Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode 05)

Tera Mera Piyar by Syeda Shah

اٹھ جاؤ آیت۔یونی کے لیے لیٹ ہورہا ہے”اگلی صبح فریال اس کا کمبل کھینچ کے اسے اٹھانے کی کوشش کررہی تھیں۔لیکن وہ کمفرٹر مزید لپیٹ کے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔روز صبح اسے اٹھانا اپنے آپ میں ایک مشن تھا۔کیونکہ آیت بی بی نیند بہت پکی تھی۔وہ اٹھنے کانام ہی نہیں لیتی تھی۔۔۔

“امممم !بس دو منٹ اور ماما۔”آیت آنکھیں بند کیے خمارآلود لہجے میں بولی۔۔۔

“آیت تمہارے دومنٹ دوگھنٹے کے برابر ہوتے ہیں۔”فریال نے غصے سے کہا۔۔۔

“اٹھ رہی ہوں نا۔”آیت کروٹ بدلتے ہوئے بولی۔۔

فریال نے اے سی آف کردیا۔لیکن آیت کو تو کوئی فرق ہی پڑا۔ان کا دل دیوار پہ سر مارنے کو کررہا تھا۔۔۔

صفوان باہر سے گزر رہا تھا۔اس نے چاچی اور آیت کی بات سنی ۔اس کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی۔۔

صفوان آیت کے روم میں گیا اور سوتی آیت کو دیکھ کے برے برے منہ بنانے لگا۔۔۔

“چاچی ٹینشن ناٹ۔آپ کی اس آفت کو جگانے میں،میں آپ کی مدد کردیتا ہوں۔”وہ چہرے پہ شاطر مسکراہٹ سجائے چاچی سے مخاطب ہوا۔فریال جو آیت کو اٹھانے کی تگ ودو کررہی تھیں۔ایک دم اس کی طرف مڑی۔

“صفوان بیٹا اس آیت نے ناک میں دم کررکھا ہے۔کس ٹائم سے اسے اٹھانے کی کوشش کررہی ہوں لیکن میڈم کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔”وہ تھک ہار کے صفوان سے بولیں۔۔

“میری سویٹ سی چاچی۔میں کس مرض کی دوا ہوں میں مدد کردیتا ہوں۔”وہ لاڈ سے چاچی سے بولا۔آیت تو مُردوں سے شرط لگا کے سورہی تھی۔صفوان بیڈ تک گیا۔سائڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھایا اور فریال سے مخاطب ہوا۔

“اب دیکھنا چاچی کیسے نہیں اٹھتی یہ بل بتوڑی۔”اس نے مسکراتے کہا اور پورا پانی سے بھر جگ آیت پہ الٹ دیا۔

“ماما سیلاب آگیا۔”وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔اس کی بات پہ صفوان پیٹ پکڑ کے ہنسے لگا۔فریال بھی ہنس رہی تھیں۔”مجھ پہ پانی کس نے پھینکا۔”وہ تلملائی۔۔

تبھی اس کی نظر صفوان پہ پڑی تو اس کا پارہ ہائی ہوگیا۔۔

“او تو چھچھوندر یہ تمہاری حرکت ہے ابھی بتاتی ہوں۔”وہ جھٹ سے بیڈ سے کودی۔صفوان بھاگ کے فریال کے پیچھے چھپ گیا۔فریال آگے آگئیں۔۔

“ماما ہٹ جائیں آگے سے۔میں آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ پانی پھینکنے کی۔کریلا کہیں کا۔”وہ دانت پیستے ایک ایک لفظ چباکے بولی۔وہ بھیری شیرنی بنی اس پہ چھپٹ رہی تھی۔اس کی ماما نے اسے روک دیا۔۔

“آیت میں نے ہی صفوان کو کہا تھا تمھیں جگانے کے لیے۔تم جاگ ہی نہیں رہی تھی۔اور یہ کریلا کیا ہوتا ہے۔بہت بدتمیز ہوگئی ہو۔بڑا بھائی ہے تمہارا تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔۔”فریال نے اسے جھڑکا۔بھائی لفظ پہ آیت اور صفوان دونوں کا دماغ خراب ہوگیا۔۔۔

“چاچی اس بل بتوڑی کا بھائی میں ہرگز نہ بنو۔”صفوان غصے سے بولا۔۔

“تو کیا شوہر بننا چاہتے ہو۔سڑیل کریلے۔”اس نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے ٹکا کے جواب دیا۔فریال اور صفوان دونوں کامنہ کھل گیا۔۔۔

“آیت یہ کیا بے ہودہ باتیں کررہی ہو تم۔”مامآ نے اسے ڈانٹا۔صفوان منہ کھولے ابھی بھی فریال کے پیچھے چھپا تھا۔اس کابس نہیں چل رہا تھا اسے قتل کردے۔۔

“ماما خود ہی اس چول انسان نے کہا تھا۔بھائی نہیں بننا چاہتا ہوں میں اس کا۔”وہ صفوان کی نقل اتارنے لگی۔۔

“او بل بتوڑی میں تمہارا شوہر بننے سے پہلے مرنا پسند کروں گا۔پتا نہیں اس معصوم کا کیا ہوگا جو تم جیسی ایک نمبر کی مصیبت کا اپنے گھر لے جائے گا۔”۔۔۔۔۔

“اچھی بات ہے۔تم مرہی جاؤ۔کم سے کم دنیا سے بوجھ تو کم ہوگا۔اور جہاں تک بات میرے ہونے والے شوہر کی تو تم اس کی فکر مت کرو۔تم اپنی سوچو۔تمھیں تو کوئی مرکے کبھی اپنی لڑکی نہ دے۔شکل سے جیل سے بھاگے ہوئے قیدی لگتے ہو۔”وہ غصے سے پھنکاری۔فریال بیچ میں کھڑی سب دیکھ رہی تھیں۔وہ کتنی بار دونوں کو ڈانٹ چکی تھیں۔لیکن دونوں جب لڑنے لگتے تو ایسا لگتا ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔کسی بھی نہ سنتے۔ابھی بھی فریال کی ڈانٹ اور گھوریوں کو نظرانداز کرتے لڑنے مرنے پہ تلے ہوئے تھے۔۔۔

“لڑکیاں تو میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں۔یونی کا سب سے ہینڈسم لڑکا ہوں میں۔”وہ مصنوعی کالر جھاڑتا اترا کے بولا۔آیت زور زور سے ہنسنے لگی۔۔۔

“تم اور ہینڈسم بہت ہی بھدا جوک تھا۔”،وہ اس کا مذاق اڑانےلگی۔۔۔

“تم کیوں جل رہی ہو۔جل ککڑی۔لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر۔”وہ انگلی اٹھا کے بولا۔۔۔

“صیح کہا لیکن غلط انداز سے نریٹ کیا جملہ۔لڑکیاں تم پہ نہیں مرتی بلکہ تمھیں دیکھ کے مرجاتیں ہوں گی۔دل کے دورے سے۔ویسے بھی بلکل جوکر لگتے ہو۔”وہ اسے زبان دکھاتی چڑارہی تھی۔۔۔

“بسسسس چپ کرو۔تم دونوں ہر وقت کتوں کی طرح لڑتے رہتے ہو۔جب دیکھو لڑائی سکون بھی کرلیا کرو کبھی۔”صفوان کچھ بولنے ہی والا تھا فریال پھٹ پڑیں۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا دونوں چپیڑیں لگائیں۔۔

“پر چاچی۔اس نے جھگڑا شروع کیا تھا۔”وہ غصے سے اس کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔

“اچھا میں نے جھگڑا شروع کیا تھا پانی تم نے پھینکا تھا۔”وہ بھیگا چہرے لیے تلملا رہی تھی۔۔

“بس آیت جاؤ چینج کرو۔لیٹ ہورہا ہے۔اور تم سفی جاؤ نیچے۔”۔۔

“پر۔”دونوں نےساتھ کہا۔

“گو۔”وہ آیت کو دھکیلتی صفوان کو باہر جانے کا اشارہ کرنے لگیں ۔دونوں پاؤں پختے چلے گئے۔۔

“اف یااللہ دونوں کو بس ہدایت دے دے”فریال نفی میں سر ہلاتی باہر چلی گئیں۔۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“السلام علیکم۔دادو تایا ابو،بابا۔”آیت نے ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھتے سلام کیا۔آیت رضوان صاحب :صفوان کے بابا کو بابا بلاتی تھی۔یہ بات صفوان کو بلکل پسند نہیں تھی اس لیے وہ مسلسل کڑوے کڑوے منہ بنارہا تھا۔سب اسے دیکھ کے مسکرا دیے۔

“وعلیکم السلام بیٹا۔”دادو نے جواب دیا۔ جو سربراہی کرسی پہ بیٹھے تھے۔ان کے پہلو میں دادی بیٹھی تھیں ۔سب ناشتہ کررہے تھے۔۔۔

“تایا ابو ملائکہ نہیں آئی ابھی تک۔”آیت کو اپنے ساتھ والی کرسی خالی دیکھی تو حسان صاحب سے پوچھ بیٹھی۔۔آیت نے امن کے دل کی بات بول دی۔۔

“ہاں بیٹا آج اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔اس کے سر میں بہت درد ہورہا ہے۔آج یونی نہیں جائےگی۔”عامرہ نے جواب دیا۔دراصل کل کے بعد وہ امن کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے بہانہ گڑھ دیا۔

“کل تو بلکل ٹھیک تھی اچانک کیا ہوا۔”آیت کی کچھ بولنے والی تھی امن نے بے چینی سے کہا۔اس کی بے چینی دیکھ کے سب مسکرادیے۔.

“او ہو بھائی اتنی بے صبری ۔کیا بات ہے؟”آیت معنی خیز مسکراتی امن سے بولی۔۔

“ہاں امن بیٹا بس سر کا ہی درد ہے۔وہ ٹھیک ہوجائے گی۔ فکر مت کرو”دادی بھی اس کی بےصبری پہ مسکرارہی تھی۔

“ارے دادی۔میں تو بس۔”وہ گردن سہلاتا کوفت زدہ مسکرایا۔اسے اپنی اس بےصبری پہ جی بھر کے غصہ آیا۔بچارا سب کے سامنے شرمندہ ہوگیا۔۔

“ابے کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔دی کھڑوس انسان آف دس والا ملائکہ کے لیے اتنا بےصبر ہورہا ہے۔”صفوان نے پاس بیٹھے احسن سے سرگوشی کی جو اس کے دائیں طرف بیٹھے شایان نے سن لی۔۔

“صفوان صاحب محبت چیز ہی ایسی ہے۔اچھے خاصے انسان کو دیوانہ بنانے میں ٹائم نہیں لگاتی۔۔”اس نے اپنے سامنے بیٹھی ہادیہ کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ہادیہ بلکل بےخبر ناشتہ کرنے میں مگن تھی۔۔۔

“بھائی یہ سب محبت وحبت فضول کے چونچلے ہیں۔”صفوان آنکھیں گھماتے دھیرے سے بولا۔۔

“بیٹا جب تجھے محبت ہوگی ۔تب پوچھو گا تجھ سے۔”شایان جوس کا گلاس لبوں سے لگاتا بولا۔۔

“بھائی صفوان ملک کو کبھی محبت نہیں ہوسکتی۔”صفوان نے اکڑکے کہا۔۔۔

“دیکھتے ہیں پھر۔”احسن جو کب سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔جھٹ سے بولا۔۔

“ہاں ہاں دیکھ لینا۔”صفوان نے کہا۔۔

“یہ تم تینوں کیا کھسر پھسر کررہے ہو۔”دادو کب سے انھیں ہی دیکھ رہے تھے۔انھیں شک بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے۔۔۔

“کچھ نہیں دادو۔”شایان نے ایک دم جواب دیا۔۔۔

“دادی آپ کو یاد ہے نا آج سے صفوان نے سارے گھر کے گندے کپڑے دھونے ہیں۔”آیت نے دادی کو صفوان کی سزا یاد کروادی۔صفوان آیت کو گھورنے لگا۔جو پیچ کلر کے سادے سے ڈریس کے ساتھ دوپٹہ اوڑھے بالوں کو ہاف کیچر میں جکڑے۔مزے سے ناشتہ کررہی تھی۔صفوان نے آیت کا گھوری سے نوازا لیکن اسے کہاں پروا تھی۔۔

“ہاں پتر مجھے سب یاد ہے۔صفوان آج یونی سے آنے کے بعد کپڑے دھوئے گا۔”دادی نے حکم سنایا۔دادو ہنسنے لگے۔آیت بھی شاطر مسکراہٹ لیے صفوان کو دیکھ رہی تھی۔۔

“لیکن آیت بیٹا سزا کس بات کی۔اس گدھے نے اب کیا کیا؟”رضوان صاحب نے صفوان کو گھورتے ہوئے کہا۔۔

“ارے بابا اس گدھے میرا مطلب ہے کریلے مطلب صفوان کو اس کے عمل کی سزا مل رہی ہے۔”وہ صفوان کو مسکراتے دیکھتی رضوان صاحب سے بولی۔۔۔

“جو بھی بہت اچھی سزا طے ہوئی ہے اس گدھے کے لیے۔کچھ تو سدھار آجائے اس میں۔”رضوان صاحب اسے ہی گھور رہے تھے اور وہ آیت کو۔آیت ڈھیٹ بنی اسے لوک دے رہی تھی۔۔

“پاپا پلیز۔”صفوان بس اتنا بول سکا کیونکہ اس کے بابا اسے کھاجانے کے موڈ میں تھے۔پاس کھڑی امی کی طرف دیکھا وہ بھی ایسے گھور رہی تھیں۔اسے کمرے پہ پڑنے والا جوتا یاد آگیا۔۔۔

“اچھا رہنے دو رضوان۔میں نے اسے سزا دے ہے جو کافی ہے۔”دادی نے رضوان صاحب کو کہا تو وہ چپ ہوگئے۔۔

“تایا ابو آج احسن کو بولیں کہ ہمیں یونی چھوڑ دے۔یہ گدھا مطلب صفوان بائیک پہ آجائے گا۔”آیت اسے نظرانداز کرتی حسان صاحب سے مخاطب ہوئی۔

“ہاں بیٹا چھوڑ دے گا۔یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔”حسان صاحب نے لاڈ سے کہا۔آیت سب کی ہی لاڈلی تھی۔کیونکہ اس کے والد کے انتقال کے بعد سب نے اس کی کوئی بات نہیں ٹالی۔صفوان تو اسی لیے تکلیف میں تھا۔۔صفوان نے کڑوا سا منہ بنایا۔احسن اس دیکھ کے ہنسنے لگا۔۔

“احسن صاحب آپ ملیے یونی میں۔کچھ حساب برابر کرنے ہیں۔”صفوان دانت پیستے احسن سے بولا جو سب نظرانداز کرگیا۔۔سب مرد حضرات نکل گئے۔امن کا دل کررہا تھاکہ وہ اپنی ملائکہ کو ایک بار جاکے دیکھ لے۔وہ کیسی ہے۔جاتے کاتے ایک نظر اس کے کمر پہ مار گیا تھا۔اس امید سے شاید دیدار یار نصیب ہوجائے۔شایان نے چلتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔

“ارے یار امن ملائکہ ٹھیک ہے تو ٹنشن مت لے۔”امن نے مسکرا کے صرف سر ہلایا۔۔احسن بھی لڑکیوں کو لے کر یونی کے لیے نکل گیا۔ہما بھی ساتھ ہی تھی۔اور دن لڑکیاں ڈرائیور کے ساتھ آتی تھیں اور صفوان احسن اپنی ہیوی بائیک پہ لیکن آج صفوان اکیلے گیا تھا۔۔

✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦✦

“یار تمہارا کزن کتنا ہینڈسم ہے۔”آیت ابھی ابھی یونی پہنچی تھی۔شانزے اور احسن کچھ بات کررہے تھے۔صفوان بھی ابھی یونی میں انٹر ہوا تھا۔آیت کو اس کی دوست فجر مل گئی تھی۔دونوں بات کررہی تھیں۔کسی آسانئمٹ کے بارے میں۔کہ اچانک اس کی نظر صفوان پہ پڑی جو سمپل سی وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے۔گوگلز لگائے انہی کی طرف آرہا تھا۔دراصل یہ یونی کی انٹری تھی۔۔۔۔

“کون یہ؟”آیت نے مڑکے صفوان کی طرف اشارہ کیا۔فجر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“لگتا ہے تم اپنی آنکھیں اور دماغ گھر چھوڑ آئی ہو۔یہ تمھیں کس اینگل سے ہینڈسم لگ رہا ہے۔سڑا کریلا۔”آیت فجر کو آنکھیں دکھانے لگی۔۔

“یہ مجھے ہر اینگل سے ہینڈسم لگتا ہے۔”فجر نے نثار ہونے والے انداز میں کہا تو آیت جل بھن گئی۔،،

“دیکھ فجر میں دماغ نہ خراب کر۔”وہ غصے سے بولی۔۔

“اب جو چیز انسان میں ہے ہی نہیں تو وہ خراب کیسے ہوسکتی ہے جی۔”صفوان نے ان تک پہنچتے آیت کی بات سن لی تھی۔اس لیے کود پڑا اس سے لڑنے۔۔۔۔

“ہاں ہاں تم تو جیسے Einstein کے خاندان سے ہو۔نہ عقل ہے نہ شکل ہے۔چھچھوندروں کا جانشین۔”آیت کہاں کم تھی۔اس نے ادھار رکھنا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔

“یار شکل تو ہے اس کے پاس۔”فجر نے صفوان کودیکھتے آیت کے کان میں کہا۔صفوان آیت کی بات پہ تلملا ہی رہا تھا۔

“یو بل بتوڑی تمیز سے اوکے۔یہ یونیورسٹی ہے تمہارا گھر نہیں سمجھی۔”صفوان نے اسے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔آیت نے اس کی انگلی پکڑ کے مروڑ دی۔۔

“وہی تو تم بھی انسان بن جاؤ۔بڑا سکوپ ہے۔اور آئندہ مجھ سے یونی میں تمیز سے بات کرنا۔ورنہ آج انگلی مروڑی ہے کل منہ توڑ دوں گی۔”وہ دانت پیس کر اس کی انگلی مروڑتی بولی۔صفوان درد سے کراہ رہا تھا۔وہ لڑکی نہ ہوتی تو اسے بتادیتا۔لیکن اسے پتا تھا وہ اس ہی شیطان کزن بھی تو تھی۔سب کچھ دادی اور پاپا کے سامنے اگل دیتی اس لیے وہ کچھ نہ بولا۔۔

شانزے بھی آگئی۔آیت نے اس کی انگلی چھوڑی۔۔

“بل بتوڑی تجھے گھر چل کے دیکھ لوں گا۔”وہ اسے کہتا جانے لگا۔

“ہاں ہاں ڈرتی نہیں میں کسی سے۔گھر جاکے دیکھ لوں گا کا بچہ۔”وہ اونچی آواز میں بولی۔سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔صفوان آیت کو گالیوں سے نوازتا احسن کے ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑا۔

“یار آیت تم بھائی سے اتنا چڑتی کیوں ہو۔کیا پتا کل کو تمھیں بھائی کے منہ لگنا پڑے۔”شانزے نے آیت کو ڈرتے ڈرتے کہا۔آیت نے اسے ایسے دیکھا جیسے ابھی اسے قتل کردے گی۔۔۔

“او عورت تھم جا۔کیا بکواس کیے جارہی ہے۔تیرا بھائی اور میں۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں کہاں اور وہ کہاں؟؟”وہ ہاتھوں سے اشارہ کرتی بولی۔۔آیت کا دل کررہا تھا کہ شانزے کا اس بکواس پہ منہ توڑ دے۔۔

“یار اتنا ہینڈ۔”اس پہلے فجر مزید بولتی آیت نے اسے چپ کروا دیا۔۔

“چپ فجر۔ایک دم چپ اب مجھے تمہاری آواز نہ آئے۔”وہ اسے انگلی اٹھاتی وران کرنے لگی۔وہ ہونٹوں پہ انگلی رکھتی سر ہلانے لگی۔وہ بھی اپنی کلاس میں چلی گئیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *