Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619 Tera Mera Piyar (Episode 11)
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode 11)
Tera Mera Piyar by Syeda Shah
“صفوا ن ن۔”آیت صفوان کے کمرے آئی تو دیکھا وہ وہاں نہیں تھا۔
“پتا نہیں کہاں چلا گیا کریلا۔جب ضروری کام ہوتا ہے تب ہی اسے غائب ہونا ہوتا ہے۔”آیت خود سے باتیں کرتی اسے برا بھلا کہہ رہی تھی۔اچانک واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ بال رگڑتا باہر آیا۔شاید نہاکے نکلا تھا۔آیت کو دیکھ کے اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی ۔۔۔۔
“تم یہاں آیت عرف بل بتوڑی کچھ کام تھا کیا۔”صفوان بولا۔آیت اس کی آواز سے ڈرگئی کیونکہ اس نے دروازہ کھلنے کے آواز نہیں سنی تھی۔وہ خود کو نارمل کرتی ہوئی بولی۔۔
“اف ڈر دیا تم نے کریلے۔ہاں کام تھا۔”آیت صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
“کیا کام تھا میڈم اب بولو بھی۔کہ انویٹشن دوں۔”صفوان بھلے ہی اس سے محبت کرتا تھا لیکن اسے تنگ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔۔۔
“اب زیادہ ٹیپکل الفاظ یوز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہیں یہ بتانے آئی تھی کہ ہمارا کام ہوگیا ہے۔”آیت جھٹکے سے صوفے پہ بیٹھی۔صفوان بھی صوفے پہ بیٹھا۔اس کی بات پہ اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“کونسا کام۔”۔۔۔۔
“ارے وہی لڑکی والا۔ہر بار کی طرح بھنڈ نہ ہوجائے تو میں اس لڑکی سے مل آئی ہوں۔لڑکی بہت اچھی ہے۔وہ مان گئی ہے۔بس اس کے پیرنٹس کو منانا باقی ہے۔”وہ کھڑی ہوکے اس ایک ایک بات بتانے لگی۔ صفوان جو جھٹکا لگا وہ تو اس کے ساتھ رہنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔آیت مڑی کے صفوان کے چہرے پہ خوشی کی لہر دیکھ سکے لیکن یہ کیا اس کے چہرے پہ خوشی کی جگہ غصہ تھا۔۔۔۔۔
“کیا ہو صفوان تم خوش نہیں ہوکیا۔”آیت اس کے قریب آتے ہوئے بولی۔صفوان آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔آیت کو اس کا رویہ عجیب لگ رہا تھا۔آیت پیچھے کو کھسک رہی تھی۔صفوان کے قدم اس تک آرہےتھے۔کھسکتی وہ دیوار سے جالگی۔صفوان نے آیت دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھ کے فرار کے سارے راستے بند کردیے۔۔۔۔
“اب بولو کیا بول رہی تھی۔”صفوان نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے خمارآلود لہجے میں کہا۔۔۔
آیت کو تو اس کی قربت سے ٹھنڈے پیسنے آنے لگے۔
“وہ می میں بول رہی تھ تھی لڑکی۔”اس گڑبڑانے لگی۔صفوان مسکرایا۔۔۔
“تم اب اس لڑکی کو منع کر دو کہ میں شادی نہیں کرسکتا۔”اس نے بڑے آرام سے آیت کے سر پہ بم پھوڑا۔۔۔۔
“لیکن کیوں۔تم پاگل ہو کتنی مشکل سے ہمیں اچھی لڑکی ملی ہے۔”آیت کو اس کی بات پہ جھٹکا لگا۔وہ حیران تھی کہ آخر اسے ہوکیا گیا ہے۔۔۔
“کیونکہ میں تم سے اب شادی کروں گا۔تم میرا سب کچھ بن چکی ہو۔میں تمہیں چاہنے لگا ہوں۔سمجھی۔”وہ آیت کے بالوں سے کھیلتا اس کے کان میں جان لیوا سرگوشی کررہا تھا۔آیت بہت حیران تھی اور نروس بھی ہورہی تھی۔اس نے صفوان کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے دور کرنے کی کوشش کی۔لیکن اسے کوئی فرق نہ پڑھا۔۔۔
“تت تم پاگل ہوگئے ہو۔سچ میں مجھے لگتا ہے تم نشہ کرنے لگ گئے ہو۔صفوان تت تم تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے نا۔”آیت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔اس کا لہجہ ابھی لڑکھڑا رہا تھا۔صفوان دھیرے سے اس کی بات پہ مسکرایا۔۔۔۔
“میری جان پاگل ہوگیاہوں تمہارے لیے۔ اب تمہیں اپنا بناکے ہی رہوگا۔تم صرف میری ہو ۔اب شادی کے لیے تیار رہو۔اوکے۔”صفوان نے اظہار کیا لیکن ایت کی تو جان ہی نکل گئی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ صفوان اس کے عشق میں مبتلا ہوجائے گا۔۔۔
“میں یہ ش شادی ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔سمجھے صفوان ملک۔”وہ آنکھوں میں آنسو لیے غصے سے دھاڑی۔ایک آنسو لڑی کی مانند اس کے گال سے پھسلا۔۔
“اور یہ شادی ہرحالت میں ہوکے رہے گی۔اور اپنے یہ قیمتی آنسو ضائع مت کرو جانا۔تم میری ہوکے رہوگی۔کیونکہ صفوان ملک جو چیز چاہتا ہے حاصل کرکے رہتا ہے۔پلیز میری ضد اور جنون کو ہوا مت دو۔بعد میں تمہیں ہی تکلیف ہوگی۔”اس نے نرمی سے اس کے آنسو صآف کیے۔آیت کو اس کے لہجے میں جنون محسوس ہوا۔اتنے کم عرصے میں وہ اتنا جنونی کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔
صفوان پیچھے ہوگیا۔آیت کی جان میں جان آئی۔وہ موقع ملتے ہی بھاگ کے روم میں چلی گئی۔۔۔
اس نے دھڑام سے دروازہ بند کردیا۔اس کا تنفس بری طرح بگڑ چکا تھا۔وہ لمبے لمبے سانس لے کے خود کو نارمل کررہی تھی۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اسے صفوان سے یہ امید بلکل نہیں تھی۔کہ وہ ایسے کرے گا۔وہ تو آج تک جھگڑتے آئے تھے۔اچانک فیلنگز کا بدل جانا عجیب تھا۔۔۔۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
“ہائے فیوچر وائفی۔”شانزے لون میں بیٹھی ایگزمز کی تیاری کررہی تھی۔احسن اور صفوان کا ایم بی اے بس کمپلیٹ ہونے والا تھا۔۔ایگزمز کے بعد شادی تھی۔۔۔۔
احسن نے لون میں آتے ہی دھیرے سے اس کے کان میں کہا جس سے شانزے ڈر گئی۔۔۔۔
“احسن کے بچے ڈرا دیا تم نے۔”شانزے نے دل پہ ہاتھ رکھتے کہا۔
“ارے یار احسن کے بچے کہاں ہیں۔اگر شادی کے بعد تم ساتھ دو تو ہوجائیں گے۔”احسن نے آنکھ مارتے شرارت سے کہا۔شانزے اس کی بات سمجھ کے شرما گئی۔احسن اسے بڑے پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“احسن جاؤ یہاں سے تنگ نہ کرو مجھے پڑھنے دو۔”شانزے نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔
“اچھا نا جارہا ہوں۔”احسن مسکراتا چلا گیا۔کیونکہ شانزے پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
“ہادیہ یار ایک کپ کافی بنادو۔”شایان روم میں آیا تو دیکھا ہادیہ واڈروب سیٹ کررہی تھی۔وہ ابھی ابھی آفس سے تھکا ہارا آیا۔ہادیہ نے واڈروب سے سر باہر نکلا اور مسکراتی اس تک آئی۔شایان بہت تھکا تھا لیکن اسے دیکھ کے اس کا موڈ فریش ہوگیا۔۔۔
“بس دس منٹ۔”یہ کہہ کے ہادیہ باہر جانے لگی۔کہ شایان نے اس کی کلائی کھینچی۔ہادیہ سیدھے شایان کے سینے سے آلگی۔شایان نے اس کے گرد بازو لپیٹ لیے۔ہادیہ بوکھلا گئی۔۔
“ش شایان آپ کو کافی چاہیے تھی نا۔”۔۔۔۔
“ہاں چاہیے تو تھی لیکن اب نہیں۔”شایان نے اس کا گال سہلاتے خمارآلود لہجے میں کہا۔ہادیہ کی پلکیں اٹھنے سے انکاری تھیں۔۔۔
“شایان آپ تھک گئے ہوں گے۔پلیز چھوڑ دیجیےآپ کے لیے کافی لادیتی ہوں۔ہادیہ نے معصومیت کہا۔۔
“تمہیں دیکھ کے میری ساری تھکاوٹ اترجاتی ہے۔میری جان”شایان جھکا اور اس کے کال پہ لب رکھ دیے۔ہادیہ بلش کرنے لگی۔شایان ہادیہ سے بہت محبت کرتا تھا۔اس نے شادی کے بعد بہت محبت دی کہ اسے اپنا آپ خوش قسمت محسوس ہوتا تھا۔۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
“یہ آیت مجھ سے کیوں چھپتی پھر رہی ہے۔”صفوان کے اظہار کے بعد آیت بہت پریشان ہوگئی۔وہ اب اس کے سامنے نہیں آتی تھی۔نہ ہی اس سے کوئی بات کرتی تھی۔اسے مسلسل اگنور کررہی تھی۔۔۔۔
ابھی صفوان بیڈ پہ لیٹا اسی بارے میں سوچ رہا تھا۔رات ہوچکی تھی۔سب سورہے تھے۔لیکن صفوان کی نیند اڑچکی تھی۔وہ بیڈ سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔وہ گیلری میں گھوم رہا تھا۔وہ اپنے اور آیت کے بارے میں سوچ کے کافی بےچین تھا۔اچانک اس کی نظر کچن میں جاتی آیت پہ پڑی۔۔۔
وہ مسکرایا۔ابھی اس سے بات کرنے کا بہترین موقع تھا۔وہ سڑھیاں پھلانگتا فوراً کچن میں پہنچا تو دیکھا آیت پانی پی رہی ہے۔آیت جیسے ہی مڑی تو ایک دم ڈرگئی۔کیونکہ دروازے پہ کوئی کھڑا تھا۔اس کا سایہ نظر آیا۔اس پہلے اس کی چیخ نکلتی۔ایک بھاری ہاتھ نے اس کے لبوں پہ قفل لگادیا۔۔۔
صفوان نے دیکھا کہ آیت چیخنے والی ہے۔اس نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کے دیوار سے پن کیا۔۔۔
“او بل بتوڑی کیوں گلا پھاڑ پھاڑ کے سب کو جگانا چاہتی ہو۔کیوں مجھے پٹوانا چاہتی ہو۔”صفوان بولا تو آیت اسے پچانتے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔صفوان نے اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔
“تم !کیوں آئے ہو یہاں۔”آیت نے غصے سے کہا۔۔
“یار تم سے ملنے آیا تھا۔بہت دن ہوگئے تمہیں دیکھے۔اور ویسے بھی تم مجھے اگنور کررہی ہو۔تو وجہ بھی پوچھنی تھی۔تو ذرا بتانا ضروری سمجھیں گی کہ آپ مجھے اگنور کیوں کررہی ہیں۔”صفوان اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لیے آنکھوں میں جھانکتا بولا۔۔۔
“تم جانتے ہو کہ میں یہ کیوں کررہی ہوں۔ اب مجھ سے دور رہو۔”آیت نے اسے وران کیا۔۔
“اگر نہیں گیا تو۔”اس نے مسکراتے ہوئے۔۔۔
“تو میں شور مچاکے سب کو جگادوں گی۔اور آگے تم جانتے ہو کہ کیا ہوگا۔”آیت نے اسے دھمکی دی۔۔
“مچاؤ شور۔میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہوگا۔ویسے ہونے والی مسز صفوان ملک اس اکڑ کو چھوڑ کے میرے کمرے میں آنا شادی کے بعد۔یہ مت سوچنا کہ ابھی کہہ رہا ہوں۔اتنا بھی بےشرم نہیں ہوں میں۔”صفوان نے آنکھ مارتے شرارت سے کہا۔۔۔
“بکواس بند کرو۔نہیں کروں گی میں تم سے شادی سمجھے۔”آیت غصے سے بولی۔صفوان ضبط کرتے بولا۔۔
“آں ہاں ایسے کیسے نہیں کرو گی شادی۔جانا تم میری ہوگی۔یاد رکھنا۔ھھھم”اس کا گال تھپتھپاتا وہ پیچھے ہٹا۔
“میں بھی دیکھتی ہوں۔کیسے ہوتی ہے یہ شادی۔”آیت نے آٹوٹ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔
“شادی ہوگی؛ ضرور ہوگی۔یہ وعدہ ہے تمہارے کریلے کا۔”صفوان یہ کہتا۔سیٹی بجاتا چلاگیا۔پیچھے آیت پیر پٹختی رہ گئی۔۔۔
“مجھے کیسے بھی کرکے آیت کے دل میں اپنی محبت جگانے ہوگی۔”صفوان کے دماغ نے ایک پلین ترتیب دیا۔اب بس اس پلان پہ عمل کرنا باقی تھا۔۔۔
