Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 6

Sheh Rug by Aneeta

موڈ کیوں اف ہے جناب کا۔۔۔۔۔۔

سائم نے ا سے زبردستی فورس کر کر گاڑی میں بٹھایا تھا ۔

وہ پنک کلر کے کوٹ میں خود کو سمیٹے بیٹھی ہوئی تھی۔۔

جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔۔۔۔۔۔

وہ سارے راستے خاموش تھی۔۔۔۔

میں کچھ پوچھ رہا ہوں مروہ۔۔۔۔۔۔

سائم نے نظر روڈ سے گھماتے ہوئے اس کی طرف کی۔۔۔۔

سٹرنگ ویل پہ ہاتھوں کی حرکت بھی تھوڑی رک گئی تھی۔۔

کچھ نہیں بس فاطمہ لوگوں کی یاد ارہی ہے۔مروا نے بھی نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

اج کے لیے سب بھولنا پڑے گا تمہیں۔سائم نے گاڑی یونگ سٹریٹ کے مڈ میں روکی۔۔یہ ٹرانٹو اور دنیا کی سب سے بڑی سٹریٹ ہے۔۔۔۔۔جو ہر طرف سے بڑے بڑے بل بورڈ سے بڑی ہوئی تھی۔جس کی لمبائی تقریبا 56 کلومیٹر ہے۔اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ اپ اس سے کینیڈا کے کسی بھی تفریح اور تاریخی مقام تک پہنچ سکتے ہیں بڑی بڑی بلڈنگ کے اوپر بڑے بڑے ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی۔۔یہ کینیڈا کی سب سے مہنگی ترین جگہ تھی۔ایک قسم کا کمرشل ایریا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سائم مروہ کو ایک شاپ پہ لے کے ایا۔جو بہت بڑی شاپ تھی۔مروہ ونڈوپہ لگے ہوئے کپڑوں کو دیکھتے دیکھتے اندر جا رہی تھی۔اربن آؤٹ فٹرز کینیڈا کی سب سے بڑی اور مہنگی ترین شاپ تھی۔۔۔۔

سائم یہ تو بہت ایکسپنسو ہے ہم کہیں اور سے لیتے ہیں۔مروا نے باہر سے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔

میری جان۔۔۔۔۔۔

میں یہ پوری شاپ خرید کر تمہارے نام کر سکتا ہوں۔وہ دونوں شاپ کے اندر ا چکے تھے سائم نے دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو قید کرتے ہوئے کہا۔۔۔

تم ایک دفعہ کہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویلکم مسٹر سائم مردان ۔۔۔۔۔

ایک سٹاف لڑکی نے سائم کو ویلکم کیا تو مروہ حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔

یہ تمہارا نام کیسے جانتی ہے مروہ نے اس کے ہاتھوں کو پیچھے کیا ۔۔۔

تمہارے ہسبینڈ کو دنیا جانتی ہے بس تم ہی انجان ہو۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔۔مروا نے لفظ کو کھینچا۔۔۔۔۔۔۔

سچ بتاؤ نا یہ کیسے جانتی ہے۔وہ ایک اربن لڑکی تھی۔۔جس کے بال براؤن تھے۔۔۔

میری جان۔اسے فیملی بوتیک ہی سمجھو۔۔۔۔

اور کچھ انویسٹمنٹ ہماری کمپنی کی بھی ہیں اس جگہ پر۔

مروہ کو اس کی بات سے تھوڑی تسلی ہوئی۔تو اس نے اپنا دھیان شاپنگ کی طرف کیا۔۔۔

سائم نے سامنے لگے سفید ٹائپ کی طرف ہاتھ بڑھایا مروہ تم جانتی ہو تمہیں سفید اور بلیک رنگ کتنے سوٹ کرتے ہیں۔۔۔۔۔

سائم نے لیدر کا ٹرنچ کوٹ پہنا ہوا تھا۔۔

۔وہ اس ٹاپ کو ہینگر سے اتار چکا تھا۔۔

ہاں سوٹ کرتے ہیں لیکن مجھے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔مروا نے اس کے ہاتھ سے لیا اور پھر سے ہینگل کر دیا ۔۔۔۔۔

تو کیا میری چوائس کی تمہارے نزدیک کوئی ویلیو نہیں مروا۔۔سائم وہی ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ باندھ لیے۔۔۔۔۔

اگر اب تم مجھے شاپنگ کروا ہی رہے ہو تو میں اپنی پسند سے لوں گی۔مروہ یہ کہتے ہوئے اگے بڑھی۔۔۔۔

یہ بھی صحیح ہے۔۔۔۔۔

مطلب مجھے صرف تم اے ٹی ایم کے طور پر یوز کرنے والی ہو۔۔۔۔۔

سائم نے اس کے بال پیچھے کیے۔وہ بھی اس کے پیچھے ہی ایا تھا۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔مروا نے بازو کی تھوڑی سے اسے پیچھے کیا بوتیک میں ہے ہم۔۔۔۔

تو گھر میں کون سا تم نے مجھے پرمشنیز دے رکھی ہیں۔وہ بھی اگے پیچھے دیکھتا پیچھے ہو چکا تھا۔۔۔۔۔

مروا نے ایک چاکلیٹ کلر کا ہائی نیک سویٹر اور نیچے وائٹ پینت ہینگر سے اتاری۔۔۔۔

ہاں چلو اب اسے ٹرائی کرتے ہیں۔سائم تو جسے اسی موقع میں تھا کہ وہ کچھ پسند کریں۔۔

سائم نے اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور چینجنگ روم کی طرف جانے لگا۔تو مروا نے اسے پیچھے کھینچا۔۔۔

یہ میں نے ٹرائی کرنے ہیں یا تم نے۔اس نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔۔

تم نے کرنے ہیں لیکن تمہیں مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔

میں کوئی ٹرائی نہیں کرنے والی اس کے ہاتھ سے دونوں چیزیں واپس لیتے ہوئے مروہ نے کہا لوز سائز ہے یہ سائم۔ہر بندے کو فٹا آسکتا ہے۔۔۔

اس کو ٹرائی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی مروا نے غصے سے شرٹ اس کی طرف لہرائی۔۔۔۔۔۔

لیکن مجھے لگتا ہے اس میں تم جیسی تین چار ا سکتی ہیں۔صائم نے دونوں ہاتھوں سے شرٹ کو کھولا۔۔۔۔۔۔

ہاں یہ دیکھنے میں ایسے لگتی ہے سائم پہننے کے بعد یہ بہت فٹ ہو جاتی ہے۔اور یہ کھلی کھلی ہوتی ہے تو بندہ کمفرٹیبل رہتا ہے۔۔۔۔۔۔

اور دوسری طرف چلی گئی سائم وہیں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔تو وہ سننے کے لیے تھوڑا سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ جو شاپنگ میں مصروف تھی ایک دم سے اس کے پاس ائی۔سائم موبائل پہ لگا ہوا تھا اس نے کچھ ای میلز بھیجنی تھی۔۔

ہاں بولو کیا ہوا سا ئم نے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور اپنا رخ اس کی طرف کیا۔۔۔۔

کیا میں فاطمہ کے لیے کپڑے لے لوں۔اسے بجوا دوں گی۔اس نے معصومیت سے پوچھا تو سائم قدم بڑھا کر اس کے پاس ایا۔۔

تو تم مجھ سے پوچھ کیوں رہی ہو۔سائم نے اپنی پاکٹ سے والٹ نکالا۔اور اپنا کارڈ نکال کر مروہ کے ہاتھ میں رکھا۔میرا سب کچھ تمہارا ہے۔۔جو دل چاہے لو۔۔۔

مروہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے اوپر تھا۔۔۔۔۔

وہ مروہ کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا اور مروہ اس کی انکھوں میں۔۔۔۔۔

نہ۔۔۔۔نہیں

مروا نے کارڈ اس کے ہاتھ میں دیا کارڈ نہیں چاہیے۔۔۔۔

اس نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔

تھینک یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی لیکن اس نے اپنا رخ بدلا اور پھر سے انہی کپڑوں کے پاس چلی گئی جو اس نے فاطمہ کے لیے پسند کیے تھے۔۔۔۔۔۔

لیکن اس نے ایک دفعہ مڑ کر اسے ضرور دیکھا تھا اور سائم کی نظریں تو اسی پر تھی۔۔۔۔۔۔

__________________

کیا حالا کو کو میری یاد نہیں اتی۔۔۔۔۔۔۔

ممی وہ کیسے میرے بغیر رہ لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔

وہ تو سارا دن میرے ساتھ رہتی تھی میرے ساتھ سوتی تھی۔۔۔۔۔

وہ گود میں لیٹی معصومیت سے سوال کر رہی تھی جبکہ ریحان اور علیزے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

اور وہ یہی سوال ہر روز سونے سے پہلے کرتی تھی۔۔۔۔۔۔

میری جان اپ کی حالا جس ملک میں گئی ہے نا۔وہاں ان کے پاس موبائل نہیں ہے ورنہ وہ کال ضرور کرتی ہوں۔۔

وہ دوسرا ملک ہے بہت دور ہے یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم اس کونیا موبائل لے کے دے گا تو وہ ہمیں ضرور کال کریں گی۔۔۔۔۔۔

تو کیا سائم نے انہیں نیا موبائل نہیں لے کر دیا۔۔۔

تو بابا سائم انکل کے نمبر پہ فون کرتے ہیں۔۔۔

وہ ہماری بات کروا دیں گے مروہ حالہ سے۔۔۔

میری جان کے ٹوٹے۔۔۔

ریحان نے فاطمہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور وہ سچ میں مروہ کو بہت یاد کر رہی تھی۔۔۔۔

ابھی ہم باہر جائیں گے ائس کریم کھائیں گے اور بہت سی مستی کریں گے۔۔۔۔

۔۔نہیں بابا مجھے ائس کریم نہیں کھانی۔۔۔۔

مجھے حالا کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔

وہ بس اسی بات پر اٹل تھی۔۔۔

اور علیزےاور ریحان کے پاس اس کے سوالوں کے کوئی جواب نہیں تھے۔۔۔

وہ خود حیران تھے کہ مروہ اتنی دیر تک ناراض کیسے رہ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________

مروانے کافی شاپنگ کر لی تھی۔تین چار بوتیک کے چکر کاٹنے کے بعد اب مروہ کی بس ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

میرے پیٹ میں چوہے دور رہے ہیں اب سائم بس کرو مجھے اب کھانا کھانا ہے۔سائم جو اسے ایک اور بوتیک پہ لے کے جا رہا تھا ۔ مروا نے اسے پیچھے کھینچا۔اب سائم کا روخ اس کی طرف تھا۔۔۔

تو میری جان کیا کھانا پسند کرے گی۔اس کے ہاتھوں کو باہوں سے نکال کر اس نے اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔

چلو اجاؤ اج تمہیں اپنی فیورٹ جگہ سے کھانا کھلاتا ہوں…

تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک ریسٹورنٹ پہنچے۔Cibo Wine Bar Yonge St

یہ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ تھی۔ریسٹورنٹ کے ساتھ ساتھ کیفیت ایریا بھی تھا۔باہر لکڑی کا دروازہ تھا جو کافی قدیم محسوس ہوتا تھا۔اور اندر ہر ٹیبل پر ڈفرنٹ ڈیکوریشن ہوئی تھی۔اس کی خاصیت یہ تھی۔کہ یہ ایک ہی ریسٹورنٹ میں نہ جانے کتنی ڈشز اویل تھی۔اپ تقریبا دنیا کا ہر کھانا یہاں کھا سکتے ہیں۔اور بیٹھنے کے لیے 80 قسم کی پلیس تھی۔کیف سٹائل میں۔ریسٹورنٹ سٹائل میں بار سٹائل میں۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی ٹائم میں مروہ میں اور نوروز یہاں بہت دفعہ ائے ہیں۔وہ اندر داخل ہوتے۔اسے بتا رہا تھا۔۔۔۔۔

تم ایسا سمجھو کہ ہمارا لنچ یہیں ہوتا تھا۔۔۔

اور ہم یہاں بیٹھا کرتے تھے اس نے سامنے پڑھے صوفے پہ اشارہ کیا۔۔۔

ہاں مجھے لگا ہی تھا کہ تم یہیں بیٹھتے ہو گے۔مروہ نے تنزیہ لہجے میں کہا تو سائم نے بھی نظریں اس کی طرف گھمائی۔۔

وہ ایک بار ٹائپ جگہ بنی ہوئی تھی۔اس پار کئی وائنز پڑی ہوئی تھی ۔۔۔جیسے وائنز کی لائبریری ہو۔۔۔۔۔

ہم یہ نہیں پیتے تھے یار۔۔۔۔۔

سائم نے ہاتھ اس طرف لہراتے ہوئے کہا۔

اور لنچ ٹائم میں یہ سب کون پیتا ہے۔۔۔۔

لیکن تم پیتے تو تھے نا۔مروہ سامنے صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

ہاں میں اس بات سے انکار نہیں کر رہا ہے۔۔۔

کبھی کبھی بس۔۔۔۔

اور تم کتنے فخر سے بتا رہے ہو۔۔۔

مرو نے منہ بناتے ہوئے کہا۔اور اپنا بیگ ٹیبل پر رکھا۔شاپنگ بیگ گاڑی میں ہی تھے۔۔۔۔

تم لوگوں کے ساتھ تو لڑکیاں بھی اتی ہوں گی؟

ہاں جہاں نوروز ہو وہاں لڑکیاں نہ ہو ایسا پوسیبل نہیں تھا۔۔

لیکن میرا انٹرسٹ کسی میں نہیں تھا۔ہم یہاں لنچ ٹائم اتے تھے۔یہ نہیں پیتے تھے بتا چکا ہوں ۔

میری جان۔۔۔۔۔۔

اس ٹائم میں یہ مجھے نارمل ہی لگتا تھا اور جب تک تم سے نہیں ملا تھا تب تک۔اس کے بعد میں نے کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ہماری سوسائٹی ہی ایسی تھی۔۔۔۔

اور بزنس کلاس میں اس کو نارمل ہی سمجھا جاتا ہے۔۔

سائم بھی اس کے ساتھ جگہ بنا کر اس کے پاس ہی بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔

لیکن میں نے خود کو اس چیز سے بہت دور رکھا۔

پھر مروا نے بھی اس کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔شاید اسے سائم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی وہ جیسا

تھا وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

کیا میں ایک بات پوچھوں۔۔۔۔

مروہ نےسر اس کے سینے پہ رکھا۔

شاید وہ بہت تھک چکی تھی۔۔۔۔

پانچ سال تم نے کیسے گزارا ے۔۔۔۔

مروانے گردن اوپر اٹھا کے دیکھی۔سائم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیل رہا تھا۔۔۔۔

تمہاری یاد کے سہارے۔۔۔۔۔

اچھا تم تو کہہ رہے تھے تم بھول گئے تھے۔مروانے بڑی معصومیت سے کہا تھا۔۔

ہاں میرے ہر دن کا اغاز تمہیں بھولنے سے ہوتا تھا۔لیکن رات کو تمہاری یادیں ایسا حملہ کرتی تھی کہ میں بچ نہیں پاتا تھا۔میں پوری طرح سے ہار جاتا تھا۔۔۔۔۔

اور یہ میری زندگی کی پہلی جنگ تھی جس میں ہمیشہ اور مسلسل میں ہی ہار رہا تھا۔۔

اور مجھے اس ہار سے بھی محبت تھی۔۔۔

شاید اسی لیے یہ جنگ میں بار بار لڑتا تھا بلکہ ہر روز لڑتا تھا۔۔۔

وہ اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانا سائم پہلے ہی ارڈر کر چکا تھا۔اور اب وہ ٹیبل پہ ا چکا تھا۔۔۔۔۔

یہ ان کی سپیشل ڈش ہے مروا۔

مروہ سامنے پڑے نان نما پیزے کو گھور رہی تھی وہ تھا تو پیزے کی شیپ میں لیکن وہ پیزا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔

ساتھ میں ویجیٹیبل سالٹ۔اور ویجیٹیبل ہی سوپ تھا۔۔۔

اور میٹھے میں رشین۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن مروہ کو بہت بھوک لگی تھی اس نے کچھ سوچے بغیر کھانا شروع کیا۔۔۔۔۔۔

سائم اسے حسرت بڑی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔۔

ان دنوں کے لیے وہ بہت تڑپا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔کہ اسے دنیا سے چھپا کر کسی کونے میں لے جائے۔۔۔۔۔۔

ویسے سائم میں ایک بات سوچ رہی تھی۔۔۔ اس نے ایک منٹ کے لیے کھانا چھوڑا اور اسے دیکھا۔اس نے ٹیشو سے ہاتھوں کو صاف کرتے ہوئے۔اسے اشارے سے بولنے کی اجازت دی۔۔۔۔۔

وہ اس کی سوچوں سے بہت ڈرتا تھا کہ نہ جانے کب وہ کیا سوچ کر بیٹھ جائے اور اس سے روٹھ جائے۔۔۔

یہ ایک پراٹھا تمہیں بہت مہنگا نہیں پڑ گیا۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے مروہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

تمہارے معاملے میں مجھے ہر چیز بہت مہنگی پڑی ہے مروہ۔۔

اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔لیکن اس جواب میں اس نے اپنا سارا درد بیان کر دیا تھا۔۔۔

لیکن مجھے قیمت بھی وصول کرنی اتی ہے وہ سرگوشی میں بولا تھا۔۔۔

میرے بزنس مائنڈ کا تم مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس نے پھر سے اس کی گال کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا تو میرے ساتھ بھی بزنس بزنس کھیلنے والے ہو۔اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔

نہیں تمہارے ساتھ پیار پیار کھیلوں گا اب۔سائم نے ایک سلاد کا پتہ اٹھایا اور اس کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔۔

وہ بھی کھانا تقریبا ختم کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تو مجھے سمجھا نہیں اتا۔یہ لڑکی گاڑی میں سو کیوں جاتی ہے۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔میں نہیں سو رہی۔اس نے کمر سیدھی کرتے ہوئے رخ سائم کی طرف کیا۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ سائم کوئی جواب دیتا۔اس کا فون بجنے لگا بلوٹوتھ کنیکٹ تھے تو اس نے کال پک کر لی ۔۔۔

ہاں جویریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ نام سنتے ہی مروا نے اسے انکھیں نکالنا شروع کر دیا۔اس کے چہرے سے اس کا غصہ نما تھا۔۔۔۔۔۔

اوکے ٹھیک ہے تم لوگ گھر ا جاؤ پھر دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔

سائم نے اتنی سی بات کر کے فون بند کر دیا

تھا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ مروہ کی جلسی کو اچھے سے سمجھ چکا تھا۔۔۔۔

کس کے گھر۔مروا نے غصے سے پوچھا۔۔۔

ہمارے گھر اور کس کے گھر مروا ۔۔۔۔۔۔

میں پہلے ہی ایکسپلین کر چکا ہوں کہ وہ میری بزنس پارٹنر ہے۔ایسا ویسا کچھ نہیں جیسا تم سوچ رہی ہو۔تو پلیز اب اس کو یہیں سٹاپ کر دو تو اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔

پلیز بس کر دیا کرو۔۔۔۔۔

جب تم جانتے ہو کہ اس کا انا مجھے اچھا نہیں لگتا تو پھر تم اسے کیوں بلا رہے ہو۔

میری جان میں اسے نہیں بلا رہا افس کا کچھ کام ہے ارجنٹ کام ہے اور وہ اکیلی نہیں ا رہی کچھ سٹاف ممبر بھی ائیں گے۔اگر ارجنٹ نہ ہوتا تو میں کبھی نہ بلاتا۔اس نے سرسری سا جواب دیا تھا ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد وہ پھر سے روڈ پہ دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔۔

میری بات کی کوئی ویلیو نہیں سائم۔۔۔۔۔۔۔

مروہ نے اپنا رخ پوری طرح سے اس طرف کر لیا تھا۔۔۔۔۔

ایک تمہاری ہی تو ویلیو ہے میری زندگی میں۔۔۔۔۔

صرف باتوں کی حد تک اس نے منہ بسرتے ہوئے دوسری طرف کر لیا اور ہاتھوں سے کھیلنے لگی۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے۔تقریبا شام ہو چکی تھی۔گاڑی روکتے ہی مروہ تیزی سے گاڑی سے اتری اور گاڑی کے دروازے کو بہت زور سے بند کیا۔اور پھر اندر کی طرف چلی گئی سائم گاڑی میں بیٹھا اس کا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

یا اللہ اس لڑکی کے ساتھ زندگی کیسے گزاروں گا اس نے سیٹ بیلٹ کھولا۔۔۔۔۔۔

وہ گاڑی سے اترا اور پیچھے سے شاپنگ بیگ اٹھائے۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے کے ایک طرف منہ لٹکائے بیٹھی ہوئی تھی۔سائم نے شاپنگ بیگ اس کے اگے رکھے۔اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔۔اب نیچے بلو شرٹ اور بلیک جینز تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اور نہرے نہیں اٹھانے والا تمہارے۔بہت ہو گیا اب جب اپنا دل کرے تو مان جانا۔ورنہ ایسے ہی رہنا۔۔۔۔۔

مجھے شوق نہیں ہے۔تم سے اپنے نہرے اٹھوانے کا۔اور اب تم بھی اپنی بات پر قائم رہنا۔مروہ نے اس کی بات کاٹتے ہی اسے جواب دیا تھا۔۔

اس سے پہلے کہ وہ مروہ کو کچھ بولتا یا مروہ اس سے کچھ کہتی۔۔۔

ہیلپر نے مہمانوں کے انے کی۔خبر دی تو سائم بنا کچھ کہے روم سے باہر اگیا۔۔۔۔۔

دیکھا پرواجویریہ کی ہے۔۔۔۔۔

میں تو کسی کھاتے میں نہیں اتی۔وہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئی شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

لیکن میرا نام بھی مروہ ہے۔مروہ ہلکی سی مسکرائی اور شاپنگ بیگ میں سے ایک سمپل ریڈ کلر کی میکسی نکالی جو اس نے اج ہی لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چینجنگ روم میں اس نے وہ چینج کی۔وہ اس پہ بہت سوٹ کر رہی تھی۔لاونگ بازو تھے جو بازوں کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔۔اور لینتھ پاؤں تک تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روم میں اتے ہی وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنے بالوں کو کھولا۔ریڈ کلر کی ڈارک لپ سٹک اس نے لگائی۔وہ انتہا کی خوبصورات لگ رہی تھی۔اس کی سفید رنگت پہ ریڈ لپسٹک اور بھی نکھر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اب میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر شیشے میں خود کو فائنل ٹچ دیا۔نیچے اس نے ریڈ ہائی ہیلز پہنے تھے۔اور پھر باہر اگئی۔۔۔۔۔۔

وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے جویریہ کے ساتھ ایک فیمیل سٹاف کے ساتھ دو میل سٹاف ممبر بھی تھے۔۔

سائم کے ہاتھ میں پین تھا۔جس سے وہ کھیل رہا تھا اور ساتھ ساتھ فائلز دیکھ رہا تھا۔کے اچانک سے اسے ہائی ہیلز کی اواز ائی۔تو اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

اس کی نظر پہلے مروہ کے پاؤں پر پڑی اور پھر دھیرے دھیرے وہ پاؤں سے لے کر سر تک پہنچا۔اس کے ہاتھ سے پین نیچے گر چکا تھا۔اور وہ شاید بے دہانی یا اس کے نشے میں کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔

سائم کو نوٹس کر کے باقی سٹاف ممبر نے بھی پیچھے نظر دہرائی۔۔۔۔۔

ویلکم مروہ میں ابھی پوچھنے والی تھی کہ تم کہاں ہو

میرے گھر میں مجھے ہی ویلکم کر رہی ہے مروہ اندر ہی اندر بڑبڑاتے ہوئے اس کے پاس ائی۔۔۔۔۔۔

۔جویریہ نے اپنا رخ پیچھے کیا۔تو اس کی اواز سے سائم بھی واپس اسی دنیا میں ایا۔۔۔۔۔

کیا کہیں جانے کی تیاری ہے اس نے مروہ کی تیاری کو نوٹس کرتے ہوئے کہا۔۔۔

مروا نے ہاتھ اس سے ملایا اور باقی سٹاف ممبرز کو بھی ہیلو کیا۔۔۔۔

سائم کی نظریں ابھی بھی اس پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔

مروہ سائم کو ایٹیٹیوڈ دکھاتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

میںل سٹاف ممبرز کی نظریں مروہ پر اٹکی ہوئی تھی۔اور سائم نےاس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔

مروہ گلاس پانی لے اؤ میرے لیے۔۔۔۔اس نے لڑکھڑاتے ہوئے لفظوں کے ساتھ اسے کہا تھا جملہ بھی کمپلیٹ نہیں تھا۔۔۔

وہ اسے دیوانہ بنا چکی تھی۔

اور اس کے تیر صحیح نشانے پر لگے تھے۔۔۔۔۔۔

سائم نے اسے انکھوں سے اشارہ کیا اور جانے کا کہا۔۔۔۔۔

مروانے ایک نظر جویریہ پر ڈالی۔اور پھر اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگی تو سائم بھی اس کے پیچھے ہی گیا۔پانی تو بس اس نے بہانہ بنایا تھا۔۔۔۔۔

یہ لو پانی۔۔۔۔۔۔۔

اس کے کچن میں اتے ہی مروہ نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔تو سائم نے اس کے ہاتھ سمیت پانی کا گلاس پکڑا۔۔۔۔۔

کیا ہوا تم اپنی بات پہ قائم نہیں رہ سکے۔وہ بول نہیں رہی تھی بلکہ لفظوں کا وار کر رہی تھی۔جبکہ سائم کی نظریں تو اس کے چہرے سے ہی نہیں ہٹ رہی تھی۔۔۔

میں پانی پینے ایا ہوں مروہ۔۔۔۔

خود کو کنٹرول کرتے ہوئے سائم نے پانی کا گلاس منہ سے لگایا۔اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی لیا۔۔۔۔۔۔

یہ اتنی تیاری کس لیے۔۔۔۔

اپنے لیے سائم اور کس کے لیے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر اس نے ٹیبل پر رکھا۔اس کا ایٹیٹیوڈ اج کچھ الگ ہی لیول کا تھا۔۔۔میرے نہرے کون اٹھانے والا ہے جس کے لیے میں اتنی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ وہ کچن سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔

سائم نے ہاتھ ٹیبل پر رکھا اور پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔

یہ مجھے پاگل کر دے گی۔سائم بھی اس کے پیچھے ہی باہر ایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے یہ کام ہمیں صبح افس میں کرنا چاہیے۔سائم ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے سب کو محاطب کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔

لیکن سائم یہ پریزنٹیشن ہم نے صبح 10 بجے تک ریڈی کرنی ہے مجھے نہیں لگتا کہ ہم رات بھر کام کر کے بھی اسے ختم کر پائیں گے۔اور تم صبح پر ڈیلے کر رہے ہو۔جویریہ نے اٹھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔۔۔

بالکل سائم مروہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔اگر کام ضروری ہے تو تم لوگوں کو کرنا چاہیے۔۔۔۔۔

ایگزیکٹلی مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم ہم اسے ڈیلے نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔

سائم نے افق نگاہ مروہ پر ڈالی۔تو وہ ہلکی سی مسکرائی۔اور دوبارہ سے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔

سائم آنکھ کے اشارے سے اسے ون کرتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔