Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 4

Sheh Rug by Aneeta

مروہ کی جب صبح انکھ کھلی تو وہ پوری طرح سے سائم کی باہوں میں قید تھی۔اس کے دونوں ہاتھ سائم کے سینے پر تھے۔اس نے ایک نظر کمرے کو دیکھا۔اس کی باہوں سے نکلنے کی ناکام کوشش کی تو سائم کی بھی انکھ کھل گئی۔۔

گڈ مارننگ۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں جمکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تم نے اج پھر وہی حرکت کی ہے۔چھوڑو مجھے مروانے اسے پیچھے ہٹانا چاہا۔۔۔

او ہیلو۔۔۔۔۔۔

ایک دفعہ غور سے دیکھو۔ کے کون کس کی طرف ہے سائم نے اس کی سائیڈ پہ اشارہ کرتے ہوئے کہا۔تو مروا نے بھی گردن پیچھے گھمائی ۔سائم نے ابھی بھی اسے باہوں میں قید کیا ہوا تھا۔وہ بری طرح سے شرمندہ ہوئی کیونکہ وہ سائم کی طرف ائی تھی۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے اب تو چھوڑ دو۔۔

ساری رات تمہارا بوجھ برداشت کیا ہے۔ایسے کیسے چھوڑ دوں۔وہ ہلکا سا مسکرایا اور مروہ کے چہرے سے بالوں کو پیچھے ہٹایا۔۔تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ایسے نہ دیکھو مجھے سائم نے نظر گھماتے ہوئے کہاپھر سے پیار ہو جائے گا۔سائم نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا اور اٹھ کے بیٹھ گیا۔لیکن مروہ کو وہ گہری سوچ میں ڈال گیا تھا۔۔

لیکن مروہ کے پاس سوچنے کے لیے اور بھی بہت کچھ تھا۔سائم فریش ہونے کے لیے گیا تو وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔

۔

کینیڈا میں برف باری اسٹارٹ ہو چکی تھی۔ٹورانٹو میں سردی اپنے عروج پر تھی۔کمرے میں ہیٹر لگا تھا جس کی وجہ سے سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔کمرہ بہت ہی گرم تھا۔۔۔

اس نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔کمرہ بہت ہی عالی شان تھا۔اور باہر بالکنی تو الگ ہی نظارہ پیش کر رہی تھی۔کمرے میں بڑی بڑی فریمز میں سائم کی پکچرز لگی ہوئی تھی۔۔۔

۔لیکن وہیں ڈرا کے اوپر ایک فریم الٹی پڑی تھی۔مروا نے فورا سے اسے اٹھایا۔۔

وہ کسی اور کی نہیں بلکہ مروہ کی پکچر تھی مروہ کی وہ پکچر جو اس نے نکاح سے پہلے سائم کو بھیجی تھی۔۔

مروہ کے ذہن میں پھر سے وہی سال گھومنے لگے تھے۔اس سے پہلے کہ وہ بہت پیچھے جاتی ایک دم سے سائم نے واش روم کا دروازہ کھولا تو وہ ڈر گئی اور پکچر نیچے گرگئی۔ اس کی فرم ٹوٹ چکی تھی۔مروا نے ایک نظر انہیں اور پھر سائم کو دیکھا۔۔۔

وہ اٹھانے کے لیے نیچے جھکی ہی تھی کہ سائم نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔

تم نے میری پکچر اپنے پاس کیوں رکھی ہے۔تم تو کہہ رہی تھے کوئی فیلنگز نہیں بچی۔وہ شاید اپنی غلطی چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

یہ پکچر تم نے میرے لیے بنائی تھی اور یہ کپڑے بھی میرے لیے پہنے تھے۔سب کچھ وہ بولتے بولتے اس کے پاس ایا۔تو اس پکچر پہ میرا حق تھا۔اس نے فریم اٹھائی۔۔۔۔۔۔۔

۔اور پھر سے ایک نظر مروہ کو دیکھا وہ شاید اس سے گلا کر رہا تھا۔۔۔۔

یہ ہم کہاں ہیں۔تم وینکوور کیوں نہیں لے کے گئے۔مروہ کے ذہن میں بہت سے سوال تھے۔۔۔۔

میں نے وہ شہر چھوڑ دیا مروہ۔۔۔

وینکوور مجھے تمہاری یاد دلاتا تھا۔اس شہر میں تم بستی تھی۔مجھے ایسا لگتا تھا۔ اور مجھے اس شہر سے وحشت ہوتی تھی۔مجھے سٹریم کلاک کی وہ اواز خوف میں مبتلا کر دیتی تھی۔ہر وہ جگہ ہر وہ چیز جہاں تم میرے ساتھ تھی۔مجھے جینے نہیں دے رہی تھی۔اس لیے میں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔۔۔

اس نے بڑی مشکل سے اپنے انسوؤں کو روکا تھا اور پھر رخ بدل کر دوسری طرف چلا گیا…

جیسے گزرے لمحوں نے پھر سے اسے گھیر لیا ہو۔اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔اس کے ہاتھوں نے لڑکھڑانا شروع کر دیا تھا لڑکھڑاتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے فریم کو ڈرا کے اوپر رکھا۔۔۔

مروہ جو ایک منٹ کے لیے تو شاید اس کے غم میں کھو گئی تھی۔لیکن اگلے ہی لمحے اسے اپنے زخم تازہ ہوتے نظر ائے۔تو اس نے اپنا لہجہ بدلا۔۔۔۔

وہ دونوں ہی بہت کچھ کھو چکے۔۔۔۔

اور میری زندگی میں تو کچھ ہوا ہی نہیں ہے سب کچھ نارمل ہے۔مروہ غصے سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔۔

سائم نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

میم سر اپ کو ناشتے کی ٹیبل پر بلا رہے ہیں ایک لڑکی دروازہ نوک کر کے اندر ائی۔مروہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی۔۔۔۔

اس نے وائٹ لونگ کوٹ پہنا تھا۔۔۔

کون کون ہے مروہ تھوڑا گھبرائی کیونکہ وہ ہارون اور ارم کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ اب تو کوئی رہا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔

جی صرف سائم سرہے۔۔۔

ہارون۔اور ارم میڈم مروہ بولتے بولتے رکی تھی۔۔۔

لڑکی نے حیرانگی سے مروہ کو دیکھا لگتا ہے شاید اپ جانتی نہیں ہیں۔مروا نے بھی اپنا رخ لڑکی کی طرف کیا۔

ہارون سر کا تو انتقال ہو گیا۔مروہ کے ہاتھ سے برش نیچے گرا۔اور ارم میڈم تو ان کے انتقال سے پہلے ہی علیحدہ ہو چکی تھی۔۔۔

مروہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔پھر اس نے نظر ائینے پہ دہرائی ۔۔۔

___________________

تھوڑی ہی دیر میں وہ ناشتے کے لیے نیچے ا چکی تھی۔سائم نے اس کے انتظار میں ابھی تک کھانا شروع نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔مروانے چیئر پر بیٹھتے ہی سائم کو مخاطب کیا۔۔سائم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پر کوئی جواب نہیں دیا۔کیونکہ اس کی زندگی میں اتنا کچھ ہو چکا تھا اب پتہ نہیں وہ کس بات کا افسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔

مجھے ہارون انکل کا پتہ چلا۔۔سائم کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے پھر سے کہا۔۔۔۔۔

مروہ نے بھی بات کو بڑھانا مناسب نہیں سمجھا اور کھانے لگی۔۔۔۔

___________________

ماما ہالہ کی کال نہیں ائی۔۔۔۔۔

فاطمہ صبح سے موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔

علیزے جو کچن میں کام میں مصروف تھی۔پاکستان میں تقریبا رات ہونے والی تھی۔اس کی اواز سے رک گئی۔۔۔۔۔

میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حالہ کی شادی ہو گئی نا تو وہ مصروف ہے تھوڑی۔۔۔۔

جیسے ہی فری ہوگی میری جان کو کال کرے گی۔۔۔۔

چلو جلدی سے اب ہوم ورک ختم کرو پھر سونا ہے۔۔

علیزے نے پاس پڑھے بیگ کو کھولا اور کچھ کتابیں اس کے اگے رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھی شدت سے مروہ کو یاد کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

____________________

سائم ویلکم۔۔۔۔۔۔۔۔

اس اواز سے سائم اور مروہ دونوں چونکے اور پیچھے دیکھا ۔۔۔وہ تقریبا اب کھانا ختم کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔

ویلکم جویریہ سائم اپنی چیئر سے اٹھا کراگے بڑھا۔مروہ اپنی انکھوں سے سارا نظارہ دیکھ رہی تھی۔اور اندر ہی اندر جیلس ہو رہے تھی۔۔۔۔۔۔۔

اور یہ کیوں تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔۔

جویریہ ہائی ہیلز کی ٹک ٹک کرتے ۔اندر داخل ہوئی۔اس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔مروہ اسے سر سے لے کے پاؤں تک گھور رہی تھی۔۔۔۔۔

ملنے کے بعد سائم نے اس سے مروہ کا تعارف کروایا۔۔۔۔

یہ مروہ ہے وہ تھوڑی دیر کے لیے رکاوہ سوچ میں پڑ گیا تھا کہ وہ تعارف کیا کروائے۔فرند ہے میری۔۔۔۔۔

مروہ تھوڑی شاکڈ ہوئی۔تو تم نکاح کے بارے میں نہیں بتاؤ گے۔سائم نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔وہ اب اس کے پاس ا چکی تھی اس کے چہرے سے غصہ نما تھا۔۔۔۔۔

کیاسائم تم نے شادی کر لی۔اور اتنی بڑی نیوز تم نے ہم سب سے چھپائی۔کیا پاکستان تم شادی کرنے گئے تھے۔۔

جویریہ نے قدم بڑھایا اور مروہ کے پاس ائی اور سوالوں کے لسٹ جاری کر دی۔۔۔۔۔۔

میرا نام جویریہ ہے۔اور سائم اور میں بزنس پارٹنرز ہیں۔تم سے مل کر بہت اچھا لگا ماشاءاللہ تم بہت پیاری ہو۔۔۔۔۔

ایک دوسرے کو سوٹ کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم ابھی بھی نظر مروہ پر جمائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔

اسے ہمارے پاس شدید غصہ تھا شاید وہ جویریہ کو نہیں بتانا چاہتا تھا۔یا وہ کبھی بھی مروہ کو بزنس کی دنیا میں نہیں لے کے انا چاہتا تھا۔

اب تم بتاؤ تم نے اتنی بڑی بات ہم سے کیوں چھپائی۔لیکن فکر مت کرو۔۔۔۔۔

ہم یہاں بھی اچھے سے سیلبریٹ کریں گے۔

کچھ ہی دیر میں جویریہ جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔

لیکن سائم جیسے واپس ایا وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف گیا۔وہ انتہائی غصے میں تھا اسی غصے میں اس نے دروازے کو بہت زور سے کھولا۔مروا جو کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ایک دم سے چونکی اور پیچھے دیکھا۔۔

تمہیں کیا ضرورت تھی اسے نکاح کے بارے میں بتانے کی۔وہ قدم بڑھا کر اس کے پاس ایا۔لہجہ غصے بڑھا تھا۔۔۔۔

کیوں تمہیں برا لگا۔جب وہ تمہارے ہاتھ سے نکل گئی۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔

تو ہمیشہ الٹا کیوں سوچتی ہو۔میں تمہیں اس بزنس کی گندی دنیا سے انٹروڈیوس نہیں کروانا چاہتا۔اس لیے یہ بات میں چھپانا چاہتا تھا۔وہ نہ جانے کیا تماشہ کھڑاکرے گی۔۔۔۔

اس کا اشارہ پارٹیز کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔۔

اور تم نے تو ایسے بتایا جیسے ہمیشہ کے لیے ہم دونوں ساتھ ہیں۔۔۔

اگر ساتھ نہیں ہے تو پھر دو مجھے ڈیورس۔۔۔

اس حرکت کے بعد تو میں نہیں دینے والا لے سکتی ہوں تو لے لو۔۔۔وہ غصے سے دوسری طرف گیا۔تو مروا نے بی واش روم کا دروازہ زور سے بند کیا اپنا غصہ اسے دکھانے کے لیے۔وہ واش روم میں اسی لیے ائی تھی۔تاکہ اکیلے میں غصہ نکال سکے۔۔۔۔۔۔۔۔

اج سے تمہیں بیویوں والے سارے حق ادا کرنے پڑیں گے یاد رکھنا۔بہت ہو گیا یہ ڈرامہ اس نے غصے سے ڈریسنگ ٹیبل پہ پڑی چیزوں کو نیچے گرایا۔۔۔

مروہ اس کی بات سن چکی تھی۔۔۔

پتہ نہیں حود کو کیا سمجھتا ہے۔۔۔

مروہ نے غصے سے سکائی رین کے بٹن کو کلک کر دیا۔اسے پریس کرتے ہی پورے واش روم میں بارش کا سماتھا چاروں طرف سے پانی نکلنا شروع ہو گیا تھا۔اس نے سکائی شاور ان کر لیا تھا۔اور اب اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ اس بند کیسے کرے گا۔۔۔۔۔۔

افففففففف۔مروہ نے تیزی سے سارے بٹنوں کو پریس کر دیا تھا اور اب ہر طرف سے بس پانی ہی پانی ا رہا تھا۔۔۔وہ بری طرح سے پزل ہو چکی تھی اور پوری بیگ چکی تھی۔اب اس کی سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ وہ باہر جائے یا اس کے رکنے کا انتظار کر ے۔۔۔۔۔

سائم افس جانے کے لیے ریڈی ہو رہا تھا۔اس نے غصے پے مشکل سے کنٹرول پایا تھا۔ وہ اس کے باہر نکلنے کے انتظار میں تھا۔وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا واچ پین رہا تھا۔واچ پہننے کے بعد اس نے ٹھائی گلے میں پہنی اور اسے سیٹ کیا۔پھر سائیڈ سے گرے کلر کا کوٹ اٹھایا اور اسے پہن لیا نیچے گرے کلر کی ہی پینٹ تھی۔اور وائٹ کلر کی شرٹ۔

اس نے پرفیوم اٹھائی اور وہ اسے پریس کرنے ہی والا تھا کہ واش روم کا دروازہ کھولا۔۔

مروہ پوری بیگ چکی تھی وہ کپکپاتے لبوں کے ساتھ باہر ائی۔وہ معصومیت سے سائم کو دیکھتی۔اور پھر ایک نظر اندر دیکھتی۔۔۔۔

مروہ۔۔۔۔

سائم نے پرفیوم کو ٹیبل پر رکھا۔اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر اندر گھمائی تو ہر طرف سے بس پانی ہی پانی ا رہا تھا۔سکائی شاور کے ساتھ نارمل شاور بھی ان تھے۔اور سائیڈ شاوربھی۔۔۔۔۔

سائم نے پہلے مروہ کا کوٹ اتارا۔۔

اب نیچے بلیک کلر کی شرٹ تھی جس کے بازو تو بالکل نہیں تھے۔تو مروانے دونوں ہاتھوں کو باندھا۔۔۔

دسمبر کا مہینہ تھا سردی بہت زیادہ تھی۔اور پانی بھی ٹھنڈا تھا۔سائم نے جلدی سے اپنا کوٹ اتارا اور بیڈ پہ پھینکا۔۔۔

اور اندر جا کر شاور کو بند کیا۔۔

وہ بی اب تھوڑا بیگ چکا تھا۔تم مجھے اواز دے دے دیتی سائم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔بیمار پر جاؤ گی اب۔سائم نے اس کے بیگ سے جلدی سے کپڑے نکالے۔اور اس کے ہاتھوں میں دیے۔۔۔۔۔

جلدی سے چینج کر لو پھر بیمار پڑ جاؤ گی۔ہمارے مروہ بھی اس کی بات پہ عمل کرتے ہوئے دوبارہ سے واش روم میں گئی۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ کپڑے تبدیل کر کر کمرے میں ا چکی تھی۔۔۔۔۔

سائم نے بھی شرٹ چینج کر لی تھی۔اس کے اتے ہی وہ اس کے پاس ایا۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے۔اور تم تو افس جا رہے تھے جاؤ یہ نہ ہو جویریہ میڈم کو بہت زیادہ ہی انتظار کرنا پڑ جائے۔۔۔

سائم کا غصہ جو تھوڑی دیر کے لیے کم ہوا تھا وہ پھر سے نمایاں ہونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔

تم نہیں سدھرنے والی اس نے دل ہی دل میں کہا۔۔۔۔۔۔

ہاں مجھے جانا چاہیے تم نے یاد دلوا دیا۔۔۔

ویسے مر وہ تم اتنی جلس کیوں ہو رہی ہو۔سائم نے دوبارہ سے کوٹ پہنا۔۔۔۔۔۔

م۔۔۔۔۔میں مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے مسٹر سائم مردان۔۔۔۔۔

اب چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔

مجھے شوق نہیں ہے رکنے کا اور تمہاری موجودگی میں تو بالکل بھی نہیں۔مروہ کو لگا تھا کہ وہ رکے گا۔لیکن وہ اگلے ہی لمحے باہر چلا گیا۔مروہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔

میں بھی یہاں نہیں رکوں گی دفع ہو جاؤں گی۔

پھر تم اس جویریا کو لے انا یہ کہتے ہی مروہ بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔اب اسے شدت سے سردی محسوس ہو رہی تھی اس نے دونوں پاؤں بیڈ پے کیے اور بلینکٹ کو اوپر اوڑا۔۔۔۔۔۔

مروو (دہ روسٹر ) کافی شاپ پر بیٹھی ہوئی تھی۔تقریبا شام ہونے والی تھی۔۔ہر طرف سردی کی چمک دمک تھی۔۔۔

مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ کو پیچھے سے اواز ائی تو وہ ایک دم سے چونکی اور پیچھے دیکھا۔۔جیسے انجان دنیا میں کوئی اپنا مل گیا ہو۔۔۔

کتنے ٹائم بعد مل رہی ہے۔۔۔

کہاں گم تھی کتنے ٹائم بعد مل رہی ہو یونیورسٹی کے بعد تم دیکھی نہیں۔یہ طیب تھا جو مروہ کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔اب اسی کافی شاپ پہ ایز ا ویٹر کام کرتا تھا۔وہ ویٹر کا یونیفارم پہنے اس کے پاس آیا ۔مروہ نے بھی کافی ٹیبل پر رکھی اور کھڑی ہو گئی۔۔۔

تم یہاں۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے تھے اور باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔۔۔

کہ تھوڑی ہی دیر بعد سائم کچھ کلائنٹس کے ساتھ اسی کافی شاپ پر ایا۔جن میں جویریہ بھی موجود تھی۔۔۔۔

وہ بالکل سامنے والے ٹیبل پر تھے۔دونوں کلائنٹس کو بیٹھنے کا اشارہ کرنے کے بعد جب سائم خود بیٹھنے لگا تو اس کی نظر مروہ پر گئی۔اس نے ایک دم سے چیر کو وہیں چھوڑ دیا جو وہ پیچھے کھینچ رہا تھا۔۔۔

اس کی نظروں کا طاقب کرتے جویریہ کی نظر بھی مروہ پر گئی۔۔۔

ارے یہ تو مروا ہے نا یہ اس ویٹر کے ساتھ۔۔

سائم کے دونوں ہاتھ کمر پر تھے وی سٹائل میں۔۔۔۔

وہ یہ سوچ کر ارام سے تھا کہ وہ گھر میں ارام کر رہےہو گی۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی وہ قدم بڑھاتے اس طرف گیا۔۔۔۔۔

مروہ اسے اپنی طرف اتا دیکھ کر کھڑی ہو گئی تو طیب بھی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔

مروہ تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہیں گھر ہونا چاہیے تھا۔سائم سوالیا نظروں سے مروہ کو دیکھا۔۔۔۔۔

میرے خیال میں تم بھی افس میں کام کر رہے ہو گے لیکن تم اس نے افق نگاہ جویریہ پر ڈالی اور پھر سائم کو دیکھنے لگی۔۔۔

سائم نے بھی نظر پیچھے گھمائی۔۔۔۔۔

اففففففف۔۔۔۔۔۔۔

لیکن اس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

تم تعارف نے کرواؤ گی اس نے طیب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

طیب یہ مروہ ابھی بول ہی رہی تھی۔۔۔۔

میں سائم مردان ہسبنڈ ہوں مروہ کا۔۔۔۔

سائم نےاپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔۔

ارے مروا تم نے شادی کر لی طیب نے بھی اپنا ہاتھ سائم کی طرف بڑھایا۔اور سوالیہ نظروں سے مروہ کو دیکھا۔بیسٹ وشز ززز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کسٹمر اگئے تو طیب چلا گیا۔اور سائم نے گوڑی مروہ پہ ڈالی۔۔۔۔

تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی گھر میں ریسٹ کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔مروا نے نظریں دوسری طرف گھمائی۔۔۔۔۔

چلو اب ا جاؤ ڈرامے نہیں کرو۔سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ٹیبل پر لے ایا۔۔۔۔۔۔۔

مروہ نے بڑی مشکل سے جویریہ کو برداشت کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_______________________________________

یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔

رات کے 11 بجے تھے۔مروا نے اپنا ادھا سامان دوسرے کمرے میں شفٹ کر دیا تھا۔اور کچھ اٹھانے ائی تھی ۔۔۔۔

کے سائم نےاس کا بازو پکڑا ۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی کمرے میں ایا تھا۔۔

تم یہیں سونے والی ہو۔۔۔

کوئی ڈرامہ برداشت نہیں کرنے والا۔۔۔۔