Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619 Tera Mera Piyar (Episode 07)
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode 07)
Tera Mera Piyar by Syeda Shah
کیا دادی!شادی مطلب دھوم دھڑکا۔”سب بڑوں کے باہرآنے کے بعد دادی نے شادی کی خوشخبری دی کہ اس مہینے کے آخر میں رخصتی ہے ہادیہ اور ملائکہ کی۔۔۔
جیسے ہی دادی نے بتایا تو آیت کو تو بس مستی دھوم کرنی ہے توشادی کا سن کے خوشی سے اچھل پڑی۔رخصتی کا سن کے ملائکہ کے تو پیسنے چھوٹ گئے تھے لیکن ہادیہ کے چہرے پہ لالی آئی تھی۔۔
“پر دادی اتنی بھی کیا جلدی ہے۔مطلب میری ڈگری ابھی کمپلیٹ نہیں ہے تو۔”ملائکہ نے بہانہ بنانے کی کوشش کی جو حسان صاحب نے ناکام بنادیا۔
“پر بیٹا کون سا تم دور جارہی ہو۔یہیں رہو گی اور پڑھائی تو شادی کے بعد بھی ہوتی رہی گی۔”حسان صاحب نے تحمل سے کہا۔ملائکہ کے چہرے پہ واضح دکھ تھا۔امن کو اس کی اداسی برداشت نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔
“ملائکہ کوئی نہیں یار۔اب نکاح جب ہو ہی چکا ہے تو رخصتی تو ہونی ہے۔اب تو اداس مت ہو۔کون سا تو دور جارہی ہے جو ایسا سڑا ہوا منہ بنارہی ہے۔اب زیادہ ڈارمے بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”شانزے کندھے اچکاتی اسے ڈانٹنے لگی۔ملائکہ نے اسے گھورا۔۔
“ہاں صیح تو کہہ رہی ہے شانزے۔ویسے بھی بہت ٹائم ہوگیا ہے گھر میں کسی فنگشن کو کتنا مزہ آئے گا۔”آیت ایکسائٹد ہورہی تھی۔آخر اس کے بھائی کی شادی جو تھی۔۔۔
“اب وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ۔تو صبح سے ہی پلینگ کرتے ہیں۔”احسن بھی کود پڑا۔۔۔
سب بڑے لاونج میں بیٹھے۔شادی کی تیاریوں کی دسکشن کررہے تھے۔ینگ پارٹی کے اپنے بحث ومباحثہ چل رہا تھا۔ہادیہ شایان کی نظروں سے شرمارہی تھی اور ملائکہ پریشان ہورہی تھی۔اور امن دنیا جہان کی محبت لیے اپنی محبوب بیوی کو نہار رہا تھا۔۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
“کیا ہوا ملائکہ تم منہ کیوں پھلا کے بیٹھی ہو۔”شادی کی تیاریاں عروج پہ تھیں۔ساری خواتین شاپنگ کرنے گئی تھیں صفوان کے ساتھ تو مطلب صفوان کی آج بینڈ بجنے والی تھی۔دلہنوں نے بعد میں جانا تھا۔ملائکہ آیت احسن اور شانزے یہ سب اکثر ساتھ پائے جاتے تھے تو دادی نے ان کا نام شیطانوں کا ٹولا٠١ رکھا تھا۔
سب ملائکہ کے کمرے میں بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے۔ملائکہ نے جب سے شادی کا سنا تھا پریشان سی ہوگئی تھی۔اس کا بنا ہوا منہ دیکھ کر آیت پوچھ بیٹھی۔۔
“ابے ڈارمے کررہی ہے۔شادی کے لیے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں۔”احسن دانتوں کی نمائش کرتا اسے چڑانے لگا۔۔۔
“تمہیں تو ہر چیز ہی ڈارمہ لگتی ہے تم خود جو اتنے بڑے ڈرامے باز جو ہو۔تمھیں کیا پتا گھر چھوڑنے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔”شانزے دکھی لہجے میں بولی۔احسن زور زور سے ہنسنے لگا۔۔
“اوے چڑیل کونسا یہ رخصت ہوکے دور جارہی ہے اسی گھر میں آئے گی واپس صرف کمرہ چینج ہورہا ہے سمپل۔”اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔
“ارے ہاں میں تو یہ بھول پی گئی تھی۔”شانزے اپنے سر پہ ہاتھ ماتی بولی تو احسن نے اس کے سر پہ انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
“ایک نمبر کی گدھی ہو۔”۔۔۔
“ارے آپ دونوں چپ کریں۔ہم آپ ہیں کون میں مادھوری کی بہن مرگئی اور آپ دونوں کو لڑنے کی پڑی۔”ہما سوں سوں کرتی ان دونوں کو ڈانٹنے لگی۔وہ ایموشنل سین دیکھ کر رورہی تھی۔۔
“ابے چپ کرچوہیا۔بالی ووڈ کی چمچی۔”احسن نے اسے ڈانٹ دیا تو وہ کڑوے سے منہ بناتی چپ ہوگئی۔۔
“احسن تم تو چپڑ چپڑ بند کرو۔تم بتاؤ ملائکہ۔”آیت احسن کو آنکھیں دکھاتی ملائکہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔
“یار آیت مجھے تمہارے جن بھائی سے بہت ڈر لگتا ہے۔”۔۔۔۔۔
“ہاں ویسے آیت۔امن بھائی بہت کھڑوس سے ہیں۔ہر وقت اتنے سریس رہ رہ کے تھکتے نہیں ہیں کیا۔”شانزے نے کہا۔آیت بولی۔۔۔
“یار امن بھائی اتنے سویٹ تو ہیں۔بس انہیں ہماری طرح مستی کرنا نہیں پسند۔تھوڑے بورنگ بھی ہیں۔لیکن کوئی بات نہیں کچھ نہیں ہوتا۔اور ملائکہ وہ تم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔بس تم چل کرو۔دیکھنا بھائی تمھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں۔اس لیے اب مسکرادیجئے میری پیاری بھابھی جان۔”آیت نے اسے سمجھایا تو وہ مسکرادی۔اسے امن کی محبت یاد آگئی۔تو اس کے گال لال ہوگئے۔۔۔
“ہاں ہاں تم تو امن بھائی کو اچھا بولو گی ہی نا تمہارے بھائی جو ٹھہرے۔لیکن انہیں دیکھ کے ایسا لگتا ہے یار جیسے سچ میں مسکرانے پہ کوئی ٹیکس لگتا ہے۔”احسن نے برا منہ بنایا تو آیت نے غصے سے اس پہ کشن مارا۔۔۔
“بس کردو احسن ابھی ملائکہ تھوڑی پرسکون ہوئی ہے پھر تم اسے ڈرا رہے ہو۔”۔۔۔۔
“ٹرسٹ میں امن بھائی ملائکہ کو دیوانوں کی طرح چاہتے ہیں۔”آیت جانتی تھی کہ اس کا بھائی بچپن سے ہی ملائکہ کو چاہتا ہے۔۔
“کاش کوئی ہمیں بھی ایسے چاہے۔تم لکی ہو ملائکہ جو تمہیں اتنا محبت کرنے والا شوہر ملا ہے۔تھوڑا سا سڑو ہے تو کیا ہوا۔تم ہینڈل کرلینا۔”شانزے ملائکہ کے کندھے پہ ہاتھ پھیلاتی بولی تو احسن کے چہرے پہ خوبصورت سی مسکراہٹ آگئی۔۔
“اگر تمہیں مل جائے تو تم کیا کرو گی۔”احسن نے مسکراتے پوچھا۔۔
“کیا؟؟”شانزے نے الجھن میں پوچھا۔۔
“کوئی چاہنے والا۔”۔۔۔۔
“اگر مجھے مل گیا تو اس کے ساتھ مل کر شیطانی کروں گی۔اپنی شرارت کا بھنڈا اس کے سر پھوڑوں گی۔کسی بھی وقت اس سے جو کھانے کو مانگو وہ بناکے دے گا۔وغیرہ وغیرہ۔بس اتنی سے ڈیمانڈز ہیں۔”شانزے انگلیوں پہ گن کے بتانے لگی۔آیت اور ملائکہ ہنس رہی تھیں۔احسن منہ کھولے سن رہا تھا۔۔
“تو تو گیا احسن اتنی ڈیمانڈز پوری کرتے کرتے تو تو قبر میں اتر جائے گا۔”احسن دل میں خود سے مخاطب ہوا۔وہ شانزے کو پسند کرتا تھا لیکن اکثر اسے تنگ بھی کرتا رہتا تھا۔۔۔۔
“آپ سب پلیز چپ کریں مجھے مووی دیکھنے دیں۔”ہما چلائی۔سب نے برے برے منہ بنائے اور چپ کرکے مووی دیکھنے لگے۔احسن کو شانزے کوتاڑ رہا تھا ۔اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب شانزے اس کے دل میں گھر کرگئی۔کب اس کی دوست سے محبت بن گئی۔۔۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
وقت پنکھ لگا کے اڑ گیا اور پتا بھی نہ چلا۔شادی کی تیاریوں میں گھر کے کسی بھی فرد کو ہوش ہی نہیں تھا۔سب بہت بزی تھے۔ہنگامہ تھا ایک گھر میں ۔پھپھو شازیہ بھی آچکی تھیں ان کے ساتھ رافع اور رعنا بھی آئے تھے۔کاموں میں بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔آیت صفوان کی لڑایاں بھی مسلسل جاری تھیں۔۔۔
آج مہندی تھی اور گھر میں بہت افراتفری تھی۔کسی کے جوتے نہیں مل رہے تھے۔تو کوئی ابھی تیار نہیں ہوا تھا۔خواتین کاموں میں بہت بزی تھیں۔مرد حضرات باہر لون میں سجاوٹ کروا رہے تھے۔لڑکے تیار ہوچکے تھے۔سب نیچے تھے۔مہندی کا فنگشن کمبائن تھا۔۔
دلہنیں تیار ہورہیں تھیں۔آیت شانزے انہی کے پاس تھیں۔ہما اور رعنا ڈی جے کا کام سر انجام دے رہی تھیں۔فنگشن بس شروع ہونے والا تھا۔دلہے آچکے تھے۔امن نے سفید کپڑوں پہ پرپل اور شایان نے پیلی واسکٹ پہن رکھی تھی۔صفوان نے سبز جب کہ احسن نے بلیو کرتا پہنا تھا۔۔
“ہادیہ آپی یار کیا لگ رہی ہیں۔بہت حسین۔”شانزے ہادیہ کے سر پہ ڈوپٹہ سیٹ کرتی شیشے میں دیکھتی بولی۔ہادیہ جو یلیو اور پنکھ کنٹراسٹ والے شرارے میں ملبوس؛ہاتھوں میں اسی رنگ کی چوڑیاں بھرے؛لائٹ سا میک ؛ہلکی سی جیولری میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
لگتا ہے آج شایان بھائی آپ کو ایسے دیکھ کے ہوش ہی نہ کھو بیٹھیں۔”آیت نے شانزے کی بات میں اضافہ کیا۔ہادیہ شایان کا نام سنتے ہی شرم سے لال ہوگئی۔۔
“ویسے میرے جن بھائی کی دلہن بھی کچھ کم نہیں ہے۔”آیت ملائکہ کی لپ اسٹک سیٹ کرتے بولی۔آیت نے نظر بھر کے ملائکہ کو دیکھا۔جو پرپل اور گولڈن کنٹراسٹ کے لہنگے؛بالوں کو کھلا چھوڑے ؛ گولڈن جیولری کے ساتھ ہلکے میک اپ کے ٹچ اپ میں حسین لگ رہی تھی۔اس کی ناک کی لونگ اس کے حسن میں مزید اضافہ کررہی تھی۔۔۔۔
آیت نے دونوں کو دیکھا تو وہ بہت پیاری لگ رہیں تھیں۔آیت بھی کم نہیں لگ رہی تھی۔ملٹی کلر کے لہنگے میں بالوں کو کھلا چھوڑے ؛کانوں میں جھمکے ؛کندھے پہ دوپٹہ ڈالے میک اپ میں وہ سادہ سی آیت نہیں لگ رہی تھی۔بہت پرکشش لگ رہی تھی۔شانزے نے پمپکن کلر کا شرارہ پہن رکھا تھا۔وہ بھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔فریال بیگم جب سب کو بلانے آئیں تو سب کو دیکھ کے حیران ہوگئیں۔سب بہت حسین لگ رہیں تھیں۔ان کی زبان سے ماشأاﷲ نکلا۔۔۔
ہادیہ کو ملائکہ ساتھ چل رہی تھیں۔ساتھ ساتھ آیت اور شانزے بھی انہی کے ساتھ تھیں۔شایان اور امن اپنی معصوم اور حسین سی شریک حیات کو دیکھ کے مسمرائز ہوگئے۔دونوں کافی حسین لگ رہی تھیں۔آیت اور شانزے نے دونوں کو اپنے اپنے دلہے کے پہلو میں بٹھایا۔ان دونوں کی نظریں ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں مسز شایان ملک۔”شایان نے آہستگی سے ہادیہ کے کان میں رس گھولا۔ہادیہ جو پہلے ہی شرم سے دوھری ہورہی تھی۔اس کی بات سے مزید مسکرانے لگی۔۔۔۔
ملائکہ جیسے ہی امن کے پہلو میں بیٹھی امن نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ملائکہ بوکھلا گئی۔ادھر ادھر دیکھنے لگی۔امن جھکا اور اس کے کان میں بولا۔۔
“شالو آج مارنے کا ارادہ ہے کیا؟”اس نے ہلکا سا اس کے ہاتھ پہ دباؤ ڈالا۔ملائکہ کی پلکیں بھاری ہوگئی۔اس کے کال دہک اٹھے۔امن اسے بلش کرتا دیکھ مدھم سا مسکرایا۔۔۔۔۔
ہما نے میوزک آن کیا تو جیسے احسن میں کوئی جن حاضر ہوگیا ہو۔باولوں کی طرح ناچنے لگا۔اس کے سٹیپس دیکھ کے سب ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔احسن نے شانزے ،آیت اور صفوان کو بھی گھیسٹا لیکن آیت اور صفوان انکار ہوگئے۔۔احسن جب ڈانس کرکے کے نیچے آیا تو صفوان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہا ہے؟”احسن کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔۔
“یہ تو نے کیا کیا؟”صفوان نے حیرت سے پوچھا۔۔
“کس بارے میں بات کررہا ہے تو۔”احسن کو اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی۔
“ابے گدھے یہ تیرے ڈانس کی بات کررہا ہے۔”رافع نے ہنستے ہوئے کہا۔رافع دونوں سے چھوٹا تھا لیکن تینوں کی بنتی بہت تھی۔۔
“کیوں یار ڈانس میں مادھوری کو پیچھے چھوڑ دیا میں نے۔”احسن مصنوعی کالر جھاڑتے ہوئے بولا۔۔
“تجھے پتا تجھے ناچتے ہوئے دیکھ کے کیا لگ رہا تھا؟؟”صفوان بولا۔۔
“کیا لگ رہا تھا؟”احسن نے حیرت سے پوچھا۔
“یہ کہ تجھے پاگل کتے نے کاٹ لیا ہے۔اس لیے پاگلوں والی حرکتیں کررہا ہے۔”رافع اپنی ہنسی دبانے کےچکر میں لال ہورہا تھا۔۔۔
“اس نے ایسا ڈانس کیا توبہ۔تو نے ہر جانور کے سٹیپس کیے بندر؛کتے کے؛گدھے کے۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ تو انسان ہے لگ رہا تھا چڑیا گھر سے بھاگ کے آیا ہے۔”صفوان نے ہنستے ہوئے رافع کو تالی ماری تو احسن نے منہ پھلا لیا۔۔
“لومڑی کو اگر انگوروں تک پہنچ نہ ہو تو انگور کھٹے ہیں۔تجھے ڈانس نہیں آتا تو میرے ڈانس کو غلط بول رہا ہے۔”۔۔۔۔۔
“سچ میں احسن تو نہ ٹک ٹاکرز سے بھی واہیات ڈانس کرتا ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ تو یہاں سب کو اپنے ڈانس سے ہارٹ فیل کرنا چاہتا تھا۔”رافع اسے مزید چڑانے لگا۔۔
“جلو تم جل ککڑو۔منحوس اپنے دوست کی تعریف برداشت ہی نہیں ہوتی تم سے۔”احسن انھیں گھورتے ہوئے بولا۔اور غصے سے پاؤں پٹختا شانزے کے پاس چلا گیا۔پیچھے صفوان اور احسن زور زور سے ہنسنے لگی۔۔
