Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 7

Sheh Rug by Aneeta

میں چائے دیکھتی ہوں وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھی اور کچن کی طرف جانے لگی۔۔۔۔

اس کی ادائیں سائم پہ قاتلانہ حملہ کر رہی تھی۔وہ بھی اٹھا اور پیچھے ہی اس کے کچن میں گیا۔۔۔۔۔

اور وہ اس کی اہٹ محسوس کر چکی تھی۔۔۔۔۔

کیا کچھ چاہیے۔اس نے اپنا رخ پیچھے کرتے ہوئے پوچھا۔اور دونوں ہاتھ اس نے باندھ لیے تھے۔اس کے کھلے بال پیچھے تھے اور کچھ دو تین لٹے چہرے کے اگے ائی ہوئی تھی۔۔

ہاں چاہیے۔وہ دو قدموں کا فاصلہ طے کر کے اس کے قریب ایا۔اس کی ایک لٹ کو اس نے اپنی شہادت کی انگلی میں جکڑا۔اور فولڈ کرتے ہوئے اوپر تک لے گیا۔۔۔۔۔

مروا نے دونوں ہاتھ کھولے اور پیچھے کی طرف جانے لگی۔۔

کے ۔۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔

ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا اور باہر کی طرف بھاگ گئی۔۔۔۔۔

سائم جو اس کے لمس میں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

مررہ۔۔۔۔اس نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ اگے بڑھایا لیکن وہ جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔

اب اس کے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا۔اور مروہ کی حرکتوں اسے اور بے قابو کر رہی تھی۔۔۔۔۔

مررہ۔۔

اس کی اواز پہ مروا نے انکھ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن کوئی جواب نہیں دیا اور منہ بصیرکر دوسری طرف کر لیا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ سائم مردان تھا۔اس کے معاملے میں وہ کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔اور اب تو وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔۔۔۔

مروا حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔وہ دوبارہ سے ا کر اپنی جگہ پر بیٹھی تھی۔۔۔

۔دو منٹ بات سنو گی۔۔

سائم نے مروہ کو اندر انے کا اشارہ کیا۔۔۔

لیکن وہ اس کے ایٹیٹیوڈ سے بھی اچھی طرح واقف تھا تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچنے کے انداز میں اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔مروہ بھی افس ممبرزکے سامنے کیا ہی کہتی وہ اس کا شوہر تھا۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے سائم کمرے میں جاتے ہی مروا نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ جھٹکا۔اور ایک طرف ہو گئی۔

ڈسٹرب کر کے اپ مسئلہ پوچھتی ہو سائم نے اک جھٹکے میں اسے قریب کیا۔وہ اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھ رہا تھا وہ اج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔

مسٹر سائم مردان اپ تو اپنی بات سے منکر رہے ہیں۔۔۔

وہ اندر سے اس کی قربت سے بری طرح سے سہم چکی تھی۔۔۔

سائم مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا اور اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔اس کے ہاتھ اس کی کمر پر گردش کر رہے تھے۔۔۔۔۔

سا۔۔۔۔۔۔اسے اپنی طرف جھکتے دیکھ کر مروہ نے اسے روکنا چاہا۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی سائم نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا۔وہ شدت سے بھرپور لمس اس کے ہونٹوں پہ چھوڑ رہا تھا۔اس کی مذمت کرتے ہاتھ اس کے سینے پر تھے۔۔۔۔۔

سائم نےایک ہاتھ پھر سے کمر میں ڈالا۔۔۔۔

وہ اسے کمر سے اٹھا کر تھوڑا اوپر کر چکا تھا۔۔۔۔

سا۔۔۔۔۔

مروہ نے ایک چٹکے میں اسے پیچھے کیا۔۔۔۔۔

کہا نہ کوئی رعایت نہیں ملنے والی۔۔۔۔

سائم نے پھر سے اس کے گرد دائرہ تنگ کیا۔وہ اس سے پیچھے جاتے جاتے اب دیوار کے ساتھ جا کے لگی تھی۔۔۔۔

وہ بخشنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔۔

یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا تھامس مروہ۔۔

کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔سائم نے توڑی سے اس کے چہرے کو اوپر کیا۔۔۔

وہ اس کے خوف سے انکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔۔

اگر پاس ائے تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔مروہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔اور دل کی دھڑکن یکدم تیز ہو گئی تھی۔۔۔۔

اچھا تو واقع نہیں ہوگا میری جان۔۔۔۔

وہ سرگوشی میں بولتا ہوا اس کی گردن پہ جھک گیا تھا۔

مروا نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کرتے ہوئے اس کے منہ پہ زور کا تھپڑ مارا تھا۔اور یہ سب اس سے اچانک ہوا تھا اسے خود سمجھ نہیں ائی تھی۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی تھی مروہ میں نے لاسٹ ٹائم تمہیں وان کیا تھا نا۔سائم کا موڈ بھی ایک دم سے چینج ہو گیا تھا اس نے مروہ کے تھپڑ والے ہاتھ کو زور سے کھینچا تھا۔رومینٹک تاثرات اب غصے میں بدل چکے تھے۔۔۔۔

تو تم رک نہیں رہے تھے۔۔۔

وہ شائستگی سے بولتے ہوئے۔اس کی باہوں سے نکل چکی تھی۔۔۔۔

سائم کا ایک ہاتھ ابھی بھی دیوار پر تھا۔اس نے مکہ بنا کر زور سے دیوار پر مارا۔۔۔۔

مروہ اس کے غصے سے سہم چکی تھی۔۔۔۔۔

تم نہیں سدھر سکتی کبھی نہیں سدھر سکتی مروہ۔۔۔

سائم نے ایک ہاتھ سے اپنے ہونٹ صاف کیے اور زور سے دروازہ بند کر کے باہر کی طرف گیا۔۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی مروا نے ایک گہری سانس لی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔

یہ تم نے کیا کیا مروا۔۔۔۔۔

لیکن میں کیا کرتی میں ڈر گئی تھی اس نے خود کو خود ہی تسلی دی ۔۔۔۔

اس کے ہاتھ بری طرح سے کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔

اس نے اپنی لپسٹک صاف کی جو وہ بری طرح سے خراب کر کر گیا تھا۔۔۔۔۔

سائم نے اپنے غصے کو پتہ نہیں کیسے کنٹرول کیا تھا۔۔۔۔

اور جا کر پھر سے جویریہ لوگوں کے بیچ میں بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔

یہ مروہ تھی وہ جس کا تھپڑ وہ تیسری دفعہ برداشت کر رہا تھا۔اگر کوئی اور ہوتا تو شاید دوبارہ تھپڑ مارنے کے قابل نہ رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔

_______

مروہ اب کمرے میں تیزی سے ٹہل رہی تھی۔۔۔۔

کہ اچانک اس کا فون بجنے لگا تو اس نے فورا سے اٹھا کے کان کے ساتھ لگایا۔کیونکہ فون سائرہ کا تھا۔۔۔۔۔۔

تم کینیڈا ائی ہو تم نے مجھ سے ملنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔۔

اور تو اور تم نے سائم سے شادی کر لی۔۔۔۔

تم نے تو مجھے اپنی زندگی سے بالکل نکال دیا مروہ۔۔

مجھے تم سے یہ امید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔

مروہ جو پہلے ہی پریشان تھی اس کی باتوں سے اور اپ سیٹ ہو گئی۔۔۔

سائرہ یار میں بہت ٹینشن میں ہوں اب تم ڈرامے کرنا بند کرو۔۔۔

مروہ ٹہلتے ٹہلتے اب صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔

اچھا اب یہ ڈرامے لگ رہے ہیں مجھے تو فون ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔

مرو اس کے لہجے سے اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ فون بند کرنے والی ہے۔۔

یار رکو تو میں بہت بڑی پرابلم میں ہوں۔۔

مرو تم کب پرابلم میں نہیں ہوتی مجھے وہ دن بتاؤ۔۔۔۔

سائرہ بھی اب دوسری طرف تسلی سے بیٹھ گئی تھی اس کی پرابلم سننے کے لیے۔۔

تم نے سائم سے شادی کر لی میں تو یہ سن کر حیران اور پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

سائرہ بیڈ پر لیٹی اور تکیے کو باہوں میں دبا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

چلو اچھا ہی ہوا ہے تم دونوں کا کیس تو سالو ہوا۔ورنہ پتہ نہیں اور کس کس کو سائم رگڑا لگاتا۔تمہارے پیچھے۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں مروا نےا سے ساری داستان سنا دی تھی وہ سائرہ سے تو کچھ بھی نہیں تھی چھپانے والی۔۔۔۔

یا اللہ۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارا شوہر ہے۔۔۔۔

تم ابھی بھی یہی سب کرو گی۔۔۔

مروہ تمہاری sence کہاں چلی گئی ہے۔۔

دماغ کا استعمال کرنا تم نے لگتا ہے چھوڑ دیا ہے۔

اور تم خود اسے موقع دے رہی ہو دوسری عورتوں کے پاس جانے کا۔۔

اور میری بات یاد رکھنا۔۔۔۔مروہ بے دہانی میں اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔

سائم کے نزدیک جتنی بھی لڑکیاں ہیں وہ سب کا ائیڈیل ہے۔۔۔۔

۔انہیں تو بس ایک موقع کی تلاش ہےاور تم یہ موقع خود دے رہی ہو۔اسے اپنے قریب کرو۔۔۔۔

وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے۔سائرہ اب اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔

دیکھو یہ فالتوں کی مشورے لینے کے لیے میں نے تم سے یہ سب شیئر نہیں کیا تھا۔جب اسے پرواہ نہیں تو مجھے بھی پرواہ نہیں میری طرف سے جس مرضی کے پاس جائے۔

ان دونوں کی باتیں نان سٹاپ جا رہی تھی۔۔۔

________

تھوڑی دیر میں مروہ ڈرائنگ روم میں ائی۔۔۔۔

تو سائم نے اسے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔

مروا نے ایک نظر جویریہ کو دیکھا۔جو سائم کے بالکل نزدیک بیٹھی تھی اور جھک کر اسے فائل میں سے کچھ دکھا رہی تھی۔اور سائم بھی بڑے غور سے اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔۔

مروا نے نہ اؤ دیکھا نہ تاؤ اور جا کر سائم کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔حالانکہ وہاں پہ اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہ بیٹھ سکے۔تو سائم تھوڑا اگے ہوا تووہ تسلی سے بیٹھی۔۔لیکن سائم نے اسے پھر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔

اسے تھپڑ والی بات پہ سچ میں بہت غصہ تھا۔مروانے اس کا سارا موڈ فلاپ کیا تھا۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ سب کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے۔سائم مروہ سے اجنبیوں والا بیہو کر رہا تھا۔اور اس کے سامنے جان جان کے جویریہ کو زیادہ اہمیت دے رہا تھا۔۔اور مروہ یہ سب بہت مشکل سے برداشت کر رہی تھی۔۔۔

اس نے ابھی کھانا پلیٹ میں ڈالا ہی تھا۔کہ سائم جویریہ کو کھانا پڑوسنے لگا وہ دونوں امنے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔

مروہ نے اپنی پلیٹ وہیں رکھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

سبھی نے اس کے ایسے جانے کو نوٹس کیا تھا۔سائم نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا اور پھر کھانا کھانے لگا۔۔۔۔۔

تو باقی سب لوگوں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا۔۔۔۔۔۔

مروہ نے کمرے میں اتے ہی۔ٹیبل کو زور سے ہٹ کیا اور اپنے کپڑے چینج کیے۔۔۔

مجھے بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں سائم۔وہ روم میں اتے ہی غصے سے بڑبڑانے لگی۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی انکھوں سے موٹے موٹے انسو گرا رہی تھی۔۔۔۔۔

اس جویریہ سے شادی کر لینی تھی۔۔۔

وہ بیڈ پہ لیٹتے ہوئے۔بلینکٹ اپنے اوپر آور چکی تھی۔۔

بالوں کا اس نے جوڑا بنا لیا تھا۔۔۔۔۔

اس نے گرے کلر کے نارمل سی شرٹ پہنی تھی۔جس کے اوپر ہلکے سفیدسے ڈیزائن کے پھول بنے تھے۔۔۔۔۔

تمہیں میری بالکل پرواہ نہیں۔۔۔۔

تمہاری بیوی میں تھی تمہیں مجھے کھانا دینا چاہیے تھا۔

وہ یہی سب بولتے بولتے اب لیٹ چکی تھی۔۔۔۔

________________

تھینک یو سو مچ سر اج اپ کے گھر میں کام کر کے بہت اچھا لگا۔۔

وہ سٹاف ممبر کو سی اف کرنے دروازے تک گیا تھا۔۔۔

سائم جویریہ نے اسے تھوڑا سائیڈ پہ بلایا۔۔۔۔۔

کیا تمہارے اور مروہ میں سب ٹھیک ہے۔۔

میں نے دیکھا وہ کھانے کی ٹیبل سے جیسے گئی تھی شاید ناراض ہو گئی۔۔۔

وہ دونوں ٹہل رہے تھے۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔وہ باتیں کرتے کرتے اب گارڈن میں ا چکے تھے۔۔۔

اور بد قسمتی سے مروہ اپنی کھڑکی سے یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے پھر سے بیڈ پر ا گئی۔اس نے کمرے کی لائٹس بھی اف کر دی تھی۔۔

__________________________

یا اللہ میری دوست کو تھوڑی عقل دے۔۔۔۔

سائرہ کا دھیان مسلسل مروہ کی طرف تھا۔۔۔۔

یہ مروہ اتنی عجیب کیوں ہے۔۔۔

وہ کافی لیے باہر کی طرف ائی۔۔۔۔

میں ایسا کرتی ہوں اسے یہاں بلاتی ہوں کچھ دیر ہم ساتھ میں ٹائم سپینڈ کریں گے۔تو اس کا موڈ بھی اچھا ہو جائے گا اور میں اسے سمجھا بھی دوں گی۔وہ اندر ہی اندر پلاننگ کیے شاید خود کو تسلی دے رہی تھی۔ ۔۔

________________________

تھوڑی دیر میں سائم کمرے میں آ چکا تھا۔۔

اس نے کمرے میں اتے ہی پہلے لائٹ ان کی اور دھیان سب سے پہلے اس کا مروہ پہ گیا۔۔

جو بلینکٹ میں منہ چھپائی شاید سو گئی تھی یا سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔۔۔۔

تم نے کھانا نہیں کھایا جا کے کھانا کھا لو۔وہ اپنی سائیڈ پہ ا کر بیٹھا اور شوز اتارنے لگا۔۔۔۔۔

میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔

اس نے اپنا روح پیچھے کی طرف کیا اور بلینکٹ تھوڑا کھینچا۔۔۔۔۔۔۔

کیوں تمہیں کیوں فکر ہو رہی ہے جویریہ نے کھا لیا نا تو اب تمہیں سکون سے سو جانا چاہیے۔۔

سائم جو پہلے ہی اپنے غصے کو بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا تھا۔مروہ کی یہ بات پھر سے اسے اجاگر کرنے والی تھی۔بلکہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروا مروا مروا۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں سوری بولنا چاہیے شرمندہ ہونا چاہیے تم نے جو اج حرکت کی ہے کیا وہ معافی کے قابل ہے۔۔۔۔۔

اور اوپر سے مجھے ایٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو۔۔۔۔

شوہر ہوں میں تمہارا حق ہے میرا تم پر۔۔۔۔۔۔

جویریہ جویریہ جویریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کلائی سے گھڑی اتار کر بیڈ پر پھینکی۔۔اور ٹاول اٹھا کر واش روم کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔

مروہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

اور شاید اس کی باتوں پہ غور کر رہی تھی۔۔۔

کہ تھوڑی دیر میں سائم بھی باہر اگیا۔۔۔۔

اس نے وائٹ کلر کی لوس شرٹ پہنی تھی جو اکثررات کے لیے استعمال کرتا تھا۔استین کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور شرٹ کے بھی دو تین ہی بٹن بند تھے۔انکھوں میں ہلکے نما تھے۔لیکن سوٹ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے سامنے ڈرا سے ایک ڈبہ اٹھایا اور اس میں سے سر درد کی گولی اٹھائی۔۔۔۔۔۔۔

اور بیڈ پر ا کے بیٹھا اور پانی گلاس میں ڈالنے لگا۔۔۔۔۔۔

یہ کیوں کھا رہے ہو۔مروہ نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔۔

کیوں تمہارے گھر والے نہیں کھاتے تھے۔سائم نے بھی ساتھ ہی جواب دیا۔گولی منہ میں ڈال کر اوپر سے پانی پینے لگا۔۔۔۔

کیا مطلب ؟مروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔

کیونکہ یہ کھائے بغیر تمہیں برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔اس نے میڈیسن کا پتہ اس کی طرف لہراتے ہوتے ہوئے کہا۔۔

اور پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

کہ اس کی نظر اچانک مروہ کی انکھوں پہ پڑی۔۔۔

وہ روئی ہوئی تھی۔۔۔۔

۔

سائم نے ایک نظر اسے دیکھا۔اور پھر دیکھتا ہی رہا۔۔۔

جا کر کھانا کھا لو۔۔۔۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے جب ہوگی کھا لوں گی۔مروانے سرسری سا جواب دیا۔وہ بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔

اور پھر بلینکٹ اور کرسو گئی۔۔۔۔۔

سائم کو یہاں اس پر غصہ تھا وہیں پہ اس کی فکر تھی۔۔

لیکن اس کی حرکتوں کے اگے اس کی بس ہو گئی تھی۔

وہ بھی دوسرے سائڈ پہ ارام سے سو گیا تھا۔۔۔۔۔

_________________

صبح کے چھ بجے تھے۔۔۔۔۔۔۔

سائم کی انکھ کھلی تو مروا اس کی باہوں میں تھی۔۔

مروہ کا ایک ہاتھ اس کے اوپر تھا۔وہ پوری طرح سے اس میں چھپ کر سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

سائم مسکرایا۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ اتنی جلدی اسے معاف نہیں کرنے والا تھا۔۔

تو اس نے مروہ کے بال پیچھے کیے اور سے تکیے پہ لٹانے لگا تو اس کی بھی انکھ کھل گئی۔۔۔۔۔

سائم کچھ کہے بغیر بیڈ سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔

وہ تھوڑی ہی دیر میں افس کے لیے ریڈی ہو چکا تھا اور ناشتہ کرنے کا تو اس کا بالکل موڈ نہیں تھا۔یا شاہد مروہ کو ایٹیٹیوڈ دکھا رہا تھا۔۔۔۔۔

تم افس جا رہے ہو۔۔۔۔۔

مروہ جو ابھی ابھی واش روم سے نکلی تھی فریش ہو کر۔اس کی تیاری دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

کیوں نظر نہیں ارہا تمہیں۔۔۔۔۔۔

مجھے تم سے ایک permission چاہیئے مروہ کے الفاظ ابھی منہ میں تھے۔۔۔.

مجھے نہیں لگتا تمہیں میری کسی پرمیشن کی ضرورت ہے۔مروہ تم وہ کرو جو تمہارا دل کرے۔۔۔۔۔

اس نے وائلٹ سے ایک کارڈ نکالا۔۔۔۔

اور اس کے پاس ایا۔اسنے وائٹ شرٹ کے اوپر بلو کلر کا افس کوٹ پہنا تھا اور نیچے بلو ہی پینٹ تھی۔۔۔

کچھ ضرورت پڑے تو اس سے لے لینا۔اس نے غصے میں کارڈ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

کارڈ کو میں سر میں ماروں گی کورڈ تو تم نے مجھے بتایا ہی نہیں۔مروا منہ بناتے ایک طرف بیٹھ گئی تھی۔۔

کہ اتنی دیر میں اسے موبائل پہ ٹیکس ریسیو ہوا۔۔۔

سائم نے اسے کورڈ لکھ کر بھیجا تھا۔۔۔۔۔

تم نے میری بات تو سنی نہیں میں نے کہنا تھا کہ میں اج وینکوور جاؤں گی۔سائرہ سے ملنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروانے اسے کال ملا ئی جو سائم نے اٹھا لی تھی۔۔۔

وہ ابھی راستے میں تھا۔۔

میں نے کہا نا مجھے تم سے پرمیشن چاہیے۔میں۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا نا تمہیں میری پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔میرا کوئی حق نہیں ہے تم پر۔تم کل مجھے بہت اچھے سے سمجھا چکی ہو۔سائم نے اتنی سی بات کر کے فون بند کر دیا۔۔۔۔۔

پرمیشن چاہیے اسے۔۔۔۔۔

سائم نے موبائل کو ساتھ والی سیٹ پہ زور سے گرایا۔۔۔

مروا نے بھی غصے سے موبائل کو بیگ میں ڈالا۔۔۔۔

اور ریڈی ہونے لگی۔سائرہ کو وہ پہلے ہی انفارم کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

________________________

یہ اتنی تیاری کس لیے عثمان اندر داخل ہوا تھا کہ اس نے سائرہ کو کچن میں مصروف پایا۔۔۔

مرو ا رہی ہے اس کے لیے بنا رہی ہوں۔۔۔۔۔

یا اللہ تم اس مصیبت کو پھر سے سر پہ سوار کر رہی ہو۔عثمان اور سائرہ نے بھی شادی کر لی تھی۔۔۔۔۔

دیکھو تم اس کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے وہ میرے ساتھ ساتھ تمہاری بھی دوست ہے۔اس نے چلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

ہم نے ساتھ میں کتنا اچھا ٹائم سپینڈ کیا ہے۔۔۔

وہ ساتھ ساتھ کام بھی کر رہی تھی اور عثمان سے باتیں بھی۔۔۔۔

وہ دن کتنے اچھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دن تبھی تک اچھے تھے جب سائم مردان جیسی افت ہم پر سوار نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

_________________

مروہ تھوڑی ہی دیر میں گھر سے نکل گئی تھی۔وہ بی سی فیری کے تھرو و ینکوور میں تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔

لیکن وینکوور میں قدم رکھتے ہی اس کے ذہن میں یادوں کی جنگ چھڑ گئی تھی۔۔۔

انسان نے جہاں پر وقت گزار ہوتا ہے ۔وہ جگہ انسان کے لیے بہت ویلیو ایبل ہوتی ہے۔اس شہر سے مروہ کی اچھی بری سبھی یادیں وابستہ تھی۔اور وہ پھر سے انہی سالوں میں کھو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

نہ جانے اس شہر میں اس کے کتنے دوست بنے تھے اور کتنے بچھڑے تھے۔۔۔۔۔

وہ وینکوور سے گیس ٹاؤن کے لیے نکل گئی تھی جس کے لیے اس نے لوکل بس کا استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ سائم کے زیادہ پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتی تھی۔یا اس کا احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________________________

سائم افس میں بہت مصروف تھا۔لیکن اس کا دھیان مروہ کی طرف تھا۔

مسٹر۔۔۔۔۔ جویریا نے کافی کا کپ سائم کے سامنے رکھا جو گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔

ہا۔۔۔۔ہاں تھینک یو سو مچ۔۔سائم نے کمر سیدھی کی اور کافی کے کپ کو ہاتھ میں لیا۔

کہاں گم ہو تم اپنی پرابلم مجھ سے شیئر کر سکتے ہو۔جویریہ اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔

اور اس نے نوٹس کیا تھا کہ وہ کچھ الجھا الجھا ہے۔۔

نہیں نہیں بس اج کام کا برڈن کچھ زیادہ ہے نا اسی لیے سائم نےبات گھماتے ہوئے کافی کا ایک شپ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

____________________________________

کتنا مس کیا میں نے تمہیں پتہ ہے تمہیں کتنا بور ہو گئی تھی تمہارے جانے کے بعد۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ سائرہ کے پاس پہنچ چکی تھی۔سائرہ نے اور اس نے ایک دوسرے کو زور سے گلے سے لگایا ہوا تھا۔وہ مل بھی تو کافی ٹائم بعد رہی تھی۔۔۔۔۔۔

ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ خوشبو۔۔۔۔۔مروا نے اپنے بیگ کو صوفے پر رکھا۔۔۔۔۔

کیا یہ سب تم نے میرے لیے بنایا ہے مروہ کچن کی طرف جاتے ہوئے بول رہی تھی۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم کبھی میری اتنی بھی عزت کرو گی۔اس نے کچن میں اتے ہوئے ایک ایک کھانے کو چیک کیا تھا۔سائرہ نے اس کے لیے بریانی کباب اور نہ جانے کیا کیا بنایا تھا۔۔۔۔

________________

سائم میٹنگ میں مصروف تھا ابھی ابھی اپنے افس میں ایا تو اتے ہی اس نے موبائل اٹھایا۔۔۔

اسے شاید مروہ کی کال کا انتظار تھا۔۔۔۔۔

کے اچانک سے اسے اوپر نوٹیفکیشن شو ہوئی۔ ۔۔۔

مروہ نے کارڈ سے فری کی بکنگ کی تھی تو نوٹیفکیشن اس کے موبائل پہ ا چکی تھی۔۔۔۔

یہ وینکوور کیوں گئی ہے۔سائم ایک دم سے اپنے چیئر سے اٹھا۔۔

اس نے مروہ کو کال ملائی۔۔۔۔

تم وہاں کیا کر رہی ہو۔سائم نے چیئر سے اپنا کوٹ اٹھایااور گاڑی کی چابی اٹھائی۔۔۔۔

میں نے صبح تم سے پوچھنا تھا تم نے بات ہی نہیں سنی۔۔۔

مروہ سائیڈ پہ ا کر اس سے بات کر رہی تھی۔جبکہ سائرہ عثمان اندر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔

میرے پوچھے بغیر تم کیسے جا سکتی ہو۔وہ غصے سے چلاتا ہوا گاڑی میں بیٹھا۔اس نے فون بند کر کے گاڑی کے سامنے پھینکا۔۔۔۔۔

وہ کافی مشکل سے اس سے ملی تھی وہ اب کسی بھی طور پر اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔اور وہ اپنے دماغ کو پتہ نہیں کہاں سے کہاں لگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

_____________

کیا ہوا پریشان کیوں ہو۔۔۔

سائرہ تھوڑی دیر میں باہر ا گئی تھی اسے ایسے پریشان دیکھ کر وہ پریشان ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوا کچھ بھی نہیں۔۔

وہ غصے سے چلاتی ایک طرف جا کر بیٹھ گئی۔۔۔

__________________

سائم کافی تیز سپیڈ سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اسے پہلے ہی تھپڑ والی بات پہ غصہ تھا اور اب مروہ بنا بتائے وہاں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔

_________

حالا کی جان میں اپ سے کیوں ناراض ہوں گی۔۔۔۔

میں بس بزی تھی مروہ علیزے اور ریحان سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ فاطمہ سے بھی بات نہیں کر رہی تھی۔لیکن فاطمہ نے اسے بہت سے وائس میسج کیے تھے جن کا جواب اس نے اج دیا تھا۔۔۔۔۔

تمہارا سائم کے ساتھ مسئلہ سالو نہیں ہوا کیا۔

وہ اب کھانا کھانے کے بعد باہر ا کے بیٹھ گئے تھے عثمان کام کے سلسلے میں باہر چلا گیا تھا۔

مجھے سالو ہی نہیں کرنا سائرہ میں تنگ ا گئی ہوں۔مروہ نے موبائل ایک سائیڈ پہ رکھا اور دونوں پاؤں چیئر کے اوپر کر لیے۔۔۔۔

تو تم نے بھی اسے تھپڑ مار دیا حد ہی کر دی مروا۔۔۔۔۔

اس نے ڈرائی فروٹ کی پلیٹ اس کے سامنے رکھی۔تو مروہ بھی دھیرے دھیرے سے کھانے لگی۔۔۔۔

وہ دونوں باتوں میں مگن تھی کہ اچانک سے سائم کی امد ہوئی۔سائم دونوں طرف سے کوٹ کو اگے کرتے ہوئے غصے سے اس کی طرف ا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ بھی دھیرے دھیرے کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

سائرہ نے اسے کھڑے ہوتے دیکھا تو ایک نظر پیچھے دیکھا تو سائم آ رہا تھا تو وہ بھی کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔

سائم نے اتے ہی اسے ہاتھ سے پکڑا۔نہ اگے دیکھا اور نہ پیچھے اور تیزی سے لے کر باہر کی طرف جانے لگا۔۔۔۔

سائرہ کے لیے یہ سب نیا نہیں تھا وہ پہلے سے ان دونوں کو بہت اچھا سا جانتی تھی۔تو وہ سکون سے اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے ان کے مسئلے قیامت تک سالو نہیں ہو سکتے۔اس نے پلیٹ سے ایک کاجو کا دانہ اچھال کر منہ میں ڈالا۔اور پلیٹ لے کر کچن میں رکھنے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے تمہیں۔سائم نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور حود ڈرائیونگ سیٹ ا کر سنبھال لی۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا۔جبکہ سارے راستے مروانے نہ جانے کتنے سوال کر لیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے وینکوور والے گھر لے کر ایا تھا۔جہاں پہ پہلے ہی گارڈ موجود تھا جس نے اس کے اتے ہی دروازہ کھولا۔اور سائم نے ایک سپیڈ میں گاڑی کو گرج میں کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔

گاڑی سے اتر کر اس نے اپنی ٹائی کو تھوڑے نیچے کیا۔جیسے اسے گھٹن ہو رہی ہو۔اور پھر اسے ہاتھ سے پکڑ کر اندر کھینچ کر لایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا مسئلہ کیا ہے مروہ۔۔۔۔۔۔۔

اندر اتے ہی اس نے اس کو ایک طرف پھینکا ۔۔

کیا پرابلم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھی۔۔

میں سائرہ سے ملنے ائی تھی۔ویسے تو میں نے تم سے پوچھنا چاہا تھا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کہیں بھی انے جانے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔

مروہ۔۔۔اب چپ کر جاؤ میں اور کچھ نہیں سننے والا۔ایسی بے وقوف ہے تم کیسے کر سکتی ہو۔۔۔

میں پہلے بہت کچھ دیکھ چکا ہوں اب وہ نہیں دیکھنا چاہتا۔سائم سچ میں بہت پریشان ہو چکا تھا۔اس کو کھونے کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم دونوں ہاتھ کمر پر بسیرے کوٹ کے اندر جکڑے ہوئے اسے غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا غصہ بے قابو ہو رہا تھا اس کی رات والی حرکت سے اور اب والے الفاظ اور ایٹیٹیوڈ سے وہ بری طرح سے تنگ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

لیکن اس سے پہلے کہ وہ اؤٹ اف کنٹرول ہوتا اس نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا۔کمرے میں جاتے ہوئے راستے میں اتی ہر چیز کو اس نے ہٹ کیا تھا۔اور برق رفتار سے اپنے کمرے میں گیا اور دروازہ زور سے بند کیا۔مروہ دروازے کی اواز سے سہم چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ کافی دیر تک اس کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ باہر نہیں ایا۔۔۔۔

_________

کیا ہوا مروہ چلی گئی۔سائرہ کو اکیلے بیٹھے دیکھ کر عثمان نے سوال کیا جو ہاتھ میں کچھ سامان لے کر ایا تھا۔۔۔۔

ہاں چلی گئی۔اس نے الفاظ لمکاتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔۔

کیوں کیوں چلی گئی۔عثمان نے اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھا۔۔۔۔۔۔

سائم ایا تھا اسے لے گیا۔سائرہ نے سرسری سا جواب دیا اور جو سامان وہ لے کے ایا تھا اسے لے کر کچن میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شاید اسے بتانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی انہونی پیشنگوئی کر کے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

______

مروہ نے اس کا کافی انتظار کیا لیکن وہ نہیں ایا تھا۔اس نے دو تین دفعہ روم میں جانے کی بھی کوشش کی تھی لیکن پھر واپس اگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اس نے جلدی سے سائم کے لیے کافی بنائی۔۔۔۔۔

کیونکہ اسے بھی احساس تھا کہ اسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔لیکن ابھی کے رویے کے لیے وہ اسے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔۔

——–

وہ شائستگی سے کمرے کے اندر داخل ہوئی تھی۔کچھ دیر پہلے اس نے کوٹ پہنا تھا لیکن کیونکہ گھر میں ہر طرف ہیٹر تھا تو اس نے وہ اتار دیا تھا۔اس نے اورنج ہائی نیک شرٹ پہنی ہوئی تھی۔جو جرسی سٹائل میں تھی۔

اور نیچے وائٹ چینز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو سائم کو کھڑکی کے پاس کھڑا پایا۔وہ دونوں ہاتھ باندھے باہر کا نظارہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

غصہ ابھی تک رونما تھا۔ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اس کے انے سے اس میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظوں کو میچتے ہوئے مروانے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کافی کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔

سائم نے اپنا روح دوسری طرف کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوری نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے اس کے دونوں بازو کھولیں۔اور اپنا سر اس کے سینے پے رکھا۔۔۔۔۔۔

سائم حیرانگی سے اسے نوٹس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بھی کوٹ اتار دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ اتنی جلدی اسے معاف کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے ہاتھ اسے پیچھے کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔لیکن وہ اتنی ہمت کہاں سے لاتا۔وہ پہلی بار خود اس کے پاس ائی تھی۔تو اس نے وہی ہاتھ اس کی کمر ہے رکھ۔۔۔۔

اٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے سر ہے بوسا دیتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔

لیکن صرف سمپل سوری ایکسیپٹ نہیں ہو گی۔۔۔۔۔

اس نے مروہ کو سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔

اور وہ اس کی ڈیمانڈز سے اچھی طرح واقف تھی۔اس نے اپنی نظروں کو نیچے جھکایا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ سائم کا فون بچنے لگا۔۔۔۔

ہاں جویریہ اس نے کان کے ساتھ لگاتے ہی کہا۔تو مروا کا غصہ دوبارہ سے رونما ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔