Sheh Rug (Season 2) by Aneeta NovelR50475 Sheh Rug Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Sheh Rug Episode 3
Sheh Rug by Aneeta
سائم کی انکھ کھلتے ہی اس نے مروہ کو اپنے نزدیک پایا۔۔۔
۔سائم کا ہاتھ مروہ کی کمر پہ تھا۔وہ پوری طرح سے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔۔
سائم نے اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے کیا۔۔
تم اتنی خوبصورت کیوں ہو۔۔۔
وہ سرگوشی میں بولا تھا۔سائم نے اپنا ہاتھ مروہ کے چہرے پہ رکھا۔وہ اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہوتا۔چہرے پہ لمس محسوس کرتے مروہ کی انکھ کھل گئی۔ ۔۔
سائم۔۔۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔یہ کیا کر رہے ہو۔اس کا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔تو سائم بھی ایک دم سے ہوش میں ایا۔۔
یہ کیا بدتمیزی تھی۔
تم میرے پاس کیوں ائے۔مروہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
پہلے تم بتاؤ تم تو چیئر پر سو رہی تھی۔اب مروہ کے ذہن میں رات والا سین گھوم رہا تھا جب وہ چیر پر سوئی سوئی تنگ ا گئی تھی اور ا کے یہاں سوئی تھی۔۔۔
میری کمر میں درد ہو گیا تھا اس لیے اس نے معصومیت سے جواب دیا اور اس کی طرف دیکھا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم کچھ بھی کرتے پھرو گے۔۔۔
ویسے تو تم میری وائف ہو۔میرا پورا حق ہے۔لیکن تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔میں سو رہا تھا پتہ نہیں کب تمہاری طرف اگیا۔سائم بالکل ریلیکس تھا جیسے کچھ ہوا نہیں ہے۔یا وہ ایکٹنگ کر رہا تھا۔وہ اٹھا اور پھر باتھ روم میں فریش ہونے چلا گیا۔مروہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔کہ اس کے کہنے کا مطلب کیا ہے۔۔۔
اب پتہ نہیں یہ ناشتہ کب منگوائے گا میرا تو بھوک سے برا حال ہے۔مروا نے ایک ہاتھ پیٹ پہ رکھا۔اور دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
تم بدل گئے ہو۔۔۔۔۔
تمہیں رات کو ہی مجھے فورس کرنا چاہیے تھا کھانے پہ۔
اگر میں بھوک سے مر جاتی تو۔وہ خود ہی سوال کرتی تو خود ہی جواب دیتی۔۔۔
کہ اچانک سے دروازے کی بیل بجی تو فورا سے مروہ دروازے کی طرف گئی۔اسے یقین تھا کہ ناشتہ ہی ایا ہوگا۔۔
گڈ مارننگ میم۔۔۔۔
وہ لڑکی اندر ائی اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھا۔جس میں بریڈ انڈا چائے۔کچھ ڈرائی فروٹس فروٹس۔اور بھی بہت کچھ تھا اور مروا نے اس کے جانے تک کا کا پتہ نہیں کیسے ویٹ کیا۔اس کے جاتے ہی اس نے چیئر اگے کی اور ناشتہ شروع کر دیا۔سائم شاور لے رہا تھا۔۔۔۔
مروا کچھ رولز ہوتے ہیں مارننگ کے سائم واش روم سے نکلا ہی تھا۔کے مروہ کو ایسے کھاتے دیکھا کر اس نے اپنی ہنسی بہت مشکل سے کنٹرول کی تھی ۔۔۔۔
پہلے فریش ہو جاؤ پھر ارام سے کھا لینا۔مروہ نے نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو وہ بنا شرٹ کے تھا۔اس نے ایک دم سے اپنی نظریں موڑی۔تو سائم ہلکا سا مسکرا ۔۔۔۔
تم میں تو تھوڑی سی بھی شرم نہیں ہے۔۔۔
دیکھو یہ میرا روم ہے۔میری پرائیوسی تم نے ڈسٹرب کی ہے۔پرابلم مجھے ہونی چاہیے تمہیں نہیں۔وہ شرٹ پہنتے اس کے سامنے ایا تھا۔استینوں کو فولڈ کرتے وہ سامنے والی چیئر پر بیٹھا۔اور شرٹ کا اخری بٹن بند کیا۔۔
تم بہت ہی بے شرم ہوسائم۔یہ کہنے پہ وہ خود کو نہیں روک سکی۔لیکن اس نے کھانا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔
صرف تمہارے معاملے میں۔۔
میرے معاملے میں کیا مطلب۔اس کو ٹوکتے ہوئے مروہ ایک دم سے بولی۔۔
مروہ تم میری وائف ہو۔اور وائف سے کیسی پرائیویسی۔۔
اچھا ایسا ہے تو وہ زیرو فلنگز والی بات پہ تم منکر گے۔۔
نہیں میں کیوں منکروں گا فلنگز نہیں ہے میرے دل میں۔سائم کافی ہاتھ میں اٹھاتے سیدھا ہوا ۔۔۔۔
اگر فیلنگز نہیں ہے تو پھر یہ سب۔۔۔
دیکھو تم ابھی میری وائف ہو میں نے تمہیں ڈیورس نہیں دی ابھی ہم ایک بیڈ پر سوئے تھے اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا۔پھر صبح ساتھ میں اٹھے ساتھ میں ناشتہ کیا۔تو۔۔
تو اس کا کیا مطلب ہے سمجھاؤ مجھے ۔مروہ اب شاید کھانا ختم کر چکی تھی وہ سیدھی ہو کے بیٹھی اور استانیوں کی طرح اس سے پوچھنے لگی۔۔
میرا فلائٹ مس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔تمہارے ان فالتو کے سوالوں کا جواب میں پھر کبھی دوں گا۔اور فکر مت کرو میں اپنی بات پہ قائم ہوں ۔۔ ڈیورس دے دوں گا۔لیکن جب تک ساتھ ہو تب تک ساتھ رہو۔اس کے لہجے میں محبت اور التجا دونوں تھے۔۔۔۔
وہ تھوڑی ہی دیر میں فلائٹ کے لیے نکل گئے تھے۔۔
ویسے مروا تم نے کیا سوچا ہے تم کہاں جاؤ گی۔وہ دونوں جہاز میں بیٹھ چکے تھے۔اس کا سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے سائم نے اس سے سوال کیا۔۔۔
مجھے جہاں جانا ہوگا میں چلی جاؤں گی۔۔۔
تم کتنے بدل گئے ہو۔مروا نے من ہی من میں کہا اور یہ بات اس نے شدت سے محسوس کی تھی۔۔۔
فلحال کے لیے تم میری وائف ہو۔مجھے پتہ ہونا چاہیے کہ تم کہاں جاؤ گی۔۔۔۔
تو ڈیورس دو مجھے میں کہہ رہی ہوں۔کیوں نہیں دی ابھی تک تم نے۔چلو ابھی دو تین دفعہ ہی تو کہنا ہے۔میں سن رہی ہوں وہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔جبکہ اس کے لفظ سائم کے دل میں اٹکے ہوئے تھے۔۔۔
سائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔
میں کیا کہہ رہی ہوں تمہیں سمجھ نہیں ا رہا۔۔۔
کہا ہے نہ دے دوں گا۔سائم بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا تو چپ ہو گیا اور باہر کی طرف دیکھنے لگا۔۔
مروہ بھی کچھ دیر سوچنے کے بعد اب گہری نیند سو چکی تھی۔۔۔
ایک تو یہ کتنا سوتی ہے اسے دیکھتے ہی سائم نے من ہی من میں کہا۔اور اپنے ویسٹ کوٹ کے اوپر سے کوٹ اتار کر اس کے اوپر دیا۔وہ سارے سفر بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کر رہا تھا۔ اس کا سر اپنے کاندھے پہ رکھے وہ ساری اذیتوں کو بھول چکا تھا۔اگلے ہی دن وہ کینڈا پہنچ چکے تھے۔کیلگری انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا جہاز لینڈ ہوا۔۔۔
اب میں چلی جاؤں گی۔ مروہ نے اس کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔
تم کہیں نہیں جا رہی۔جب تک میرے نکاح میں ہو۔میری ذمہ داری ہو تم۔سائم نے اسے پیچھے کھینچا۔۔۔
چلو اجاؤسائم اسے گاڑی کی طرف لے کے جا رہا تھا۔اس نے پہلے ہی اپنی گاڑی ایئرپورٹ پر منگوا لی تھی۔۔۔
میں نے کہا نہ میں چلی جاؤں گی مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا۔۔۔
مروہ جب تک نکاح میں ہو میرے ساتھ رہو گی کہہ دیا نا میں نے اب کچھ نہیں سننے والا۔۔۔
میں علیزے لوگوں سے مل کے بھی نہیں ائی صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔
اچھا میری وجہ سے کیا میں نے روکا تھا۔۔سائم نے نظر اس کی طرف گھمائی۔۔۔۔
_______________
یہ مروہ کا فون پتہ نہیں کیوں نہیں لگ رہا۔علیزےا سے مسلسل کال کر رہی تھی۔لیکن فون انریچیبل ا رہا تھا۔۔۔
ابھی تک تو وہ دونوں کینیڈا جا چکے ہوں گے۔ریحان نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور اس کی پریشانی دور کی۔۔۔
کیا مطلب کینیڈا وہ ان کے پاس ا کے بیٹھی۔۔۔
سائم نے اس کا پاسپورٹ مانگا تھا مجھ سے اور میں نے دے دیا تھا۔۔۔
اور اپ نے یہ بات مجھے نہیں بتائی۔علیزے نے اپنا موبائل ٹیبل پر رکھا اور کھڑی ہو گئی۔وہ اتنی دور چلی گئی مجھ سے۔۔۔
اپ جانتے بھی تھے کہ وہ ناراض ہیں ہم سے۔۔۔
بیگم ناراض ہمیں ہونا چاہیے جو حرکت اس نے کی ہے۔
اب ہوتی ہے تو ہوتی رہے ریحان اتنی سی بات کر کے دوسری طرف چلے گئے۔۔
علیزے گہری سوچ میں چلی گئی تھی۔اور جاتی بھی کیسے ہیں نا وہ اس کی ہی تو بہن تھی اور رشتہ رہا کہاں تھا۔۔۔
مروہ ایک دفعہ پھر گاڑی میں نے سو چکی تھی۔سائم نے ایک انکھ اٹھا کر اسے دیکھا۔وہ یقینا اس کی نیندو سے تنگ تھا۔۔۔۔
______________
تین گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ ٹرانٹو پہنچے تھے۔اور اس سارے راستے مروا سوئی رہی تھی۔اور ابھی بھی گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔۔۔
یا اللہ یہ لڑکی۔۔۔سائم نے اپنا سیٹ بیلٹ اتارا اور پھر ایک نظر اسے دیکھا۔وہ شاید اس کے اٹھنے کا منتظر تھا۔۔۔
مروا اٹھو ہم اگئے ہیں۔سائم نے ا سے ہلکا سا ہلایا۔۔
تو مروا بھی اٹھ گئی تھی لیکن ابھی بھی نیند میں تھی۔۔۔
سائم گاڑی سے باہر نکلا اور پھر مروہ کی طرف ایا۔اسے سہارا دیا وہ جانتا تھا کہ وہ نیند میں ہے۔۔۔۔
کمرے میں اتے ہی سائم کے کہنے سے پہلے ہی وہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی۔۔۔
مروا تم تھکتی نہیں ہو سو سو کر۔مجھے دیکھو تین گھنٹے کی ڈرائیو کی ہے میں نے۔ایسے سونا تو مجھے چاہیے۔سائم بلینکٹ اس کے اوپر اڑتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ بھی شدید تھک چکا تھا اس نے شوز اتارے ویسٹ کوٹ اتارا اور دوسری سائیڈ پہ لیٹ گیا۔۔۔۔
تم اتنا سوتی ہو مجھے اج پتہ چلا۔۔۔۔
تم جہاز میں بھی سوئی رہی ہو گاڑی میں بھی اور اب۔
جہاز میں نیند کیسے پوری ہو سکتی ہے سائم اور گاڑی میں بس ایسے ہی انکھیں بندتھی۔مروا نے اپنا روخ اس کی طرف کیا۔۔۔۔
سائم تھوڑا پریشان ہوا تھا۔کیوں کہ اسے لگا تھا کہ وہ احتجاج کریں گی ایک بیڈ پہ سونے سے۔۔۔۔
کے اچانک مروا نے اپنا ایک ہاتھ سائم کے سینے پہ رکھا یقینا وہ نیند میں تھی۔۔۔
سائم نے بلینکٹ کو تھوڑا اور اس کے اوپر کیااور اس کے سر پہ بوسہ دیا۔وہ اسے پوری طرح سے خود میں سما چکا تھا۔اور یہ لمحہ اس کے لیے بہت قیمتی تھا۔وہ نیند میں سہی لیکن اس کے بہت قریب ا چکی تھی۔۔۔۔
