Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 09)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

ملائکہ ابھی امن کے کمرے میں بیڈ کے بیچوں بیچ لہنگا پھیلائے بیٹھی تھی.وہ امن کا انتظار کررہی تھی۔اس کی ہتھیلیاں بھیگ رہی تھیں۔وہ کافی نروس لگ رہی تھی۔اس دل دھک دھک کررہا تھا۔۔۔

امن جیسے ہی کمرے میں جانے لگا تو آیت ؛شانزے ہما راستے میں آگئے۔اور راستہ بلاک کرکے کھڑے ہوگئے۔آیت نے ہاتھ آگے کیا تو امن نے مسکراتے ان کے ہاتھ میں کافی سارے پیسے رکھ دیے۔آیت اور اس کا گینگ سائڈ پہ ہوگئے۔۔۔

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا تو دیکھا اس کی شالو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے محو خواب ہے۔اس کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹء آگئی۔اس نے شیروانی اتار کے صوفے پہ رکھی۔اور بیڈ پہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔بڑی محبت سے اسے دیکھنے لگا۔کچھ شرارتی لٹیں اس کے چہرے پہ آرہی تھیں۔امن نے ہاتھ بڑھا کے وہ جیسے ہی پیچھے کیں ملائکہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔

“آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔”امن نے اس کی تعریف کی تو وہ مسکرانے لگی۔۔امن نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگایا۔اور اپنے سائیڈ ڈرار سے ایک مخملی ڈبی نکلی اس ڈبی میں برسلیٹ تھا۔امن نے ملائکہ کے بازو میں پہنا دیا اور وہاں اپنے لب رکھ دیے۔ملائکہ تو غش کھانے کو تھی۔امن نے اس کا ماتھ چوما۔۔۔

“کیا تم زندگی کے حسین سفر میں میری ہمسفر بنوگی۔”اس نے ہاتھ پھیلایا تو ملائکہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔اور اثبات میں سر ہلایا۔اور امن نےاسے سینے سے لگا لیا۔ملائکہ بھی پرسکون اس کے سینے سے لگی اپنی زندگی کے حسین خواب سجانے لگی۔۔۔

شایان رافع احسن رعنا اور صفوان سے جان چھڑا کہ کمرے میں پہنچا تو اس کی متاع جان بیڈ پہ بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی۔وہ مسکراتا اس تک آیا اور جیب سے ایک نفیس لاکٹ نکال کے اس کی گردن کی زینت بنائی۔ہادیہ مسکرارہی تھی۔اس نے ہادیہ کے گال کو ہونٹوں سے چھوا۔ہادیہ بس اسے محسوس کررہی تھی۔۔۔

دونوں نے زندگی کے خوشی غم ساتھ گزارنے کا وعدہ کیا۔۔۔۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

وقت کا کام گزارنا ہوتا ہے سو گزر گیا۔ہادیہ ملائکہ دن بہ دن حسین ہوتی جارہی تھیں۔ان کے ہمسفر نے انہیں بہت محبت دی تھی۔جو ان کے چہروں پہ صاف چھلکتی تھی۔ولیمہ بھی خیر وعافیت سے ہوگیا تھا۔۔اب صفوان اور آیت کو اپنے پلان پہ عمل درآمد کرنا تھا۔سو آج احسن کی جگہ آیت صفوان کے ساتھ بائیک پہ آئی۔سب گھر والے دونوں کا دوستانہ انداز دیکھ کے حیران تھے۔لیکن انھیں کیا معلوم تھا کہ دونوں کیا کھچڑی پکا رہے ہیں۔۔۔۔

“ویسے چھچھوندر آج تم اپنی کلاس کی لڑکیوں پہ ٹرائے کرنا میں اپنی کلاس میں ٹرائی کروں گی۔اوکے۔”صفوان بائیک چلا رہا تھا اور آیت پیچھے بیٹھی اسے انسٹرکشن دے رہی تھی۔۔

“ھھھھھم”صفوان نے صرف اتنا کہا۔۔۔۔

دونوں یونی پہنچ گئے لیکن یونی پہنچ کہ ان کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب سب انھیں منگنی کی مبارک باد دینے لگے۔فجر نے پوری یونی میں مشہور کردیا۔۔۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سر پیٹ لیا۔۔۔۔۔

“اب کیا کریں گے۔ہمارا پلین کا تو بیڑا غرق ہو گیا۔”آیت نے دانت پیس کے کہا تو صفوان نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔

“اس میں تمہاری اس دوست فجر کے ساتھ احسن بھی شامل ہے دیکھو کیسے سب کو خوش ہوکے بتا رہا ہے۔”احسن شانزے سمیت پہلے ہی یونی پہنچ چکا تھا اورسب کو مٹھائی کھلا رہا تھا۔آیت اورصفوان کا دل کررہا تھا کہ اسے قتل کردیں۔۔

“اب کیا کریں۔پلان پہ کام کیا تو یہ بات گھر تک پہنچ جائے گی اور پھر ایک اور جنگ ہوگی۔”آیت کو صفوان مسلسل گھسر پھسر کررہےتھے۔آیت نے صفوان کو سرگوشی کی۔۔۔

“ہاں اب ویسے بھی پوری یونی کو پتا چل چکا ہے۔تو میری گرل فرینڈ کون بنے گی۔”صفوان نے منہ لٹکا کے کہا۔۔۔

“ابے یار یہ کیا منہ گھٹنوں تک لٹکا رکھا ہے۔ویسے بھی دنیا میں بہت لڑکیاں ہیں۔میں کسی کالج یا سکول فرینڈ سے بات کرتی ہوں۔تم فکر مت کرو۔یہ کام تو ہم کریں گے۔”آیت پرعزم اور پراعتماد تھی۔۔۔۔

یونی میں کلاسسز لینے کے بعد آیت اور صفوان بائیک پہ نکل گئے۔احسن تو آج کل شانزے کے ساتھ ہی رہتا تھا۔شانزے کو بھی وہ اچھا لگنے لگا تھا۔وہ اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔دونوں کی دوستی بھی بہت پکی تھی جو اب محبت میں بدل رہی تھی۔۔

“صفوان اس راستے پہ چلو۔”آیت صفوان کے پیچھے بیٹھی تھی۔کراس آتے ہی اس نے صفوان کو گھر سے مخالف سمت کا راستہ دکھایا۔۔

“پر کیوں ابھی تو ہم گھر جارہے ہیں نا۔”صفوان نے کہا۔۔۔

“نہیں ہم کسی سے ملنے جارہے ہیں۔”آیت نے کہا تو صفوان فوراً بولا۔۔

“کسی لڑکی سے۔”،،،،

“ابے کریلے لڑکیاں کیا درخت پہ اگتی ہیں جو میں تجھے توڑ کے دے دوں۔بہت ہی اتاولا ہورہا ہے۔تھوڑا تحمل رکھ۔ہم لڑکی سے ملنے نہیں بلکہ یتیم خانے جارہے ہیں۔”صفوان نے آیت کے بتائے ہوئے راستے پہ بائیک ڈالی۔صفوان حیران ہوا۔وہ لوگ یتیم خانے کیوں جارہے ہیں۔

“ہم لوگ وہاں کیوں جارہے ہیں۔”صفوان نے سوال پوچھا۔۔

“یار ایسے ہی بس تم سوال مت کرو۔یہاں کسی شوپ کےسامنے روک دو۔”،،،،،

“کیوں۔”

“یار بچوں سے ملنے جائیں گے۔تو خالی ہاتھ تھوڑی جائیں گے۔اس لیے کچھ چاکلیٹس اور بیلونز لے لیتے ہیں۔”آیت نے اسے بتایا تو صفوان حیران ہوا۔اس نے مسکراتے ہوئے بائیک روکی آیت سارا سامان لے آئی۔۔۔

جیسے ہی آیت یتیم خانے میں داخل ہوئی سارے بچے جو باہر کھیل رہے تھے۔اسے دروازے سے اندر آتے دیکھ اس کی طرف لپکے۔اس کے گلے لگ گئے جیسے سالوں سے اسے جانتے ہوں۔صفوان انھیں ایسے دیکھ کر کافی حیران تھا۔۔۔۔

“آپی اس دفعہ آج آپ بہت لیٹ آئی ہیں۔”آیت سے ایک بچی نے شکوہ کیا۔آیت بچوں میں گھری آگے آگے چل رہی تھی۔صفوان حیان ان کے پیچھے چل رہا تھا۔۔۔

اس کے ہاتھ میں بچوں کے لیے چاکلیٹس اور بیلونز تھے۔۔

“آپی یہ بھائی کون ہیں۔”ایک بچے نے مڑکے صفوان کی طرف دیکھا۔۔۔

“ارے یہ میرے کزن ہیں۔ہائے بولو۔”آیت نے ایک چھوٹے سے بچے کو اٹھا رکھا تھا۔۔۔

“ہائے۔”صفوان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔وہ سب گروانڈ میں پہنچ چکی تھی۔اسنے سب بچوں کو چاکلیٹس دیں بیلونز دیے۔سب خوش تھے اس کے یہاں آنے سے ہی۔وہ سب کے ساتھ کھیلنے میں بزی تھی تبھی ایک ادھیڑ عمر کی واڈرن وہاں آئیں اور بولیں۔

“آپ آیت کے ساتھ آئے ہیں”وہ آیت کو ایسے کھوئے کھوئے انداز میں دیکھ رہا تھا۔اسے آیت کی خوشی بہت اچھی لگ رہی تھی۔اسے آیت بہت دلکش اور حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔

“جی میں آیت کے ساتھ آیا ہوں پر مجھے نہیں پتا تھا کہ آیت یہاں آتی ہے۔”اس نے وادرن سے کہا اس کی نظر بچوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی آیت پہ ہی تھی۔واڈرن بھی اسے مسکراتے دیکھتے ہوئے بولی۔۔

“آیت کئی سالوں سے یہاں آتی ہے۔ہر مہینے۔بچوں کے ساتھ کھیلتی ہے ٹائم سپینڈ کرتی تھی۔بچے اسے بہت پسند کرتے ہیں۔ان بچوں کو کچھ دیر کے لیے اپنی محرومی بھلانے کے لیے۔بہت اچھی بچی ہے۔”واڈرن نے صفوان کو جو بھی بتایا شاید اس بات کااندازہ اسے بلکل نہیں تھا۔اس نے آج تک آیت کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ دونوں تو زیادہ تر لڑا ہی کرتے تھے۔ایک بچہ صفوان تک آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر آیت کے پاس کے گیا۔دونوں بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے لگے۔۔۔۔

صفوان نے بچوں کے لیے پیزا منگوایا۔ آیت کو بچوں کے ساتھ بچہ بنادیکھ وہ کافی حیران تھا اور خوش بھی تھا۔۔ان دونوں کو کافی دیر ہوگئی تھی۔رات ہونے والی تھی۔اس لیے وہ گھر کے لیے نکل گئے۔۔

“تم نے کبھی بتایا نہیں ان بچوں کے بارے میں۔”صفوان بائیک چلارہا تھا اچانک اس نے آیت سے پوچھا۔۔۔

“ہم دونوں کے دومیاں جھگڑوں کے علاوہ کبھی کوئی نارمل بات ہوئی ہے۔”آیت نے الٹا جواب دیا۔۔

“ویسے بل بتوڑی تم یہاں ہر مہینے کیوں آتی ہو۔”صفوان مسلسل اپنے دماغ میں امڈنے والے تمام سولات اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

“صفوان ان بچوں کی محرومی میں اچھے سے سمجھ سکتی ہوں کیونکہ میرے پاپا نہیں ہیں لیکن میرے پاس ماما ہیں دادو ہیں دادی ہیں۔تایا ابو اور بابا ہیں۔ایک بڑی فیملی ہے لیکن ان کے پاس تو کوئی نہیں ہے۔یہ تو بلکل اکیلے ہیں اس لیے بس تھوڑی دیر کے لیے ان بچوں کی یہ تکلیف کم کرنے کے لیے میں یہ سب کررہی ہوں۔دس اٹ۔”آیت نےمسکراتے ہوئے کہا۔صفوان تو آیت کا یہ روپ دیکھ کے حیران تھا۔یہ وہی آیت تھی جو بے دھڑنگی باتیں کرتی تھی۔صفوان کو اسے کی باتیں اچھی لگنے لگیں تھی۔اس نے کبھی آیت کی عادات پہ غور ہی نہیں کیا۔بس ہمیشہ ان دونوں کا جھگڑا رہا تھا۔لیکن آج پتہ نہیں کیوں آیت پہ فخر محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“صفوان بائیک روکو۔”آیت نے اچانک صفوان سے کہا۔وہ دونوں ابھی بھی راستے میں ہی تھے

“یار کیا ہے۔دیکھو کتنا لیٹ ہوگیا ہے۔رات ہوچکی ہے۔”صفوان نے کہا۔۔

“پلیز صفوان وہ دیکھو آئسکریم پالر۔ہم آئس کریم کھاتے ہیں۔پلیز آج پہلی بار مانگ رہی ہوں۔”اس نے سامنے آسکریم پالر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔صفوان بہت کوفت کا شکار ہوا۔۔۔

“کیا آیت۔اچھا ٹھیک ہے۔”صفوان سے آج پہلی بار کچھ مانگا تھا تو وہ کیسے انکار کرتا۔اس نے بائیک روکی۔آیت اچھلتی کودتی وہاں تک پہنچی اور وینلا فیلور کی آئسکریم لی۔صفوان کو چاکلیٹ فیلور پسند تھا۔اس نے اسی فیلور کی آئسکریم لی۔آیت بائیک پہ بیٹھی آئسکریم کے ساتھ انصاف کررہی تھی۔صفوان نے ہاتھ میں آئسکریم لیے بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ گرے کلر کے شارٹ فراک میں پنک کلر کا ڈوپٹہ کندھے پہ ڈالے:بالوں کی پونی ٹیل بنائے ؛گندمی رنگت آج صفوان نے پہلی بار اسے اتنے غور سے دیکھا تھا۔وہ کافی پرکشش تھی۔۔

صفوان اسے غور سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک سامنے بائیک پہ بیٹھے لڑکے آیت کو دیکھ کے سیٹی بجانے لگے۔صفوان کو بہت غصہ آیا۔آیت نے دھیان نہیں دیا۔۔

“آیت چلو یہاں سے۔”اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“کیا ہوا صفوان میری آئسکریم ابھی ختم نہیں ہوئی۔میں کھالوں پھر چلتے ہیں۔”آیت کی بات پہ صفوان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے نیچے اتارا اور اپنی آئسکریم اسے دے کر بائیک سٹارٹ کرنے لگا۔۔

“اوہو بےبی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع دو۔ویسے کیا چیز ہے۔”صفوان کچھ کہتا ایک لڑکے نے آیت کو دیکھ کہ آواز لگائی۔صفوان غصے سے لال ہورہا تھا۔بھلے ہی وہ سے جھگڑتا تھا لیکن کسی کو اسے پریشان نہیں کرنے دے سکتا تھا۔۔۔۔۔

صفوان اترا کہ ان کا علاج کرسکے۔آیت نے اپنی آئسکریم صفوان کو تھمائیں۔اور آستنیں چڑھاتی ان تک پہنچی۔اور کمر پہ ہاتھ رکھ کے بھاری آواز میں غرائی۔۔۔

“اوے لونڈو یہ چیز کیا ہوتا ہے۔میں تم لوگوں کو کوئی چیز دکھتی ہوں۔تم لوگوں کی ہمت کسے ہوئی آیت ملک کو چھیڑنے کی۔تم لوگ نہیں جانتے کس آفت سے پنگا لیا ہے تم لوگوں نے۔”،،،،،

صفوان پیچھے کھڑا اس کا دبنگ روپ دیکھ کر حیران تھا۔

“کیا کرے گی تو۔مارے گی۔”لڑکے ایک دوسرے کو تالی مارت اس کا مذاق اڑانے لگے۔۔۔

آیت مسکراتی سائیڈ تک گئی۔وہاں پڑا ایک چھوٹا سا ڈنڈا اٹھایا اور ایک کی ٹانگ پہ بجادیا۔پھر دوسرے کو۔جو دو لڑکے زیادہ بول رہے تھے آیت نے اس کی صیح ٹھکائی کی۔۔۔۔

“دیکھو میڈم ہم لیڈیز پہ ہاتھ نہیں آٹھاتے”ایک لڑکا مار کھاتا بولا۔

“ہاں لیکن گندی نظریں ضرور اٹھا سکتے ہو۔مجھ پہ لائنیں مارو گے۔آیت ملک کو چھیڑوکے بڈھو لوگوں کی بیٹی کی عمر کی ہوں میں۔”آیت غصے سے بولتی صفوان اور اپنی آئسکریم ان کے چہروں پہ مل دی۔صفوان اب لڑکوں کی حالت پہ ہنس رہا تھا۔اس سے پہلے وہ وہ ان کا سر پھاڑدیتی صفوان نے اسے پیٹ سے پکڑ کے اٹھایا اور بائیک پہ بٹھادیا۔آیت دوسری طرف مڑکے بیٹھی تھی۔آیت کی کمر صفوان کی طرف تھی۔اس نے فورا بائیک سٹارٹ کردی۔۔۔

“ابے گدھے مجھے چیز بول رہے تھے۔ان کی ایسی کی تیسی۔یار مطلب کلاس ہی نہیں ہے کوئی۔”صفوان کی بائیک ہوا سے باتیں کررہی تھی اور آیت مسلسل چپڑ چپڑ کررہی تھی۔صفوان نے ان سے کافی دور آکے بائیک روکی۔آیت اتری اور پاؤں پٹخ کے بولی۔۔

“لفنگے :چھچھورے۔”اس نے غصے سے کہا۔صفوان منہ کے نیچے ہاتھ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔آیت نے اس کی طرف دیکھا وہ بلکل چپ ہوگئی۔پھر دوسیکنڈ کی خاموشی کے بعد فضا میں صفوان اور آیت کے قہقہے گونجے۔دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔صفوان ہنستے ہنستے روکا اور آیت کو ہنستے ہوئے دیکھنے لگا۔آیت کے بال اس کی پونی ٹیل سے نکل کے باہر آرہے تھے۔صفوان نے آیت کی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔تو آیت کی ہنسی کو بریک لگی۔اسے آج صفوان کا دیکھنے کا انداز بہت الگ لگ رہا تھا۔وہ گڑبڑائی۔۔۔

“ص صفوان چلیں کافی دیر ہورہی ہے۔سب گھر میں انتظار کررہے ہوں گے۔”آیت کہہ کے بائیک پہ بیٹھ گئی۔صفوان نے مسکراتے بائیک سٹارٹ کردی۔آج صفوان کو آیت کے بہت پہلو جاننے کا موقع ملا تھا۔اسے پتا چل گیا کہ آیت کا دل بہت خوبصورت ہے۔لیکن تھوڑی سی سرپھری بھی ہے۔۔۔

دونوں ہنستے گھر میں داخل ہوئے۔سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔دونوں کو ایسے دیکھ سب بہت حیران تھے۔وہ کل تک ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے آج ساتھ ساتھ تھے۔لیکن انھیں نہیں پتا تھا کہ وہ کسی مقصد کے تحت ساتھ ساتھ تھے۔۔۔۔

“کیا بات ہے برخودار۔لگتا ہے منگنی کا کچھ زیادہ ہی اثر ہوگیا ہے ساتھ گھوم رہے ہو۔۔”دادا جی نے دونوں کو گھر ہنستے دیکھ حیرت سے پوچھا۔۔۔

“کیا میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔”شانزے نے پلکیں جھپکا جھپکا کے یقین دہانی کرنی کی کوشش کی۔۔صفوان اور آیت نے گھر والوں کا یہ رویہ بے انتہاء برا لگ رہا تھا۔وہ لگاتار انہیں طعنے مار رہے تھے۔۔۔

“بس ہم دونوں کو عقل آگئی ہے کہ ساتھ رہنے میں ہی بہتری ہے۔”صفوان نے جواب دیا آیت نے بھی سر ہلاکے اس کی تائید کی۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *