Sheh Rug (Season 2) by Aneeta NovelR50475 Sheh Rug Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Sheh Rug Episode 2
Sheh Rug by Aneeta
نکاح نامہ جھوٹا بھی بن سکتا ہے اس کے لیے نکاح کرنا ضروری نہیں ہے۔یہ کہتے ہی مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔بیٹھے بٹھائی اس کے سر پہ مصیبت ان پڑی تھی۔
اگر جھوٹا بن جاتا ہوتا تو مجھے تمہاری منتیں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اچھا ٹھیک ہے۔تو میں جا کے سب کو سچ بتا دیتا ہوں۔سائم نے بھی جان چھڑانے والے انداز میں بات کہی۔۔۔
ریحان کے بھائی کی باتیں سائم کے دل میں چبھی تھی۔وہ اسے منہ توڑ جواب دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں کرنا دیکھو ہماری زندگی تباہ ہو جائے گی۔عائشہ سائم سے التجا کر رہی تھی۔کیونکہ اگر سچ سامنے اتا۔تو غلطی سراسر عائشہ کی تھی۔اب اسے جان کے لالے پڑ گئے تھے وہ قدم اٹھاتی مروہ کے پاس ائی۔
اب کمرے میں بس سائم اصفر عائشہ اور مروہ تھے ۔۔۔
اور یہ حقیقت سے واقف تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو سائم ٹھیک کہہ رہا ہے۔عائشہ نے اس کے کان میں کہا تھا۔۔۔
میں سچ بتا دوں گی۔لیکن مروہ کوئی بھی راز رکھنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وہ چیختی ہوئی جا کے چیر پر بیٹھ گئی۔۔
اچھا شوق سے بتا دو پھر یہ کیا ایکسپلین کرو گی کہ ساری رات تم لوگ اس کمرے میں۔۔عائشہ بولتے بولتے چُپ ہو گئی تھی۔۔
یار ایک نکاح نامہ ہی تو لینا ہے یہ بعد میں تمہیں ڈیورس دے دے گا۔بھلا دیکھو اسے تم سے کیا مطلب۔جتنا ہینڈسم ہے۔اسے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے یہ بات اس نے مروہ کےکان میں کہی تھی۔غنیمت مانو کہ یہ نکاح کے لیے مان گیا ہے۔عائشہ نے سائم کی پرسنلٹی دیکھتے ہوئے مروہ کو کہا۔اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کے اس نے مروہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔انداز تسلی دینے والا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا نا نہیں تو نہیں مروا نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا۔۔۔۔
لیکن مروہ کے پاس کوئی اور اپشن بھی نہیں تھا عائشہ کے بہت اصرار کرنے پر وہ مان گئی تھی۔لیکن طے یہ پایا تھا کہ سائم بعد میں مروہ کو ڈیورس دے دے گا۔
مروہ کبھی نہ مانتی اگر ریحان اور علیزے کا بھی اس میں پریشر نہ ہوتا۔ تو یہ بات ریحان کے خاندان میں پھیل جاتی۔۔اور ان کی اچھی خاصی بدنامی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سائم نے اور مروا سے کورٹ میرج کر لی تھی۔۔۔۔
چلو مجھے ڈیورس دے دو۔نکاح نامہ تو بن گیا نا اب ڈیورس دے دو۔مروا نے نکاح نامے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی احتجاج شروع کر دیا تھا۔
یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے مروا۔دے دوں گا ڈیورس مجھے شوق نہیں ہے تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کا ویسے بھی میں کینڈا واپس جا رہا ہوں۔پتہ نہیں کون سی منوس گھڑی تھی جب واپس ایا۔وہ بہت سپیڈ سے ڈرائیو کر رہا تھا۔اس کی نظر مسلسل سامنے روڈ پر تھی۔استینوں کو فولڈ کیا ہوا تھا۔۔۔۔
شام میں ایک دفعہ پھر پنچایت لگ چکی تھی۔سائم تو ہمارے پاس کچھ چھوڑنے کی غرض سے یہاں ایا تھا۔وہ اب اس کے نکاح میں تھی لیکن وہ کسی قسم کی زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔وہ اب اپنی اسی حال پہ خوش تھا جس حال میں وہ تھا۔
دیکھو اب تم دونوں کا نکاح ہو گیا ہے اچھا ہوگا کہ مروہ کو تم اپنے ساتھ لے جاؤ۔تم دونوں کی وجہ سے اگے بھی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں اور برداشت نہیں کریں گے ۔ہارون کا لہجہ سخت تھا۔
علیزے کے ہاتھ میں نکاح نامہ تھا اور وہ تو کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی جیسے زبان حلق سے کھینچ لی ہو۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیونکہ اسے نہیں لگتا تھا کہ مروہ ایسا کچھ کر سکتی ہے۔۔۔
ریحان بھائی اپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔میں کہیں نہیں جاؤں گی اس نے ایک نظر سائم اور پھر ریحان کو دیکھا۔۔۔۔
اس نے بلیک شارٹ فراک پہنی تھی۔دوپٹہ گلے میں تھا اور بال کھلے ہوئے تھے۔۔۔
دیکھو تم نے اس کے ساتھ نکاح کیا ہے تم اب سائم کی ذمہ داری ہو ہماری نہیں۔اور ہم یہ جاننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں رکھتے کہ نکاح کیوں اور کس وجہ سے کیا ہے بس اب تمہارا نکاح ہو گیا ہے اچھا ہوگا تم اس کے ساتھ جاؤ۔۔۔۔۔
علیزے دیکھو یہ کیا کہہ رہے ہیں۔مروہ کو جب وہاں سے کوئی امید نہیں ملی تو وہ علیزے کے پاس ائی۔وہ سائم کے ساتھ تو ہرگز نہیں جا سکتی تھی وہ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اور سائم بھی اس سب کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔۔
۔لیکن وہ مروہ کی ذمہ داری سے انکار کیسے کر سکتا تھا اب کہ جب کہ وہ اس کی بیوی تھی۔وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔دونوں بازو باندھے ہوئے تھے۔گرے کلر کی شرٹ نیچے وائٹ چینز پھر نیچے سپورٹ شوز۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ علیزے اسے کوئی تسلی دیتی ریحان نے اس کا بازو پکڑا اور وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔۔
مروہ نے ایک نظر سائم کو دیکھا جو ابھی بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا اور سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔مروہ کے دیکھتے ہی اس نے اشارے سے کہا کہ اب کیا کرو گی۔۔۔
تم کہیں یہ تو نہیں سوچ رہے کہ میں تمہارے ساتھ چلی جاؤں گی۔تم مجھے ابھی ڈیورس دو ابھی اور اسی وقت ڈیورس دو سائم۔
اوکے میں دے دیتا ہوں۔وہ دیوار سے ہٹا اور اس کے پاس ایا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ریحان تمہیں اور یہاں رکھنے والا ہے۔تمہارے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ ابھی کے لیے میرے ساتھ چلو۔۔پھر تم اپنا فیصلہ لے لینا۔۔۔
میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جا رہی ہوں مجھے یہیں رہنا ہے۔تم جب بھی اتے ہو مصیبتیں اتی ہیں۔پتہ نہیں تم سے کب جان چھوٹے گی میری۔۔۔۔۔۔
اس کے اس انداز سے سائم کو بھی تھوڑا غصہ ایا۔کیونکہ اس کے لیے کیا مشکل تھی۔کہ وہ صاف منکر جاتا اور جو سچ تھا وہ بتا دیتا۔لیکن وہ مروہ کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں اپنے ساتھ رکھنا بھی نہیں چاہتا میں بتا چکا ہوں کہ میں کل کینڈا واپس جا رہا ہوں۔۔۔۔
اور ڈیورس بجوا دوں گا یہ کہتے ہی سائم وہاں سے نکل گیا۔۔۔
مروہ نے ایک لمبی سانس لی اور وہیں پر بیٹھ گئی جیسے اس کے سر سے کوئی بلا ٹلی ہو کیونکہ وہ سائم کو پانچ سال پہلے والا سائم ہی تصور کر رہی تھی جو منتیں کرتا اسے مناتا اور اپنے ساتھ لے جاتا۔لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اس نے ارام سے اس کی بات مانی اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
مروہ فاطمہ کے ساتھ ہی سویا کرتی تھی۔اج بھی وہ فاطمہ کے ساتھ جا کر سو گئی تھی۔لیکن صبح کیا ہونے والا ہے اس کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔
وہ ساری رات نہیں سو پایا تھا اس کے ہاتھ میں نکاح نامہ تھا۔جس پہ مروہ کے نام کے ساتھ اس کا نام جرا تھا۔نہ جانے اس نے دل کو کیسے قابو کیا تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے اس نے بہت قربانیاں دی تھی۔لیکن اج بنا کوشش بنا قربانیوں کے اسے اسانی سے مل چکی تھی۔لیکن وہ کسی قسم کی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔یا شاید وہ دل کو سمجھا چکا تھا۔اس نے حود سے عہد کیا کہ وہ صبح سب سے پہلے اسے ڈیورس دے گا۔اور بڑی مشکل سے خود کو اس کے لیے منایا۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ کی جب انکھ کھلی تو علیزے اور ریحان اس کے سرہانے کھڑے تھے۔۔۔
مروہ تم سائم کے ساتھ کیوں نہیں گئی۔اس کے اٹھتے ہی علیزے نے سوال کیا۔فاطمہ کو وہ پہلے ہی سکول بھیج چکی تھی۔۔
پورے خاندان میں باتیں ہو رہی ہیں۔مروہ کو خاموش دیکھ کر اس نے پھر سے سوال کیا۔اور یہ سوال وہ صرف ریحان کے ڈر سے کر رہے تھی۔علیزے کو موقع ہی نہیں ملا تھا کہ وہ پرسنلی اس سے سوال کر سکے۔۔۔۔
دیکھو مروہ اب تمہاری شادی ہو چکی ہے تم سائم کی ذمہ داری ہو اچھا ہوگا کہ تم چلی جاؤ۔ورنہ تمہیں باسط کا پتہ ہے وہ پورے خاندان میں پتہ نہیں کیا کیا باتیں بنائے گا۔اور ہم پہلے ہی بہت بدنام ہو چکے ہیں۔۔۔
یہ کہتے ہی ریحان باہر کی طرف چلا گیا۔وہ صاف صاف لفظوں میں مروہ کو جانے کا کہہ گیا تھا۔اور مروہ کا اس کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔مروا علیزے کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اب میں کیا کروں مروا تمہیں بھی یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔اخر تم نے سائم سے نکاح کیوں کر لیا تم تو اسے نفرت کرتی تھی۔۔۔
______________________
سائم ڈیورس کے پیپر پہ سائن کرنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بچنے لگا۔اس نے پین کو ٹیبل پر رکھا اور فون کان کے ساتھ لگایا۔۔
مرو اب تمہاری بیوی ہے اچھا ہوگا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔اس سے پہلے کہ ہم تمہاری بیوی کو گھر سے باہر نکال دیں۔۔۔
سائم نے فون کان سے اتارا اور اسے بند کر دیا اس نے ریحان کو کوئی جواب نہیں دیا۔اس کا ایک ہاتھ اب ماتھے پر تھا پریشانی کے بل گہرے ہو چکے تھے۔
اس نے ڈیورس کے پیپر وہیں رکھے اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
_________________
شام ہو چکی تھی۔۔۔
وہ تمہیں کیوں ڈیورس دے گا بتاؤ مجھے یہ کیا ڈرامہ چل رہا ہے پہلے نکاح اور پھر ڈیورس۔مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے کا دماغ چکرانے لگا تھا مروا کے ڈراموں سے۔ریحان ابھی باہر تھے۔۔
اس کا سامان پیک کر دو باہر سائم اسے لینے ایا ہے۔مروہ علیزے کی باتوں سے پہلے ہی ہرٹ ہو چکی تھی اس نے کوئی احتجاج کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے باہر گئی۔۔۔
چلو سائم ہمیں چلنا چاہیے۔سائم تھوڑا حیران ہوا لیکن پھر اس کے ساتھ ہی باہر ا گیا۔۔۔۔
تم مجھے۔۔اس نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔تم مجھے کہیں کسی ہوٹل وغیرہ میں اتار دینا تمہارا کام ہو گیا اور یہاں سے دفع ہو جانا۔وہ بات کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
ریحان نے تمہیں میری ذمہ داری ہے بھیجا ہے۔میں کوئی رزق نہیں لے سکتا ریحان نے تمہیں میری ذمہ داری پہ بھیجا ہے۔ہم کل کی فلائٹ سے کینڈا جا رہے ہیں تمہاری ٹکٹ کروا دی ہے میں نے پھر وہاں جا کے جو مرضی کرنا۔
کینیڈا۔۔۔۔۔اس لفظ کو مروہ نے کافی کھینچا تھا۔اور اپنا رخ سائم کی طرف کیا۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ تو نہیں خراب میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی۔اور تم میری ٹکٹس کیسے کروا سکتے ہو۔میرا پاسپورٹ۔۔۔
سائم نے اس کا پاسپورٹ اور ٹکٹ جو اس نے گاڑی کے سامنے ہی رکھے تھے اٹھا کر اسے دیا۔۔۔
دیکھو یہی بیسٹ اپشن ہے وہاں پہ جا کے تم دوبارہ سے کنٹینیو کر سکتی ہو۔اور میری طرف سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میرے دل میں اب تمہارے لیے کوئی فیلنگز نہیں ہے۔زیرو فلنگز مروہ۔۔۔۔۔تھوڑا ری ایکٹ کرتے ہوئے اس نے مروہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
تو میرے دل میں بھی کوئی فیلنگز نہیں ہے۔اور اس احسان کی ضرورت نہیں ہے۔میں اپنا فیوچر خود سوچ سکتی ہوں۔۔۔
لیکن مجھے نہیں لگتا تمہارا فیوچر یہاں پہ سکور ہے۔میری مانو تو یہ افر بیسٹ ہے وہاں جا کے تم ایڈجسٹ کر سکتی ہو۔اس نے مروہ کو سوچنے پہ مجبور کر دیا تھا کیونکہ اس کے پاس اور کوئی اپشن تو بچا نہیں تھا۔۔۔۔
اور اخر کار مروہ اس کے ساتھ کینیڈا جانے کے لیے مان گئی لیکن صرف کینڈا جانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ اندر سے بہت ہی ہر ٹ تھی۔علیزے فاطمہ کو وہ کیسے چھوڑ سکتی تھی۔لیکن اب اس کے پاس کوئی اپشن بھی نہیں تھا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک ہوٹل کے سامنے رکے۔فلائٹ کل کی تھی تو انہیں اج رات یہی رکنا تھا۔۔۔۔۔
ون رونم۔۔۔۔۔پلیز۔سائم نے اپنی ائی ڈی اور کارڈ کاؤنٹر پر رکھے اور ایک روم بک کرنے کا کہا۔۔۔
ایک روم میں تمہارے ساتھ نہیں رہنے والی۔مروہ نے اس کی بات سنتے ہی اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔
اچھا ایسا ہے تو پھر تم بھی اپنا روم بک کروا لو۔سائم نے رسپشن سے کی لی اور اندر کی طرف جانے لگا۔۔۔۔
مروہ نے ہاتھ اسے روکنے کے لیے بڑھایا لیکن پھر نیچے کر لیا۔۔۔
میں کیسے کروا لوں۔مروا نے نظر رسپشن پہ دہراتے ہوئے کہا۔اور پھر اپنا بیگ چیک کیا جس میں پیسے بالکل بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔
افففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مروہ نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔۔۔
اور پھر سامنے جا کے ویٹنگ ہال میں بیٹھ گئی۔۔۔
سائم کمرے میں تو چلا گیا تھا لیکن اس کا دھیان مروہ کی طرف تھا۔اسے لگا تھا وہ اس کے پیچھے ائے گی ۔ ۔۔
_____________________
علیزے کھانا کھا لو وہ سائم کے ساتھ ہے دونوں نے نکاح کیا ہے۔تمہاری بہن نے تو قسم کھائی ہے کچھ نہ بتانے کی۔اور تم اس کے لیے ایسے پریشان ہو رہی ہو ریحان کے لہجے میں غصہ تھا۔۔۔
اج سے پانچ سال پہلے جو ہوا ہے ابھی تک اس کے نشان نہیں گئے۔جب بھی موقع ملتا ہے لوگ اس بات کو اٹھا لیتے ہیں۔اور اب یہ اس نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
ماما ہالہ نے کیا کیا ہے فاطمہ نے معصومیت سے پوچھا۔اور کیا حالا اب کبھی واپس نہیں ائیں گی۔اس نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا۔۔
نہیں بیٹا اپ ارام سے کھانا کھاؤ حالہ ا جائیں گی اور حالہ کی شادی ہو گئی ہے نا اس لیے۔۔علیزے نے ایک نوالہ اس کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________
کیا ہوا تمہیں روم نہیں ملا کیا۔سائم تھوڑی دیر میں نیچے آیا اور اس کے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔۔
مروہ جو ٹیبل پر ٹانگیں رکھے بیٹھی تھی اس نے ٹانگوں کو سیدھا کیا۔۔۔۔
اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
یہ ہوٹل بہت ایکسپنسو ہے۔۔۔
میں افورڈ نہیں کر سکتی۔اس نے معصومیت سے جواب دیا۔۔
او یہ مسئلہ ہے۔تو کیا تمہیں میری ہیلپ چاہیے۔۔۔۔انسانیت کی حاطر تومیں کر ہی سکتا ہوں۔اس نے اپنی ہنسی کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے میں یہاں پہ تمہاری ہیلپ کے لیے بیٹھی ہوں۔میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔مروا نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔جیسے اب وہ اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔
ایز یو وش۔۔۔۔۔اس نے بڑے ہی ارام سے کہا۔
ویسے ابھی کے لیے ہم ہسبنڈ وائف ہیں مجھے نہیں لگتا کہ ایک ہی کمرے میں رہنے سے ایک ہی بیڈ پہ سونے سے کوئی پرابلم ہوگی۔۔۔
میں تمہاری موجودگی میں سانس بھی نہ لوں تم کمرے میں رہنے کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کہا نا میں ٹھیک ہوں اب تم یہاں سے جا سکتے ہو۔۔
_____________________________________
مروہ ہماری وجہ سے پھنس گئی۔اصفر مجھے تو بہت فکر ہو رہی ہے اس کی۔عائشہ فون کان کے ساتھ لگائے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔
عائشہ تمہاری وجہ سے وہ بیچاری پھنس گئی تمہیں کیا ضرورت تھی۔میری جاسوسی کرنے کی۔۔
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو کوس رہے تھے۔
لیکن اب سچ بتانے کا کیا فائدہ ہوگا۔۔ان دونوں کا تو ویسے بھی نکاح ہو گیا ہے۔عائشہ نے قدر اسانی سے کہا۔جیسے اسے مسئلے کا حال مل گیا ہو۔۔
دیکھیں یا تو اپ روم میں چلی جائیں یا باہر اپ یہاں نہیں بیٹھ سکتی۔۔۔۔
میں کیوں نہیں بیٹھ سکتی میرے ہسبنڈ نے وہ کمرہ بک کروایا لیکن میں کمرے میں نہیں رہ سکتی اس لیے میں یہاں رہ رہی ہوں۔مروہ پہلے ہی سردی سے کانپ رہے تھی۔اس نے اپنے سامان سے ایک چادر نکال کر اپنے اوپر اڑی تھی۔۔۔
ریسپشن سے ائی لڑکی نے اسے اور کانپنے پہ مجبور کر دیا تھا۔۔۔
تو اپ اپنے ہسبینڈ کے روم میں جائیں یہاں بیٹھنا الاؤ نہیں ہے۔۔۔
مروا نے ایک نظر اوپر دیکھا کیونکہ سائم کا روم سیکنڈ فلور پر تھا۔۔۔۔
اور پھر باری قدم اٹھا کر اس کی طرف گئی۔رات کے 12 بجے تھے اور اسے بھوک بھی شدید لگی تھی۔۔
وہ پہلے تو باہر کھڑی سوچتی رہی۔۔پھر تھوڑی ہمت کر کے اس نے دروازہ نوک کیا۔۔۔
اجاؤ مروہ ڈور کھلا ہے ۔۔مروہ سن کر تھوڑی حیران ہوئی لیکن پھر اگلے ہی لمحے اندر اگئی۔۔۔۔۔
سائم بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پہ مصروف تھا۔ایسے جیسے مروہ کے انے یا جانے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔جیسے مروہ اس کے لیے ایک ارڈنری انسان ہو ۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔اور یہ بات اسے اندر ہی اندر کھٹک رہی تھی۔لیکن وہ بہت تھک چکی تھی۔۔۔۔۔
مروہ نے دور پڑی چیئر کو اگے کھینچا بیڈ کے پاس لے کے ائی۔اس نے اپنا شولڈر بیگ اتار کر سائیڈ پہ رکھا سائم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔مروا نے چیئربیڈ کے قریب کی چیئر تھوڑی باری تھی تو اسے تھوڑی مشکل ہوئی اور اس پہ بیٹھی گئی اپنے پاؤں بیڈ پر رکھ کے سیدھے کیے۔اور سائم کے بلینکٹ کو اپنی طرف کھینچا۔اور چیئر پر ٹیک لگا کے سو گئی۔۔۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے مروہ تم بیڈ پر ا کے لیٹ جاؤ سائم نے لیپ ٹاپ فولڈ کیا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ مروہ کو جواب دیتی ڈور بیل بجے تو سائم نے اندر انے کی اجازت دی۔ایک لڑکی کھانے کی ٹرے لے کے ائی اور اس نے سامنے پرے ٹیبل پہ رکھی۔۔۔
چلو کھانا کھاتے ہیں سائم خود اٹھا اور مروہ کو اٹھنے کا کہا۔۔
مجھے اگر کھانا ہوگا تو میں اپنے پیسوں سے کھا لوں گی۔اپنے احسانات اپنے پاس رکھو۔کسی ایکسٹرا فیورکی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔۔۔
ائی گیسٹ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوگا۔تو یہ اخری چانس ہے اگر کھانا کھانا ہے تو وہاں پہ ا جاؤ۔ورنہ تمہیں صبح تک بھوکھا رہنا پڑے گا۔اب اسے پنشمنٹ سمجھو یا رول سمجھو یہ اب تم پہ ڈیپینڈ ہے۔مروہ کو شدید بھوک لگی تھی۔۔۔۔
لیکن اس نے سائم کی کسی بات پے دھیان دیے بغیر اپنی انکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔
تو تم نہیں کھا رہی مروہ سائم نےپھر سے سوال کیا۔اسے فکر تھی مروا کی۔وہ اس کے بغیر کیسے کھا سکتا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا اور اگر جب کھانا ہوگا تو میں خود کھا سکتی ہوں۔مروہ کا لہجہ تھوڑا سخت ہوا تو سائم بھی اپنے ایٹیٹیوڈ میں واپس ایا۔۔
اس نے اکیلے ہی کھانا کھایا۔مروہ اتنی دیر میں سو چکی تھی اور وہ بھی گہری نیند۔۔۔۔۔۔۔
سائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنی سائڈ پہ ا کے لیٹ گیا۔لیکن اسے ابھی بھی فکر تھی مروا کی وہ جانتا تھا کہ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
