Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 10)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

امن اٹھ جائیں نا پلیز بہت ٹائم ہوگیا ہے۔”ملائکہ مسلسل امن کو جھگانے کی کوشش کررہی تھی۔لیکن وہ ابھی بھی سورہا تھا۔ملائکہ کوامن نے بہت محبت دی تھی۔اب اس کا ڈر بھی کم ہوگیا تھا۔۔

اچانک امن کا ہاتھ کمفرٹر سے نکلا اور ملائکہ کی کلائی پکڑ کے کھینچی۔وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کے اوپر گرگئی۔شادی کو تین ہفتے ہوچکے تھے۔وہ ابھی تک یونی نہیں گئی تھی۔۔۔

امن نے اپنے بازو اس کے گرد لپیٹ لیے۔ملائکہ اس کے حملے سے بوکھلا گئی۔۔

“ھھھھم تو مسز امن کیا کہہ رہیں تھیں۔مجھے زرا آواز نہیں آرہی تھی اب آپ میرے قریب ہیں اب حکم کیجیے۔”آمن نے مسکراتے پہلو بدلہ اب ملائکہ نیچے اور امن اوپر تھا۔ملائکہ نے نظریں جھکاتے کہا۔۔

“امن آپ کو آفس نہیں جانا کیا۔”امن اس کے مزید قریب ہوگیا۔اس کے گال پہ لب رکھ دیے۔ملائکہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

“جانا تو ہے جانم لیکن کیا کروں اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کے جانےکا دل نہیں کررہا۔”اس نے معصوميت سے کہا تو ملائکہ کو اس پہ بے انتہاء پیار آیا۔امن نے اسکا ماتھا چوما اور اوپر سے ہٹ گیا۔ملائکہ نے اٹھتے ہی اس کے گال پہ لب رکھ دیے۔امن کی آنکھیں کھل گئیں۔وہ مسکراتے اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا۔۔۔

“اب چلیے تیار ہوجائیے ۔”ملائکہ اسے باتھروم میں دھکیلتی مسکراتی روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

“او کریلے ایک گڈ نیور ہے۔”صفوان ابھی یونی کے لیے تیار ہورہا تھا۔کہ اچانک آیت نے دھڑام سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ان دونوں کو لڑکی ڈھونڈتےہوئے ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا۔پہلی بات کوئی ملتی نہیں تھی اور جو ملتی تھی وہ انگیجڈ ہوتی تھی۔اور صفوان کی کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی تھی۔بچارا کیا کیا نہیں سوچ رکھا تھا اس نے۔۔۔۔

“آیت یار آرام سے۔ایسے آتی ہو جیسے کوئی آندھی۔”صفوان نے جھنجھلا کے کہا۔۔

“اوے بات ہی ایسی ہے مجھ سے صبر نہیں ہوا۔”آیت نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا اب بولو۔”،،،،

“ارے ہاں وہ میری دوست ہے نا حنا کالج والی فرینڈ اس کی کزن تانیہ تم سے ملنے کےلیے تیار ہے۔آج شام کو میں نے تم دونوں کی میٹنگ بھی ارینج کردی ہے۔آج شام یونی کے پاس والے کیفے میں۔”آیت نے بتایا تو صفوان بولا۔۔

“چلو یہ توصیح ہوگیا۔اب تم بھی ریڈی ہوجاؤ ساتھ چلتے ہیں یونی۔”صفوان نے مسکراتے ہوئے اس کہا۔اس نے اپنا حلیہ دیکھا جو ابھی بھی ٹائٹ ڈریس میں تھی۔اس کی آنکھ ہی حنا کی کال سےکھلی تھی۔جیسے ہی اس نے بتایا وہ بھاگتی صفوان کے روم میں پہنچی تھی۔صفوان پہلے اس کی حرکتوں دے بہت چڑتا تھا لیکن اب اسے یی ساری باتیں کیوٹ لگ رہیں تھی.

دونوں ساتھ ناشتے پہ پہنچے۔سب حیران تھے۔پچھلے ایک ہفتے سے ایک ساتھ نکلتے تھے اور شام کو ساتھ آتے تھے۔۔

“ضرور دونوں کے دماغ میں کچھ تو پک رہا ہے۔کوئی بڑا دھماکہ کرنے والے ہیں دونوں۔”شانزے نے ساتھ بیٹھی ہما کے کان میں کہا۔ہما نے سر ہلا کے تائید کی۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“یار وہ ابھی تک آئی نہیں؛تمہاری دوست کی کزن۔”صفوان ابھی کیفے میں بیٹھا۔تانیہ کا ویٹ کررہا تھا۔آیت بھی اس کے سامنے والے ٹیبل پہ بیٹھی تھی۔کانوں بلوٹوتھ ڈالے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔آیت اس گائیڈ کررہی تھی۔کہ ایک لڑکی کو کیسے امپریس کیا جاتا ہے۔۔۔۔

“یار تین کپ کافی کے پی چکا ہوں اور چار تم پی چکی ہو۔ابھی تک نہیں آئی۔”صفوان نے بےصبری سے گیٹ کی طرف دیکھا جہاں سے لڑکیاں آجاتو رہی تھیں۔لیکن مطلوبہ نہیں۔۔۔

“کریلے تم سے صبر نہیں ہوتا کیا۔آجائے گی۔تھوڑا حوصلہ رکھو۔ویسے بھی لڑکیوں کو تیار ہونے میں ٹائم لگتا ہے اور ویسے بھی اس کی ڈیٹ ہے تو دیر سے آنا تو بنتا ہے۔”آیت اس کے سامنے بیٹھی اسے حوصلہ دے رہی تھی۔تبھی ایک ماڈرن سی لڑکی شارٹ کرتی کے ساتھ جینز پہنے۔فل میک اپ میں صفوان کے پاس آئی۔آیت اسے دیکھ چکی تھی اس لیے جیسے ہی وہ اندر آئی اسے چوکنا کردیا۔۔۔

آیت کو وہ بلکل اچھی نہیں لگی۔پتہ نہیں کیوں۔وہ عجیب وغریب شکلیں بنانے لگی۔تانیہ تو صفوان تو دیکھ کے ہی فلیٹ ہوگئی۔وہ کافی ہینڈسم جو تھا۔دنیا کے لیے آیت کے لیے چھچھوندر تھا۔۔۔

“آپ صفوان ہیں۔ہائے میں تانیہ۔”اس نے ہاتھ آگے کیا۔صفوان نے اس کا ہاتھ تھام لیا لیکن آیت جل بھن گئی۔۔

“ہائے تانیہ۔”صفوان نے مسکراتے جواب دیا۔۔

دونوں میں رسمی سی گفتگو شروع ہوئی۔۔

“میرے خیال میں کچھ آڈر کرتے ہیں۔”صفوان نے ہڑبڑی میں الٹا مینو اٹھا کے دیکھنے لگا۔تانیہ اپنا مینو کارڈ دیکھنے میں بزی تھی۔آیت نے صفوان کی نروسسنز دیکھ کے سر پیٹ لیا۔۔۔

“او جاہل انسان مینو الٹا پکڑا ہے۔اس تانیہ کو تاڑنا بند کر۔پہلے کچھ آڈر کرلے۔بعد میں تاڑیو۔”آیت نے دانت پیس کے ایک ایک لفظ چبا چبا کے کہا۔تو صفوان ہوش میں آیا۔اس نے فورا مینو سیدھا کیا۔صفوان نے کافی اور سینڈوچ منگوایا۔جبکہ تانیہ نے پاستہ آڈر کیا۔۔۔۔۔

“اب بات کیا شروع کروں آیت کچھ بتا یار۔”صفوان کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے دھیمے سے آیت اے مدد مانگی۔۔

“صفوان جو میں بتاؤں گی وہی بولنا اوکے۔”آیت کی آواز اس بلوٹوتھ پہ ابھری۔۔۔

“آپ کیا کرتی ہیں ؟”صفوان نے اس سے سوال کیا۔۔

“میک اپ”آیت نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔صفوان نے اسے چپ رہنے کو کہا۔۔۔

“او میں ایک ولوگر ہوں۔فیشن ولوگر۔”وہ منہ کے سٹائل بناتی انگلش لہجے میں بولی۔

“ہاں وہ تو دکھ ہی رہا۔نقلی انگریز۔”آیت نے کڑھتے ہوئے جواب دیا۔اس کا لہجے صفوان کو عجیب لگا۔۔

آیت کی آواز ابھری تو صفوان جو مسکرارہا تھا آہستگی سے بولا۔۔۔

“آیت کی بچی چپ ہوجا۔”۔۔۔۔۔

“کچھ کہا آپ نے۔”تانیہ نے بڑبڑاہٹ سن کے کہا تو صفوان چونک گیا۔۔۔

“نہیں نہیں تو۔”صفوان کی دائیں طرف آیت بیٹھی تھی اس نے نظر بچامڑکے اسے ایک زبردست گھوری سے نوازا۔آیت بھی ڈھیٹ آگے سے ہنسنے لگی۔۔۔

“ویسے حنا نے آپ کے بارے میں بتایا کہ آپ کو جلد از جلد شادی کرنی ہے۔”تانیہ ادا سے بولی۔آیت نے اس کی نقل اتاری۔۔۔

“جی آپ نے صیح سنا۔”صفوان نے جواب دیا۔۔

“ہو ہائے شرافت تو دیکھو ایسے لگ رہا دنیا میں اس سے شریف کوئی ہو ہی نہ۔”آیت نے منہ بناکے کہا۔۔

“ویسے بات آگے بڑھے اس سے پہلے میں آپ کو بتادوں کے۔میں بہت لاڈلی ہوں۔اس لیے میں شادی کے بعد جو دل آئے وہ کروں گی۔جب دل آئے گا گھر آؤں گی۔کام بلکل نہیں کروں گی۔اپنی مرضی کی مالک ہوں گی۔”صفوان اور آیت منہ کھولے اس کی ڈیمانڈز سن رہے تھے۔جو یہ بتارہی اسے سن کے وہ بے ہوش ہونے کو تھے۔۔

“آہا مطلب نقلی انگریزن کی ڈیمانڈز تو دیکھو جیسے ملکہ برطانیہ ہو۔جو میرے دل میں آئے وہ کروں گی۔صفوان میں بتا رہی ہوں یہ بہت بڑی چول ہے ابھی بھی وقت ہے ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔دنیامیں لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ہم کوئی اور لڑکی ڈھونڈ لیں گے۔اس مصیبت سے جان چھڑاو۔”آیت نے اسے سمجھایا۔ان دونوں کا آڈر بھی آچکا تھا۔وہ کھانے میں بزی تھی۔صفوان کو بھی وہ اچھی نہیں لگی۔عجیب سی اکڑ سے بات کررہی تھی۔اگر وہ اسے گھر لے جائے اور بڑوں سے ایسے بات کرے تو گھروالے اس سمیت اسے گھر سے باہر پھینک دیں۔۔۔

“پر جان کیسے چڑاؤں۔”اس نے آہستہ سے آیت سے کہا۔۔۔

“جو میں بتارہی ہوں وہ بولنا اوکے۔”آیت نے اسے سب بتایا اور ہدایت کرنے لگی۔۔۔۔۔

“تانیہ شادی سے پہلے میں تمھیں اپنی کچھ عادات بتا دوں۔۔میں تمھیں اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتا۔مجھے سٹے کی عادت ہے۔میں کبھی کلب بھی جاتا ہوں۔میری فیورٹ ڈرنک وائن ہے۔اور میں ہیروئن کا بھی عادی ہوں۔کیا تم مجھے میری ان ساری عادات کے ساتھ قبول کروگی”اس نےمعصومیت دھڑا دھڑا جھوٹ بولے۔آیت ہنس رہی تھی اور بہت صفوان کا دل اسے مارنے کا کررہا تھا۔۔۔

“او مائی گوڈ آپ کو بھی gambling پسند ہے۔میں تو اس میں چمپین ہوں۔اور کلبز اور پارٹیز بھی مجھے بہت پسند ہیں۔بٹ آئی ڈونٹ لائیک وائن مجھے وسکی پسند ہے۔”وہ ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے بتا رہی تھی۔کہ وہ ایک جواری ہے۔اور نشئی بھی۔صفوان اور آیت کو تو وہ جھٹکے پہ جھٹکا دے رہی۔اب اس سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ تھا۔آیت نے بلوٹوتھ اتاری اور اس بھی اتارنے کو بولی۔کال کرکے کہا کہ اسے کہا اریجنٹ کام سے جانا ہے۔صفوان نے جلدی سے ویٹر کو بلایا۔بل پے کیا ۔اور ایکسوزکرتا باہر نکل گیا۔آیت بھی پیچھے پیچھے گئی۔۔۔

“ہاہاہاہاہاہا چھچھوندر ! پہلے تمھیں لڑکی مل ہی نہیں رہی تھی اور جو ملی وہ بھی جواری ؛نشئی اور آئٹم ۔ہاہاہاہا۔”صفوان بائیک کے پاس کھڑا اپنی قسمت کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔آیت اس کے زخموں پہ نمک چھڑک رہی تھی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔

دونوں گھر پہنچے۔شام ڈھلنے کو تھی۔اچانک تیز بارش شروع ہوگئی۔صفوان کمرے میں گیا۔فریش ہوکے بالکنی میں بارش انجوائے کرنے لگا۔اچانک اس کی نظر نیچے گئی۔جہاں آیت لون میں کھڑی بارش میں بھیگ رہی تھی۔وہ بانہیں پھیلائے بارش کے ٹھنڈے قطروں کو محسوس کررہی تھی۔صفوان اسے ایسے دیکھ کے کہیں کھو ہی گیا۔پتا نہیں کیوں پچھلے کچھ دنوں سے اسے آیت بہت اچھی لگنے لگی تھی۔اس کی باتیں اس کی عادتیں؛سب کیوٹ لگنے لگی۔اس نے آیت کو جانا تھا۔۔۔۔

صفوان کو آیت بارش میں بھیگتی اپنا دیوانہ بنارہی تھی۔صفوان کی نظریں ہٹنے سے انکاری تھیں۔آج وہ مسکراتا اپنے دل کی نظر سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ آج اپنا آپ بے بس محسوس کررہا تھا اس کے سامنے۔۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

آج آیت کی طبیعت کافی خراب تھی۔اسے بخار ہورہا تھا۔کمزوری بھی بہت زیادہ تھی.اسے اور صفوان کو مزید ایک ہفتہ ہوچکا تھا لڑکی ڈھونڈتے۔ کوئی مل ہی نہیں رہی تھی اور جو مل رہی تھی نمونے تھے۔لیکن اس عرصے میں آیت اور صفوان کافی قریب آچکے تھے۔صفوان کے دل میں آیت کی محبت انگڑائی لے چکی تھی۔صفوان کو اب آیت کی محبت محسوس ہورہی تھی اور وہ اب قبول کرنے لگا تھا کہ آیت اس کے دل میں قبضہ جماچکی ہے۔۔

آیت کے ایگزمز آنے والے تھے تو وہ تیاری کررہی تھی۔آج جانا ضروری تھا۔وہ اور شانزے یونی کے لیے نکل گئے۔آج صفوان کی کلاس لیٹ تھی تو وہ لیٹ آیا تھا۔ورنہ تو آیت لگاتار صفوان کے ساتھ جاتی تھی۔آیت کو بھی صفوان کے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا۔دونوں لڑتے بھی تھے لیکن دونوں کی دوستی مثالی بن چکی تھی۔سب گھر والے بھی خوش تھے۔دونوں کو ساتھ دیکھ کے۔۔۔۔۔

“آیت رکو یار۔”صفوان کلاسسز لینے کے بعد آیت کے پاس آیا۔جو آہستہ آہستہ کیفٹریا کی طرف جارہی تھی۔آیت کو بخار تھا۔اس لیے کافی کمزوری محسوس کررہی تھی۔شانزے احسن کے ساتھ پیچھے پیچھے آرہی تھی۔۔

“صفوان آیت تک پہنچا۔”آیت۔”آیت کا جواب نہ پاکر آیت کو اپنی طرف موڑا۔آیت کا تو ویسے ہی سر پھر رہا تھا۔آیت کو چکر آئے اور نیچے گرنے لگی۔صفوان نے ایک دم اسے کمر سے تھام لیا۔۔۔

“آیت آیت آنکھیں کھولو۔کیا ہوگیا ہے تمہیں۔”صفوان نے اس کے گال تھپھپاتے۔وہ بےہوش ہوچکی تھی۔اس کا رنگ زرد پڑ رہا تھا۔صفوان آیت کو اس حالت میں دیکھ کے کافی پریشان تھا۔آج اسے سچ میں آیت کے ساتھ اپنی جان وابستہ محسوس ہوئی۔۔۔

“او نو تمہیں تو بہت بخار ہے۔”صفوان نے اس کے بےہوش وجود کو بانہوں میں اٹھالیا۔احسن اور شانزے بھی ان تک پہنچ گئے۔احسن اور شانزے بھی کافی پریشان ہوگئے۔۔۔

صفوان نے اسے فوراً گھر پہنچایا۔سارے گھر والے کافی پریشان تھے۔ڈاکٹر نے بتایا کہ تیز بخار کی وجہ سے وہ بےہوش ہوگئی ہے۔اور کچھ نہیں۔۔۔۔

فریال کی آنکھوں سے تو آنسو ختم ہی نہیں ہورہے تھے۔وہ مسلسل رورہی تھیں۔آیت کو ہوش آچکا تھا۔۔۔

اس کی ماما اسے سوپ پلارہی تھیں۔صفوان روم میں آیا۔۔۔

“او کریلے ایسے منہ کیوں لٹکا رکھا ہے۔میں ٹھیک ہوں بلکل۔”آیت نے مزاحیہ انداز میں کہا۔فریال باؤل کچن میں رکھنے چلی گئیں۔۔۔

“ویسے اگر تیری طبیعت خراب تھی تو کیا ضرورت تھی یونی جانے کی۔تجھے پتا ہے میرا کیا حال ہورہا تھا تجھے ایسے دیکھ کر۔”صفوان نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔

“ابے تجھے کیوں اتنی ٹنشن ہے۔”آیت نے سوال کیا۔۔۔۔

“ہم بیسٹ فرینڈز ہیں نا تو بس اسی لیے۔”اس نے کندھے اچکائے۔۔۔

“پر ہم تو جانی دشمن تھے نا۔”۔۔۔

“تھے پر اب فرینڈز ہیں۔یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔”صفوان کا اچانک لہجہ بدلہ وہ خمارآلود لہجے میں بولا۔آیت اس کے دیکھنے کا انداز عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔وہ جھکا تو آیت کھسک کے بیڈکراؤن کے ساتھ لگ گئی۔۔۔

“ص صفوان یہ تم کیا کررہے ہو۔”آیت نے صفوان کے سینے پہ ہاتھ رکھتے اسے دور کرنے کی کوشش کی۔اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔صفوان نے اس کے چہرے پہ آرہے بال اپنی انگلی سے پیچھے کیے۔اور بولا۔۔۔۔

“آیت تم میرے بہت خاص ہوچکی ہو۔اپنا خیال رکھا کرو۔”صفوان کی لو دیتی نظریں آیت بہت زیادہ پریشان ہوگئی۔اس کا بدلہ بدلہ سا لہجہ رویہ سب کچھ۔۔۔۔

دادو دادی روم میں آئے آیت کی طبیعت کا پوچھنے تو صفوان فورا پیچھے ہٹ گیا۔

آیت دادی دادو سے ہنس ہنس کے باتیں کررہی تھی۔لیکن صفوان کی لو دیتی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کررہی تھی۔وہ سامنے صوفے پہ بیٹھا اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔آیت تو اس کی محبت بن چکی تھی اور اس بات کا اندازہ وہ لگا چکا تھا۔۔۔۔

“اوہو آجکل تو برخودار کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے ہیں۔”شایان اور احسن اس کے روم میں آتے ہی بولے۔وہ صوفے پہ بیٹھا اپنے موبائل پہ آیت کی تصویر دیکھ کے مسکرارہا تھا۔اچانک ان کے آنے بوکھلا گیا اور فورا موبائل بند کردیا۔۔۔

“کیا مطلب شایان بھائی۔”اسنے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔۔۔۔

“مطلب یہ کہ آج کل بڑا آیت یہ آیت وہ خیر تو ہےنا۔مطلب صبح ساتھ نکلتے ہو۔ساتھ واپس آتے ہو۔ہر جگہ ساتھ پائے جاتے ہو۔کیا بات ہے۔”شایان بھی کم نہیں تھا۔اس نے صفوان کی ٹانگ کھینچی۔۔۔

“ارے بھائی کل جب آیت بےہوش ہوئی تھی بلکل باولا ہوگیا تھا۔لگتا تھا اس کا دیوانہ ہو۔”احسن نے اضافہ کیا۔۔

“سچ بتا میرے بھائی محبت کرتا ہے نا تو اس سے۔”شایان نے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔تو وہ مسکرایا اور بولا۔۔۔

“ہاں بھائی بہت محبت کرتا ہوں میں اس سے۔جب سے اسے جانا ہے لگتا ہے آیت جیسا کوئی نہیں ہے۔سب سے الگ ہے وہ۔اب اس کے بغیر جینا گورا نہیں ہے مجھے۔”آخرکار اس نے اپنی محبت کا اظہار کرہی دیا تھا۔وہ اس سے کتنی محبت کرنے لگا۔۔۔

شایان اور احسن مسکرانے لگے۔اب وہ بھی دیوانوں میں شامل ہوچکا تھا۔۔۔

“میں نے کہا تھا نا کہ تجھے محبت ہوجائے گی۔دیکھ ہوچکی ہے۔”شایان نے کہا۔

“ہاں بھائی ہوگئی صفوان ملک کو بھی محبت ہوگئی ہے۔وہ بھی اپنی سب سے بڑی دشمن سے۔اب اسے اپنا بنانا باقی ہے۔”وہ آیت کا تصور کرتا مسکرایا۔اب بس اسے آیت کو اپنا بنانا تھا اور اپنی محبت سے روشناس کرانا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *