Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 08)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

چھچھوندر تم یہاں؟”صفوان دانتوں کی نمائش کرتا آیت کے پاس آیا جو اکیلی ایک ٹیبل پہ بیٹھی سلیفی بنانے میں بزی تھی۔صفوان کو اپنے پاس آتا دیکھ کے حیران تھی۔وہ بھی مسکراتے ہوئے آرہا تھا۔ورنہ وہ تو ہمیشہ ایسے دیکھتا تھا جیسے بھوکا شیر اپنے شکار کو۔۔

“ہاں کیوں ؟میں نہیں آسکتا کیا؟”صفوان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

“نہیں کچھ ہوا نہیں ہے لیکن آج تم کیوں ٹوتھ پیسٹ کا ایڈ بنے ہوئے ہو۔خیر تو ہے ویسے ہر وقت تم مجھے کھانے دوڑتے ہو۔”وہ حیرانی میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“ویسے ایک بات بولوں؟”صفوان نے پوچھا۔۔

“تمہیں کیا ہوگیا ہے۔بھناگ تو نہیں پی کے آئے ہو جو اتنے تمیز سے بات کررہے ہو۔”آیت کی حیرانگی کی کوئی انتہاء نہیں تھی۔وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“نہیں سوچا تو کہ تمھیں کومپلیمنٹ دے دوں۔”صفوان نے نرمی سے کہا۔۔

“کہیں میں بے ہوش ہی نہ ہوجاؤں۔”آیت نے سر پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔

“آیت تم نا اس ملٹی کلر کے لہنگے میں بلکل رینبو لگ رہی ہو۔”وہ یہ کہتا تالی مارتا زور زور سے ہنسنے لگا۔آیت کا منہ کھل گیا۔۔

“آگئے نا اوقات پہ۔ویسے اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔اس گرین کرتے میں بلکل کڑوا کریلا لگ رہے ہو۔بولتے بھی کڑوا ہو۔کتنا اچھا نام دیا ہے میں نے تمھیں۔”آیت نے دانت پیستے ہوئے صفوان کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔

شانزے بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔”یار آیت دیکھ دادو لگتا ہے دادو کوئی اناؤنسمنٹ کرنے والے ہیں۔”ابھی فنگشن شروع نہیں ہوا تھا۔جیسے ہی شانزے نے کہا

آیت اور صفوان سٹیج کی طرف غور سے دیکھنے لگے جہاں دادو کھڑے تھے۔۔۔

“یہ کیا اناؤنس کرنے والے ہیں۔”صفوان نے دھیرے سے کہا۔

“فکر مت کرو۔تمہاری شادی نہیں اناؤنس کررہے۔”آیت نے صفوان کو طعنہ مارا۔۔۔

“لیڈیز اینڈ جینٹل مین جیسا کہ آپ سب کو پتا ہے کہ میرے دونوں بڑے پوتے اپنے زندگی کا اہم سفر شروع کرنے والے ہیں۔لیکن آج مجھے یہ اناؤنس کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہمارے پوتے صفوان ملک کی منگنی ہم اپنے مرحوم بیٹے کے لخت جگر آیت ملک سے کروا رہے ہیں۔اور احسن ملک کی شانزے ملک سے۔آج اسی فنگشن کے دوران ان کی بھی منگنی ہوگی۔”ان کی بات پہ سب نے تالیاں بجائیں۔بڑے سارے بہت خوش تھے۔۔۔

“کیییا!”دادو کی بات سنتے ہی آیت نے صفوان جھٹکے سے کھڑے ہوئے۔انھیں تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔

“منگنی اور اس سے ہرگز نہیں۔”دونوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے فورا انکار کردیا…

شانزے کا تو منہ کھل گیا اور احسن کا دل تو بھنگڑے ڈالنے کا کررہا تھا۔۔۔

آیت اور صفوان ایک دم دادی دادا کے پاس پہنچے احتجاج کرنے۔۔

“دادی یہ سب کیا آپ نے بغیر بتائے ہم دونوں کی منگنی طے کردی۔آپ کو تو پتا ہے مجھے یہ بل بتوڑی بلکل بھی نہیں پسند۔میں کیسے اس لڑاکا طیارے سے شادی کرسکتا ہوں۔”صفوان کا دل کررہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کردے ۔اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی شادی اس کی جانی دشمن سے تہہ کردی گئی تھی۔۔۔

“ہاں میں تو جیسے مری جارہی ہوں نا تم سے شادی کرنے کے لیے۔”آیت بھی دانت پیسے اسے کھا جانے کے موڈ میں تھی۔۔

“دادو پلیز یہ رشتہ کینسل کردیجیے۔پلیز بابا۔”سب فیملی والے وہیں تھے۔ان دونوں کا ری ایکشن دیکھ کے ہنسی دبانے کی کوشش کررہے تھے۔آیت التجائی نظروں سے رضوان صاحب کی طرف دیکھتی توکھبی اپنی ماما کی طرف۔وہ بلکل رونے والی تھی۔۔۔

“بیٹا یہ فیصلہ تمہاری دادی کا ہے۔ہم اعتراض نہیں کرسکتے۔”رضوان صاحب نے کہا تو دونوں آیت اور صفوان کا منہ دیکھنے والا تھا۔۔۔

“آیت شانزے احسن کو دیکھو وہ کچھ بول رہے ہیں نہیں نا۔تم دونوں بھی چپ چاپ منگنی کرلو۔اگر کوئی بکھیڑا کھڑا کیا تو تم دونوں کا ابھی اسی وقت نکاح پڑوا دوں گی سمجھے۔اب مجھے کوئی آواز نہ آئے۔”دادی نے بارعب انداز میں انہیں جھڑکا۔دونوں کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔

“پر دادی ایسے کیسے۔”دونوں معصومیت سے بولے۔۔

“تم لوگ پھر بولے ابھی روکو رافع زرا مولوی کا بندوبست کرو۔”دادی نے پاس کھڑے رافع کو کہا تو دونوں کی آنکھیں کھل گئیں۔۔

“نہیں نہیں دادی ہم تیار ہیں۔منگنی کے لیے۔”دادی کی بات سنتے ہی آیت نے کچھ سوچا اور جھٹ سے بولی۔صفوان اس کی بات سن کے حیران ہوگیا۔۔

“اوے بل بتوڑی یہ کیا بول رہی ہو۔”صفوان غصے سے بولا۔۔آیت نے اسے چپ کروادیا۔۔۔

“اچھی بات ہے جلدی عقل آگئی تم دونوں۔اب تیار رہو۔”دادی نے گھورا۔سب گھر والے بہت خوش تھے۔آیت بھی پھیکا سا مسکرائی پر صفوان تلملا رہا تھا۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“بات سن چھچھوندر،”مہندی کے فنگشن کے بعد منگنی ہونی تھی۔تو ابھی فنگشن جاری تھا۔اچانک صفوان کا موبائل کابپ ہوا۔تو دیکھا میسج تھا۔بل بتوڑی نمبر سیو تھا آیت کا۔۔

“کیا ہے۔”غصے والے ایموجی کے ساتھ مسیج سینڈ کیا۔۔

“دیکھ بات کرنی ہے اکیلے میں ضروری ہے۔منع مت کرنا منگنی کے متعلق ہے۔پلیز۔”آیت نے معصوم والی ایموجی ساتھ میسج بھیجا۔اس نے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تو آیت اسے ہاتھ جوڑ کے اشارہ کررہی تھی۔اسے آیت پہ ترس آگیا۔وہ مسکرایا۔اور میسج ٹائپ کرنے لگا۔۔

“اچھا مجھے گھر کے پیچھے والی سائیڈ پہ آکے ملو۔”اس نے سینڈ کیا۔آیت نے میسجر دیکھ کے سر ہلایا اور سب سے نظر بچاکے مطلوبہ جگہ پہ پہنچ گئی۔صفوان بھی پہنچ گیا۔۔

“بول بل بتوڑی کیوں بلارہی تھی۔”اس نے اکڑکےکہا۔۔

“یہ ایٹیٹوڈ کسے دکھا رہے ہو۔تمہارے اس سستے ایٹیٹوڈ کا کچومر بناکے چور بازار میں بیچ آؤں گی سمجھے۔”وہ اسے انگلی دکھاکے وارن کرنے لگی۔۔

“ہاں ہاں اب زیادہ پھیلو مت۔جو بولنا ہے جلدی بولو۔”،،،،

“دیکھو صفوان ابھی منگنی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ مت ڈالنا۔”آیت اسے سمجھانے لگی تو وہ جھٹ سے بولا۔۔

“مطلب تم اس منگنی سے خوش ہو۔”صفوان نے حیرانگی سے پوچھا۔۔

“ارے نہیں میں تو تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تم سے شادی کیا خاک کروں گی۔اگر ہم نے اس منگنی میں زرا سی بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی دادی ہمارا نکاح کروا دیں گی۔اور دادی کا کوئی بھروسہ نہیں یہ نہ ہو کہ رخصتی بھی آج ہی کروادیں ۔”آیت اسے تحمل سے سمجھانے لگیں۔۔

“تو پھر۔”صفوان نے پریشانی سے پوچھا۔

“تو میرے پاس ایک زبردست پلین ہے جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔”آیت کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی۔۔

“یار ایک تو محاورے مت مارو۔سیدھے سیدھے بتاؤ۔”صفوان اس کی باتیں سن کے کوفت کا شکار ہوچکا تھا۔۔۔

“دیکھو صفوان شادی کو کم از کم دو مہینے کا ٹائم ہے۔دادی بتارہی تھیں کہ ہمارے ایگزمز کے بعد ہے شادی۔ تو تم کسی دن اپنی گرل فرینڈ لے آنا اور یہ کہہ دینا کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرسکتے کیونکہ تم نے اس لڑکی سے شادی کر لی ہے اور پھر مجبوراً بڑوں کو رشتہ توڑنا پڑے گا۔”آیت کی باتیں وہ جیسے جیسے سن رہا تھا اس کا سر چکرا رہا تھا۔۔

“بل بتوڑی تم یہ کیا بول رہی ہے دادی اور پاپا یہ سن کے مجھے زندہ جلا دیں گے۔میری شادی۔نہیں نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا۔تم نے بہت ہی گھٹیاآئیڈیا دیا ہے۔مجھے سب ویلن سمجھیں گے۔”صفوان نے غصے سے کہا۔۔۔

“دیکھو کریلے !میرے ساتھ شادی سے بہتر ہے کہ تم ویلن بن جاؤ۔وقتی بھلے ہی سب ناراض ہوں گے پر وہ مان جائیں گے۔دیکھو پھر تمہاری جان بھی چھوٹ جائے گی اور تمہاری گرل فرینڈ سے شادی بھی ہوجائے گی کیسا۔”آیت کے سمجھانے پہ سب سمجھ رہا تھا۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“وہ سب تو ٹھیک ہے میں شادی کرلوں گا پر ایک مسئلہ ہے۔”صفوان کنفیوز سا بولا۔۔

“اب کیا مسئلہ ہے۔”آیت نے دانت پیس کر کہا۔۔۔۔

“یار میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے۔”صفوان نے کہا تو آیت کا منہ کھل گیا۔

“کیا تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے۔اور کہاں سب کے سامنے بونگیاں مارتے رہتے ہو کہ لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پہ بلا بلا۔”آیت ہاتھ ہوا میں کرکے اس کی نقل اتار رہی تھی۔۔۔

“یار اب نہیں ہے تو کیا کروں۔کچھ کر نہیں سکتے کیا۔بس یہ شادی رک جائے کسی طرح۔”صفوان نے معصومیت سے کہا۔آیت کا دل کررہا تھا کہ اپنا سر دیوار پہ دے مارے۔۔

“ایک راستہ ہے تم کوئی گرل فرینڈ بنالو۔لیکن تمہیں تو صفائی والی بھی منہ نہ لگائے۔مجھے ہی کچھ کرنا پڑا گا تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈنی پڑے گی۔”آیت نے اس کے سر پہ چپت لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں یہ صیح ہے۔اب مل کے کوئی لڑکی ڈھونڈتے ہیں تاکہ مجھے تم سے جھٹکارا مل سکے۔”آخری بات آہستگی سے کہی۔۔

“لیکن اگر ہمیں ساتھ مل کر ہی کام کرنا ہے تواب ہم لڑیں گے نہیں۔ ہمیں دوست بننا ہوگا تو فرینڈز۔”آیت نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔۔

“وقت آنے پہ تو گدھے کو بھی دوست بنانا پڑتا ہے تو فرینڈز۔”اس نے مسکرا کے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔

“تو اب سے مشن صفوان کی گرل فرینڈ کی تلاش شروع۔”آیت نے کہا تو صفوان نے تمز اپ دیا۔۔

پھر فنگشن کے دونوں نے برے برے منہ بناتے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔شانزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا ری ایکشن دے ۔احسن کا دل جھوم رہا تھا۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“ابے او بل بتوڑی یہاں کیا کررہی ہو۔”فنگشن ختم ہونے کے بعد سب اپنے کمروں میں خواب خرگوش کے نزے لے رہے تھے لیکن جس کی نیند اڑ چکی تھی۔وہ تھا صفوان۔اور آیت بھی اس کے دکھ میں برابر کی شریک تھی۔صفوان کو نیند نہیں آرہی تھی تو وہ باہر لون میں آیا کچھ تازہ ہوا کھانا تاکہ تھوڑا پرسکون ہوسکے۔پر جیسے ہی لون میں پہنچا تو سامنے آیت کو چیئر پہ بیٹھا دیکھ کے حیران ہوا۔۔۔۔

آیت اس کی آہٹ پہلے ہی سن چکی تھی اس لیے بنامڑے بولی۔۔۔

“ہاں کریلے تمہاری طرح میری نیند بھی اڑ چکی ہے۔یہ سوچ سوچ کے خون خشک ہوچکا ہے کہ یہ منگنی کیسے ختم کی جائے۔”اس نے اپنی انگلی میں چمکتی انگوٹھی کو گھماتے ہوئے اداسی سے کہا۔صفوان کو اس کی اداسی بہت بری لگ رہی تھی۔۔۔

“دیکھو آیت تم ایسے پریشان مت ہو۔ہم نے پلان بنایا ہے تو ہم اس پہ عمل بھی ضرور کریں گے۔”صفوان اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتا بولا۔ہلکی ہلکی ہوا چل چل رہی تھی۔آیت کےبال اڑ کے چہرے پہ آرہے تھے۔صفوان کو آج پہلی بار آیت بہت خوبصورت لگی تھی۔وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“لیکن صفوان اگر ہمارا پلان فلاپ ہوگیا تو۔”آیت نے خدشہ ظاہر کیا۔۔۔

” چانس ہی نہیں ہے۔تم نے فل پروف پلان بنایا ہے۔اب کل سے ہی کام پہ لگ جاتے ہیں۔”صفوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔آج پہلی بار وہ دونوں اتنے سکون سے بات کررہے تھے۔ورنہ تو دونوں ہر وقت جنگ کی حالت میں ہوتے تھے۔۔۔۔

“ایک کام کرتے ہیں صفوان ویسے بھی ہم دونوں کو نیند نہیں آرہی تو کیوں نہ ابھی سے ہی کام پہ لگ جائیں۔ہم دونوں اپنی طرف سے اپنے جاننے والی لڑکیوں کی لسٹ بناتے ہیں۔جو تم سے شادی پہ راضی ہوسکتی ہیں۔کیسا۔”آیت ایک دم ایکسائٹد ہوگئی۔۔۔۔

“یہ صیح ہے۔میں نوٹ پیڈ اور پین لے کے آتا ہوں۔”صفوان اس کی بات کی تائید کرتا اندر کی جانب دوڑا اور نوٹ پیڈ اور پین لے آیا۔۔

آیت نے لڑکیوں کے نام بولے جسے وہ جانتی تھی اور صفوان نے بھی لکھے جنہیں وہ جانتا تھا۔لسٹ تیار ہوگئی۔۔۔

“یہ لسٹ تو بن گئی۔میں کوشش کرتی ہوں کہ اپنی فرینڈز جو سنگل ہیں یا ان کی رشتے دار۔کوئی بھی بس ہمیں لڑکی چاہیے۔تاکہ اس سے میں تمہارا نکاح کروادوں اور سکون کا سانس لوں۔”آیت نے کہا۔صفوان نے سرہلایا۔

“تو پھر ملتے ہیں پاٹنر مشن کے لیے اوکے بائے۔”صفوان کھڑا ہوگیا۔

“اوکے پاٹنر۔”آیت اور صفوان نے ایک دوسرے کو تالی ماری اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔۔

اگلے دن رخصتی تھی۔سب تیار ہو چکے تھے۔رخصتی ہال سے ہونی تھی۔دلہن والے جن میں لڑکیاں اور حسان صاحب ،عامرہ اور منزہ تھے۔وہ پہلے ہی ہال کی طرف نکل گئے۔لڑکیاں اور دلہنیں پالر گئیں تھی۔احسن کی زمہ داری لگا رکھی تھی دادو دادی نے لڑکیوں کو لانے کی۔۔۔

بارات ملک ولا سے ہی نکلنی تھی۔دلہے والوں کی طرف سے رضوان صاحب ،فریال،شازیہ پھپھو اور دادو دادی تھے۔۔۔۔۔

ہادیہ نے میرون کلر کا لہنگا پہن رکھا تھا۔ماتھا پٹی ماتھے پہ سجائے بھاری زیوارت ؛ میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ملائکہ کا لہنگا گولڈن اور ڈیپ ڑیڈ تھا۔اس کی جیولری بھی کافی خوبصورت تھی۔ ناک کی نتھ بہت خوبصورت تھی۔اور کافی حسین لگ رہی تھی۔باربار امن کا خیال اسے مزید لال کررہا تھا۔۔۔۔

آیت نے آج ساڑھی پہن رکھی تھی۔نیوی بلیو اور ریڈ کلر کی۔کانوں میں بھاری جھمکے ،میک اپ اور بالوں اور ایک سائیڈ پہ ڈالے کافی اچھی لگ رہی تھی۔شانزے نہ پاؤں کو چھوتی فراک پہنی تھی جو پنکھ کلر کی تھی۔وہ بھی کافی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔

سب ہوٹل پہنچ چکے تھے۔بارات بھیآگئی تھی۔شایان نے میرون اور بلیک اور امن نے گولڈن اور گرین کنٹراسٹ کی اچکن پہنی تھی۔دونوں بہت خوش تھے ۔کافی ہینڈسم بھی لگ رہے تھے۔۔۔۔

دلہے سٹیج پہ بیٹھے تھے دلہنوں کو لاکے ان کے پہلو میں بٹھادیا گیا۔دونوں بنا پلکیں جھپکائے انہیں دیکھ رہے تھے۔ہادیہ اور ملائکہ بہت شرما رہی تھیں۔۔۔۔

صفوان کو بھی آیت بہت پیاری لگ رہی تھی۔اس سے پہلے کبھی نہیں لیکن آج آیت سے اسکی نظر ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔احسن کا بھی یہی حال تھا شانزے کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا وہ مسلسل۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جوڑوں کا فوٹو شوٹ ہوا۔پھر کھانا اور رخصتی کا شور مچا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *