Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619 Tera Mera Piyar (Episode 03)
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode 03)
Tera Mera Piyar by Syeda Shah
آیت کی بچی۔میں تمھیں آج زندہ نہیں چھوڑوں گا۔بل بتوڑی۔”
صفوان بڑوں سے اپنے عزت افزائی کروانے کے بعد اوپر آیت کے کمرے میں آیا جو بیڈ پہ بیٹھی موبائل یوز کررہی تھی۔اس نے دھڑام سے دروازہ کھولا۔وہ آگ بگولا ہورہا تھا۔غصے سے اس کا سفید رنگ سرخ پڑرہا تھا۔آیت تو دروازے کی آواز سے ڈر گئی۔اس کا رنگ سفید پڑنے لگا۔۔۔
“بل بتوڑی،یہ کیا حرکت ہے۔”وہ غصے سے بیڈ کی طرف بڑھا تو آیت اپنا گلا تر کرتی بیڈ سے دوسری طرف کود گئی۔اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اس کا گلا ہی نہ دبادے۔۔۔
“ا اے چھچھوندر ،کیا بول رہے ہو؟کون سی ح حرکت؟”وہ اپنے آپ پہ قابو پاتی ڈگمگاتے لہجے میں بولی۔۔۔
“اچھا کونسی حرکت؟زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔میں جانتا ہوں شکل سے جتنی معصوم نظر آتی ہو نا تم۔اتنی ہی چنڈ ہو تم۔لومڑی کہیں کی۔”۔۔۔۔
۔
“اے چھچھوندر مائنڈ یور لینگوئج۔تمیز سے بات کرو،”وہ انگلی اٹھا کے وارن کرنے لگی۔
وہ بیڈ کی دوسری طرف آیا اس پکڑنے ہی ولا تھا کہ وہ کود کے دوسری طرف چلی گئی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔صفوان آج اسے بخشنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا۔اسے کوئی نظر بھی نہیں آرہا تھا۔جو اسے بچاتا۔سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کررہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا۔مرد حضرات کاموں پہ تھے۔عورتیں کچن کے کام دیکھ رہی تھی۔دادی دادا کمرے میں تھے۔اور ینگ پارٹی اپنا فیورٹ کام یعنی موبائلز پہ تھے۔۔۔
وہ نیچے جانے لگی تو صفوان نے راستہ بلاک کردیا۔وہ اس کے ہاتھ نہیں آنا چاہتی تھی۔اس لیے دوسری طرف کی طرف بھاگی اس طرف چھت تھی۔وہ آگے آگے تھی اور صفوان پیچھے پیچھے۔
“رک جا ! بل بتوڑی۔تیری خیر نہیں۔”وہ اس کے پیچھےبھاگتا چھت پہ پہنچ گیا۔۔آیت بھاگتے بھاگتے رک گئی۔کیونکہ چھت ختم ہوچکی تھی۔وہ اب بلاک ہوچکی تھی۔۔۔
“آگے کنوان؛پیچھے کھائی۔اب کیا کروں؟”وہ جس طرف جاتی تو وہ آگے آجاتا۔۔۔
“ہاں اب آیا نا۔اونٹ پہاڑ کے نیچے۔”۔۔
“اوے ڈونٹ کال می اونٹ۔”آیت ناک پھلا کے بولی۔۔۔
“آں ہاں تمھیں اونٹ کہہ کہ میں اونٹ کی بے عزتی کیوں کروں گا۔تم تو بل بتوڑی ہو۔”وہ دانت پیس کے ایک ایک لفط چباکے بولا۔۔۔
“یو کڑوے کریلے۔کیا مسئلہ ہے جانے دو مجھے۔”وہ دوسری طرف سے نکلنے کی کوشش کرتی تو وہ سامنے آجاتا۔ایسے لگ رہا تھا کوئی کھیل کھیل رہے ہوں۔۔۔
“یو بل بتوڑی! دادی سے کیوں جھوٹ بولا تم نے۔چڑیل کہیں کی۔”۔۔۔
“تو میں کیا کرتی تم نے بھی جھوٹ بولا تھا کہ مجھے کلاس سے باہر نکالا گیا تھا۔اور میں یونی کےبہانے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتی ہوں۔پڑھائی میں زیرو ہوں۔مجھے سزا ملی تھی اب دھو سارے گھر کے کپڑےاور کب نکالا گیا تھا مجھے کلاس سے ۔ تمہاری انفارمیشن کے لیے بتاتی چلوں کہ میں بہت اچھی سٹوڈنٹ ہوں۔اور تم مجھ جیلس ہوتے ہو۔ میں تم سے زیادہ انٹیلیجنٹ جو ہوں۔”اس نے فرضی کالر جھاڑے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔نائس جوک۔تم اور انٹیلیجنٹ!!! شکل دیکھی ہے اپنی۔بندریا کہیں کی۔”وہ مصنوعی ہنسی ہنستے اس کا مذاق اڑانے لگا۔آیت کی آنکھیں ابل کے ہاہر آگئیں۔
“تم خود کو سمجھتے کیا ہو چھچھوندر کہیں کے؟”وہ آبرو اچکا کے کمر پہ ہاتھ رکھتی اسے کھاجانے نظروں سے دیکھنے لگی۔دونوں اب رک چکے تھے۔دوپہر کی دھوپ ،جون کا مہینہ اور شدید گرمی دونوں سرخ ہورہے تھے۔پر انھیں کہاں پرواہ تھی انھوں کو ایک دوسرے کے بال جو نوچنےتھے۔۔
“مجھے چھچھوندر مت کہا کرو۔بل بتوڑی۔”۔۔۔
“میں بل بتوڑی توتم گنسنا۔بببب بوس۔ہاہاہاہاہاہاہا”وہ تالی مارت زور زور سے ہنسے لگی۔۔۔
“او چڑیل اپنے یہ دانت بند کردو۔بلکل ہارر مویز کی ڈائن لگ رہی ہو۔”صفوان نے اس سے بھی زور سے قہقہہ لگایا۔۔۔
“تم خود تو کوے جیسے لگتے ہوئے۔جو سارا دن بس کاؤں کاؤں کرتا رہتا ہے۔”۔۔۔۔
“میں کوا تو تم بھینس۔”۔۔۔۔۔
” دیکھ کڑوے کریلے کچھ بھی بول لیکن بھینس مت بول سمجھے “وہ دانت پیس کے انگلی اٹھاتی اسے وارن کرنے لگی۔۔
“میری بھینس کو برا لگا۔بھاڑ میں جائے اگر برا لگا”وہ کیوٹ سی آواز میں بولتا اسے چڑاتا اسے بلکل زہر لگ رہا تھا۔۔
“اگر میں بھینس ہوں۔تم میرے کزن ہو تو تم Hippopotamus.بارہ سو کلو والا۔ہاہاہاہاہاہاہا،”وہ کہاں کم تھی۔اس نے بھی حساب برابر کیا۔دونوں نے اپنی لڑائی میں کوئی جانور،کوئی سبزی کچھ بھی نہیں چھوڑا۔بس لڑائی کررہے تھے۔اپنے فیورٹ کام۔۔۔۔
صفوان کو وہ پکڑنے نہیں دے رہی تھی۔اس لیے صفوان لڑتے لڑتے اس تک پہنچا۔جیسے اس نے صفوان کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ پیچھے ہونے لگی۔اس کا اچانک پاؤں مڑا وہ نیچے گرنے لگی۔
صفوان جو آگے بڑھ رہا تھا۔آیت کو گرتا دیکھ فوراً سے اس کی کلائی پکڑ لی۔آیت نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔جیسے ہی اسے محسوس ہوا وہ بچ گئی ہے۔اس نے آنکھیں کھولیں۔ایک پل کےلیے صفوان کی نظریں آیت سے ٹکرائی۔وہ اس کی آنکھوں میں کہیں کھو گیا۔۔جیسے ہی اسے ہوش آیا۔اس نے آیت کی کلائی پہ اپنی گرفت کمزور کردی۔آیت سلپ ہونے لگی۔۔۔
“صفوان یہ کیا کررہے ہو۔مجھے بچاؤ۔میں گرکے مرجاؤں گی۔”وہ غصے سے بولی۔۔
“تم نے مجھے پریشان کیا ہے۔ اس لیے تو گر ہی جاؤ۔”صفوان اسے زچ کررہا تھا۔۔۔
“صفوان میں مرجاؤں گی۔پاگل مت بنو۔مجھے بچاؤ۔”،،،
“ایک شرط پہ پہلے معافی مانگو۔”صفوان نے شرط رکھی تو آیت کو اس وقت جان کی پڑی تھی۔
آئم سوری۔”وہ جلدی سے بولی۔
“ہاں مجھے کچھ سنائی نہیں دیا۔”۔۔۔
“صفوان صاحب میں اپنی خطاء پہ بہت ندام ہوں برائے کرم میری خطاء معاف فرمایے۔عین نوازش ہوگی۔”وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کے بولی۔
“ہاہاہاہا۔”اس نے قہقہہ لگاتے اسے اپنی طرف کھینچا۔وہ سیدھا اس کے سینے سے آلگی۔۔۔آیت نے نظریں اٹھا کے اس کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ رہا تھا۔۔
آیت اسے دھکا دیتی کھکھلاتی نیچے بھاگ گئی۔
“چھچھوندر تم مجھے کبھی نہیں پکڑ سکتے۔”صفوان اس کی آنکھوں میں گم تھا۔آج اسے پہلی بار عجیب سی کشش محسوس ہوئی تھی۔اچانک دھکے سے وہ سنبھل نہ سکا اور آیت فرار ہوگئی۔اس حرکت پہ غصہ آنے کے بجائے پتا نہیں کیوں مسکرا اٹھا۔بالوں میں ہاتھ چلاتے وہ بھی نیچے چلاگیا۔
✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦
شام ہوچکی تھی۔سب مرد حضرات آفس سے آچکے تھے۔سب اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے۔۔
ہادیہ شام کے کھانے کے لیے سبزی کاٹ رہی تھی۔گھر کی وہ ہی سگھڑ اور کام کرنے والی بیٹی تھی.وہ اپنی دھن میں کام کررہی تھی۔اس نے پیلے رنگ کا لون کا سوٹ پہن رکھا تھا۔دوپٹہ کمر کے ساتھ باندھے۔پسینے سے تر اس کی سنہری رنگت بہت دلکش لگ رہی تھی۔لمبے بالوں کو کیچر میں جکڑے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پہ آرہی تھیں۔وہ کام میں مگن تھی کہ اس پہ پیچھے کسی نے گلا کھنگارا۔وہ ڈر کے اچھلی۔وہ جھٹ سے پیچھے مڑی تو دیکھا۔سامنے کُرتا شلوار میں شایان کھڑا مسکرا رہا تھا۔اس گھر کے سارے بیٹے بہت خوبرو تھے۔ہادیہ کو تو شایان سے خوبرو کوئی نہیں لگتا تھا۔آخر کو اس کا شوہر تھا۔۔
شایان آنکھوں میں دنیا جہاں کی محبت سموئے اسے نہار رہا تھا۔ساتھ مسکرا بھی رہا تھا۔ہادیہ اسے دیکھ کے نروس ہوگئی اور نروسسنس پہ قابو پاتی بولی۔۔
“آ آپ یہاں۔کچ کچھ چاہیے تھا۔”اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔
“ہاں چاہیے نا۔۔۔ تم۔”وہ اس کے قریب ہوا۔وہ پیچھے ہٹنے لگی لیکن پیچھے تو شلف تھی۔اس نے شلف کے دونوں طرف ہاتھ رکھ لیا۔ ہادیہ کو اس کی قربت سے پیسنے آنے لگے۔۔۔
“شاہ شایان کیا کررہے ہیں۔کوئی آجائے گا؟”وہ نظریں جکاتی ہوئی بولی۔شایان تو اس کے ہر انداز پہ نثار ہوجاتا تھا۔۔۔
“میری جان!کوئی نہیں آتا۔اور ویسے بھی تم میری بیوی ہو کوئی ہمیں کیا بولے گا۔”وہ اسکےبال چہرے سے ہٹاتے بولا۔اس نے ہادیہ کا رخ دوسری طرف موڑ دیا اور اس کی کمرکو اپنے سینے لگاتے اس مکمل طور پہ اپنے حصار میں لیا۔ہادیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔
“یار اب تمہارے بغیر گزارا ممکن نہیں ہے۔لگتا ہے دادو سے رخصتی کے بارے میں بات کرنی پڑی گی۔”وہ اس کے کندھے پہ ٹھوڑی رکھتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔۔
ہادیہ اس کی باتوں سے بلش کرنے لگی۔شایان نے ہولے سے اس کے گال پہ لب رکھے اور پیچھے ہوگیا۔۔۔
ہادیہ کا چہرہ لال ہوگیا۔شرم سے اس کی پلکیں بوجھل ہوگئیں۔شایان مسکراتا پانی جگ سے گلاس میں انڈیلتا پینے لگا۔لیکن شوخ نظریں اسی پہ تھی۔وہ پانی پی ہی رہا تھا کہ اچانک اسے فریال چچی کی آواز آئی۔۔۔
“ہادیہ بیٹا۔ وہ “ان کی آواز پہ شایان کو اچھو لگا۔وہ کھانسنے لگا۔فریال کچن میں شایان کو دیکھ کے معنی خیز کا مسکرادی۔ہادیہ جو شایان کے کھانسنے پہ اس کی پیٹھ سہلا رہی تھی۔خجل سی ہوگئی۔شایان بھی شرمندہ ہوگیا۔اس پہلے چچی کچھ بولتیں۔وہ فون کو کان سے لگائے باہر نکل گیا۔فریال اس کی حرکت پہ کھل کے مسکرائیں۔ہادیہ بھی ہڑبڑاہٹ میں چیزیں گرا رہی تھی۔۔۔
