Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 14 (Last Episode)

Sheh Rug by Aneeta

مسٹر سائم اپ کو مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے۔سائم نے اس کے الفاظ پورے نہیں ہونے دیے اور ہاتھ کا مکہ بنا کے اس کے ناک پہ دے مارا۔اس کے ناک سے خون بہنے لگا تھا۔۔۔۔

سائم ۔۔مروا نے اس کا بازو پکڑنے کی کوشش کی لیکن سائم نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے گرایا۔۔۔۔۔

اسے مروہ پہ بھی اتنا ہی غصہ تھا جتنا فرمان پر۔۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اگر وہ فورس نہ کرتی تو اج فرمان ان کے افس میں نہیں ہوتا۔۔۔۔

سائم یہ تم کیا کر رہے ہو جویریہ بھی شور سن کر کیبن میں ا چکی تھی۔اور باقی سٹاف بھی اگٹھا ہو چکا تھا۔۔۔

فرمان مشکل سے جان بچا کر وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔۔

لیکن سائم کا غصہ ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا۔۔۔

اس نے افق نگاہ مروہ پر ڈالی جو صوفے پر بیٹھی تھی اور اب وشل اس کے پاس تھی۔وہ گیسٹ لگا رہی تھی کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔

اپنے کوٹ کو ٹھیک کرتا وہ غصے سے باہر کی طرف گیا۔۔۔

۔کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا غصہ بے قابو ہو رہا ہے۔۔۔

اپنے افس میں جاتے ہی اس نے توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی۔۔

اس نے کوٹ اتار کر سائیڈ پہ پھینکا تھا۔اور شرٹ کو کونیوں تک فولڈ کیا۔اور پھر ایک گہری سانس لے کر اپنے چیئر پر بیٹھا ۔پانی کا گلاس اٹھا کے منہ کے ساتھ لگایا اور اگلے ہی لمحے اسے زمین پر پٹاخہ دیا۔۔۔

وہ منظر اس کی انکھوں میں گھوم رہا تھا جب فرمان نے مروہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔

جویریہ ڈرتے ہوئے افس میں ائی تھی کیونکہ وہ بھی سائم کے غصے کو بہت اچھے سے جانتی تھی۔۔

پلیز میں اس ٹائم کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔وہ اپنی چیئر سے اٹھا اور کھڑکی کی طرف رخ کر لیا۔ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے انکھیں غصے سے لال تھی۔۔۔۔

جویریہ نے بھی اسے اس کے حال پہ چھوڑا۔۔۔۔

لیکن اسے بھی اپنی غلطی کا احساس تھا کہ اس نے ایک غلط بندے کو چنا تھا۔۔۔۔

مروہ تم ایک دفعہ جا کر بات کرو۔۔۔۔

وہ تم پر غصہ نہیں کرے گا جویریہ اور وشل نہ جانے کب سے اسے سمجھا رہی تھی جبکہ مروہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔

بہت فورس کرنے پر وہ ڈرتے ہوئے سائنم کے افس میں گئی۔۔۔۔

سائم۔۔۔مروا نے ڈرتے ہوئے اسے بلایا تھا سائم کا رخ ابھی بھی کھڑکی کی طرف تھا۔۔۔

مروہ کی اواز سنتے ہی اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے دیوار پر مارا۔اور نظریں اس کی طرف گھمائیں انکھوں میں شدید غصہ تھا۔۔۔

اور پھر سے رخ دیوار کی طرف کر لیا۔۔۔۔

ناراض ہو وہ اس کے پاس اگئی تھی اس نے ہاتھ اس کے کاندھے پہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔

مروا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جھٹکے میں اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا۔۔

یہاں سے چلی جاؤ ابھی کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو پلیز۔۔۔

اخری لفظ کو کھینچتے ہوئے۔وہ اپنی افس چیئر پہ جا کر بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔

تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے غلطی میری تھی۔

وہ انکھوں سے موٹے موٹے انسو گراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

مجھے کیا پتہ تھا وہ ایسا نکلے گا۔۔۔۔

جا رہی ہوں مجھے بھی کوئی بات نہیں کرنی اتنا سا بول کہ وہ افس سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر اسے جاتا دیکھا اور لیپ ٹاپ فولڈ کر کے دونوں ہاتھ پیشانی پہ ٹکائے سر نیچے جھکا لیا ۔۔۔۔۔۔

وہ سائم سے پہلے ہی گھر واپس ا چکی تھی۔۔۔

اور کھانا کھائے بغیرسو چکی تھی۔۔۔

سائم نے کمرے میں اتے ہی ایک نظر اسے دیکھا۔جو سو چکی تھی لیکن چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔

بلینکٹ کو اس کے اوپر اور۔۔۔اس کے بازو کو بلینکٹ کے اندر کیا۔۔۔۔۔۔

اور اپنی سائیڈ پہ لیٹا۔۔۔۔

اس کے اوپر جھکتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔

اس کے سر پہ بوسہ دیا۔اور اس کا سر اپنے بازو پہ رکھا۔

کھانا نہیں کھایا میری جان نے۔۔۔۔

اس کی سرگوشی سے اس میں تھوڑی ہلچل ہوئی لیکن اس نے اپنا روح بدل کر پھر سے نیند کی وادیوں میں جانا مناسب سمجھا۔۔۔۔۔

حالہ اب اٹھ جاؤ نا دیکھو میں ائی ہوں۔فاطمہ دونوں ہاتھ مروہ کے چہرے پہ رکھے اسے اٹھا رہی تھی کہ اچانک سے مروہ کی انکھ کھل گئی۔۔

فا فاطمہ۔۔۔۔۔۔وہ خوشی سے چلائی اور فاطمہ کو باہوں میں لیا اس نے ایک نظر اپنے کمرے کو دیکھا کہ واقعی وہ اپنے ہی کمرے میں ہے۔۔۔

پھر سائم کو دیکھا جو سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔علیزے۔۔۔

وہ بھی اس کے سرہانے کھڑی تھی مروا اس نے گلے سے لگایا۔ریحان سے ملنے کے بعد اس نے حیرانگی سے سائم کی طرف دیکھا۔۔۔۔

تم لوگ یہاں۔۔۔۔۔

ہاں اپنی بہن کی شادی پہ میں نہیں اؤں گی۔

شادی۔۔۔۔۔اس نے پھر سے حیرانگی سے سائم کی طرف دیکھا۔۔

سائم نے یہ سب مروہ کو سرپرائز کرنے کے لیے کیا تھا۔علیزے لوگ کل کی فلائٹ سے ہی کینیڈا پہنچے تھے۔۔۔۔

ہاں ہمیں سائم نے انوائٹ کیا ہے۔تمہارے اور اپنے فنکشن پر۔۔۔مروہ نے کھڑکی کے اس پار دیکھا۔جہاں پہ ہر طرف ڈیکوریشن ہو رہی تھی۔صوفے پر اس کا برائڈل ڈریس پڑا تھا۔سرخ کلر کا باربی فراک تھا جو کافی زیادہ کھلا ہوا تھا۔۔۔

بالکل سمپل تھا اور کہیں کہیں سفید موتی تھے۔جو ذرا ذرا ہی نظر ارہے تھے۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں مہمانوں کی امد بھی شروع ہو گئی تھی۔۔

سائم ۔۔۔۔

یہ سب تم نے کب کیا اور مجھ سے چھپا کر۔وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑی حفا بھی ہوئی۔۔۔

تم تو مجھ سے ناراض تھے۔۔۔۔

علیزے لوگوں کے جاتے ہی اس نے سائم سے سوال کیا اور اس کے قریب ائی۔۔۔

میں اپنی جان سے کبھی بھی ناراض نہیں ہو سکتا۔۔

میں دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔اپنی جان کو۔۔۔۔۔

سائم نے اسے بازوں سے پکڑ کر قریب کیا۔۔۔۔

ائی لو یو سو مچ۔۔۔۔

رات کو کھانا کھائے بغیر سوئی ہو۔۔۔

اب سب سے پہلے کھانا کھاؤ۔

اس کے سر پہ بوسہ دیتے ہوئے وہ سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میری جان کو دلہن بھی بننا ہے۔۔۔۔

اسے گالوں سے کھینچتے ہوئے اس نے کہا۔۔

تمہیں مزہ اتا ہے مجھے تکلیف دینے میں۔اس نے اپنا ایک ہاتھ گال پہ رکھا۔۔۔۔۔

سائم نے اپنے لبوں سے اس کے گالوں کو چما۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا ہے۔مروہ نے اسے پیچھے کرتے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔

سائم کا دھیان بھی دروازے کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے میری جان میں ناشتہ بھجواتا ہوں مجھے باہر کا کام دیکھنا ہے۔۔۔۔

حالہ میں یہ پہنوں گی اتنی دیر میں فاطمہ ائی جس کے ہاتھ میں ایک پیاری سی پنک کلر کی فراک تھی۔۔۔۔۔۔

سائم انکل یہ مجھ پر کیسا لگے گا۔۔۔۔

سائم زمین پر بیٹھا اور اسے اپنی باہوں میں لیا۔اپنی حالہ کی طرح تم کچھ بھی پہنو گی تمہیں سوٹ کرے گا۔۔۔۔۔۔

_________

کیا کوئی فنکشن ہے گھر میں۔۔۔۔

ارم نے دروازے پہ کھڑے کارڈ سے پوچھا۔۔۔۔۔

جی سائم سر کی شادی ہے شاید وہ بھی ارم کو پہچان نہیں پایا تھا یہ وہ اج سے کچھ سال پہلے والی ارم لگ ہی نہیں رہی تھی۔عام سے کپڑے بکھری ہوئی شکل تھی۔چہرے پہ مایوسی تھی۔اس نے سائم سے اپنا حصہ لے کر ایک لالچی انسان سے شادی کر لی تھی۔جس نے سب کچھ لینے کے بعد اسے ڈیورس دے دی۔۔۔۔

اور دھوکہ ملنے کے بعد اس نے سب سے پہلے رخ مہروش اور نورا کی طرف کیا تھا۔جن کی خاطر اس نے اپنے گھر کی دیوانوں کو توڑ ڈالا تھا۔لیکن وہ اپنی زندگیوں میں اتنی مگن تھی کہ انہوں نے ارم کی کال اٹھانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا تھا لیکن اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔وہ پہلے ہی اپنے بیٹے کی خوشیوں کو کئی دفعہ نظر لگا چکی تھی۔شادی کا سنتے ہی وہ وہاں سے واپس جانے لگی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے پھر سے کچھ ہو۔۔۔۔۔۔

اور بعض اوقات انسان بےہودی میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ لوگوں سے دشمنیوں کے چکر میں وہ اپنا ہی دشمن بن بیٹھتا ہے۔اور سب کچھ گوانے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے۔کہ اس کا ہر وار اسی پہ لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو مروہ۔اس نے ریڈ کلر کا باربی فراک پہننا تھا۔بال نیچے سے رول تھے اور اگے کی طرف تھے۔باربی لُک میں وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔علیزے تو اس کے صدقے واری جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اہم اہم۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے گلا صاف کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو علیزے نے بھی ان دونوں کو اکیلا چھوڑنا مناسب سمجھا۔۔۔

وہ باہر چلی گئی۔۔۔۔

مروا نے سائم کو دیکھ کر نظریں نیچے جھکا لی۔۔۔۔

سائم نے ایک ٹکس(A Tux) پہنا تھا۔فل وائٹ میں۔۔۔

میری جان اور کتنا پاگل کرنا ہے۔سائم فورا سے اس کے قریب ایا اور اس کے کان میں بولا تھا۔اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھ رہا تھا اور بس دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔۔۔

وہ کہیں کی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سبھی مہمان ا چکے تھے۔افس کا سارا سٹاف تھا۔سائم نے بہت سے لوگوں کو انوائٹ کیا تھا۔۔۔۔فنکشن سٹارٹ ہو چکا تھا علیزے فاطمہ ریحان سبی بہت خوبصورت لگ رہے تھا۔۔۔۔

علیزے ایسا نہیں ہو سکتا تم ون ویک بعد جا بھی رہی ہو۔۔۔۔

باتوں ہی باتوں میں مروہ کے کان میں یہ بات پڑی تو وہ بری طرح سے ناراض ہوئی۔۔۔۔

ایک مہینہ تو رکنا چاہیے نہ سائم۔۔۔۔۔۔

میری جان میں نے تو بہت فورس کیا تھا لیکن ریحان نہیں مان رہا میں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ یہیں سیٹل ہو جاؤ۔۔

ریحان بھائی پلیز۔۔۔۔مروہ نے روح ان کی طرف کیا۔۔۔۔

مروہ اگر ایسا پوسیبل ہوتا تو اس سے اچھی بات نہیں تھی لیکن تم جانتی ہو میرا سارا کاروبار شروع سے ہی پاکستان میں ہے تو ایسے ایک دم سے وہ سیٹل کرنا مشکل ہے۔اور پھر فاطمہ کی پڑھائی وغیرہ۔بے ان سب میں وہ بہت ڈسٹرب ہوگی۔۔۔۔۔۔

اج اتنے اچھے موقع پر یہ کون سی باتیں لے کر بیٹھ گیے۔۔۔۔۔علیزے نے ریحان کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا مروا اج کا دن تم دونوں کے لیے بہت سپیشل ہے اج یہ سب سوچنا بند کر دو۔علیزے نے مروہ کا ہاتھ سائم کے ہاتھ میں دیا۔ہم سب کی خوشی اسی میں ہے کہ تم دونوں ہمیشہ ساتھ رہو ۔ مروہ کا کبھی دل نہیں دکھانا۔وہ اسے نصیحت کر رہی تھی سائم نے بھی مروہ کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔۔۔

اج دادا جان زندہ ہوتے تو کتنا خوش ہوتے۔۔۔۔۔

علیزے نے نظر اٹھا کر ریحان کو دیکھا۔گارڈن پوری طرح سے سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سبھی لوگ ہاتھ میں جوس لیے خوش گپ میں مصروف تھے۔مروہ اور سائم کی محبت کی داستانیں تھی سب کی زبان پر۔۔۔۔۔۔

مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔مروا نے سوالیہ نظروں سے سائم کی طرف دیکھا جو اسے گاڑی کے پاس لایا تھا۔۔۔

کیا ہم کہیں جا رہے ہیں۔۔۔

ہاں میری جان یہ سب تو لوگوں کے لیے ہے۔۔۔

تمہارے لیے تو کچھ سپیشل ہے۔اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے سائم نے اس کے فراک کو بھی پوری طرح سے گاڑی میں کیا کیونکہ وہ بہت مشکل سے سنبھال پا رہی تھی۔مروہ نے ہیلز پہنی تھی جو گاڑی پر بیٹھنے سے پہلے اس نے ہاتھ میں اٹھا لی تھی۔۔۔

کہاں جا رہے ے ہم سائم جو سیٹ بیلٹ باندھ رہا تھا اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ہنستے ہوئے گاڑی کو سٹارٹ کیا۔۔۔۔۔

اتنی جلدی کیا ہے بتا دوں گا۔سٹیلنگ ویل کو گھماتے ہوئے اس نے کہا۔۔

مروہ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ ونیکور پہنچے تھے۔ونیکور سے وہ گیس ٹاؤن پہنچے ۔۔۔۔۔

لیکن سٹیم کلاک کے پاس پہنچتے ہی مروہ کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔

سٹیم کلاک کے پاس سائم نے بہت خوبصورت ڈیکوریشن کروائی تھی فریش وائٹ گلاب کے پھولوں سے ایریا سجا ہوا تھا۔۔۔

پاس والی بلڈنگ پر بڑا سا مروہ اور سائم لکھا ہوا تھا۔۔۔۔

لائٹنگ سے لکھا یہ نام بلش کر رہا تھا تقریبا اندھیرا چھا چکا تھا۔۔۔۔

مروہ کی انکھیں تو کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

سٹیم کلاک سے نکلتی سٹم۔۔۔۔

اور پھر اس کے پاس لگے سفید گلاب مروہ کا سرخ باربی ڈریس۔اور سائم کا وائٹ ایک ٹکس۔۔۔۔۔۔۔

سبھی بہت سوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو کیسا لگا میری جان کو میرا سرپرائز۔۔۔

وہ دونوں ٹیبل کے پاس کھڑے تھے۔ٹیبل بھی فل سفید گلابوں سے سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔

مروہ اس کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔۔۔۔

تھینک یو سو مچ میری زندگی اتنی خوبصورت بنانے کے لیے۔۔۔۔۔

ان لمحوں کو خوبصورت بنانے کے لیے۔۔۔۔۔۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی شخص مجھ سے اتنی محبت کرے گا۔۔۔۔

میری جان۔۔۔

تم سے محبت مجھ پر واجب تھی۔۔۔۔۔

تم میری زندگی کا اخری اثاثہ ہو۔۔۔

میری سیونگ ہو تم مروا۔۔۔

میری اخری جمع پونجی جس کے بعد میری زندگی کا مقصد ختم ہو جائے گا۔۔۔۔

اس کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔۔

میں سب کچھ گواہ بیٹھا ہوں مروا۔۔۔۔

مروہ اس کے سینے سے لگی اس کی دھڑکن سن رہی تھی اور یہ لمحہ اس کے لیے بہت پریشیس تھا۔۔۔

وعدہ کرو کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوگی۔۔۔

اس نے ہاتھ اگے بڑھایا تو مروا نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا وعدہ۔۔۔۔۔

سائم نے اس کے سر پے بوسہ دیا۔۔۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا اس نے کافی غصے سے اسے بلایا تھا۔۔۔۔۔

تم نے سائرہ کو نہیں انوائٹ کیا۔۔۔۔۔

وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی اور تم تو چاہتے ہی یہی ہو۔

مروہ نے ہاتھ کا مکہ بنا کے دو تین وار اس کے سینے پہ کیے۔۔۔۔

تم اج بھی یہی کرنے والی ہو۔۔

وہ میرے ذہن سے نکل گئی تھی۔سائم نے اس کے گالوں کو زور سے کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔

میں نے کہا نا میں نہیں بات کروں گی۔مروا نے اس کے ہاتھوں کو پیچھے کیا اور اپنا رخ بدل لیا۔۔۔

اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔