Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619

Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619

Last updated:

1.0(1 ratings)
Episodes
13
Views
270.2K
Status
Completed

About this novel

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

یہ منظر ہے کراچی کے ایک بزنس کلاس کے بڑے اور خوشحال گھرانے کا ہے۔اس بڑے سے محل نما گھر کے باہر سنگ مرمر کی تختی پہ سنہرے الفاظ میں لکھا تھا۔۔۔
“MALIK VILLA”…..
باہر سے یہ جتنا بڑا لگتا ہے۔یہاں کے لوگ اتنے ہی ملنسار،اخلاقی اور خوشحال ہیں۔اس والا میں زندگی رقص کرتی ہے۔اور اس گھر کی جان ہیں ہماری Protagonist؛آیت ملک ہیں۔اور ان کے جانی دشمن اور کزن صفوان ملک بھی۔جنہیں تنگ کرکے ہماری Protagonist؛ہیروئن صاحبہ کو چس آتی ہے۔۔
اس گھر کو دادا ابو یعنی سعادت صاحب اور دادی یعنی زرینہ بیگم نے سنوار کے؛جوڑ کے رکھا ہے۔ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔اللہ نے دونوں میاں بیوی کو چار اولادوں سے نوازا۔تین بیٹے اور ایک لاڈلی بیٹی۔
سب سے بڑے بیٹے کا نام حسان ملک تھا۔جن کی شادی اپنی خالہ زاد عامرہ ہوئی تھی۔عامرہ بہت اچھی خاتوں تھیں۔خاندان کی بڑی بہو ہونے کی ساری ذمہ داری بہت بخوبی نبھائی۔ان کے چار بچے ہیں۔سب سے بڑے اور خاندان کے سب سے بڑے، ہونہارا ور پولائٹ بیٹے؛شایان ملک ۔۔جو اپنے والد کے ساتھ مل کے بزنس سنبھال رہے تھے،اس کے بعد احسن ملک جو بہت ہی شرارتی اور زندہ دل انسان ہیں۔اسی شرارت کے چکر میں گھر کے بڑوں سے ان کی عزت افزائی ہوتی رہتی تھی۔۔احسن ملک یونیورسٹی میں ایم بی اےکے سٹوڈنٹ تھے،اس کے بعد آتی ہیں ملائکہ جو بےانتہاء ڈرپوک اور شرمیلی سی ہیں۔اور ہماری ہیروئن صاحبہ کی بیسٹ فرینڈ وہ بھی یونیورسٹی میں بی ایس باٹنی کررہی تھی ۔اس کے بعد آتی ہیں سب سے چھوٹی ہما ملک۔بالی وڈڈ کی دیوانی۔شاہ رخ کی سب سے بڑی فین۔یہ انٹر کی سٹوڈنٹ ہیں۔.
دوسرے نمبر پہ آتے ہیں رضوان ملک جن کی شادی اپنی کلاس فیلو منزہ سے ہوئی ہے۔جو بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ان کے تین بچے ہیں۔
پہلے نمبر پہ آتی ہیں ہادیہ ملک۔جو اپنی تعلیم مکمل کرچکی تھیں۔خاندان کی سب سے سمجھدار اور سگھڑ بیٹی ہونے کا خطاب انہی کو حاصل تھا۔یہ شایان سے چھوٹی اور احسن سے تین سال بڑی تھیں۔بڑوں نے باہمی مشاورت سے چھے مہینے پہلے ہادیہ کا نکاح شایان سے کروا دیا تھا۔بس شایان کے کمرمیں رخصتی باقی تھی۔۔۔پھر آتے ہیں ہمارے ہیرو صفوان ملک۔جو احسن کے ہم عمر اور کلاس فیلو ہیں۔ان کی تولا شخصیت کا آج تک کسی کو اندازہ نہیں ہوا۔پل میں پل میں ماشہ۔ان کی طبیعت میں کبھی غصے کا عنصر دیکھنے کو ملتا تو کبھی شرارت کا۔خیر ان کا فیورٹ مشغلہ ہماری ہیروئن صاحبہ کو پریشان کرنا تھا۔یہ موصول کوئی اور کام کریں نہ کریں آیت صاحبہ کو تنگ کرنے کا کام بخوبی کرتے سرانجام دیتے تھے۔۔۔۔
خیر اس کے بعد آتی ہیں شانزے ملک جو ایک نمبر کی چنڈ ہیں۔پنگے لینا فیورٹ مشغلہ اور یونی میں لڑکوں سے لڑائی ہوبی۔شرارت میں احسن صاحب کو مات دیتی ہیں۔اور دونوں بنتی بہت ہے۔یہ بھی یونی میں پولیٹکل سائنس میں گریجویشن کررہی ہیں۔۔۔
تیسرے نمبر پہ آتے ہیں ذکریا ملک۔ان کی شادی سعادت صاحب کے کزن کی بیٹی فریال سے ہوئی۔فریال ایک بہت اچھی ماں اور بہو ثابت ہوئیں تھیں۔ان کو خدا نے دو اولادوں سے نوازا تھا۔بڑے بیٹے تھے امن ملک جو ہادیہ سے ایک سال چھوٹے تھے۔خاندان کے کھڑوس ،اکھڑ مزاج اور سنجیدہ ترین شخص۔اپنی بہن کی زبان میں بورنگ شخص۔یہ بھی بزنس سنبھالتے تھے۔اکھڑ مزاج ہونے کے باوجود ان کا دل معصوم سی ملائکہ پہ آگیا۔اور کب وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔انہیں خود بھی نہیں پتا چلا۔دادی کو پہلے ہی پتا تھا کہ وہ ملائکہ کو پسند کرتا ہے سو دونوں کی نکاح بھی شایان ہادیہ کے نکاح والے دن ہی کروا دیا گیا۔ملائکہ تو امن سے بچتی پھرتی تھی۔اسے امن سے بہت ڈر لگتا تھا۔جیسے ہی وہ امن کو دیکھتی تو جھنیپ جاتی تھی۔۔۔۔
پھر آتی ہیں ہماری ہیروئن صاحبہ یعنی آیت ملک۔ایک نمبر کی شیطان۔الٹی کھوپڑی کی۔جو چیز آیت میڈیم کو چاہیے تو بس چاہیے۔یہ بھی شانزے کے ساتھ پولیٹکل سائنس کی سٹوڈنٹ تھی۔فیورٹ مشغلہ صفوان کو تنگ کرنا۔اس کی ٹانگ کھنچنا اور اس سے جھگڑنا۔۔آیت جتنی چنچل تھی اتنی ہی ایموشنل بھی تھی۔اس میں اور امن میں پانچ سال کا فرق تھا۔صفوان آیت سے تین سال بڑا تھا۔جب وہ صرف پانچ سال کی تھی تو ان کے والد کا دل کے دورے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔جس کی وجہ سے وہ اور امن بچپن میں شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔اس کے تایا ابو اور دادا نے انہیں کبھی بھی ذکریا صاحب کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔امن پھر بڑا تھا لیکن آیت تو بہت چھوٹی تھی۔اس لیے امن نے کبھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالی ہمیشہ اس کی خواہش پوری کی۔۔۔۔
اس بعد آتی ہیں آیت کی پھپھو شازیہ جن کی شادی اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ان کے دوبچے تھے رافع جو کہ آیت کا ہم عمر تھا اور اس کے بعد ان کی بیٹی تھی رعنا جو ہما کی ہم عمر اور ایک نمبر کی پڑھاکو تھی۔۔
سب کزنز کی پاٹنرشپ تھی۔ بڑے تین شایان ،ہادیہ اور امن سلجھے اور سمجھدار تھے تو بس کام سے کام رکھتے تھے۔لیکن صفوان ۔احسن ،رافع ہمیشہ سے بیسٹ فرینڈ رہے ہیں۔اور آیت،ملائکہ ،شانزے ہمیشہ ساتھ اور ان کی ہیڈ تھی آیت بی بی۔ہما اور رعنا ساتھ رہتی تھی جب پھپھو کراچی آتی تھیں۔

Episodes

Tera Mera Piyar (Episode 01)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

“دادی !آپ کو پتا ہے۔”وہ رازداری سے اپنی دادی سے بولی۔دادی بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس کی ایک ایک بات بڑے دھیان سے سن رہی تھیں۔اس کی کزنز یا تو کرائم پاٹنرز زیادہ کہہ سکتے ہیں۔ہنسی دبانے کی کوشش کررہی تھیں۔وہ جانتی تھی اپنی کزن کو جو کوئی نہ کوئی پنگا ضرور کرے گی۔۔

“کیا پتر”.دادی استفسار کرنےلگیں۔

“کیسے بتاؤں دادی!بتاتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے لیکن کیا کروں بتانا بھی تو ضروری ہے۔”وہ اور ایکٹنگ میں بالی ووڈ کی ہیروئنز کو پیچھے چھوڑ گئی۔۔

“اور ایکٹنگ کی دکان”اسکی کزن ہنسی دباتے ہوئے دوسری کے کان میں بولی۔۔

“نہیں یار دکان نہیں ہے۔پوری سپر مارکیٹ ہے یہ”دونوں ہنسنے لگیں۔اس نے دونوں کو گھوری سے نوازا۔دونوں نے اپنے ہونٹوں پہ شہادت کی انگلی رکھ دی۔۔۔

“کیا پتر جلدی بتا نا۔میرا دل بیٹھا جارہا ہے”۔اس کے سسپنس کے چکر میں دادی کا ہارٹ فیل ہونے والا تھا۔۔۔۔

“دادی جو میں آپ کو بتانے جارہی ہوں۔اس سے آپ کا دل کھڑا بھی ہوجائے گا”۔۔۔۔۔۔

وہ صوفے سے جھٹکے سے اٹھی۔اس کی بےڈھنگی بات پہ اس کی کزنز کی منہ سے ہنسی کے فوارے چھوٹے۔وہ ایک دم ان کی طرف مڑی۔انھیں ایسے دیکھنے لگی جیسے زندہ نگل جائے گی۔دونوں نے بامشکل ہنسی روکی۔۔

“پتر اب بتا بھی دےکیا بات ہے۔کیوں ہارٹ اٹیک دلوانا چاہتی ہے.”اس کی دادی بےچینی سے دل پہ ہاتھ رکھتی بولیں۔

“اوہو دادی! کیا آپ بھی۔میں یہاں سسپنس ناولز کی طرح آپکو سارا واقعہ سنارہی ہوں۔اور کہاں آپ بورنگ لوگوں کی طرح بول رہی ہیں سیدھے سیدھے بتا۔سارا مزا خراب ہوجائے گا ایسے،”

“تم اب بتا بھی دو۔کہ اگلے مہینے بتانا ہے۔”اس کی ایک کزن اس کی ایکٹنگ سے تنگ آگئی۔۔۔

“تم چپ کرو چڑیل ۔”

“میں تمھیں کتنی بار کہا ہے میرا نام خراب مت کرو۔ تم خود ہوگی چڑیل۔”اس کی کزن غصے میں آگئی۔

“یار یہ چڑیل تھوڑی ہے،یہ تو بل بتوڑی ہے،”دوسری کزن نے لقمہ دیا۔وہ غصے میں کچھ بولنے ہی والی تھی کہ دادی جھنجھلا گئیں۔

“تم سب لڑنا بند کرو،تو بتا پتر؟”دادی اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

“تو میں کہاں تھی؟ہاں”وہ یاد آتے ہی بولی۔

“دادی کل رات میری آنکھ شدید پیاس کی وجہ سےکھل گئی۔مجھے پانی کی شدید طلب ہورہی تھی۔میں نے دیکھا تو جگ خالی تھا۔”۔۔

“تو تم پانی لینے نیچے آئی اور تم ایک سایہ دیکھا اور تم بھاگی روم کی طرف لیکن اس نے تمہیں پکڑلیا۔اور تم بہت مشکل سے اس کے چنگل سے نکل کے آگئی۔ہے نا۔وہی ٹیپکل گھسی پٹی ہارر سٹوری جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔تھوڑی ہارر مویز دیکھا کرو دماغ پہ اثر ہوگیا ہے تمہارے”،،،،اس کی کزن اس کے بولنے سے پہلے ہی کود پڑی اور اپنا موقف دینے لگی۔۔۔

“درفٹے منہ تیرا! اس بکواس کے لیے اُس وقت سے تو میرا دوسیر خون کم کرچکی ہے۔منحوس ماری۔”اس کی دادی اسے سرپہ چپت لگاتی اسے گالیوں سے نوازنے لگیں۔

“یار دادی بکواس کررہی ہے یہ،”وہ اپنی کزن کو تیکھی نظروں سے دیکھتی دانت پیس کے بولی۔اور ایسے اشارے کررہی تھی۔جیسے کہہ رہی ہو بعد میں مل تُو مجھے،جو اس کی گھوریوں کو نظرانداز کرتی ٹوتھ پیسٹ کا ایڈ بنی ہوئی تھی۔۔۔

“جب میں یہاں ہال میں پہنچی تو مجھے کسی کے پیروں کی دھپ دھپ کی آواز آئی”۔وہ سڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔

“پھر”اس کی کزن نے تجسس سے پوچھا۔

“پھر کیا مجھے لگا کہ کوئی چور ہے۔میں یہ واس اٹھایا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔”وہ واس اٹھاتے آہستہ آہستہ چل کے دکھانے لگی۔۔۔

“دھیرے دھیرے کیوں؟”اس کزن سوال پوچھنے لگی۔۔

“کیونکہ اسے ہمارے سامنے بونگی بھی تو مارنی تھی”دوسری دانت نکالتے ہوئے بولی۔۔۔

“تم لوگوں کو اگر ایسے ہی چپڑ چپڑ کرنی ہے تو تم دونوں اپنی تشریف کا ٹوکرا یہاں سے اٹھا سکتی ہو،”وہ ناک پھلائے انھیں باہر جانے کو بول رہی تھی۔دونوں نے اس کی بات سن کے نفی میں سر ہلایا.

پھر وہ اسی پوز میں واپس آئی۔۔

“آگے بھی کچھ بولے گی کہ اگلے سال آجاؤں تیری بات سننے”۔دادی نے اسے ٹوکا۔۔۔

“ہاں !تو جیسے میں واس لے کے آگے بڑھی تو وہ انسان کچھ گنگنارہا تھا۔مجھے تجسس ہوا۔میں نے دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں دادی کو پیارا پوتا اورمیرا ازلی دشمن وہ چھچھوندر تھا۔”وہ کڑوا سا منہ بناکے بولی۔

“ہہہہہہم”دادی نے آنکھیں دکھائیں تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی درستی کرنی پڑی۔

“می میرا مطلب تھا ؛صفوان ۔”…….

“تو اس میں ایسا کیا تھا اس میں جو تو نےمیرے دوگھنٹے ضائع کروادیے اپنے بے تکے سسپنس کے چکر میں ۔”دادی کو اب اس کی بے تکی باتوں پہ غصہ آنے لگا تھا۔۔۔

“دادی ایک تو آپ سے صبر بلکل نہیں ہوتا،کلائمکس تو ابھی باقی ہے میرے دوست۔”اس نے شاہرخ خان کے ڈائلاگ کی ٹانگ توڑ دی۔۔۔۔۔

“پکچر تو ابھی باقی ہے میرے دوست؛یہ ڈئلاگ تھا”اس کی کزن نے اس کی درستی کی۔۔

“ہاں ہاں:وہی وہی،”۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں اندھیرے میں پلر کے ساتھ لگ کے کھڑی ؛سب ملاحظہ کررہی تھی۔تو دیکھا آپ کا لاڈلا پوتا نشے میں ٹُن تھا۔جھوم تو ایسے رہا تھا کہ جیسے لندن کی پرنسس کیٹ سے اس کی شادی ہونے والی ہو۔”۔۔۔۔۔

“جاہل عورت پرنسس کیٹ کی شادی پرنس ولیم سے پہلے ہی ہوچکی ہے۔اور اس بڈھی گھوڑی کا بھائی کیا کریں گے۔”اسکی کزنز کو اس بات کا دکھ نہیں تھا کہ صفوان کو اس نے نشے کی حالت میں دیکھا بلکہ یہ دکھ تھا کہ پرنسس کیٹ کی شادی وہ صفوان سے کراچکی تھی۔۔۔۔

“یہ پر پرنشس کُوٹ کون ہے”دادی عجیب سا نام لیتی بولیں۔اس نے ماتھا پیٹ لیا۔دادی کو کیٹ کی پڑی تھی۔یہ نہیں کہ ان کا پوتا نشے میں تھا۔۔

“ارے آپ کو تو اس بات کی ٹنشن ہونی چاہیے کہ وہ چھچھوندر ،کریلا نشے میں تھا۔آپ سب کو کیٹ کی پڑی ہے۔شہہ،٫”وہ سر کو جھٹکا دیتی ان سب کو سمجھانے لگی۔

“ہائے میرے اللہ صفوان نشے میں تھا۔اُس کی تو خیر نہیں۔”دادی اپنی چھڑی کو ہوا میں لہراتے غصے سے بولیں۔

وہ شاطر ہنسی ہنسنے لگی۔اس کی کزن نے آبرو اچکا کر اسے شک سے دیکھا۔۔۔

“بھائی ایسے نہیں ہیں۔وہ ایسا بلکل بھی کرسکتے۔”ان میں اس ایک صفوان کی بہن بھی تھی۔اسے پتا تھا کہ اس کی کزن اس کی بھائی کی خون کی پیاسی تھی۔اسے تنگ کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی تھی۔

“چپ کرو تم بھائی کی چمچی۔”وہ اسے ڈانٹتے دادی کی طرف مڑی۔۔

“اور تو اور دادی ایک گانا بھی گارہا تھا۔جو گانے کے بول تھے۔کیا بتاؤں دادی۔أستغفر الله،”وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔۔۔

“کیا تھے”دادی نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے پوچھا۔وہ جھٹ سے کھڑی ہوئی اور گانے لگی۔۔

“او ساقی ساقی رے ساقی

آہ پاس آرہ نہ جائے کوئی خواہش باقی”،،،

وہ اپنی سریلی آواز میں اونچی اونچی آواز سے گانے لگی۔اس کی آواز سن کر ان سب نے کان بند کرلیے۔۔۔

“ابے بل بتوڑی اپنا پھٹا ڈھول بند کر۔بدتمیز”وہ گارہی تھی کہ اس کی ایک کزن نے کانوں پہ ہاتھ رکھے دہائی دی۔وہ منہ بناتی گانا بند کرگئی۔۔۔۔

“سوچیے دادی وہ کسی ساقی کو تلاش کررہا تھا۔کہیں اس کی خواہش نہ باقی رہ جائے۔اور یہ بھی کہہ رہا تھا۔ڈارلنگ،جانو مجھے چھوڑ کے مت جاؤ نا۔”۔

وہ تیلی لگاچکی تھی۔اپنے شیطانی دماغ کی ساری خرافات اس نے دادی کے دماغ میں انڈیل دی۔وہ یہ سوچتے مسکرارہی تھی کہ اس کے جانی دشمن کی اب بینڈ بجے گی۔اور اسے فری میں انٹرٹینمنٹ ملے گا۔بیھٹے بٹھائے میلو ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا۔۔۔

“صفوان بھائی تو گئے۔آج دادی انھیں دن میں تارے دکھانے کے موڈ میں ہیں۔”وہ دادی کی طرف دیکھتی اپنی دوسری ساتھی کے کان میں بولی۔دادی جو غصے سے تلملا رہی تھیں۔۔

“آج آنے دو صفوان کو۔انتظام کرتی ہوں میں اس کا اور اس کی ساقی کا”دادی غصے سےلال ہورہی تھی۔۔۔

“تو مسٹر چھچھوندر !میری شکایت کی تھی نا۔اب تم دیکھنا کریلے تمہیں انگلیوں پہ نچوایا تو میرا نام بھی۔۔۔۔آیت ملک نہیں۔”وہ دل ہی دل میں صفوان سے مخاطب ہوئی۔اپنے آپ کو دل ہی دل میں شاباشی دے رہی تھی۔اور دھیرے دھیرے مسکرا بھی رہی تھی۔اب کچھ دیر میں بم پھٹنے والا تھا۔

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 1 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Cousin BasedfunnyInnocent Heroinelove story basedRomantic Love StoryRomantic Urdu NovelsSocial IssuesUrdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *