Tera Mera Piyar by Syeda Shah NovelR50619 Last updated: 8 April 2026
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode 01)Tera Mera Piyar (Episode 02)Tera Mera Piyar (Episode 03)Tera Mera Piyar (Episode 04)Tera Mera Piyar (Episode 05)Tera Mera Piyar (Episode 06)Tera Mera Piyar (Episode 07)Tera Mera Piyar (Episode 08)Tera Mera Piyar (Episode 09)Tera Mera Piyar (Episode 10)Tera Mera Piyar (Episode 11)Tera Mera Piyar (Episode 12)Tera Mera Piyar (Last Episode)
Tera Mera Piyar by Syeda Shah
یہ منظر ہے کراچی کے ایک بزنس کلاس کے بڑے اور خوشحال گھرانے کا ہے۔اس بڑے سے محل نما گھر کے باہر سنگ مرمر کی تختی پہ سنہرے الفاظ میں لکھا تھا۔۔۔
"MALIK VILLA".....
باہر سے یہ جتنا بڑا لگتا ہے۔یہاں کے لوگ اتنے ہی ملنسار،اخلاقی اور خوشحال ہیں۔اس والا میں زندگی رقص کرتی ہے۔اور اس گھر کی جان ہیں ہماری Protagonist؛آیت ملک ہیں۔اور ان کے جانی دشمن اور کزن صفوان ملک بھی۔جنہیں تنگ کرکے ہماری Protagonist؛ہیروئن صاحبہ کو چس آتی ہے۔۔
اس گھر کو دادا ابو یعنی سعادت صاحب اور دادی یعنی زرینہ بیگم نے سنوار کے؛جوڑ کے رکھا ہے۔ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔اللہ نے دونوں میاں بیوی کو چار اولادوں سے نوازا۔تین بیٹے اور ایک لاڈلی بیٹی۔
سب سے بڑے بیٹے کا نام حسان ملک تھا۔جن کی شادی اپنی خالہ زاد عامرہ ہوئی تھی۔عامرہ بہت اچھی خاتوں تھیں۔خاندان کی بڑی بہو ہونے کی ساری ذمہ داری بہت بخوبی نبھائی۔ان کے چار بچے ہیں۔سب سے بڑے اور خاندان کے سب سے بڑے، ہونہارا ور پولائٹ بیٹے؛شایان ملک ۔۔جو اپنے والد کے ساتھ مل کے بزنس سنبھال رہے تھے،اس کے بعد احسن ملک جو بہت ہی شرارتی اور زندہ دل انسان ہیں۔اسی شرارت کے چکر میں گھر کے بڑوں سے ان کی عزت افزائی ہوتی رہتی تھی۔۔احسن ملک یونیورسٹی میں ایم بی اےکے سٹوڈنٹ تھے،اس کے بعد آتی ہیں ملائکہ جو بےانتہاء ڈرپوک اور شرمیلی سی ہیں۔اور ہماری ہیروئن صاحبہ کی بیسٹ فرینڈ وہ بھی یونیورسٹی میں بی ایس باٹنی کررہی تھی ۔اس کے بعد آتی ہیں سب سے چھوٹی ہما ملک۔بالی وڈڈ کی دیوانی۔شاہ رخ کی سب سے بڑی فین۔یہ انٹر کی سٹوڈنٹ ہیں۔.
دوسرے نمبر پہ آتے ہیں رضوان ملک جن کی شادی اپنی کلاس فیلو منزہ سے ہوئی ہے۔جو بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ان کے تین بچے ہیں۔
پہلے نمبر پہ آتی ہیں ہادیہ ملک۔جو اپنی تعلیم مکمل کرچکی تھیں۔خاندان کی سب سے سمجھدار اور سگھڑ بیٹی ہونے کا خطاب انہی کو حاصل تھا۔یہ شایان سے چھوٹی اور احسن سے تین سال بڑی تھیں۔بڑوں نے باہمی مشاورت سے چھے مہینے پہلے ہادیہ کا نکاح شایان سے کروا دیا تھا۔بس شایان کے کمرمیں رخصتی باقی تھی۔۔۔پھر آتے ہیں ہمارے ہیرو صفوان ملک۔جو احسن کے ہم عمر اور کلاس فیلو ہیں۔ان کی تولا شخصیت کا آج تک کسی کو اندازہ نہیں ہوا۔پل میں پل میں ماشہ۔ان کی طبیعت میں کبھی غصے کا عنصر دیکھنے کو ملتا تو کبھی شرارت کا۔خیر ان کا فیورٹ مشغلہ ہماری ہیروئن صاحبہ کو پریشان کرنا تھا۔یہ موصول کوئی اور کام کریں نہ کریں آیت صاحبہ کو تنگ کرنے کا کام بخوبی کرتے سرانجام دیتے تھے۔۔۔۔
خیر اس کے بعد آتی ہیں شانزے ملک جو ایک نمبر کی چنڈ ہیں۔پنگے لینا فیورٹ مشغلہ اور یونی میں لڑکوں سے لڑائی ہوبی۔شرارت میں احسن صاحب کو مات دیتی ہیں۔اور دونوں بنتی بہت ہے۔یہ بھی یونی میں پولیٹکل سائنس میں گریجویشن کررہی ہیں۔۔۔
تیسرے نمبر پہ آتے ہیں ذکریا ملک۔ان کی شادی سعادت صاحب کے کزن کی بیٹی فریال سے ہوئی۔فریال ایک بہت اچھی ماں اور بہو ثابت ہوئیں تھیں۔ان کو خدا نے دو اولادوں سے نوازا تھا۔بڑے بیٹے تھے امن ملک جو ہادیہ سے ایک سال چھوٹے تھے۔خاندان کے کھڑوس ،اکھڑ مزاج اور سنجیدہ ترین شخص۔اپنی بہن کی زبان میں بورنگ شخص۔یہ بھی بزنس سنبھالتے تھے۔اکھڑ مزاج ہونے کے باوجود ان کا دل معصوم سی ملائکہ پہ آگیا۔اور کب وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔انہیں خود بھی نہیں پتا چلا۔دادی کو پہلے ہی پتا تھا کہ وہ ملائکہ کو پسند کرتا ہے سو دونوں کی نکاح بھی شایان ہادیہ کے نکاح والے دن ہی کروا دیا گیا۔ملائکہ تو امن سے بچتی پھرتی تھی۔اسے امن سے بہت ڈر لگتا تھا۔جیسے ہی وہ امن کو دیکھتی تو جھنیپ جاتی تھی۔۔۔۔
پھر آتی ہیں ہماری ہیروئن صاحبہ یعنی آیت ملک۔ایک نمبر کی شیطان۔الٹی کھوپڑی کی۔جو چیز آیت میڈیم کو چاہیے تو بس چاہیے۔یہ بھی شانزے کے ساتھ پولیٹکل سائنس کی سٹوڈنٹ تھی۔فیورٹ مشغلہ صفوان کو تنگ کرنا۔اس کی ٹانگ کھنچنا اور اس سے جھگڑنا۔۔آیت جتنی چنچل تھی اتنی ہی ایموشنل بھی تھی۔اس میں اور امن میں پانچ سال کا فرق تھا۔صفوان آیت سے تین سال بڑا تھا۔جب وہ صرف پانچ سال کی تھی تو ان کے والد کا دل کے دورے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔جس کی وجہ سے وہ اور امن بچپن میں شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔اس کے تایا ابو اور دادا نے انہیں کبھی بھی ذکریا صاحب کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔امن پھر بڑا تھا لیکن آیت تو بہت چھوٹی تھی۔اس لیے امن نے کبھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالی ہمیشہ اس کی خواہش پوری کی۔۔۔۔
اس بعد آتی ہیں آیت کی پھپھو شازیہ جن کی شادی اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ان کے دوبچے تھے رافع جو کہ آیت کا ہم عمر تھا اور اس کے بعد ان کی بیٹی تھی رعنا جو ہما کی ہم عمر اور ایک نمبر کی پڑھاکو تھی۔۔
سب کزنز کی پاٹنرشپ تھی۔ بڑے تین شایان ،ہادیہ اور امن سلجھے اور سمجھدار تھے تو بس کام سے کام رکھتے تھے۔لیکن صفوان ۔احسن ،رافع ہمیشہ سے بیسٹ فرینڈ رہے ہیں۔اور آیت،ملائکہ ،شانزے ہمیشہ ساتھ اور ان کی ہیڈ تھی آیت بی بی۔ہما اور رعنا ساتھ رہتی تھی جب پھپھو کراچی آتی تھیں۔
