Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 1

Sheh Rug by Aneeta

پلیز عائشہ واپس چلو مروانے اسے بازو سے کھینچا۔دیکھو رات کے 12 بج چکے ہیں۔کسی نے ہمیں دیکھ لیا تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ دیکھو علیزے کتنی کالیں کر رہی ہیں ۔مروہ نے اسے موبائل دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو اب یہاں تک ا گئے ہیں تو اگے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔وہ تمہاری دوست کو دھوکہ دے رہا ہے۔تم میری اتنی سی بھی مدد نہیں کرو گی۔اگر مجھے یہ چوٹ نہ لگتی۔تو میں کھڑکی پہ بھی خود ہی چڑھ جاتی۔صرف دیکھنا تو ہے۔عائشہ نے کھڑکی طرف اشارہ کیا۔وہ دونوں ایک ہوٹل میں کھڑی تھی۔اور عائشہ اسے ہوٹل کے کمرے میں جھانکنے کا کہہ رہی تھی۔اور ہوٹل کے اندر بھی وہ انلیگل طریقے سے گھسی تھی۔ وہ مروہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر ائی تھی۔جب کہ مروا کو موت نظر ارہی تھی۔۔۔

عائشہ مروا کے پڑوس میں رہتی تھی۔اور جب انہوں نے نقل مکانی کی تو اس کی دوستی عائشہ سے ہو گئی۔عائشہ ایک لڑکے سے پیار کرتی تھی جو ڈلیوری بوائے تھا۔وہ کئ دنوں سے اس ہوٹل میں ا رہا تھا۔اور اج بھی ایا تھا۔ معلومات لینے کے بعد عائشہ کو پتہ چلا تھا۔ )

اصفر نامی بندے نے کمرہ بک کروایا ہے۔وہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتی تھی۔۔۔

میں نے کہا نا میں نہیں جا رہی اگر انا ہے تو اؤ ورنہ میں خود اکیلی باہر چلی جاؤں گی۔مروہ باہر کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ عائشہ نے پھر سے اسے کھینچا۔اس نے مروہ کو کوٹ کے سہاڑے پیچھے کھینچا۔دسمبر کا مہینہ تھا سردی بہت زیادہ تھی۔تو مروا نے اپنے وزن سے بھی باوی کوٹ پہنا ہوا تھا۔۔مروا نے زور سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔۔۔

ٹھیک ہے اگر تم میری مدد نہیں کر رہی تو۔۔۔۔۔

عائشہ دو منٹ کے لیے چپ ہوئی اور پھر ایک دم سے اپنے بیگ سے چاقو نکالا۔میں خود کو یہیں ختم کر لوں گی۔اس نے چاکو کی نوک اپنے بازو پہ رکھی۔۔۔؟

نہ۔۔۔۔نہیں مروہ ایک دم سے گھبرائی اور اس کے ہاتھ سے چاکو پیچھے کیا۔۔۔

مروہ بہت بری پھنس چکی تھی۔۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے میں دیکھ لیتی ہوں چپ کرو۔عائشہ موٹے موٹے انسو اپنی انکھوں سے نکال رہی تھی۔اور مروہ میں تو پہلے ہی دماغ کی کمی تھی۔مروہ نے ایک نظر کھڑکی کو اور پھر عائشہ کو دیکھا۔یہ کام اس کی سوچ سے بھی زیادہ مشکل تھا کھڑکی زیادہ اونچی نہیں تھی۔لیکن پھر بھی اسے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کوئی ا نہ جائے۔۔۔۔۔۔

مروا چلی بھی جاؤ وہ باہر ا جائے گا۔میں رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتی ہوں۔مروہ کو سوچتے دیکھ کر عائشہ نے پھر سے لفظوں کے وار کیے۔تو مروا نے اپنا کوٹ اتار کر عائشہ کے ہاتھ میں دیا۔ٹھیک ہے وہ اتنا بھاری تھا اسے پہن کے تو اوپر نہیں چڑھ سکتی تھی۔۔۔۔

مروا نے ایک ہاتھ کھڑکی کے نکڑ پر رکھا۔پھر عائشہ کی مدد سے وہ اوپر چڑھی۔لیکن کھڑکی کیسے کھولنی ہے اس کی سمجھ سے باہر تھا وہ مختلف ڈیزائن کی بنی ہوئی تھی۔اس نے شیشے سے جھانکا تو اندر اندھیرا ہی نظر ا رہا تھا۔اس نے اشارے سے عائشہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اندر کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن عائشہ نے پھر سے اسے اندر جنھکنے کا کہا اور کھڑکی کھولنے کا کہا۔۔مروہ بری طرح سے سہم چکی تھی کیونکہ وہ ایسا کام پہلی دفعہ کر رہی تھی۔اس کے بہت فورس کرنے پر اس نے پھر سے کھڑکی کو کھولنے کی کوشش کی۔اس دفعہ وہ تھوڑی اندر کی طرف جھکی۔اور اس نے دونوں ہاتھ ہینڈل پہ جمائے اور زور سے گھمانے لگی۔لیکن پتہ نہیں اچانک کیا ہوا وہ کھڑکی کھلی اور مروا اندر کی طرف گری۔۔۔۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔۔۔

عائشہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی قدم اٹھاتی اسے اپنے کندھے پہ کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔

اصفر اس نے پیچھے دیکھتے ہی کہا۔اور پھر ایک نظر اوپر کھڑکی کی طرف دیکھا۔کیونکہ وہ تو یہی سوچ کے بیٹھی تھی کہ ا صفر اندر ہے۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ اگلے سوال پہ وہ تھوڑی پریشان ہوئی ۔کیونکہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔اور سچ وہ بتا نہیں سکتی تھی۔۔۔۔

وہ میں نے تو میں دیکھا تھا یہاں اتے ہوئے تو بس اسی لیے اگئی۔وہ کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔اسے مروہ کی ٹینشن تھی۔۔۔

اچھا چلو ابھی رات بہت ہو گئی ہے۔۔میں تو یہاں ڈلیوری کرنے ایا تھا اس روم میں۔اس نے روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

اس روم میں کون ہے۔عائشہ نے اپنا اگلا سوال کیا۔اور اصفر کی طرف دیکھنے لگی جس کا ہاتھ ابھی بھی اس کے کاندھے پہ تھا۔۔

کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو اصفر نے بھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔نہیں بس ایسے ہی اس نے بات گھماتے ہوئے اسے جانے کا کہا۔۔

اسے مروہ کی ٹینشن تھی۔لیکن ا صفر کو بتاتی بھی تو کیا بتاتی کہ وہ اس کی جاسوسی کر رہی ہے۔اس لیے اس نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا اور اصفر کے ساتھ باہر چلی گئی۔۔

سائم کی انکھ ابھی بہت مشکل سے لگی تھی۔کہ اس شور اس کی انکھ کھلی اس نے جلدی سے لیمپ ان کیا ۔اس نے بلینکٹ کو پیچھے کیا۔۔۔۔

یہ لڑکی کون ہے؟

اور یہاں کیا کر رہی ہے؟کئی سوالوں کو ذہن میں لیے وہ جلدی سے اٹھا سلیپر پہنے۔۔۔۔

ہیلو ہو از۔۔۔۔۔ وہ نیچے بیٹھا۔ساتھ ہی اس نے مروہ کے بال پیچھے کیے۔ سارے بال اس کے منہ پر ا چکے تھے۔سائن ایک دم سے سکتہ میں چلا گیا تھا مروہ کو دیکھ کر۔اس کے لفظوں نے لڑکھڑانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

وجود میں تھوڑی ہمت ائی تو اس نے ہاتھ اگے بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا پھر اس نے جلدی سے مروہ کو اٹھایا اور بیڈ پے لے ایا۔اس کے ماتھے پہ خون تو نہیں تھا لیکن گہرا نشان پڑا تھا۔۔۔

مروہ۔۔اس نے اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کی اور یہ ہمت اس نے بڑی مشکل سے پیدا کی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے گرم کپڑے سے اس کے زخم کو ہیٹ کیا۔مرہم لگانے کے بعد اس نے بلینکٹ اس کے اوپر اوڑا اور ارام سے لٹایا۔۔۔

۔اس کے ذہن میں یقینا بہت سے سوال تھے لیکن اس ٹائم اسے صرف مروہ کی فکر تھی۔اس نے ایک نظر کھڑکی اور پھر باہر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔مروہ کے بیگ کو اٹھا کر سائیڈ پہ رکھا۔۔۔

کیا یہ میرے پیچھے ؟

نہیں نہیں وہ میرے پیچھے کیوں ائے گی۔وہ انہی سوالوں کی کشمکش میں تھا۔ ۔۔۔۔۔

عائشہ وہ تمہارے ساتھ گئی تھی مجھے بتاؤ مروہ کہاں ہے ہمیں بہت فکر ہو رہی ہے۔علیزے ن عائشہ لوگوں کے دروازے کے باہر کھڑی تھی۔رات کے تقریبا دو بج تو چکے تھے۔۔۔۔

ہاں وہ میرے ساتھ تھی لیکن اس کے بعد مجھے نہیں پتا وہ کہاں گئی دیکھو ابا اٹھ جائے گا اور پھر مجھے بہت مارے گا۔عائشہ کے والد بہت سخت تھے وہ پہلی بھی چھپتے چھپاتے باہر نکلی تھی اور اب وہ بہت ہی ڈر چکی تھی۔تو اس نے علیزے کو کچھ نہیں بتایا۔اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔

ریحان نے بھی رات بھر مروہ کو ڈھونڈنے میں گزاری۔۔۔۔۔

صبح کے سات بجے تھے جب مروہ کی انکھ کھلی۔چوٹ والی جگہ پہ اسے شدید درد تھا اس نے اٹھتے ہی وہاں پہ ہاتھ رکھا۔لیکن ایک دم سے رات والے منزل اس کے دماغ میں ایا تو اس نے کمرے کو دیکھا۔اسے اپنی کمر پہ کسی کا بہت محسوس ہوا۔تو اس نے ایک نظر سائم کے ہاتھ پہ جو اس کی کمر پہ تھا اور پھر سائم کو دیکھا۔وہ بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے لیٹا ہوا تھا۔اس کی انکھ تھوڑی دیر پہلے ہی لگی تھی۔ساری رات تو بس اسے مروہ کی ٹینشن تھی۔

مروا نے اس کے بازو کو زور سے پیچھے کیا تو اس کی بھی انکھ کھل گئی۔۔۔۔

ت۔۔۔۔۔۔تم مرو اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو اور۔۔

میں کیا کر رہا ہوں تم بتاؤ تم کیا کر رہی ہو تم رات کو میرے کمرے میں چوروں کی طرح آئی۔سائم ابھی بول ہی رہا تھا کہ اس کی نظر اس ماتھے پہ پڑی۔۔۔۔

۔اور اب کیسی ہو درد تو نہیں ہو رہا۔سائم نے ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھنا چاہا۔لیکن مروہ فورا سے ہی پیچھے ہٹی۔۔۔

میں وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔۔۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اٹھا دروازہ کھولنے کے لیے۔۔

سر رات کو اپ کے کمرے میں ایک لڑکی گھسی ہے ہمیں لگتا ہے وہ چور ہے۔ہم نے سی سی ٹی وی فورٹیج سے چیک کیا ہے ہمیں آپ کا کمرہ چیک کرنا پڑے گا۔وہ تین لڑکے تھے۔۔۔۔

سائم نے پیچھے بیڈ پر دیکھا تو وہ لڑکے بھی پیچھے دیکھنے لگے۔۔فاصلہ زیادہ نہیں تھا تو وہ مروہ کو اسانی سے دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔۔

سائم پزل ہو چکا تھا۔کیونکہ وہ جس طریقے سے بیڈ پر بیٹھی تھی وہ کیا ایکسپلین کرے اسے کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا۔۔۔

وائف ہے میری وہ۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم کو سمجھ نہیں ایا تو اس نے مروہ کو بچانے کے لیے یہی بول دیا۔مروہ کو بھی سنائی دیا تھا وہ سن کر حیران ہوئی تھی لیکن اس کی جان بھی ایسے ہی بچ سکتی تھی۔۔

۔

لیکن ان میں سے ایک لڑکا مروہ کو دیکھ کر چونکا اور اندر کی طرف ایا کیا یہ وا ئف ہیں اپ کی۔۔۔۔

مرو اسے دیکھتے ہی ایک دم سے کھڑی ہو گئی۔اس نے سائڈ سے دوپٹہ اٹھایا اور کر لیا۔۔۔۔

ہاں کیوں کوئی پرابلم ہے سائم بھی اس کے پیچھے ہی ایا۔۔۔

بنا اجازت اندر کیسے گھس رہے ہو۔سائم نے اسے کاندھے سے پکڑا۔۔۔۔۔۔۔

مروا تم نے کب نکاح کیا اس سے۔اس کے منہ سے مروہ کا نام سن کے سائم بھی اپ ٹینشن میں چلا گیا تھا۔۔۔

وہ می۔۔۔۔۔ بولتے بولتے چپ ہو گئی کیونکہ اس کے پاس تو الفاظ ہی نہیں تھے۔وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔

سائم یہ ریحان کے بڑے بھائی ہیں۔اس نے سائم کو بس پریشانی سے اگاہ کیا۔یہ سنتے ہی سائم نے اپنا ایک ہاتھ ماتھے پہ رکھا۔۔۔۔۔

یقینا وہ دونوں بہت برے پھنس چکے تھے۔

اتنی دیر میں وہ لڑکا باہر گیا یقینا اس نے ریحان کو فون کیا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں ریحان اور علیزے وہاں پہنچ چکے ۔۔

صبح ہوتے ہی عائشہ بھی اسی ہوٹل میں ائی تھی اسے مروا کی ٹینشن تھی۔اور اسے ساری بات کا علم ہو چکا تھا۔وہ مروا کو ابھی بھی فورس کر رہی تھی کہ وہ کسی کو سچ نہ بتائے ورنہ بات بہت اگے پھیل جائے گی۔۔

مروہ تم کیا کہہ رہی ہو۔مروہ بھی اسی بات پہ قائم تھی کہ انہوں نے نکاح کر لیا ہے کیونکہ اگر وہ یہ نہ کہتی تو رات بھر اس کمرے میں تھے اور نہ جانے کتنے سوال اٹھ جاتے ۔۔۔۔۔۔

مجھے نہیں لگتا ان دونوں نے نکاح کیا ہے۔یہ بنا نکاح کے اس کمرے میں تھے اور ہمیں دیکھ کر بہانے بنا رہے ہیں ریحان کے بھائی نے پھر سے سائم کو افق نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔

میں نے کہا نا ہم نے نکاح کیا ہے سائم نے اسے گریبان سے پکڑا۔میرے سامنے اپنی تربیت دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔سائم نے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔

تو ریحان قدم بڑھا کے اگے ہوا اور ان کو پیچھے کیا۔۔۔۔

اچھا نکاح کیا ہے تو نکاح نامہ دکھاؤ ہمیں بھی یقین ا جائے گا۔۔۔۔۔ریحان کے بھائی نے بھی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے سائم کو کہا۔لیکن سائم کے پاس تو کوئی نکاح نامہ نہیں تھا وہ کچھ دیر تو خاموش رہا۔لیکن پھر ریحان اور علیزے کے فورس کرنے پر۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

ریحان اپنی عزت بچاناچاہتا تھا کیونکہ اگر اس کے بھائی نے یہ بات باہر پھیلا دی۔تو وہ اچھے حاصے بد نام ہو سکتے تھے۔۔۔۔۔

نکاح نامہ میں جیب میں لیے نہیں پھر رہا۔شام کو دکھا دوں گا۔وہ بھی بری طرح پزل ہو چکا تھا لیکن اب بات مروہ کی عزت پر ائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔