Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 06)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

ویسے جی مجھے لگتا ہے۔ہمیں اب ہادیہ اور ملائکہ کی رخصتی کردینی چاہیے۔”دادی نے داداجی سے کہا۔جو ٹی وی لاونج میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔دادی کو اچانک خیال آیا تو اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں۔۔۔

“بیگم آج اچانک کیسے یاد آگیا آپ کو۔”دادا جی ان کی بات پہ حیرانگی سےان کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔

“دیکھیے نکاح کو چھے مہینے ہوچکے ہیں۔اب ہمیں رخصتی کردینی چاہیے۔میں نے تو اور بھی کچھ سوچ رکھا ہے۔”دادی نے داداجی سے کہا۔۔

“چلو آج شام سب آجائیں تو بات کرتے ہیں۔”دادا جی نے اپنا چشمہ سائڈ پہ رکھا۔دادی نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔۔۔

“ویسے کیا سوچ رکھا ہے آپ نے۔”دادا کی نے ان سے استفسار کیا۔تو وہ پراسرار سا مسکرادیں۔

“یہ تو شام کو ہی پتا چلے گا۔”۔۔۔۔

داداجی سوچنے لگے کہ آخر انکے دماغ میں کیا خرفات پک رہی ہے۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“یہ دنیا؛یہ محفل میرے کام کی نہیں ۔میرے کام کی نہیں”صفوان واشنگ مشین میں کپڑے ڈالتے گارہا تھا۔۔یونی سے آنے کے فوراً بعد دادی اسے لانڈری لے گئیں اور کپڑوں کا ڈھیر دیے دھونے کے لیے۔۔۔

“اتنے سارے کپڑے؛کہیں کپڑے دھوتے دھوتے میرا انتقال ہی نہ ہوجائے۔”جیسے ہی اس نے کپڑوں کا ڈھیر دیکھا اس کا منہ کھل گیا کہ وہ ب کیسے اتنے سارے کپڑے دھوئے گا۔پاس کھڑی دادی نے اس کے سر پہ چپت لگائی۔۔۔

“صفوان یہ صرف آج کے کپڑے ہیں۔ابھی توتجھے پورے ایک ہفتے کپڑے دھونے ہیں۔”دادی نے حکم سنایا۔تو صفوان مصنوعی آنسو لیے انکی طرف مڑا۔۔۔

“زینی یہ آپ بھی جانتی ہیں میں نے کچھ نہیں کیا وہ آیت سب جھوٹ بول رہی تھی۔”صفوان نے بچارگی سے کہا۔۔۔

“میں دادی ہوں تم لوگوں کی جہاں تم لوگوں کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے چار قدم آگے میں کرسی لگا کے بیٹھتی ہوں۔تمہارے باپ کی ماں ہوں میں۔مجھے پتا ہے کہ آیت بھی جھوٹ بول رہی تھی اور تم نے بھی جھوٹ بولا تھا۔اسے سزا ملی تھی تو تمھیں بھی ملنی ہی چاہیے تھی۔اب چپ چاپ کام میں لگ جا۔”دادی اس کے کان کھینچ رہی تھیں۔وہ حیران تھا کہ دادی کو کیسے پتا کہ اس نے آیت کے متعلق جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔

“پر ۔”وہ معصوم سی شکل بناتے بولا کہ دادی نے اسے لاٹھی دیکھائی وہ کام میں لگ گیا۔۔۔

“واقعی یہ دنیا اور محفل تم جیسے نکمے کے کسی کام کی نہیں ہے۔اس لیے تم ایک کام کرو۔مرہی جاؤ۔میری تم جیسے عذاب سے جان تو چھوٹے۔”آیت ڈھیر سارے کپڑے لیے ابھی لانڈری میں آئی تھی کہ اس کا کھانا سن کے ہنستی اس کے زخموں پہ نمک چھڑکنے لگی۔اسے ایسے کام کرتا دیکھ اس کے دل کو سکون مل رہا تھا۔۔

“مجھے تو لگتا ہے تم اس دنیا صرف میرا خون چوسنے ہی آئی ہو۔ڈریکولن۔”وہ دانت پیس کے بولا۔

“چھچھوندروں کے ولی عہد،چپ چاپ کام کرو۔فضول میں اپنا اور میرا ٹائم مت ویسٹ کرو۔میرے کمرے کے پردے اور بیڈ شیٹ بہت گندلی ہوگئی تھی۔تو یہ بھی دھودو۔”وہ سارے کپڑے اس کے منہ پہ پھینکتی معصومیت سے بولی۔۔۔

“۔تم مجھ سے بدلہ لے رہی ہو نا۔یہ صاف پردے مجھ سے دھلوارہی ہو۔کچھ تو خدا خوفی کرو یا۔مجھ غریب پر رحم کرو۔”آیت اس کی حالت کا مزہ لینے کے لیے صاف پردے اور بیڈ شیٹ اسے دینے آئی تھی۔کچھ دن پہلے تو پردے چینج ہوئے تھے۔۔

“ہاہاہاہاہاہا۔میری چغلی کی تھی نا۔اب بھگتو۔”وہ اترا کے بولی۔۔

“میں دیکھ لوں گا تمھیں۔”صفوان بس کڑھ ہی رہا تھا۔اس کا دل کررہا تھا کہ آیت کو واشنگ میشن میں ڈال کر مشین آن کردے لیکن وہ کوئی اور فساد بلکل بھی افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔

“روز دیکھتے ہو نا۔پھر بھی اگر شوق ہے تو خوشی سے؛تسلی سے دیکھ لینا۔کتنے زیادہ کپڑے ہیں۔ٹائم بھی لگے گا۔اب تم کام کرو اوکے بائے۔”وہ اسے چڑاتی جانے لگی لیکن اچانک کچھ یاد آنے پہ مڑی۔

“ارے ہاں

Happy laundry day.”

وہ دانتوں کی نمائش کرتی اسے آگ میں جھونک گئی۔صفوان کا بس جل ہی رہا تھا۔اور دل ہی دل میں بدلہ لینے کا پلان بنارہا تھا۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“ابے یار یہ اندر کیا میٹنگ چل رہی ہے۔”گھر کے سارے بچے لاونج میں بیٹھے تھے۔صفوان بس آیت کو گھور رہا تھا۔وہ اسے کچا چپا جانے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔ ۔۔

آیت ڈھیٹ بنی ہنس رہی تھیں۔سب بڑے دادو کے روم میں تھے۔شایان اور امن بھی اندر انہی کے ساتھ تھے۔ہاہر سب لوگ بڑے تجسس میں تھے کہ آخر اندر کھچڑی کیا پک رہی ہے۔۔۔

شام کو حسان صاحب اور رضوان صاحب شایان اور امن کے آنے کے بعد سب خواتین سمت دادو دادی نے انہیں کمرے میں بلالیا۔۔۔

شانزے ،آیت اور ملائکہ مسلسل لاونج میں چکرارہی تھیں۔انہیں بہت تجسس ہورہا تھا۔ہما اور صفوان انہیں چکراتے دیکھ بیزار ہورہے تھے۔احسن اپنے اندازے لگا رہا تھا۔۔۔

“کہیں گھر والوں کو ہمارے کسی کانڈ کے بارے میں تو نہیں پتا چل گیا۔لیکن ہم نے کونسا ایسا کانڈ کیا ہے جس پہ سیکرٹ میٹنگ ہورہی ہے۔”احسن سوچتے اندازے لگارہا تھا۔صفوان بس بیزار سے منہ بنارہا تھا۔ہادیہ اچانک کمرے سے نیچے آئی تو سب لڑکیاں لپک کےاس کے پاس پہنچی۔۔

“ہادیہ آپی آپ کو کچھ پتا ہے کہ دادی کے کمرے میں ارجنٹ میٹنگ کیوں ہورہی ہے۔”۔۔۔۔۔

“مجھے تو کچھ بھی نہیں پتا۔”ہادیہ نے انکار کردیا۔۔۔

“پر کچھ اندازہ تو ہوگا۔”ملائکہ انگلیاں مروڑتے ہوئے بولی۔۔۔

“ارے ہادیہ آپی ان چڑیلوں کو کہیں کچھ دیر سکون کرلیں ۔پورے لاونج میں ایسے چکر لگارہی ہیں جیسے یہاں کوئی میراتھون ہو۔اور ان سب نے حصہ لیا ہو”صفوان نے کڑوا سا منہ بناکے کہا۔۔۔

“کریلے تم چپ کرو۔”آیت نے اسے لتاڑ دیا۔۔

“تم دونوں بس ہر جگہ شروع مت ہوجایا کرو۔”ہادیہ نے دونوں کو ڈانٹا۔۔۔

“یار یہاں کھڑے رہنے سے پتا نہیں چلے گا۔ہم چل دیکھتے ہیں۔کہ آخر اندر کمرے میں کیا کچڑی پک رہی ہے۔”شانزے نے ترکیب دی۔۔

“ہاں یہ صیح ہے چلو۔”تینوں جانے لگی کہ احسن پیچھے سے بولا۔۔۔

“رکو !میں بھی چلوں گا۔”احسن کی بےچین روح اسے کہاں بیٹھنے دے سکتی تھی۔اسے بھی جاننا تھا کہ آخر بڑے کیا کھچڑی پکا رہےتھے۔۔

صفوان ؛ہما اور ہادیہ وہیں تھے۔انھیں کوئی دلچپسی نہیں تھی ان سب باتوں میں۔۔

“سنو کیا بول رہے ہیں۔”چاروں جیسے ہی دروازہ تک پہنچے تو بند دروازہ سب کی ناک چڑارہا تھا۔آیت کان لگا کے سننے کی کوشش کرنے لگی کہ اندر چل کیا رہا ہے۔پیچھے احسن شانزے اور ملائکہ بھی کھڑے سب سننے کی کوشش کررہے تھے۔۔

احسن کو جب کچھ سنائی نہیں دیا تو آیت سے بولا کہ وہ سننے کی کوشش کرے۔۔

آیت کے پیچھے تینوں کھسر پھسر رہے تھے تو آیت کو تپ چڑھی۔

“اوے تم لوگ اپنے منہ بند نہیں رکھ سکتے۔کچھ سنائی نہیں دے رہا۔یہاں آخر کیا ہورہا تھا۔”آیت دانت پیس کے بولی۔۔

“اس بل بتوڑی سے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔”ملائکہ آیت کو سائڈ پہ کرتی خود کان لگا کے سننے لگی.کہ اچانک دروازہ کھلا۔ملائکہ دروازہ سے ٹیک لگا کے سب سن رہی تھی کہ دروازہ کھولنے سے اپنا آپ سنبھال نہیں پائی اور سیدھا سامنے والے انسان کے سینے سے ٹکرائی۔۔۔

سامنے امن کھڑا تھا۔ملائکہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے تھا۔امن اسے گھور رہا تھا۔۔

“تم یہاں کیا کررہی ہو؟”وہ غصے سے بولا۔سب بڑے پیچھے کھڑے مسکراہٹ دبائے دیکھ رہے تھے۔۔۔

“وہ وہ میں:آیت کے کہنے پہ آئی تھی،”ملائکہ نے پیچھے مڑکے دیکھا تو وہاں پہ کسی کا نام نشان بھی نہیں تھا۔جیسے ہی دروازہ کھلا۔سب ملائکہ کو چھوڑ کے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔اس نے اپنے پیچھے کسی کو نہ پاکے معصوم سی شکل بنائی۔۔۔

“وہ میں ؛وہ آیت۔”ملائکہ کی بوکھلاہٹ دیکھ کے امن کے چہرے پہ مدھم سے مسکراہٹ آئی۔۔

ملائکہ کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا وہ کیا بولے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ الٹے پیر ایسے بھاگی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔اس کی رفتار کے دیکھ کے امن سمیت سب ہنسنے لگے۔۔۔

“آیت چڑیل؛مجے چھوڑ کے بھاگ گئی اور وہ بھائی اور شانزے بھی اس کے ساتھ مل گئے۔چھوڑوں گی نہیں۔گن گن کے بدلے لوں گی سب سے منحوس۔”وہ دانت پیستی سب کو القابات سے نوازتی جارہی تھی کہ سامنے آیت اور گینگ نظر آیا۔وہ فل غصے میں ان تک پہنچی۔۔

“بل بتوڑی!مجھے وہاں اکیلے اپنے ڈریکولا بھائی کے پاس چھوڑ کے آگئی تھی۔شرم آنی چاہیے تمھیں اور بھائی آپ اور شانزے بھی مجھے تن تنہاء اس جن کے چنگل میں چھوڑ کے آگئے۔پتا ہے کیسا گھور رہا تھا جیسا میں نے اس کی کوئی قیمتی چیز چرالی ہو۔”وہ منہ پھلائے غصے سے سب بولے جارہی تھی۔۔

سامنے آیت اور سب کے ایکسپرینشنز ایسے تھے جیسے سچ میں اس کے پیچھے جن کھڑا ہو۔وہ اسے مسلسل اشارے کررہے تھے چپ رہنے کے۔لیکن اسے اپنا غصہ بھی تو نکالنا تھا۔۔

“کیا شش شش !”وہ آیت کے چپ رہنے کے اشارے دیکھ کے بولی۔۔۔

“دیکھو آیت آج تم مجھے چپ نہیں کرواسکتی۔تمہارا بھائی ایک نمبر کھڑوس،سڑو،بورنگ اور۔”۔۔۔۔

“اور۔۔۔”وہ مزید کچھ بولنے ہی والی تھی کہ اسے اپنے کان کے قریب بھاری خمارآلود آواز سنائی دی۔وہ غصے میں تھی تو بولی۔۔

“ارے ایک منٹ۔”اس نے جیسے ہی کہا تواسے لگا پیچھے سے امن کی آواز آئی تھی۔جھٹکے سے مڑی تو دیکھا امن سینے پہ دونوں بازو لپیٹے سب بڑے غور سے سن رہا تھا۔اس نے پھر پیچھے دیکھا تو آیت اور گینگ پھر اسے دھوکہ دے کے بھاگ گیا تھا۔اس نے معصوم سی شکل بناکے امن کے کو دیکھا جو اسے بڑی محبت سے دیکھ رہا تھا۔لیکن ملائکہ کو لگ رہا تھا کہ یہ اس کا آخری دن ہے۔۔

امن نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے اپنے اتنے قریب کیا کہ ان دونوں کے بیچ ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا۔۔

“میری شالو کے منہ میں زبان بھی ہے۔مجھے لگا تھا کہ تم گونگی ہو لیکن آج جب تمہارے منہ سے اپنے لیے تعریفی کلمات سنے تو لگا کہ سچ میں میری شالو کے منہ میں زبان ہے۔”وہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔ملائکہ اس کی شرٹ ہاتھوں میں جکڑے خود پہ قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔وہ بہت نروس ہورہی تھی۔۔۔

“وہ ا ام امن وہ میں کہہ رہی تھی کہ۔”وہ لڑکھڑاتے لہجے میں صفائی دینے کی کوشش کرنے لگی۔امن گہرا مسکرایا۔

“ابھی تم نے کہا نا کہ تم نے میری کوئی قیمتی چیز چرالی ہے۔”اس کے لہجے میں محبت : سکون تھا۔اپنی طبیعت کے برخلاف وہ بہت نرمی سے بول رہا تھا۔ملائکہ اس کے حصار میں پیسنا پیسنا ہورہی تھی۔اس کے سہارے ہی کھڑی تھی ورنہ کب کی زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔

“تم نے میرا دل چرایا ہے۔اور اب اس کی سزا تمھیں ساری زندگی میری پناہوں میں رہ کے گزارنی ہے۔اور جہاں تک بات اکھڑ طبیعت کی ہے تو تمہارے لیے میں بہت نرم مزاج ہوں۔”وہ اسکے چہرے پہ آتی بالوں کی لٹوں کو پیچھے کرتا بولا۔۔۔

“م میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”اس نے نظریں جھکائے اپنی صفائی پیش کی۔امن نے اس کی ٹھوڑی نے نیچے انگلی رکھ کے اس کا جھکا چہرا اٹھایا۔۔

“جو بھی مطلب تھا اب تمھیں اس جن کی دسترس میں آنا ہے۔اس مہینے کے آخر میں رخصتی رکھی ہے دادی نے تو تیار رہنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری ہونے کےلیے۔”اس نے ملائکہ کے ماتھے کو چوما اور پیچھے ہوگیا۔ملائکہ اس کی باتوں پہ حیران ہوگئی کہ اس مہینے کی آخر میں اسے اس جن کے پاس جانا ہوگا جس کی نظروں کی تپش وہ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *