Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 12)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

آیت صفوان کو کچھ لڑکے بہت مار رہے ہیں۔”فجر بھاگتی بھاگتی لائبریری پہچنی۔آیت پیپرز کے لیے نوٹس بنارہی تھی۔صفوان سے اس رات کے بعد سامنا نہیں ہوا تھا۔وہ جتنا ہوسکے اسے avoid کررہی تھی۔صفوان اسے مسلسل زچ کررہا تھا۔۔

آج احسن نہیں آیا تھا۔شانزے بھی گھر جاچکی تھی اسکی طبیعت کافی خراب تھی۔وہ پڑھائی میں بری طرح بزی تھی کہ اچانک فجر اس تک پہنچی۔اس کا سانس بری طرح پھول چکا تھا۔۔

اس نے آتے ہی آیت کو صفوان کے بارے میں بتایا۔کہ صفوان کو کچھ لڑکے مار رہے تھے۔۔۔

“کیا ۔۔۔۔لیکن صفوان کو کیوں مار رہے ہیں؟”آیت ایک دم پریشان ہوگئی۔

“پتا نہیں یار۔نیچے گراؤنڈ میں وہ لڑکوں سے گھتم گھتا تھا۔وہ اکیلا تھا جبکہ وہ تین تھے۔وہ تینوں مل کے اسے بہت بری طرح مار رہے تھے۔صفوان کا تو خون بھی بہہ رہا ہے۔”فجر نے بتایا تو آیت کی آنکھوں سے آنسو نکلا۔صفوان کے بارے میں سن کے دل میں عجیب سا درد ہوا۔اسے بہت تکلیف ہوئی یہ سن کے اس کا خون بہہ رہا تھا۔۔۔

“خ خون!”لڑکھڑاتے لہجے میں کہتی وہ باہر کی طرف بھاگی۔اپنی کتابیں اور بیگ وہیں پھینک کے دیوانوں کی طرح بھاگ رہی تھی۔وہ کبھی کس سے ٹکراتی کبھی کس سے۔گرتی سنبھلتی ڈیپارٹمنٹ سے باہر پہنچی تو دیکھا۔تینوں لڑکے اسے مار رہے تھے۔وہ اکیلا ان سے مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔کافی لوگ جمع تھے ان کے آس پاس۔وہ لڑکے اسے زمین پہ نڈھال چھوڑ کے چلے گئے۔آیت بھاگتی اس تک پہنچی۔۔۔

“صفوان صفوان ہوش میں آؤ۔”آیت نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔اس کا گال تھپھپاتے لگی۔اس نے ہلکی سی آنکھیں کھول کے دیکھا تو سامنے اس کی آیت آنکھوں میں آنسو لیے پریشانی سے دیکھ رہی تھی۔۔صفوان اس دیکھ کے مسکرایا۔

“ہنس کیوں رہے ہو۔دیکھو کتنا خون نکل رہا ہے۔”صفوان اٹھ کے بیٹھاآیت نے آنسو لیے اسے ڈانٹ رہی تھی۔کسی سے پانی لے کر اس کے لبوں سے لگایا۔صفوان آیت کا یہ روپ دیکھ کے مسکرایا۔اس وہ اپنی فجر کرتی بہت اچھی لگ رہی تھی۔

“یار میں ٹھیک ہوں۔”آیت نے اس کا بازو کندھے پہ رکھا اور اسے چلنے میں مدد کرنے لگی۔وہ اس لے کر ایک درخت کے پاس آئی وہاں اسے نیچے زمین پہ درخت سے ٹیک لگا کے بٹھادیا۔۔

“جھوٹ مت بولو۔کتنا مارا ہے انہوں نے تمہیں۔دیکھو ہاتھ اور سر کے خون نکل رہا ہے۔اور تمہیں ان لفنگوں سے بھڑنے کی کیا ضرورت تھی۔تم جانتے ہو نا وہ یونیورسٹی کے گنڈے ہیں۔”آیت روتے اسے ڈانٹ رہی تھی۔اچانک ایک لڑکی وہاں آئی شاید نیو ایڈمیشن تھا۔۔۔۔

” بہت بہت شکریہ مجھے ان بدتمیز لڑکوں سے بچانے کےلیے۔”وہ لڑکی صفوان کا شکریہ ادا کررہی تھی۔آیت حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگی۔۔۔

“کیا مطلب۔”آیت کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔

“میں یونی میں نئی ہوں وہ لڑکے مجھ سے بدتمیزی کررہے تھے۔انہوں نے میرا راستہ روک رکھا تھا۔انہوں نے مجھے بچایا۔میری وجہ سے آپ کو اتنی چوٹ لگ گئی،”وہ لڑکی آیت کو سب بتانے لگی۔آیت نے صفوان کو دیکھا جو مسکرا کے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔آیت کے دل میں صفوان کے لیے عزت بڑھ گئی۔۔

“آئیے میں آپ کی مرہم پٹی کردوں۔”اس لڑکی نے صفوان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آیت جل گئی۔آیت غصے سے لال ہورہی تھی۔وہ لڑکی اس کے سامنے صفوان پہ لائن مار رہی تھی۔،،،

“نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میں کردوں گی۔تم جاؤ۔”آیت غصے سے بولی۔وہ لڑکی کچھ کہتی آیت نے اسے آنکھیں دکھائیں۔وہ سمجھ گیا کہ آیت جل رہی ہے ۔وہ جانتا تھا کہ آیت اس سے محبت کرتی ہے۔بس مان نہیں رہی۔اسے آیت سے سب اگلوانے کا طریقہ مل چکا تھا۔جیلسی حسد۔۔۔

وہ لڑکی سر ہلاتی چلی گئی۔آیت نے دیکھا صفوان کے ہاتھ سے خون بہہ رہا ہے اس کے پاس کچھ نہیں تھا اس نے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور اس کے ہاتھ میں باندھ دیا۔صفوان کو اپنے یہ زخم بھی اچھے لگ رہے تھے۔جس سے آیت اس کے قریب آرہی تھی۔صفوان بس مسکرائے اسے دیکھے جارہا تھا۔۔۔

“صفوان میں نے ڈرائیور کو فون کردیا ہے۔بس ہم چلتے ہیں گھر۔”صفوان نے سر ہلایا۔۔۔۔

آیت اسے لے کے گھر پہنچی۔راستے میں ایک کلینک میں اس کی ڈریسنگ کروا دی تھی۔گھر والے سب صفوان کو اس طرح پٹیوں میں جکڑا دیکھ کافی پریشان ہوگئے۔آیت نے انہیں سارے معاملے کے بارے میں بتایا تو امن اور شایان کا خون کھول اٹھا۔انہوں نے پولیس میں رپورٹ کروائی۔۔۔

صفوان کے سر اور ہاتھ پہ پٹی بندھی تھی۔۔۔

شایان ؛احسن اندر آئے اس کا حال چال پوچھنے۔وہ آیت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔

“کیا بات ہے کیا سوچ رہا ہے تو۔”شایان نے پوچھا۔۔۔

“بھائی ضرور آیت کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔”احسن نے لقمہ دیا تو مسکرایا۔۔

“تو نے اسے دل کی بات بتائی۔”شایان بولا۔۔۔

“بھائی وہ مان ہی نہیں رہی میں کیا کروں۔وہ مجھے پسند کرتی ہے بس بتانا نہیں چاہتی۔”وہ منہ لٹکا کے بولا۔۔۔

“تو تو اس سے اظہار کروانا چاہتا ہے۔”احسن بولا۔۔۔

“ہاں۔”۔۔۔۔

“تو اس کی اٹنشن حاصل کر۔مطلب تو اس کے پیچھے پیچھے گھومتا ہے اسے اگنور کر۔اسے جیلس فیل کروا۔اسےان سکیور کر۔مطلب کے اسے ایسے شو کر کہ تو اس کے بغیر بھی رہ سکتا ہے۔”شایان نے اسے پلین بتایا وہ سب سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“صفوان میں تمہارے لیے سوپ لائی ہوں۔”آیت نے صفوان کے کمرے میں آتے ہی کہا جو بیڈ پہ نیم دراز تھا۔ صفوان نے نظر اٹھا کے دیکھا جہاں آیت سفید فراک میں گلے میں دوپٹہ ڈالے دھلے دھلے چہرے کے ساتھ ہاتھ میں ٹرے پکڑے کھڑی اس دل میں اتررہی تھی۔آبھی ابھی شایان اوراحسن اسکے کمرے سے گئے تھے۔اس نے آیت کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور

وہ اس کے سامنے تھی۔صفوان نے پلین کے مطابق کے اگنور کرنا شروع کیا۔وہ ویسے ہی بیٹھارہا۔جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

“صفوان میں تم سے بات کررہی ہوں۔تمہاری ممی نے سوپ بھیجا ہے تمہارے لیے۔”آیت غصے سے بولی۔اس نے اگنور کیا تو آیت کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔

“ھھھھھم سن لیا۔یہاں رکھ دو۔”یہ کہہ کےوہ اپنے موبائل کے ساتھ لگ گیا۔آیت کو اس کا روکھا سا رویہ بہت برا لگ رہا تھا.اس کی آنکھوں نا چاہتے ہوئے بھی بھیگنے لگیں۔۔

“صفوان تم ٹھیک ہو۔تمھیں درد تو نہیں ہورہا نا۔”آیت نے اس کے لہجےکو اگنور کیے اس سے پریشانی سے پوچھنے لگی۔اسکی پریشانی دیکھ کے صفوان دھیما سا مسکرایا لیکن مہارت سے مسکراہٹ چھپا گیا۔آیت کو اس کی حالت دیکھ کے بہت برا لگ رہا تھا۔۔۔

“ھھھم ٹھیک ہوں۔”اس نے بس اتنا جواب دیا۔آیت نے لڑکھڑاتے لہجے میں کہا۔۔۔

“ت تم مجھے اگنور کیوں کررہے ہو صفوان۔”آیت سسکتے ہوئے بولی۔صفوان کو اس کے آنسو بہت برے لگ رہے تھے۔وہ اس پہ دھونس جماتی اچھی لگتی تھی۔روتی نہیں۔۔۔

“وٹس روگن ود یو آیت۔تمہارے پاس آؤ تو تمہیں تکلیف ہوتی ہے دور جاؤں تو تمہیں تکلیف ۔کیا کروں میں۔آخر چاہتی کیا ہو تم”وہ دھاڑا آیت ڈر گئی۔آیت کے ہاتھ سے سوپ کا باؤل زمین پہ گرگیا۔گرم سوپ چھلک کے اس کے ہاتھ کو جلاگیا۔۔

“سسس آہ !”وہ سسکی۔اس کا ہاتھ جل گیا۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔صفوان اس تک پہنچا۔اسے بہت دکھ ہوا۔اپنے رویے کا۔۔

“آیت آئیم سو سوری۔میں نے جان بوجھ کے۔”وہ ہاتھ کا ہاتھ اپنے لیتا جائزہ لیتے پریشانی سے بولا۔آیت نے روتے ہوئے اپنا ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔

“دور رہو مجھ سے۔”یہ کہتی وہ بھاگتی باہر نکل گئی۔صفوان اس کی تکلیف دیکھ کے تڑپ اٹھا۔اسکا ہاتھ کافی جل چکا تھا۔لال ہورہا تھا۔۔۔

“ہمیشہ کیوں سب خراب ہوتا ہے.”صفوان نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔

“”ت تم نے اچھا نہیں کیا صفوان۔تمہارے رویہ نے مجھے بہت ٹھس پہنچائی ہے۔”آیت صفوان کے کمرے سے سیدھا اپنے کمرہ میں آئی اور خود کو کمرہ میں بند کرلیا۔وہ بیڈ پہ اوندھے منہ پڑی بہت رورہی تھی۔بہت زیادہ۔پیچھے صفوان بھی تکلیف میں تھا۔محبت چیز ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس میں درد ہوتا ہے۔آج صفوان اور آیت بھی اس تکلیف سے گزر رہے تھے۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

آیت بیڈ پہ پڑی بلکل نڈھال تھی۔اس کے ہاتھ کافی جل چکا تھا۔اسے بہت درد ہورہا تھا۔صفوان کے کمرے سے آنے کے بعد وہ بہت زیادہ رورہی تھی۔صفوان کے رویہ نے اسے ٹھیس پہنچائی تھی۔وہ کھانا کھانے بھی نہیں گئی تھی۔رات کافی ہوچکی تھی۔اچانک اس کے کمرے کی کھڑکی سے صفوان اندر کودا۔۔۔

“مجھے معاف کردو میری جان۔میں نے تمہیں بہت تکلیف دی ہے۔”چاند کی چاندنی اس کے چہرے پہ پڑرہی تھی تو اسے مزید خوبصورت بنارہی تھی۔وہ اس کے قریب بیڈ پہ بیٹھا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اس سے باتیں کرنے لگا۔آنسو کے مٹنے نشان صفوان کو اس کے رونے کا پتہ دے رہے تھے۔صفوان کو خود پہ بہت غصہ آیا اس کی وجہ سے اسے اتنی تکلیف جھیلنی پڑی۔۔۔۔

صفوان نے اس کا جلا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔وہاں کوئی دوا نہیں لگی تھی۔اور نہ ہی آیت نے کسی کو جلنے کے بارے میں بتایا تھا۔اسکا ہاتھ کافی سرخ ہورہا تھا۔صفوان کو بہت دکھ ہوا۔یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا۔۔

آیت کو نیند میں ایسا لگا جیسے کوئی اس سے بات کررہا ہے۔اس نے آنکھیں نیم وا کر کے دیکھا تو سامنے صفوان تھا۔ اس نے چیخنا چاہا لیکن صفوان اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔آیت رات کے اس پہر اسے یہاں دیکھ کے حیران تھی۔اسے دن کا رویہ یاد آگیا۔اس کے آنسو پھر بہنےلگے۔.

“کک کیوں آئے ہو یہاں۔مجھے اور تکلیف دینے۔”وہ روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کےبولی۔اس کی تکلیف وہ سمجھ سکتا تھا۔اسنے ہاتھ بڑھاکے اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔

“مجھےمعاف کردو۔میں سچ میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں چاہ کے بھی اس تمہیں درد نہیں دے سکتا۔جو ہوا غلطی سے ہوا۔”وہ اس کے ہاتھ کو ہاتھ میں لیتا بولا۔آیت نے خود پہ قابو کیا۔آنسو صاف کرتی بولی۔۔۔

“تم جاؤ یہاں سے کسی نےدیکھ لیا تو مصیبت ہوجائے گی پلیز۔”اس نے کہا تو صفوان مسکرایا۔۔

“ایسے نہیں۔پہلے تمہیں دوائی تو لگا لوں۔اور تم کچھ کھایا بھی نہیں ہے تو یہ چاکلیٹ لایا ہوں تمہارے لیے۔”صفوان نے ڈرار سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا۔آور آیت کے ہاتھ پہ آئنمنٹ لگانے لگا۔اور پھونکیں بھی مار رہا تھا۔آیت کو اس کی کیئر بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔

وہ مسکراتے ہوئے اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔اسے اپنے دل میں صفوان کے لیے محبت پنپتی محسوس ہوئی۔صفوان کی دی گئی چاکلیٹ وہ کھارہی تھی۔

“مجھے معاف کردو۔آیت پلیز۔”صفوان نے پھر اس سے معافی مانگی اور آیت نے کہا۔

“میں نے تمہیں معاف کیا۔اب جاؤ یہاں سے۔”آیت نے کہا تو صفوان مسکراتا کھڑکی سے کود گیا۔آیت اس کا سوچ کے مسکرا رہی تھی۔اس کے چہرے پہ لالی تھی۔اس نے چاکلیٹ کھائی اور سو گئی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *