Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619 Tera Mera Piyar (Episode 02)
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode 02)
Tera Mera Piyar by Syeda Shah
یہ منظر ہے کراچی کے ایک بزنس کلاس کے بڑے اور خوشحال گھرانے کا ہے۔اس بڑے سے محل نما گھر کے باہر سنگ مرمر کی تختی پہ سنہرے الفاظ میں لکھا تھا۔۔۔
“MALIK VILLA”…..
باہر سے یہ جتنا بڑا لگتا ہے۔یہاں کے لوگ اتنے ہی ملنسار،اخلاقی اور خوشحال ہیں۔اس والا میں زندگی رقص کرتی ہے۔اور اس گھر کی جان ہیں ہماری Protagonist؛آیت ملک ہیں۔اور ان کے جانی دشمن اور کزن صفوان ملک بھی۔جنہیں تنگ کرکے ہماری Protagonist؛ہیروئن صاحبہ کو چس آتی ہے۔۔
اس گھر کو دادا ابو یعنی سعادت صاحب اور دادی یعنی زرینہ بیگم نے سنوار کے؛جوڑ کے رکھا ہے۔ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔اللہ نے دونوں میاں بیوی کو چار اولادوں سے نوازا۔تین بیٹے اور ایک لاڈلی بیٹی۔
سب سے بڑے بیٹے کا نام حسان ملک تھا۔جن کی شادی اپنی خالہ زاد عامرہ ہوئی تھی۔عامرہ بہت اچھی خاتوں تھیں۔خاندان کی بڑی بہو ہونے کی ساری ذمہ داری بہت بخوبی نبھائی۔ان کے چار بچے ہیں۔سب سے بڑے اور خاندان کے سب سے بڑے، ہونہارا ور پولائٹ بیٹے؛شایان ملک ۔۔جو اپنے والد کے ساتھ مل کے بزنس سنبھال رہے تھے،اس کے بعد احسن ملک جو بہت ہی شرارتی اور زندہ دل انسان ہیں۔اسی شرارت کے چکر میں گھر کے بڑوں سے ان کی عزت افزائی ہوتی رہتی تھی۔۔احسن ملک یونیورسٹی میں ایم بی اےکے سٹوڈنٹ تھے،اس کے بعد آتی ہیں ملائکہ جو بےانتہاء ڈرپوک اور شرمیلی سی ہیں۔اور ہماری ہیروئن صاحبہ کی بیسٹ فرینڈ وہ بھی یونیورسٹی میں بی ایس باٹنی کررہی تھی ۔اس کے بعد آتی ہیں سب سے چھوٹی ہما ملک۔بالی وڈڈ کی دیوانی۔شاہ رخ کی سب سے بڑی فین۔یہ انٹر کی سٹوڈنٹ ہیں۔.
دوسرے نمبر پہ آتے ہیں رضوان ملک جن کی شادی اپنی کلاس فیلو منزہ سے ہوئی ہے۔جو بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ان کے تین بچے ہیں۔
پہلے نمبر پہ آتی ہیں ہادیہ ملک۔جو اپنی تعلیم مکمل کرچکی تھیں۔خاندان کی سب سے سمجھدار اور سگھڑ بیٹی ہونے کا خطاب انہی کو حاصل تھا۔یہ شایان سے چھوٹی اور احسن سے تین سال بڑی تھیں۔بڑوں نے باہمی مشاورت سے چھے مہینے پہلے ہادیہ کا نکاح شایان سے کروا دیا تھا۔بس شایان کے کمرمیں رخصتی باقی تھی۔۔۔پھر آتے ہیں ہمارے ہیرو صفوان ملک۔جو احسن کے ہم عمر اور کلاس فیلو ہیں۔ان کی تولا شخصیت کا آج تک کسی کو اندازہ نہیں ہوا۔پل میں پل میں ماشہ۔ان کی طبیعت میں کبھی غصے کا عنصر دیکھنے کو ملتا تو کبھی شرارت کا۔خیر ان کا فیورٹ مشغلہ ہماری ہیروئن صاحبہ کو پریشان کرنا تھا۔یہ موصول کوئی اور کام کریں نہ کریں آیت صاحبہ کو تنگ کرنے کا کام بخوبی کرتے سرانجام دیتے تھے۔۔۔۔
خیر اس کے بعد آتی ہیں شانزے ملک جو ایک نمبر کی چنڈ ہیں۔پنگے لینا فیورٹ مشغلہ اور یونی میں لڑکوں سے لڑائی ہوبی۔شرارت میں احسن صاحب کو مات دیتی ہیں۔اور دونوں بنتی بہت ہے۔یہ بھی یونی میں پولیٹکل سائنس میں گریجویشن کررہی ہیں۔۔۔
تیسرے نمبر پہ آتے ہیں ذکریا ملک۔ان کی شادی سعادت صاحب کے کزن کی بیٹی فریال سے ہوئی۔فریال ایک بہت اچھی ماں اور بہو ثابت ہوئیں تھیں۔ان کو خدا نے دو اولادوں سے نوازا تھا۔بڑے بیٹے تھے امن ملک جو ہادیہ سے ایک سال چھوٹے تھے۔خاندان کے کھڑوس ،اکھڑ مزاج اور سنجیدہ ترین شخص۔اپنی بہن کی زبان میں بورنگ شخص۔یہ بھی بزنس سنبھالتے تھے۔اکھڑ مزاج ہونے کے باوجود ان کا دل معصوم سی ملائکہ پہ آگیا۔اور کب وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔انہیں خود بھی نہیں پتا چلا۔دادی کو پہلے ہی پتا تھا کہ وہ ملائکہ کو پسند کرتا ہے سو دونوں کی نکاح بھی شایان ہادیہ کے نکاح والے دن ہی کروا دیا گیا۔ملائکہ تو امن سے بچتی پھرتی تھی۔اسے امن سے بہت ڈر لگتا تھا۔جیسے ہی وہ امن کو دیکھتی تو جھنیپ جاتی تھی۔۔۔۔
پھر آتی ہیں ہماری ہیروئن صاحبہ یعنی آیت ملک۔ایک نمبر کی شیطان۔الٹی کھوپڑی کی۔جو چیز آیت میڈیم کو چاہیے تو بس چاہیے۔یہ بھی شانزے کے ساتھ پولیٹکل سائنس کی سٹوڈنٹ تھی۔فیورٹ مشغلہ صفوان کو تنگ کرنا۔اس کی ٹانگ کھنچنا اور اس سے جھگڑنا۔۔آیت جتنی چنچل تھی اتنی ہی ایموشنل بھی تھی۔اس میں اور امن میں پانچ سال کا فرق تھا۔صفوان آیت سے تین سال بڑا تھا۔جب وہ صرف پانچ سال کی تھی تو ان کے والد کا دل کے دورے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔جس کی وجہ سے وہ اور امن بچپن میں شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔اس کے تایا ابو اور دادا نے انہیں کبھی بھی ذکریا صاحب کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔امن پھر بڑا تھا لیکن آیت تو بہت چھوٹی تھی۔اس لیے امن نے کبھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالی ہمیشہ اس کی خواہش پوری کی۔۔۔۔
اس بعد آتی ہیں آیت کی پھپھو شازیہ جن کی شادی اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ان کے دوبچے تھے رافع جو کہ آیت کا ہم عمر تھا اور اس کے بعد ان کی بیٹی تھی رعنا جو ہما کی ہم عمر اور ایک نمبر کی پڑھاکو تھی۔۔
سب کزنز کی پاٹنرشپ تھی۔ بڑے تین شایان ،ہادیہ اور امن سلجھے اور سمجھدار تھے تو بس کام سے کام رکھتے تھے۔لیکن صفوان ۔احسن ،رافع ہمیشہ سے بیسٹ فرینڈ رہے ہیں۔اور آیت،ملائکہ ،شانزے ہمیشہ ساتھ اور ان کی ہیڈ تھی آیت بی بی۔ہما اور رعنا ساتھ رہتی تھی جب پھپھو کراچی آتی تھیں۔۔۔۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
“ہائے زینی بے بی کیسی ہو۔”وہ ابھی ابھی ملک والا میں داخل ہوا تھا۔اور سامنے دادی آگ کا گولا بنی بیٹھی تھیں۔داخل کڑی نظروں سے اس دیکھ رہی تھیں۔جو کافی خوبرو تھا۔بلیو جینز کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہ بلیو ہی جینز کی جیکٹ پہنے سفید رنگ،تیکھی ناک اور دلکش نین نقوش۔براون داڑھی اور برروائن ہی بال جو ماتھے پہ بکھرے تھے۔وہ کافی ہینڈسم تھا۔لیکن آیت کی نظر سے دیکھیں تو بلکل چھچھوندر جیسا دکھتا تھا۔۔
وہ دادی کو زینی بےبی بلاتاتھا۔وہ بڑے سے ہال میں داخل ہوا۔سامنے ہی صوفے پہ دادی بیٹھی اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔۔
“کہاں سے آرہے ہیں آپ صاحبزادے۔”دادا جی بھی ہال میں داخل ہوچکے تھے۔باقی سب آفس میں تھے۔لڑکیوں کی آج کلاس نہیں تھی تو وہ یونی نہیں گئی تھیں۔احسن دوست کی طرف گیا تھا۔وہ یونی میں تھا تو پیچھے آیت نے دادی کے کان بھرے۔دادا جی کو ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔
“دادو میں یونیورسٹی سے آرہا ہوں۔”داداجی اس کے گھر کے بچوں کے بیسٹ فرینڈ تھے۔سو وہ بہت فریلی ان سے بات کرتے تھے۔دادی تھوڑی سی سخت تھیں لیکن کیوٹ بھی بہت تھیں۔۔
“کیا بات ہے دادو!آج زینی بےبی کا موڈ کچھ آف ہے،”وہ دادی کے تیور دیکھ کے دادا جی سے بولا۔۔۔
“سچ بتا صفوان کہاں سے آرہے ہو۔”دادی غصے سے بولیں۔اس کی امی،تائی امی اور چاچی جو دوپہر کے کھانے کا انتظام کررہی تھیں۔باہر آگئیں۔۔۔۔
“اب ہوگا دھماکہ،”آیت اوپر سے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔اور ساتھ ہی ساتھ اپنے صفوان کے ٹھکائی کے بارےمیں سوچتی ایکسائٹد ہورہی تھی۔اوپر سے کھڑی مزے لے رہی تھی۔
“آیت ویسے تم نے جھوٹ بول کے میرے بھائی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔”پاس کھڑی شانزے اسے خوش ہوتا دیکھ اور بھائی کی شامت آتے دیکھ منہ بناکے بولی۔اسے اپنے بھائی کے بارے میں سوچ سوچ کے بہت برا لگ رہا تھا۔۔۔
“تمہارے اس چھچھوندر بھائی نے بھی میرے خلاف دادی کے کان بھر کے اچھا نہیں کیا تھا۔اس کی وجہ سے پورے دو دن مجھے اس اتتتتنے بڑے گھر کی اکیلے صفائی کرنی پڑی۔اب بدلہ تو بنتا ہے۔میں نے صفائی کی تھی نا۔جب تمہارا کڑوا کریلا بھائی پورے دو دن تک سارے گھر کے کپڑے دھوئے گا۔ تو میری روح کو سکون ملے گا۔تب میرا بدلہ پورا ہوگا۔”وہ ایک ادا سے اپنے پولی ٹیل میں قید کالے اور لمبے جھلاتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“تم کبھی نہیں سدھر سکتی آیت،”ملائکہ نے کہا۔جو ان کے ساتھ کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔
“وہ کیا ہے نا ملائکہ آیت کے ساتھ پنگا از ناٹ چنگا۔”وہ ابرواچکاتے بڑے فخر سے بولی۔۔۔
“زینی بےبی میں تو یونی سے ہی آرہا ہوں:کیوں کیا ہوا؟”صفوان دادی کے سوال اور لہجے سے حیران تھا۔اس کچھ گڑبڑی کا احساس ہورہا تھا۔۔۔
“یونی میں تھے یا کسی ساقی کے ساتھ۔”دادی اسے شک بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔اور داداجی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔اس کی امی بھی حیران تھی۔یہ ساقی کون ہے۔
“کون ساقی زینی؟”اس نے سوال کیا۔۔۔
“ابھی بتاتی ہوں۔”دادی نے چھڑی لی اور صفوان کے بازو میں زور سے دے ماری۔صفوان جو دادی کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“آہ یار دادی مار کیوں رہی ہیں؟”اس سے پہلے اس دوسری چھڑی لگتی وہ کود کے صوفے کی دوسری طرف چلا گیا۔سب حیران تھے۔
“بیگم ہوا کیا ہے۔آپ صفوان کو مار کیوں رہی ہیں؟”داداجی نے دادی کو غصہ دیکھ کے اصلی بات کے بارے میں پوچھا۔۔
“آپ کو پتا ہے یہ کل رات گھر شراب پی کے آیا تھا۔اور اتنی رات تک کسی ساقی کے ساتھ تھا،”دادی نے بتایا تو سب کامنہ کھل گیا۔
“آئے ہائے بیٹا جی یہ کیا سن رہا ہوں میں۔اور اگر تم اتنے ہی بےصبرے تھے تو مجھے بتا دیتے۔شایان کے نکاح کے ساتھ تمہارا نکاح بھی کروادیتا۔”داداجی حیران تھے کہ ان کا پوتا یہ سب کیا کرگیا تھا۔۔
“کیییا دادی۔یہ سب آپ کس نے کہا۔سراسر جھوٹ ہے،”صفوان دادی کی لاٹھی سے پچتا دہائیاں دے رہا تھا۔اوپر آیت کی ہنسی کو بریک نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
“یہ تربیت کی تھی میں نے تمہاری۔تم اب شراب پیو گے،”اس کی امی جوتا اٹھاتی اسکی طرف بڑھیں۔وہ کود کے دوسری طرف بھاگا اگے دادی تھیں۔اسے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہوا۔دادی کی لاٹھی سے بچتا۔وہ چلایا۔۔
“امی دادی آپ میری بات تو سنیں۔میں کوئی شراب نہیں پیتا اور یہ ساقی کون ہے؟’وہ دہائیاں ہی دے رہا تھا۔۔۔
“اچھا ہم سے جھوٹ۔ساقی وہی جس کے ساتھ تھا تو کل رات بھر۔”دادی غصے سے بولیں۔۔
“او تو تم دوستوں کے گھر کمبائن سٹڈی کو جارہا ہوں یہ بول کے اس ساقی کے پاس گیا تھا۔ہائے اللہ یہی دن دکھانا تو نےمجھے ۔ایک بیٹا دیا تو نے اور وہ بھی بیوڑا،شرابی اور عیاش نکلا۔یہ دن دیکھنے سے پہلے تو نے مجھے اٹھا کیوں نہیں لیا۔”اس کی امی سر پکڑ کے رونے لگیں۔مائیں تو ہوتی ہی ایموشنل ہیں۔پاس کھڑی فریال اور عامرہ انھیں سنبھال رہی تھیں۔۔
دادا جی تو شاک میں تھے۔۔۔
“ہائے اللہ امی یہ سب جھوٹ ہے۔میں سچ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھا۔آج صبح ہی گھر آیا تھا۔”وہ پریشانی سے بولا۔لیکن ابھی تو کوئی اس کی سن ہی نہیں رہا تھا۔۔
“اچھا رک زرا۔بتاتی ہوں تجھے۔”وہ یہ کہنے امی تک آیا۔جنہوں نے موقع ملتے ہیں جوتا اس کی طرف پھینکا۔اور اس جوتے نے ہمارے ہیروکی کمر کو بہت اعلی طریقے سے سلامی دی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔”اوپر کھڑی آیت کے قہقہے چھوٹے۔اس کے دل کو تو ٹھنڈ پڑرہی تھی۔
“دادو پلیز سمجھایے نا ان دونوں کو د۔ونوں ایموشنل ہوکے میرا ستیاناس کررہی ہیں۔”صفوان بچتا بچتاتا داداجی تک پہنچا اور ان سے دونوں خواتین کو روکنے کی التجاء کی۔داداجی کو اپنے شیطان پوتے کی حالت بہت مزہ دے رہی تھی پر انھیں صفوان کی چہرے کی معصومیت اور مظلومیت دیکھ کے ترس آہی گیا۔۔
“بس کیجیے بیگم دیکھے کتنا سانس پھول گیا ہے۔اور اس عمر میں اتنی اچھل کود اچھی نہیں ہوتی۔”داداجی بھی کم شرارتی نہیں تھے۔موقع ملتے ہی مزاحیہ انداز میں شروع ہوگئے۔دادی نے ان گھوری سے نوازا۔وہ چپ ہونے کے بجائے انھیں صوفے پہ بٹھایا۔ہادیہ جو کھڑی یہ سب منظر بڑی حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔اس سے پانی منگوایا اور انھیں حوصلہ کرنے کو کہا۔۔۔
“منزہ بیٹا تم بھی بس کرو۔اور تم دونوں اس مظلوم کی بات سن تو لو۔”انھوں نے منزہ سے کہا تو مجبورا انھیں رکنا پڑا۔۔۔۔
دونوں رک گئیں تو صفوان کی جان میں جان آئی۔
“دادی امی میں آپ کو ایسا لگتا ہوں۔میں شراب توبہ أستغفر الله۔کبھی نہیں۔اور میں سچ میں دوستوں کے ساتھ تھا صبح ہی آیا ہوں۔آپ کو مجھ پہ یقین نہیں ہے تو آپ احسن سے پوچھ لیجئے۔وہ بھی تو ساتھ تھا۔ہم پرجیکٹ پہ کام کررہےتھے،”صفوان انھیں ساری حقیقت سے آگاہ کرنے لگا۔۔۔۔
“آپ کے دماغ میں یہ سب باتیں بھری کس نے؟”اس نے پوچھا دل میں اس انسان کو قتل کرنے کا پلان بناچکا تھا۔۔۔
“کل رات تمھیں آیت نے دیکھا تھا۔خود آیت نے بتایا مجھے۔”دادی طیش میں بولیں۔۔
“لو اب ولڈ وار تھری شروع ہوجائے گی۔”دادو نے آہستگی پاس کھڑی ہادیہ سے کہا۔۔
“ان کا کیا ہے دادو ہر وقت جنگ وجدل کے عالم میں ہی ہوتے ہیں دونوں۔”ہادیہ دادو کی بات پہ ہنسی دباتے ہوئے بولی۔دادو نے قہقہے کا گلا کھونٹا۔وہ اتنی سریس سچویشن میں ہنس نہیں سکتے تھے۔ورنہ دادی نے انھیں نظروں سے ہی گھور گھور کے مار دینا تھا۔۔۔
“آیت کی بچی۔بل بتوڑی چھوڑوں گا نہیں میں تجھے۔”وہ دانت پیس کے آہستگی سے بولا۔اس کا دل آیت کا گلا دبانے کا کررہا تھا۔فساد پھیلا کے پتا نہیں کہاں گم تھی۔صفوان سوچتے ہی اوپر مڑا تو دیکھا آیت ہنس رہی ہے اور مختلف شکلیں بنا کے اسے چڑا رہی ہے۔وہ بس کڑوا گھونٹ پی کے رہ گیا۔۔۔۔
“دادی آپ نے اس کی باتوں پہ یقین کیا۔آپ کو نہیں پتا میری جانی دشمن ہے وہ۔مجھے پریشان کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے وہ۔”وہ مظلوم جیسی شکل بناکے دادی سے مخاطب ہوا۔
“صفوان جی میں نے اسی طرح یقین کیا جیسےتمہاری باتوں پہ کیا تھا۔اسے دودن پورے گھر کی صفائی کرنے سزا ملی تھی نا ۔اب تمھیں ایک ہفتے تک سارے گھر کے کپڑے دھوگے۔”دادی کی عدالت نے اسے اس ناکردہ جرم کی سزا سنادی۔اوپر کھڑی آیت کے دل کو جو سکون پہنچاتھا یہ کوئی اس سے پوچھتا۔
“پر دادی۔”۔۔۔۔
“بس”وہ کچھ پولنے ہی والا تھا جہ دادی نے ہاتھ کھڑا کرکے روک۔۔
“دس کیس از کلوزڈ،”دادا جی ہنسی دباتے اونچی آواز میں بولے۔سب جانتے تھے کہ آیت نے جھوٹ بولا ہے۔لیکن صفوان نے آیت کو جھوٹ بول کے جو سزا دلوائی تھی یہ اس کی سزا تھی۔امی اور دادی صفوان کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔چاچی ،تائی امی ہادیہ اور دادو ہنسی دبانے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔
اوپر کھڑی آیت قہقہے لگا رہی تھی۔جو سب کو خاص کرکے صفوان کو سنائی دے رہے تھے۔وہ آج اسے نہیں چھوڑنے والا تھا۔
