Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 9

Sheh Rug by Aneeta

مروا نے جیسے ہی سائم کا موبائل ہاتھ میں لیا تو میسج باکس میں اسے ایک میسج شو ہوا جو ابھی تک سائم نے ریڈ نہیں کیا تھا جویریہ کا میسج تھا۔۔۔

دیکھا۔۔۔۔

سائرہ بالکل ٹھیک کہتی ہے کہ جتنی لڑکیاں ہیں سبھی بس۔۔اس نے گہری سانس لی۔۔۔۔

سبھی کو سائم ہی نظر اتا ہے۔۔۔

اس نے ہمت کر کے میسج اوپن کیا۔۔۔

میں جانتی ہوں تم تھوڑے اپسیٹ ہو۔۔۔

لیکن تم مجھ سے بھی شیئر نہیں کر رہے کیوں سائم۔۔

جویریہ نے کچھ ایموجیز کے ساتھ اسے میسج کیے تھے۔۔۔

میسج پڑھتے ہی مروا کا پارہ ہائی ہو چکا تھا۔۔۔۔

منہ کے زاویے بناتے ہوئے وہ میسج پڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔

اس نے جلدی سے جویریہ کا نمبر ملایا اور فون کان کے ساتھ لگا۔۔۔۔

ہاں سائم دوسری طرف سے اواز ائی۔۔

تم میرے شوہر کا پیچھا چھوڑ دو تو اچھا ہوگا۔مروہ ہر ایک کو اب مہروش کی نظر سے ہی دیکھتی تھی۔۔

مروہ۔۔۔۔۔

جویریہ جو سونے کی تیاریوں میں تھی ایک دم سے چونکی۔۔۔

یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو میں سائم کا۔۔

بس کر دوں میں سب جانتی ہوں۔میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا مروہ نے ایک دم سے فون بند کر دیا اسے سائم اتا نظر ارہا تھا۔۔۔۔

غصے میں اتنی سی بات کر کے مروا نے موبائل بند کر دیا تھا اور کال ہسٹری سے کال کو بھی ڈیلیٹ کر دیا تھا۔۔۔

سائم ابھی تھوڑی فاصلے پر تھا تو اس نے دھیان نہیں دیا تھا شاید۔۔۔

تو کر لیا چیک موبائل میری جان۔سائم نے اس کے گال کھینچتے ہوئے پوچھا اور ہاتھ میں پکڑی ٹرے کو اس کے سامنے رکھا۔۔

مروا نے بھی اپنا رخ اس کی طرف کیا۔اور موبائل اس کے ہاتھ میں دیا ہاں کر لیا۔۔۔

فرائی سالم فش تھی۔ اور کچھ سورس تھے۔فش کے اوپر کچھ پسے ہوئے ڈرائی فروٹ تھے فش سے سٹیم نکل رہی تھی جو مروہ کی بھوک کو اور چمکا رہی تھی۔ڈرائی فروٹس میں کچھ مصالحہ مکس تھا کینیڈا کے لوگ اسے ایز ا مصالحہ بھی یوز کرتے ہیں۔۔۔۔

ساتھ میں بریڈ نما گول روٹیاں۔۔۔۔

جو کافی چھوٹی چھوٹی تھی۔پر کافی ابھری ہوئی تھی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سٹریم کلاک ساؤنڈ کرنے لگی۔تو مروہ اور سائم مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھانے لگے تو سائم نے مروا کا ہاتھ پکڑکر اپنے چہرے پہ لگایا ۔۔۔۔۔۔

میں تمہیں ہمیشہ ایسے ہی دیکھنا چاہتا ہوں۔اس نے چہرے سے ہاتھ کو اٹھایا اور پھر لبوں کے پاس لے کر ایا بوسہ دیتے ہوئے اس نے ایک نظر مروا کو دیکھا۔۔۔۔

میری انگوٹھی کہاں ۔مروا نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔

میری جان کو انگوٹھی چاہیے۔۔۔

سائم نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا جو بالکل خالی تھا۔اس کی رگے واضح تھی۔بنا کسی انگوٹھی کے بھی وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔

تم نے انگوٹھی مجھے کیوں نہیں پہنائی ابھی تک وہ ڈائمنڈ کہاں ہے۔۔

مروہ نے حیرانگی سے پوچھا اورسائم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

بس دل ڈرتا تھا۔اس نے اتنی سی بات کرکے مروہ کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔

اور فش کی ایک بائٹ مروہ کے منہ میں ڈالی۔سائم نے مروہ کی اسانی کے لیے اسے پیسز میں ڈیوائڈ کیا تھا ۔۔۔

اور ساوس میں ڈپ کر کے اس کے منہ میں ڈالا تھا۔۔۔

کس بات سے مروانے اس کا ہاتھ پکڑ کر نوالہ منہ میں ڈالا۔۔۔

بس چھوڑو اب کھانا کھاؤ ۔اس نے خود بھی ایک بائٹ لی۔۔۔

کہیں تم نے وہ جویریہ کو تو نہیں دے دی ۔۔۔۔

کم ان مروا۔۔۔۔۔۔۔سائم نے ایک گہری سانس لی مروا ۔وہ جو کھانے میں مصروف تھی ایک دم سے چونکی اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔

اج رات اپنی جان کو پہناؤں گا رات ویسے بھی بہت رومینٹک ہونے والی ہے۔۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہونے والا اس نے پھر نظر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔

تم اپنی انگوٹھی بھی اپنے پاس رکھو مجھے نہیں چاہیے۔۔۔

ہر وقت بس منہ کے زاویے بناتے بولی۔۔۔۔۔

اس نے ایک بائٹ منہ میں ڈالی اور اسے گھورنے لگی۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔وہ بے احتیار ہنسا۔۔۔۔۔۔

یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔

مروہ کھانا چھوڑ چکی تھی اور حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

تم اتنی عجیب کیوں ہو پہلے مجھے یہ بتاؤ۔۔۔

اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا اور پھر اس نے سوال کیا۔لیکن وہ ابھی بھی ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔

اچھا میں عجیب ہوں تو جویریہ کو تو۔وہ بولتے بولتے بولتے رکی۔وہ کیئر والی بات کرنے والے تھی لیکن پھر اس کے ذہن میں ایا کہ پھر جان جائے گا کہ میں نے میسج پڑھا ہے۔یا اسے کال کی ہے۔۔۔۔۔۔

بولو سن رہا ہوں۔ اس نے فش توڑتے ہوئے کہا اور پھر فش کا ایک بائٹ اس کے منہ میں ڈالا۔۔۔

وہ اس کی بنجگانہ باتوں سے یوز تو ہو گیا تھا۔شاید۔۔۔۔

وہ دونوں بینچ پر امنےسامنے بیٹھے تھے دونوں طرف پاؤں کیے۔درمیان میں ٹرے پڑی تھی جس میں کھانا تھا۔وہ سٹیم کلاک کے بالکل سامنے بیٹھے تھے ان کے پیچھے پھولوں کا ایک بڑا سا دستہ لگا ہوا تھا ارٹیفیشل پھولوں کا۔۔۔۔

مروہ نے سر پے سرخ کلر کی بینی پہنی تھی جس میں وہ اور بھی کیوٹ لگ رہے تھی۔۔بال دونوں طرف سے اگے تھے۔۔۔

سائم بلو کوٹ کے نیچے وائٹ شرٹ اور نیچے وائٹ ہی پینٹ پہنی تھی۔۔۔۔

مروہ کو گھوڑتے دیکھ کر سائم نے اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے۔۔۔۔۔۔

یار جویریہ۔۔۔۔۔

وہ ایک اچھی لڑکی ہے اپنے کام سے کام رکھتی ہے۔اور میری زندگی میں یہ پہلی لڑکی ہے جس نے مجھ پہ کوئی لائن نہیں ماری اس نے مروہ کو انکھ ماری تھی۔۔۔۔

وہ ابھی بھی ٹشو سے ہاتھ صاف کر رہا تھا۔۔۔

ایسا تمہیں لگتا ہے نا جب کہ ایسا نہیں ہے۔وہ تم سے پیار کرتی ہے سائم۔

سائم نے دوسرا ٹشو اٹھا کر اس کا منہ صاف کیا۔دیکھو میں نے اج بہت ہنس لیا ہے۔اب میرے پیٹ میں درد پڑ جائے گا بس کر دو۔اس نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔ جس سے اس کے چہرے پر ڈمپل واضح ہوا تھا اور نظر کو دوسری طرف گھمایا تھا۔۔۔

بہت عجیب ہو مروہ۔۔۔۔۔اس نے ٹشو کو ٹرے میں رکھ کر نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔اور پھر سے اس کے گال کھینچے۔۔۔۔۔

دیکھو سائم۔وہ تھوڑی دیر چپ ہوئی۔۔۔وہ بہت سنجیدہ تھی۔۔۔۔

تم اس کے ساتھ کام ختم کر دو۔پلیز میری حاطر وہ منہ بنا کر بولی تو سائم پہلے ہی ہنس رہا تھا۔

مروہ کیا تم بچوں والی باتیں کرتی ہو۔بڑی ہو جاؤ اب شادی ہو گئی ہے تمہاری۔۔ اس نے بے دہانی میں پھر سے اس کی طرف دیکھا۔۔

میری خاطر بھی نہیں کر سکتے۔اب مروہ اسے ایموشنل کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اچھا تم نے میری حاطر کیا کیا ہے ہمیشہ مجھ سے دور بھاگتی ہو۔جیسے میں کچا چبا جاؤں گا۔۔۔

سائم میں سیریس ہوں۔۔۔

میری جان میں بھی سیریس ہوں اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔کیا نہیں کی تم نے ایسی حرکتیں بتاؤ اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔۔۔

یہ میں ہوں جو برداشت کر رہا ہوں۔۔۔

اس نے بریڈ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالی۔مجھے نہیں کھانی مروہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔

چلو اؤ کافی پیتے ہیں۔سائم پہلے خود اٹھا اور پھر ہاتھ اگے بڑھایا۔۔۔

سٹیم کلاک کے بالکل سامنے کوسٹا کافی شاپ تھی۔۔

جو بہت ہی خوبصورت نظارہ پیش کر رہی تھی۔لائٹوں سے سجی ہوئی تھی۔شاپ زیادہ بڑی نہیں تھی لیکن بہت خوبصورت تھی۔

یہاں

کی کوفی مجھے سب سے بیسٹ لگتی ہے۔اور اس کولڈ ویدر میں ہاٹ کافی۔اور ساتھ میں ہاٹ سی وائف مزہ دوبالا کرتا ہے۔وہ اسے باہو میں قید کرے اپنے ساتھ لے کے جا رہا تھا۔

اج سردی انتہا کی تھی۔۔۔۔

تو مروہ بھی اس کی باہوں میں سردی کم محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

___________

مروہ کو کال کرتی ہوں پتہ نہیں چلی گئی یا یہی ہے۔سائرہ ان ڈیوٹی تھی۔اس نے ہاتھ کو رومال سے صاف کیا کیونکہ وہ پیزا بنا رہی تھی۔..

اور پھر فون اٹھا کے مروہ کو ملایا۔۔۔

مروہ اور سائم دونوں کافی شاپ پر بیٹھے تھے۔جو چاروں طرف سے شیشے کی دیوار تھی۔ مروہ اس کے ساتھ ٹیک لگائے باہر کا نظارہ دیکھ رہی تھی جہاں چلتی پھرتی دنیا اپنے کاموں میں مصروف تھی۔اور سٹیم کلاک تو الگ ہی نظارہ پیش کر رہی تھی۔مروہ کے نظریں اس سے نکلنے والی سٹیم پہ جمی ہوئی تھی۔اس شدید سردی میں یہ اسے راحت بخش رہی تھی۔۔۔۔۔۔

کیا سوچ رہی ہو مروا اس سے پہلے کہ مروہ کوئی جواب دیتی اس کا موبائل بچنے لگا سائرہ کا نام دیکھ کر اس نے اگلے لمحے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔

سائرہ نے سب سے پہلے ہی اس سے پوچھا کہ وہ یہیں ہے یا جا چکی ہے۔۔۔۔

ہاں ۔ہم ابھی یہی ہیں لیکن ہم چلے جائیں گے ۔۔۔

کیا ہوا تھا تمہارے سائیکو ہسبینڈ کو اب۔سائرہ نے اگلا سوال کیا۔۔

مروا نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔جو اپنے موبائل کے ساتھ لگا ہوا تھا۔۔

کچھ نہیں میں بتائے بغیر ائی تھی نا۔سائم پہلے تو ان کی باتوں پہ کوئی انٹرسٹ نہیں لے رہا تھا لیکن اس بات پہ اس نے مروہ کے کان سے موبائل کھینچا۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بات میرے متعلق ہو رہی ہے۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔

اور اس نے موبائل بند کر دیا۔۔۔۔

کیوں بیوٹی فل پیریڈ کو خراب کر رہی ہو۔۔۔۔

مجھے نہیں لگتا یہ تمہیں کوئی اچھا مشورہ دے سکتی ہے۔

تمہارا ہی سمپل ہے۔اس نے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

کیا ہم اپنی باتیں نہیں کر سکتے اس نے مروہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔اتنی دیر میں کافی بھی اگئی تھی اور ساتھ میں براؤنیز اور ساتھ کچھ کوکیز بھی تھے۔۔۔

سائم نے کانٹے سے براؤنیز کو توڑا اور مروہ کے منہ میں ڈالا۔۔۔

یہ تم سے زیادہ میٹھی نہیں ہے۔۔۔۔

پتہ نہیں حود کو کیا سمجھتا ہے سائرہ جان چکی تھی کہ فون سائم نے بند کیا۔۔۔۔۔

میں ان دونوں کو کلوز کرنے میں کتنی محنت کی میں نے مروہ کو کتنا سمجھایا صرف اس کے لیے اور یہ۔۔۔۔۔

اب میں بھی مروہ کو الٹے راستے لگاؤں گی یہی تو یہی صحیح اس نے موبائل کو ٹیبل پہ پھینک اور پھر سے کام میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔

میری جان کے ٹوٹے ابھی سونا نہیں ہے۔ سائم گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ڈاؤن ٹاؤن کے قریب پہنچ کر اس نے مروا کا گال پھر سے کھینچا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ نیند کی وادیوں میں جا رہی ہے۔۔۔

میں نہیں سو رہی اس نے سوتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔۔

سائم ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

مجھے نیند اڑانی اتی ہے بیگم۔۔۔۔۔

اس کے کپکپاتے ہونٹ اسے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔۔۔۔۔

اس نے گاڑی کو وہیں روک کر اپنا سیٹ بیلٹ اتارا۔اور مروہ کی طرف جھکا۔۔۔

سائم ۔۔۔وہ جو پھر سے آنکھے بند کرنے کے موڈ میں تھی اک دم سے سہمی۔۔۔۔۔۔ اس نے کمر سیدھی کرنا چاہی پر وہ اس کے چہرے کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔

وہ اس کے ارادوں سے بے خبر تھی ایک دم سے سیدھی ہوئی لیکن اتنی دیر میں سائم اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔

وہ شدت سے بھرپور لمس اس کے ہونٹوں پے چھوڑ رہا تھا۔۔

ائی لو یو سو مچ۔۔۔۔۔۔۔۔

سا۔۔۔۔۔۔سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اسے پیچھے کیا کیا کر رہے ہو ہم روڈ پر ہیں۔اس نے سامنے اشارہ کیا۔۔۔۔

بہت ہی بے شرم ہو تم۔۔۔۔

اس نے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔وہ اس ٹائم ڈاؤن ٹاؤن کی روڈ پر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے گاڑی کو سائیڈ پہ لگایا ہوا تھا۔۔۔

اب دوبارہ سونے کی غلطی مت کرنا۔اسے ون کرتے ہوئے پھر سے اپنا سیٹ بیلٹ باندھا۔۔

تو مروہ نے اپنی کمر سیدھی کی اور سیٹ بیلٹ کو ٹھیک کیا۔وہ شکوے بڑی نگاہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

_____________

مروہ نے مجھے ایسا کیوں کہا۔۔۔۔۔۔۔

کیا مجھے سائم کو بتانا چاہیے۔۔۔۔۔۔

سائم یہ سب جانتا ہوگا۔۔۔۔

مروا نے اسی کے موبائل سے ہی تو مجھے ون کیا ہے۔اس نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو پھر سے ٹیبل پر رکھا۔۔۔

وہ ہاتھ میں کافی کاکپ لیے کھڑکی کے پاس ائی۔۔۔۔۔

میں صبح افس میں سائم سے بات کروں گی۔۔۔۔

اس نے کافی کا ایک شپ لیا۔اس نے دونوں ہاتھ کپ پر جمائے ہوئے تھے۔۔۔۔۔

لیدر کی جیکٹ کے نیچے جینز کی پینٹ تھی۔ ۔اور نظریں نیچے گارڈن پر تھی۔۔۔۔۔۔۔

_______

تھوڑی ہی دیر میں مروا اور سائم گھر پہنچ چکے تھے۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے گاڑی کو بریک لگاتے ہی اپنا ایک ہاتھ مروہ کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔۔

تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔مروہ کی انکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔

تمہیں تو بخار ہے میری جان۔۔۔۔۔۔

سائم نے جلدی سے سیٹ بیلٹ اتارا اور گاڑی سے نکل کر اس کی طرف ایا۔۔۔۔

یہاں دیکھو۔۔۔۔۔۔

سردی لگ گئی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اسے مکمل اپنی باہوں میں سمیٹا۔

تم نے مجھے سونے نہیں دیا نا بس اسی وجہ سے۔

مروا نے ایک ہاتھ اس کے شولڈر پر رکھا۔۔۔

سوری میری جان اس نے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ اسے کمرے میں لے ایا تھا اس سے بیڈ پر لٹانے کے بعد اس نے بلینکٹ اس کے اوپر کیا۔۔۔۔۔

میڈیسن باکس اٹھایا اور اس میں سے دو میڈیسن نکال کر مروہ کی ہتھیلی میں رکھی۔۔۔۔

اسے سہارا دے کر اس نے اٹھایا۔جلدی سے کھاؤ۔۔۔۔۔

ایک ہی کھاؤں گی میں ایک سے ٹھیک ہو جاتی ہوں۔

میری جان دو سے جلدی ٹھیک ہوگی۔

مروا نے زبردستی ایک گولی باکس میں رکھی اور ایک کو منہ میں رکھا اور پانی کا گلاس سائم کے ہاتھ سے لیا۔۔۔۔

وہ پھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

بیٹھو نہیں لیٹ جاؤ۔۔۔۔۔

میں گرم گرم سوپ بنا کے لاتا ہوں۔

نہیں کچھ نہیں مجھے سونا ہے۔۔۔

وہ لیٹ چکی تھی اور بلینکٹ کو اوپر اور چکی تھی۔۔۔

سائم نے اس کی گال پہ اپنے لب رکھے۔۔۔۔

اوکے میری جان میں بھی اتا ہوں۔۔۔۔۔

مروا نے ساری رات سائم کا بہت تنگ کیا تھا۔اور سائم نے بھی اس کے نہرے جی جان سے اٹھائے تھے۔حالانکہ اج مسلسل اس نے ڈرائیو کی تھی۔اور تھکن کے باعث اس کہ بازو میں بھی شدید درد تھا۔۔۔

وہ ہر ادھے گھنٹے بعد اس کا بخار چیک کرتا تھا۔۔۔

صبح کے اٹھ بجے تھے۔سائم اپنے موبائل کی اواز سے اٹھا تھا۔

بند انکھیں اس نے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔

اچھا ٹھیک ہے میں ا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔

افس سے فون تھا وہ کل سے سکپٹڈ تھا۔تو بہت کام پینڈنگ تھا۔۔۔۔

سائم نے موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور مروہ کے اوپر جھکا جو اس کے بازو پہ لیٹی ہوئی تھی۔۔۔

اس نے ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔بحار ابھی بھی تھا۔۔۔۔

تم کہیں نہیں جاؤ گے۔مروانی انکھیں کھولتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

اور خود کو اس کے سینے میں چھپا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس سائن کرنے ہیں میں واپس ا جاؤں گا۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔نہ وہ بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس تھوڑی دیر میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے بلینکٹ اس کے اوپر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں اسے بریک فاسٹ کروانے کے بعد وہ ہیلپر کو اس کا حیال رکھنے کی تنقید کر کے گیا تھا۔وہ بھی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن کام ضروری تھا اس نے دستخط کرنے تھے۔۔۔۔

پیمنٹس بھی پینٹنگ تھی۔جو اسی نے کلیئر کرنی تھی۔۔۔۔۔

مروہ پھر سے پھر سے سو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_______

یہ تم کیا کہہ رہی ہو جویریہ سب کچھ ایسے کیسے ختم کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔

یہ تو مروہ سے پوچھو۔۔۔۔۔

وہ اسے ساری بات بتا چکی تھی۔اورسائم شدید غصے میں تھا۔۔۔۔۔

دیکھو اس کی طرف سے میں سوڑی بولتا ہوں نا اب بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلیز جویریہ۔۔۔۔۔۔

جویریہ اس کی اصرار کرنے پر بیٹھ چکی تھی۔سائم اس کی بہت ریسپیکٹ کرتا تھا۔کیونکہ اس کے ساتھ پارٹنر شپ ہارون نے شروع کی تھی۔اس لیے سائم کے لیے یہ پروجیکٹ بہت اہم تھا۔حالانکہ جویریہ کے جانے سے صرف جویریہ کو ہی نقصان تھا۔لیکن سائم اس کی ریسپیکٹ کرتا تھا۔اس لیے فورس کیا۔۔۔۔۔۔۔۔