سب کے منہ سے ہنسی کے فورے چھوٹے۔۔۔

“اب بول بھی دو نا۔کہ میرے بوڑھے ہونے کا انتظار کررہی ہو۔”احسن نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں جب جب تھیٹر میں کوئی مووی لگے گی۔ہم دیکھنے جائیں گے۔فرسٹ ڈے فرسٹ شو۔اور آپ ہم سب کو لیے کے جائیں گے۔”۔۔۔۔۔۔

“ہما تو نیٹ فلکس پہ دیکھ لو نا۔”احسن نے ایک پلین پیش کیا۔۔

“نو بھائی جو مزہ تھیٹر میں جاکے پاپ کورن اور کولڈ ڈرنک کے ساتھ مووی کام آتا ہے وہ نیٹ فلکس میں کہاں؟؟؟”،ہما نے اس کے پلین کی ایسی کی تیسی کردی۔۔۔

“ٹھیک ہے چڑیلو۔میرے پاس تم سب کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔کر لو جتنا ایموشنل بلیک میل کرنا ہے۔میرا بھی وقت آئے گا۔”اس کی بات پہ ساری لڑکیاں ہنستی ایک دوسرے کو تالی دینے لگیں۔یہی سب تو انھیں چاہیے تھا۔احسن رونے کی ایکٹنگ کرنے لگا تو ہما نے سٹائل سے ہاتھ سر کے پیچھے لے جاتے ہوئے بولی۔۔۔۔

“Pushpa I hate tears ra.”

اس کی بات پہ وہاں موجود سب نے قہقہے لگائے۔ اس گھر میں خوشیاں چہکتی ہیں۔جیسے ملک ولا کہتے تھے۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“ہاں یار کل اناٹمی آف فلورنگ پلانٹ کی پرزنٹشن ہے۔اور میں نے ابھی تک بک بھی نہیں کھولی ہے۔کل میم روبینہ پکا کلاس سے باہر کریں گی۔”ملائکہ آیت کے کمرے سے اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی اسے پڑھنا تھا۔وہ اپنی دوست صالحہ سے بات کررہی تھی۔اس کا دھیان ابھی صرف صالحہ کی باتوں پہ تھا۔۔

“تجھے لگتا ہے کہ میم روبنیہ جو ہم سے اتنی چڑتی ہیں جیسے ہم نے ان کا میک اپ چرا کے لگا لیا ہو۔ہمیں چھوڑیں گیں۔تیری خوش فہمی ہے۔”وہ اس سے بات کرتی کرتی جارہی تھی تو سامنے سے آتے ایک نفس سے ٹکرائی۔ٹکر اتنی زور کی تھی کہ اس سے اس کا فون گر گیا۔اس کے سر پہ بہت زور سے لگی۔۔۔

“ابے اندھ۔”جیسے ہی ماتھا سہلاتی سیدھی ہوئی وہ کچھ کہنے والی تھی کہ سامنے والے کو دیکھ کے اس کی زبان کو بریک لگی۔اسے لگا صفوان یا احسن ہوں گے۔ وہ ہی ایسے بے دھڑنگے انداز میں چلتے ہیں۔۔۔

پر سامنے تو امن بلیو تھری پیس میں؛کالے سلکی بال پہ ماتھے پہ بکھرے تھے جو عموما جیل سے سیٹ ہوتے ہیں۔ہلکی بیرڈ؛تیکھے نین نقوش چہرے پہ ازلی سنجیدگی سجائے اسے گھور رہا تھا۔وہ لیٹ آفس سے لوٹا تھا۔۔

ملائکہ تو ویسے ہی اس سے بہت ڈرتی تھی۔سامنے آجائے تو اس کی جان نکل جاتی تھی۔آج تو اس نے امن کے سامنے زبان کے تیور بھی دکھائے تھے۔۔

“ملائکہ دھیان کہاں تھا تمہارا۔دیکھ کے چلا کرو۔اگر سامنے میری جگہ سڑھیاں ہوتی ۔ہوش سے سے کام لیا کرو۔”وہ اپنی ازلی کھڑوس مزاج کی وجہ سے ملائکہ سے سخت لہجے میں بولا۔۔

ملائکہ کی تو اسکے سامنے زبان ہی جم جاتی تھی۔اس کی بات پہ اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا۔وہ سائڈ سے نکل کے جانے لگی تو امن نے اس کا راستہ روک لیا۔۔

امن نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔وہ جو سادھے سے پنک ٹرائوز اور ڈھیلی ڈھالی بلیک شرٹ میں ملبوس گلے میں دوپٹہ لٹک رہا تھا۔اس کے پرکشش نین نقش امن کو اپنا دیوانہ بنارہے تھے۔وہ تو اسے بڑی شوخ نظروں سے دیکھ رہا تھا لیکن ملائکہ کو لگ رہا تھا وہ اسے زندہ کھاجائے گا۔۔

“ایک کپ کافی لے کر میرے کمرے میں پہنچو۔ود ان ٹین منٹس۔”یہ کہہ کے وہ اپنی مغرور چال چلتا روم میں چلا گیا۔پیچھے تو ملائکہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑگئے۔وہ کیسے اس کےکمرے میں جائے۔

وہ کچن میں گئی کافی بناکے اس نے سب کو تلاش کیا کہ کسی کے ہاتھ بجوا دے لیکن سب بزی تھے۔اسے مجبورا جانا پڑا۔دروازہ بند تھا۔اس نے دستک دی۔اجازت ملتے ہی جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی تو دیکھا امن ابھی نہا کے نکلا تھا۔اس نے آرام دہ کپڑے پہن رکھے تھے۔ملائکہ کانپتی ٹیبل پہ کافی کی ٹرے رکھ کے بغیر کچھ بولے مڑکے جانے لگی تو امن نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ملائکہ تو ٹنشن میں آگئی۔اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کے نیچے تھی۔۔۔۔

امن نے اسے اپنی جانب کھنچا وہ سیدھی اس کے سینے سے آلگی۔امن نے زور سے اس کے گرد بازو لپیٹ لیے۔ملائکہ تو اس کا یہ روپ دیکھ کے حیران وپریشان تھی۔

“میں نے کہا جانے کے لیے۔نہیں نا توپھر۔”وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔

“ووو وہ مجھے پ پڑھنا ہے۔”اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔امن محسوس کرتے ہلکا سا مسکرایا۔ملائکہ کی بات پہ امن نے اس کی کمر پہ اپنی گرفت سخت کرلی۔۔ملائکہ کو لگا آج وہ اس کی کمر کی ہڈی ہی توڑ دے گا۔۔۔

“پہلے میں نے جو پوچھا اس کا جواب دو۔”امن اس کے گال کو آنگوٹھے سے سہلاتا الگ ہی موڈ میں لگ رہا تھا۔۔۔

“وہ وہ۔”ملائکہ کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔

“کیا وہ وہ! تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو۔جیسے میں تمھیں کھاجاؤں گی۔”وہ بہت آہستگی سے اس کے کان میں رس گھول رہا تھا۔۔۔

“ہہہہہں ہے ہی ڈیکولا۔مجھے لگتا ہے کسی دن میرا خون ہی نہ چوس جائے گا۔”وہ دل میں خود سے مخاطب تھی۔۔

“کیا سوچ رہی شالو۔”اس نے جھک کے اس کے کان میں سرگوشی کی۔شالو کہنے پہ اس کے دل کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔آج تک اسے اپنا نام شالو اتنا اچھا نہیں لگا جتنا آج اپنے امن کے منہ سے سننے میں لگا تھا۔۔۔اس کے چہرے پہ بےساختہ ہلکی سی مسکان آگئی۔

“وہ آ آپ کی کافی ٹھنڈی ہوگئی ہے۔”وہ اسے کافی کا ہوش دلانے لگی۔وہ مسکرایا۔اس اپنی شالو کی بات سمجھ آگئی۔۔

اس نے اسے چھوڑا۔جیسے ہی اس نے اسے آزاد کیا وہ کسی فرار قیدی کی طرح ایک سو بیس کی رفتار سے بھاگی۔امن اس کی حرکت پہ گہرا سا مسکرایا۔۔

“آج جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو۔آنا تو تمھیں اسی کمرے؛اسی دسترس میں ہے۔”وہ کافی کا کپ ہونٹوں سے لگاتا اس سے مخاطب تھا۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

دادو میں اندر آجاؤں۔”آیت نے دادو کے کمرے پہ نوک کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔دادو اپنی روکنگ چیئر پہ بیٹھے تھے۔دادی جو بیڈ پہ بیٹھی تسبیح کررہی تھیں آیت کے بولنے پر اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔۔

“آ نا پتر۔”دادو کے بولنے سے پہلے ہی دادی نے مسکراتے اندر آنے کو بولا۔وہ مسکراتی اندر آئی۔وہ کچھ اداس اداس سی لگی دادی کو۔وہ آئی اور دادی کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گئی۔۔

“کیا بات ہے پتر۔کیوں اداس ہے تو؟”وہ اس کی بالوں میں انگلیاں چلاتی پوچھنے لگیں۔دادو بھی اٹھ کے اس کے قریب آئے۔۔

“دادی مجھے پاپا کی بہت یاد آرہی ہے۔”وہ اپنے آنسوؤں پہ ضبط کرتی بولی۔۔

“کیوں بیٹا جی!ہم ہیں جب تو آپ کو پاپا کی کمی کیوں محسوس ہورہی ہے۔”دادا جی اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے بولے۔۔

“نہیں دادو آپ نے کبھی مجھے پاپا کی محسوس نہیں ہونے دی۔لیکن کبھی کبھی جب میں دوسروں کو اپنے پاپا کے ساتھ دیکھتی ہوں تو مجھے پاپا کی شدت سے کمی محسوس ہوتی ہے۔”وہ اداس تھی۔دادو مسکرائے اور آیت سے ،مخاطب ہوئے۔

“کیوں کسی نے کچھ کہا میری بیٹی کو؛صفوان سے جھگڑا ہوا ہے۔اس نے کچھ بولا ہے۔”دادو نے لاڈ سے کہا۔۔۔

“نہیں دادو پر۔مجھے اپنے پاپا کی یاد ہی نہیں ہے۔وہ کیسے تھے۔مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے۔”وہ اپنی تکلیف دادی دادو کو بیان کرنے لگی۔۔۔

“بیٹا آپ کے پاپا آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔وہ چلے گئے آج وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے تمہیں ایسے دیکھ بہت دکھی ہوں گے۔پلیز ایسے اداس مت ہو۔تم ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو۔”اس کے دادو اسے سمجھانے لگے ۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

“اچھا اب جلدی سے بڑی سے سمائل دے کے کولگیڈ کا اشتہار بن جاؤ۔”دادو نے شرارت سے کہا تو وہ ہنس دی۔دادی بھی دونوں کو دیکھ کے مسکرارہی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *