Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 13

Sheh Rug by Aneeta

سائم اب بس میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔

وہ رننگ مشین سے اترتے ہوئے منہ بنا کے بولی اور تھکی ہوئی نگاہ سے سائم کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

چلو واپس جلدی سائم جو پشپ لگا رہا تھا اور ابھی تقریبا 70 لگا چکا تھا۔ایک دم سے سیدھا ہوا اور اسے دوبارہ مشین پر جانے کا کہا۔۔۔۔۔

سائم پلیز گھر چلو نا۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ سائم کے بازو پہ رکھ اور التجا کرتے ہوئے نگاہیں اس کی طرف کی۔۔

کوئی اچھی سی افر دو کیا پتہ میں مان جاؤں۔سائم نے سرگوشی میں کہا۔۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروا لفظ کو کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے چلتے ہیں میری جان تم سچ میں بہت تھک گئی ہو۔سائم نے اس کے گالوں کو دونوں طرف سے کھینچتے ہوئے کہا اس کے سر پہ بوسہ دیا۔اج کے لیے اتنا کافی ہے۔۔۔۔۔

کل سے زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔

سائم کو احساس تھا کہ وہ تھک گئی ہے۔۔۔۔

میں کل سے نہیں انے والی سائم۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سائم مروہ گھر پہنچ چکے تھے سائم فریش ہونے کے لیے گیا تھا تو مروا نے فاطمہ کو فون ملا لیا تھا وہ کافی دیر سے اس کے ساتھ ویڈیو کال پہ بات کر رہی تھی۔اور ابھی جا کر اس نے فون کو سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔

وہ بہت تھک گئی تھی اس کی انکھیں تقریبا بند ہو رہی تھی۔اور اس کے جسم میں بھی درد تھا۔۔۔

ارے ابھی کہاں سونے لگی ہو کھانا کھانا ہے۔۔۔

سائم نے گیلا ٹاور اس کے اوپر پھینکتے ہوئے کہا تو وہ ایک دم سے بدمزہ ہوئی۔۔۔۔

اور ٹاول پھر سے اس کی طرف پھینکا۔۔۔۔

کھانا میں یہیں کھاؤں گی۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ سائم کچھ اور کہتا ہیلپر دروازے پر ائی۔۔۔

سر باہر مروہ میم کے گیسٹ ائے ہیں سائرہ ائی ہے۔ان کی فرینڈ۔۔۔۔۔

سائرہ کا نام سنتے ہی مروہ نے بلینکٹ چھوڑا اور ایک دم سے بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔۔

سائرہ ائی ہے اس نے جلدی سے سلیپر پہنے۔اور باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔

کھانے کے لیے نہیں اٹھ سکتی۔پر سائرہ کے لیے اٹھ سکتی ہے سائم نے ایک نظر بیڈ کو اور پھر باہر دیکھا۔۔۔

بہت ہی عجیب ہو مروا ۔۔۔

_______________

میری جان۔۔۔۔

مروا نے سائرہ کو گلے سے لگایا۔۔۔۔

کہاں ہے تمہارا شوہر۔۔۔۔

اس نے ابھی پوچھا ہی تھا کہ سائم بھی وہیں ا چکا تھا۔۔۔

تم نے اس دن میرا فون بند کر دیا تھا۔اس کے اتے ہی سائرہ نے پوچھا۔۔۔۔۔

اور مروہ کو ایسے لے کر گئے تھے تم نے اسے بالکل ہی لاوارث سمجھا ہوا ہے۔۔۔

مروہ تم اس پر کیس کرواؤ اور اس سے ڈیوس لو یہ اس لائک نہیں کہ تم اس کے ساتھ رہو۔۔

سائم بڑے غور سے اسے سن رہا تھا۔

لگتا ہے سائرہ تمہیں اس دن والا بھول گیا۔۔۔

تمہارے دماغ کو پھر سے ٹکانے لگانا پڑے گا۔اور یہ کام کرنے میں اب دیر نہیں کروں گا۔

مروہ تم کچھ بولو گی اب سائرہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔

وہ مجھ سے ملنے ائی ہے سائم پلیز۔۔۔۔۔۔۔

تو ملے میں نے کب انکار کیا ہے۔۔۔

ہمیں اپ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے مسٹر ظائم مردان مروہ میری دوست ہیں اور میں اپ سے اجازت لے کر اس سے ملوں۔تم اس قابل نہیں ہو۔اپ سے ایک دم تم کا سفر سائرہ نے منٹوں میں تہ کیا تھا۔۔۔۔

ہاں لینی پڑے گی اجازت۔۔

میں شوہر ہوں اس کا سائم نے ٹانگ کے اوپر ٹانگ چڑھائی اور نظریں سائرہ کی طرف گھمائی۔وہ اب سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

ہاں ایک ایسا شوہر جس نے اپنی بیوی کے کوئی نہرے نہیں اٹھائے۔۔۔

یہ مروہ ہے کینیڈا کے ٹاپ بزنس مین کی بیگم۔

جس کی شادی دلہن بنے بغیر ہو گئی وہ ہنستے ہوئے بولی۔

لیکن اس کے یہ الفاظ سائم کے دل پر گہرے لگے تھے۔شاہد سائم کو احساس ہوا تھا کہ اس نے مروہ کو اس معاملے میں کوئی چاہ پورا نہیں کیا۔۔۔۔

اس کے بعد مروہ اور سائرہ تو اپس میں باتوں میں مصروف ہو گئی لیکن سائم کچھ الجھ ہوا تھا۔۔۔

مس جویریہ صبح میں افس اؤں گا اور افس ا کے ہم بات کریں گے یہ پروجیکٹ نہ صرف ہمارے بلکہ اپ کے لیے بھی بہت ضروری ہے اس پروجیکٹ سے دونوں کمپنیوں کو بہت فائدہ ہونے ے والا ہے۔فرمان فون کان کے ساتھ لگائے گارڈن میں ٹہل رہا تھا۔جویریہ نے اسے صائم کی سوچ کے بارے میں بتایا تھا جسے سننے کے بعد وہ کافی پریشان ہو چکا تھا۔اور اپنی لک اخری دفعہ ازمانا چاہتا تھا۔۔۔

تم نے سائرہ کو گڈ بائے بھی نہیں کیا۔سائم جو لیپ ٹاپ میں مصروف تھا مروا نے بیڈ پر بیٹھے ہوئے اسے کہا۔۔۔

سائرہ کو گئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ساتھ میں کھانا کھانے کے بعد وہ اب جا چکی تھی لیکن سائم کھانا کھانے کے فورا بعد روم میں اگیا تھا شاید اسے افس کا کام کرنا تھا۔۔۔۔

سائم نے لیپ ٹاپ فولڈ کیا اور سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔۔

سائرہ کی بڑی فکر ہے میری جان کو اور مروہ کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔

مروا نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔۔۔ساہم نے اسی کے لہجے میں اپنا نام دہرایا کیا ہر وقت ۔۔۔۔۔

وائف ہو میری۔سائم نے اس کے بال پیچھے کیے جو وہ کھول چکی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی گردن پہ جھکا اور پھر پوری طرح سے اسے خود میں سما لیا۔۔۔۔۔۔۔

مروہ اس کی شدتیں برداشت کرتی خود کو اس کے حوالے کر چکی تھی۔۔۔

سائم کی صبح انکھ کھلی تو مروا خود کو اس میں چھپائے سوئی ہوئی تھی۔۔۔

وہ نہ جانے کتنی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔

پھر سر پہ بوسہ دیا اور ارام سے اٹھنا چاہا وہ اج اسے بالکل بھی نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے رات کو سونے کہا دیا تھا اسے۔یہی سوچ کر اس نے خود ہی افس جانا چاہا۔۔۔۔

وہ فریش ہونے کے لیے واش روم میں گیا۔۔۔۔۔

تو مروا بھی اٹھ گئی۔۔۔

اس نے ایک نظر واش روم کے دروازے کو دیکھا۔۔۔۔

پھر جلدی سے سلیپر پہنے اور دوسرے کمرے میں فریش ہونے کے لیے چلی گئی۔

تم تو سو رہی تھی سائم نے سوالیہ نظروں سے اسے گورا جو اس سے پہلے ہی ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھی اور

ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔۔

تم میرے بغیر ہی افس جانا چاہتے تھے نا میں جانتی تھی۔۔۔

نہ جانے کیا پرائیوسیاں ہیں جو مجھ سے چھپانا چاہتے ہو۔

لیکن میرا نام بھی مروا ہے وہ بریڈ کا ایک سلائس ہاتھ میں لے کر اٹھی۔۔۔۔۔۔

اب جلدی سے ناشتہ کر لو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر اسے اور پھر ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑی بریڈ کو دیکھ۔۔۔۔۔۔

مروہ کمرے میں جانے لگی تو سائم نے بازو سے پکڑا۔۔۔۔

تمہیں دیکھے بغیر کیسے کر لوں۔۔۔۔۔

یہیں بیٹھ کے کھاؤ۔۔۔

میں کھا چکی ہوں سائم یہ تو بس میں نے ایسے اٹھایا۔۔۔۔

تو ایسے ہی یہیں بیٹھ کے کھاؤ سائم نے اس کی نوز کو دباتے ہوئے کہا اور اسے چیئر پر بٹھا دیا۔۔۔۔

وہ افس سوٹ الریڈی پہن چکا تھا۔۔۔۔

ابھی تک سائم نہیں ایا جویریہ نہ جانے کتنی بار ریسپشن پہ ا کر پوچھ چکی تھی ٹھیک ہے فرمان کب سے ا کر افس میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

جی سر اگئے ریسپشن پہ کھڑی لڑکی نے سامنے سے سائم اور مروا کو اتے دیکھا تو جویریہ کو اطلاع دی تو جویریہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی طرف گئی۔۔۔۔۔

سائم کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں اندر فرمان کب سے ا کے بیٹھا۔۔۔

کیوں وہ کیوں ایا ہے۔سائم نے پیشانی پہ دو انگلیاں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

یہ اب کیوں ایا ہے۔۔۔۔۔۔

میں کل کلیئر کر چکا تھا تمہیں کہ اسے جواب دے دو۔

سائم نے ہاتھ میں پکڑی چابی کو ٹیبل پر رکھا۔۔

مروہ تم ہی کچھ بولو۔۔۔

فرمان کے ساتھ اب کیوں نہیں کام کرنا چاہتے تم کتنے شکی ہو سائم۔۔۔

مروہ کو ساری بات سمجھ ا چکی تھی۔۔۔۔۔

جویریہ کو بھی بات کی نوعیت کا اندازہ ہو چکا تھا۔۔۔۔

تم اس معاملے سے دور رہو گی۔سائم نے انگلی کے اشارے سے اسے سمجھایا۔۔۔۔۔

نہیں رہوں گی تمہیں اس کے ساتھ کام کرنا پڑے گا ورنہ۔۔۔۔۔۔

ورنہ۔۔۔۔۔۔

سائم نے دونوں ہاتھ کوٹ میں جکڑے اور نظریں اس پہ جمائی۔۔۔۔۔۔

جویریہ افس میں جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔

ورنہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بولو جلدی بولو۔۔۔۔

مروہ نے اس کے گلے میں باہیں ڈالی۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر ریسپشن پہ کھڑی لڑکی پہ ڈالی۔۔۔۔۔۔۔

جو اپنے کاموں میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اپنے دونوں ہاتھ مروہ کی کمر میں ڈالے۔۔۔۔۔

اس کا غصہ غائب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔

کیا ارادے ہے میری جان کے۔۔۔۔۔

ورنہ کبھی قریب نہیں انے دوں گی وہ سرگوشی میں بولی۔۔۔۔۔

اور ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا۔۔۔۔

اور وشل کے افس میں بھاگی۔۔۔۔۔

لیکن سائم کو وہ اچھا خاصا ڈسٹرب کر گئی تھی۔۔۔۔

سائم اس کے پیچھے ہی وشل کے افس میں گیا۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ سر۔۔۔۔

سائم کو دیکھتے ہی وشل کھڑی ہوئی اور گڈ مارننگ کہا۔۔

گڈ مارننگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سائم نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔

تو وہ بھی دیر کیے بغیر وہاں سے نکل گئی ۔

سائم۔۔۔۔۔۔

وہ ڈرتے ہوئے پیچھے ہوئی۔۔۔

خود پنگا لیتی ہونہ جان۔۔۔۔۔۔

پھر ڈرنے لگتی ہو۔۔۔۔

وہ قریب آتے ہوئے بولا۔۔۔

مروہ چیئر سے اٹھتے ہوئے پیچھے کی طرف ہوئی۔۔۔

اس سے پہلے کہ سائم قریب ہوتا ۔۔۔۔

اچانک دروازہ کھولا جویریہ اور فرمان تھے۔۔۔

سائم بری طرح پزل ہوا اور پیچھے دیکھا اس نے اپنا ایک ہاتھ پیشانی پہ ٹکایا۔اور پھر پیچھے مڑ کر مروا کو دیکھا۔۔۔۔

مسٹر سائم۔۔۔۔۔۔

اپ اچانک سے یہ سب کیسے ختم کر سکتے ہیں۔

سائم کچھ بھی ختم نہیں کر رہے ۔۔۔مروہ

ایک نظر سائم کو دیکھتے ہوئے اگے بڑی۔۔۔

سائم اپ کے ساتھ پروجیکٹ کریں گے۔۔۔۔۔۔۔

مجھے امید تھی فرمان کا چہرہ ایک دم خوشی سے کھل کھلایا۔اور اس نے ہاتھ سائم کی طرف بڑھایا سائم نے غصے سے مروہ کی طرف دیکھا اور پھر اس سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔

اور اگلے ہی لمحے ہاتھ کو پیچھے کھینچ لیا۔۔۔۔

جویریہ کا چہرہ بھی خوشی سے کھل کھلا اٹھا تھا جیسے بہت بڑی پریشانی سے بچ گئی ہو ۔۔۔۔

لیکن مروا نہیں جانتی تھی کہ اس نے کتنی بڑی مصیبت سر پہ لے لی ہے۔۔۔۔۔

کیا تمہارے اور سائم سر کے بیچ میں ناراضگی چل رہی ہے وشل نے کافی کا کپ مروہ کی طرف بڑھایا جو اداس بیٹھی ہوئی تھی۔چہرے پہ 12 بجے ہوئے تھے۔اور بجتے کیسے نا ادھا دن گزر گیا تھا اور سائم نے اسے بلایا تک نہیں تھا۔۔۔۔

وہ اس کے سامنے جاتی تو وہ نظریں پھیر لیتا۔۔۔۔

یا پھر اس جگہ کو چھوڑ دیتا ۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں انکھ مچولی کا کھیل کھیل رہے تھے۔۔۔

جویریہ۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے مسٹر سائم اور مروہ کے درمیان کچھ صحیح نہیں ہے۔۔۔۔

فرمان جو ہاتھ ہے ہاتھ رکھے جویریہ کے مقابل بیٹھا تھا نے ایک نظر مروہ پے ڈالی جو سامنے وشل کے کیبن میں سر لٹکائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

جویریہ نے ایک نظر مروا کو دیکھا۔۔۔

جویریہ کو بھی احساس تھا کہ سائم مروہ سے کس لیے ناراض تھا۔۔۔

مسٹر فرمان یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔۔۔۔

لیکن دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور یہ نوک چوک تو پیار کا حصہ ہوتی ہے۔۔۔۔

لیکن فرمان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا اس نے جویریہ کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا دھیان مروہ کی طرف ہی رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے ۔۔مروہ نے اس کی چیئر کو اپنی طرف گھمایا۔۔۔

مروہ میں کام کر رہا ہوں اچھا ہوگا کہ یہ بحث ہم بعد میں کریں۔سائم چیئر کو اگے کھینچتے ہوئے بولا اور پھر سے اپنا دھیان لیپ ٹاپ میں کر لیا۔۔۔۔

سائم۔۔۔؟۔

لیکن سائم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں اب دوبارہ مجھے کبھی نہیں بلانا۔جا رہی ہوں مروہ بھی وہاں سے غصے سے چلی گئی دروازے کو بہت زور سے بند کر کے۔۔۔۔۔

مس مروہ۔۔۔

مجھے اپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔مروہ جو وشل کے افس میں بیٹھی تھی وشل وہاں پہ موجود نہیں تھی اسی اکیلے دیکھ کر فرمان افس میں ایا۔۔۔۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں۔سرسری سا جواب دینے کے بعد مروا نے باہر جانا چاہا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سائم اسی کی وجہ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔

ویسے اپ جیسی خوبصورت لڑکی سائم جیسے مرد کو ڈیزرو نہیں کرتی جسے قدر ہی نہ ہو ۔مروہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا انکھوں میں غصہ تھا۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔وہ پختہ نگاہ لیے وہیں رک گئی۔۔۔

اپ بہت خوبصورت ہو مس مروہ۔۔۔۔۔۔

فرمان نے اپنا ہاتھ مروہ کی طرف بڑھانا چاہا لیکن اگلے ہی لمحے وہاں سائم کی امد ہوئی اس نے اس کے اسی ہاتھ کو زور سے پکڑ کر پیچھے گرایا۔۔۔۔۔۔

تو اپنی اوقات پہ اگیا۔۔۔۔۔۔

لیکن اس بار تم نے غلط جگہ جال بچھانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔

وہ غصے سے پاگل ہو چکا تھا اس نے ٹیبل پہ پڑے وشل کے لیپ ٹاپ کو اٹھا کر زمین پر پھینکا اور دونوں ہاتھوں سے اسے گریبان سے پکڑا۔۔

تو نے مروہ کو چھونے کا سوچا بھی کسیے۔۔۔۔۔