Sheh Rug (Season 2) by Aneeta NovelR50475 Sheh Rug Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Sheh Rug Episode 8
Sheh Rug by Aneeta
ہاں جویریہ۔۔
مروہ جو اس کے بازوں سے فرار ہونے کے چکر میں تھی۔سائم نے اسے پھر سے کھینچا۔۔۔۔۔
جویریہ کا نام سن کر وہ پہلے سے ہی غصے میں تھی۔۔۔
اچھا میں بعد میں بتاتا ہوں ابھی تھوڑا مصروف ہوں سائم نے یہ کہتے ہی فون بند کر دیا اور فون کو بیڈ پے گرایا۔۔۔۔
ایسے کیسے لڑکی ۔۔۔۔
تھپڑ مارا ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔
یہ روکی سوکھی سوری ایکسیپٹ نہیں ہوگی۔۔۔
وہ اسے بازوں میں قید کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کس کرنا پڑے گا۔اس نے قدر ے بے باکی سے کہا تھا۔
کسں۔۔۔مروہ نے پلکیں جمکتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں سائم نے گال مروہ کی طرف کیا۔اور اپنی شہادت کی انگلی اپنے گال پہ رکھی۔۔۔
میں ۔۔وہ شرماتے ہوئے بولی۔وہ پزل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
مائی بی بی کما اون۔۔اس نے پھر ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کس کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
وہ بری طرح سے گھبرا گئی تھی.۔۔
کچھ دیر پہلے کا سائم اپ کہیں گم ہو گیا تھا۔وہ بے تابی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
۔
میں اپنی جان کو زیادہ زحمت نہیں دوں گا۔گال پہ مانگ رہا ہوں۔۔وہ سمجھانے والے انداز میں بولا۔۔۔۔
مروا شرم کے مارے انکھیں اگے پیچھے گھما رہی تھی۔۔۔
دیکھو اب مجھ سے ویٹ نہیں ہو رہا اگر اب تم نے کس نہیں کیا نا تو پھر مجھے کرنا پڑے گا۔اور مجھے گال پہ کس کرنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔اس نے اس کے گال کھینچتے ہوئے کہا۔تم سمجھ رہی ہو نا اس نے ایک دفعہ پھر اسے دیکھا اور اپنے گال اس کی طرف سے کیے۔۔۔
مروہ اس کا مطلب اچھے سے سمجھ چکی تھی۔۔۔
مروا نے انکھوں کو ایک دم بند کیا اور پاؤں اٹھا کر اس کے گال پہ اپنے لب رکھے۔سائم کا چہرہ مسکراہٹ سے کھڑکھلا اٹھا تھا۔کہ مرو اگلے ہی لمحے اس سے دور ہوئی۔۔۔۔۔
بس اتنی چھوٹی سی۔۔۔۔سائم نے رخ بدل کر اسے دیکھا۔۔۔
تمہیں کس کرنی بھی نہیں آتی یار۔۔۔۔
چلو اؤ تمہیں کس کرناسکھاتا ہوں۔سائم نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن وہ بہت تیز رفتار سے باہر بھاگی۔۔۔۔۔
مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ وہیں تھا کہ مروہ باہر جا کے دروازا بند کر چکی تھی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے پیچھے جاتا اس کا فون پھر سے بجنے لگا۔۔۔۔۔۔
ہاں جویریہ۔۔۔۔اس نے بیڈ کی طرف جا کر فون اٹھایا۔۔۔۔
سائم تم میٹنگ چھوڑ کر گئے ہو کیا ہو گیا ہے۔رات کو کانفرنس ہے تمہارا ہونا اس میں بہت ضروری ہے۔اس میں ہمارے تینوں پروجیکٹ ہے۔۔۔۔۔
جویریہ میں کام کے سلسلے میں ونیکور ایا ہوں۔مجھے رات کو شاید دیر ہو جائے۔تم کسی طرح مینج کر لو یار۔سائم اس سے بات کرتے ہوئے۔باہر ا چکا تھا اور اب فون بند کر اس نے پاکٹ میں ڈال لیا تھا۔جویریہ نے اس کی بہت منتیں کی تھی لیکن اس وقت اس کے لیے صرف مروہ ضرور تھی۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے اس لڑکے کو۔جویرا نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا۔۔
ضرور اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ ہے جو یہ مجھ سے بھی ڈسکس نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔
شاید اس میں اور مروہ میں کوئی پرابلم چل رہی ہے۔وہ سوچتے سوچتے چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
مروہ اور اس کی شادی بھی کچھ سمجھ سے باہر ہے۔
پاکستان جانے سے پہلے تو سائم نے کوئی اناؤنسمنٹ نہیں کی تھی۔
اس نے بلیک جینز کے اوپر بلیک ہی شرٹ پہنی تھی۔نیچے بلیک ہائی ہیلز تھے۔
___________
ماما فاطمہ نے جب سے مروہ کا وائس میسج سنا تھا وہ خوشی سے کھل کھلا اٹھی تھی۔۔۔۔۔
وہ وائٹ امریلا فراک پہنے صحن میں گول گول گھوم رہے تھی۔۔۔۔
اور اپنے کربت ریحان اور علیزے کو دکھا رہی تھی۔۔۔۔
اور علیزے اور ریحان کی خوشی تو اسی میں تھی۔۔۔۔
ریحان اپ کی وجہ سے مروہ مجھ سے بالکل بات نہیں کرتی۔علیزے نے ایک نظر فاطمہ کو دیکھا اور پھر ریحان کو مخاطب کیا۔۔۔۔۔
اپ کو ایسا بیہیو نہیں کرنا چاہیے تھا۔علیزے کچن میں اتے ہوئے اس سے شکایت کر رہی تھی اس نے سمپل سا لون کا جوڑا پہنا ہوا تھا۔اور دوپٹہ گلے میں تھا۔وہ پھیلے ہوئے برتن سمیٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دیکھو میں نے جو کیا اس کے بلے کے لیے کیا۔۔۔
اور پہلے بھی خاندان میں کیا کم بدنامی ہو گئی۔
ہر کوئی باتیں کرتا تھا۔
اور اب ہم کیا جواب دیتے ۔ابھی فخر سے یہ تو کہہ سکتے ہیں نا کہ وہ شادی کر کے جا چکی ہے۔۔۔
اور انہوں نے نکاح کر لیا تھا تو اب اس نے اسی کے ساتھ رہنا تھا نا کہ ہمارے۔وہ منہ سجائے اسے جواب دے رہا تھا۔علیزے کی باتیں اس ٹائم اسے زہر لگ رہی تھی۔کیونکہ وہ ایک مرد تھا اور وہ مرد کی حیثیت سے سوچتا تھا۔اور علیزے ایک عورت تھی۔۔
مرد ہمیشہ دنیا داری کو دیکھ کر سوچ رکھتا ہے۔۔۔
جبکہ عورت سب سے پہلے ایموشنل ہوتی ہے اور پھر جا کے کچھ سوچتی ہے۔ایک عورت کے لیے اس کے ایموشن بہت قیمتی ہوتے ہیں۔وہ دل کا استعمال پہلے اور دماغ کا بعد میں کرتی ہے۔لیکن یہ ہمیشہ فائدہ نہیں دیتا۔۔۔۔
کبھی کبھی دماغ کو پہلے رکھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔
ریحان نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کو سائیڈ پہ رکھا۔۔۔
اور تم بچوں کی طرح اس کی فکر کرنا بند کر دو وہ بڑی ہو گئی ہے۔۔۔
اس نے تمہیں بنا بتائے نکاح کیا اور تم ابھی بھی۔۔۔
ریحان اپ مروہ کو بہت اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔
بنا بات کی سچائی پوچھے اتنا بڑا فیصلہ ہم کیسے لے سکتے ہیں۔۔
علیزے مروہ کی ناراضگی سے پریشان تھی۔۔۔
کیا تم نے اس کا نکاح نامہ نہیں دیکھا تھا ریحان بھی غصے سے لال ہوا۔کیونکہ شاید علیزے بات ہی عجیب کر رہی تھی۔۔۔۔
علیزے نے ترچھی نگاہ ریحان پر ڈالی۔۔۔
تو وہ بھی باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو میری بیوٹی فل بیگم یہاں+بہت ہی عجیب بیگم یہاں بیٹھی ہے۔۔۔
سا ئم ڈبے پاؤں گارڈن میں ایا تھا مروہ ٹیک لگائے۔گارڈن میں پرے صوفے پر بیٹھی تھی۔جس کے اوپر امریلا لگی تھی۔۔۔۔۔
اس نے گارڈن سے کچھ پھول اتارے تھے جو اس کے ہاتھ میں تھے۔۔۔۔
کیا یہ میرے لیے اتارے۔سائم اس کے ساتھ ہی جگہ بنا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔
نہیں اپنے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم کمرے سے نکلنے سے پہلے کوٹ پہن چکا تھا اب اس نے کوٹ اتار کر مروہ کے کندھوں پہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
دل رکھنے کے لیے کہہ دیتی۔
مجھے سائم مردان کی طرح باتیں بنانا نہیں اتی نا۔
کہ لوگوں کو اپنا اسیر کر لوں۔وہ پھولوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
اسیر تو بیگم اپ نے بنا باتوں کے کر لیا۔مجھ جیسے بندے کو قابو کر لیا ہے۔اوارڈ ملنا چاہیے تمہیں۔۔۔۔
بہت ٹھنڈا ہے اندر چلو۔۔۔۔
اس نے مروہ کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
ونیکوور میں کینیڈا کے باقی شہروں کی نسبت زیادہ سردی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
تقریبا شام کا سورج ڈل چکا تھا۔اور دھیرے دھیرے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
سائم ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم نے اس کا سر کاندھے پہ رکھا ایک نہیں ہزار باتیں پوچھو۔وہ ویسے تو اٹھنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اس کی بات سن کر رک گیا تھا۔
یہ گھر کتنا ویران ہو گیا ہے کچھ وقت پہلے جب میں یہاں ائی تھی۔۔۔۔۔
کتنی رونق تھی سب لوگ تھے تمہاری فیملی۔۔۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کر سائم کو دیکھا اور پھر سے اس کے سینے کے ساتھ لگ گئی۔۔۔۔۔۔
مرو تم جانتی ہو۔۔۔۔۔
جب میں پاکستان سے واپس ایا تھا۔ڈیڈ کی وفات کے بعد وہ مشکل سے بول پایا تھا یہ لفظ۔۔۔۔۔
میں بہت مشکل سے اس گھر میں قدم رکھ پایا تھا۔میرا سب کچھ بکھر گیا تھا۔اس گھر کا سناٹا اس نے گردن اٹھا کر پیچھے گھر کی طرف دیکھا۔مجھے کاٹنے کو دوڑتاتھا۔۔۔۔
اور یہاں پہ کوئی نہیں تھا۔مجھے اس وقت تمہاری سب سے زیادہ ضرورت تھی۔سائم نے اس کے سر پہ بوسہ دیا اس کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔گزرے ہوئے لمحات اس میں سمٹ چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ اس کے دل کی دھڑکن محسوس کر سکتی تھی جو تیزی سے دھڑک رہا تھا۔اور اس کا درد محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
جب میں نے کالج ختم کیا تو یونیورسٹی کے لیے مجھے ٹرانٹو جانا تھا۔تو بابا نے وہاں پہ گھر لے لیا کہ سبھی وہاں پہ شفٹ ہو جائیں گے۔۔۔۔
میری خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس گھر میں میری بہت سی یادیں وابستہ تھی میرا بچپن یہاں پہ گزرا تھا۔وہ شاید مروہ کو اپنے دل کا ہر دکھ بتانا چاہتا تھا۔میں کسی صورت بھی اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔اور شاید میں نے اپنی زندگی میں یہ پہلی ضد کی تھی۔
سبھی نے بہت فورس کیا میری سہولت کے لیے۔اس نے پھر سے بوسہ مروہ کا سر پہ دیا۔لیکن میں چاہتا تھا کہ جب میں یونیورسٹی سے گھر اؤں۔تو یہ گھر مجھے ویسے ہی کھل کھلاتا نظر ائے۔۔۔۔۔۔
لیکن اب۔۔۔۔۔۔
مجھے خوف اتا ہے۔۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس گھر کی تنہائی مجھ سے شکایت کر رہی ہے۔اور میں اس میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گا۔۔۔
لیکن پھر تم ائی میری زندگی میں۔بس اسی لیے میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔۔۔
یہ سب پرابلمز میری وجہ سے ہیں نا۔اس نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔۔۔۔
تو کیا تم نے کم پرابلم دیکھی ہے میری وجہ سے۔۔۔۔
بس اب مجھ سے جدا نہیں ہونا۔کچھ بھی کھونے کی ہمت نہیں ہے مروا۔۔۔۔
مروہ میں مر جاؤں گا۔اس نے اسے اپنے سینے سے اٹھا کر سامنے کیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو قید کیا۔
تم میری ویکنس بن گئی ہو۔۔۔۔۔
میں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔۔۔۔
مروا نے اس کے دونوں ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے جو اس کے چہرے پر تھے۔۔۔۔
ہمیشہ تمہارے ساتھ رہو گی۔
سائم اس کے لبوں پہ جھکنے ہی والا تھا کہ مروانے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا تھا کے۔۔۔۔۔۔کیا یار۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ تم پھر سے واپس اپنی جگہ پر اگئی۔میں بڑا سخت پکڑوں گا پھر تمہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔یہاں ا کے بیٹھو۔وہ اسے ون کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جلدی۔۔۔۔۔۔۔
اب اؤ گی اس نے اپنے مقابل اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
تم بہت ہی ٹھرکی ہو گئے ہو۔۔
مجھے بہت بھوک لگی ہے کہیں باہر چلیں۔۔۔
اوکے چلیں گے پہلے یہاں ا کے بیٹھو۔۔۔
پلیز چلو نا۔۔۔۔۔
مروہ اس نے پیار سے بلایا تو مروہ نے اپنا رخ بدل لیا۔۔۔۔
سائم نے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پہ رکھا۔تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا مروہ۔۔۔۔۔
اور پھر اٹھ کر اس کے سامنے ایا۔۔۔
مروہ ڈر کے مارے تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے بابا چلتے ہیں میں گاڑی کی چابی لے اؤ۔۔۔۔
اس کی جاتے ہی مروہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں باہر ا چکے تھے۔۔۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔
سٹیم کلاک کے پاس پہنچتے ہی مروانے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
سائم نے بھی گاڑی کو وہیں روک دیا۔۔۔۔۔۔
سائم کو ویسے تو اس پہ بہت غصہ تھا لیکن ابھی کے لیے اس کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہو گیا تھا۔۔۔
وہ دونوں سٹم بلاک کے سامنے ایک بینچ پر بیٹھے۔۔۔۔
مروہ گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی۔
کیا فش کھاؤ گی۔۔
سائم نے سامنے نظر دہرائی تو کافی سٹال لگے ہوئے تھے جس میں ایک فرائی فش کا بھی تھا۔۔۔۔
ٹھنڈ بہت زیادہ تھی۔کافی فش اور بہت سی فرائز چیزوں کے سٹال لگے ہوئے تھے۔۔۔۔
ہاں مجھے بہت بھوک لگی ہے میں کچھ بھی کھا لوں گی۔۔
مروہ نے قدر بے چینی سے کہا تھا جیسے اب اس سے انتظار نہیں ہو رہا تھا۔
اوکے جان۔۔۔۔۔۔۔
میں لے کر اتا ہوں۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔
وہ جانے ہی والا تھا کہ مروا نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
موبائل دو منٹ دے سکتے ہو۔سائم نے حیرانگی سے پہلے اسے دیکھا۔۔۔
ہاں لیکن تم کیا کرو گی۔۔۔۔
ایسے ہی۔۔۔۔
کیوں کوئی پرائیویسی ہے مجھ سے۔۔۔
میری جان تم سے کیا پرائیویسی۔اس نے موبائل نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔۔
